یہ پرانا ہے اور یہ نیا ہے۔ یہ قدیم ہے اور یہ عصری۔ عظیم تاریخی اہمیت کا، پھر بھی ایک بہت ہی جدید معنویت کے ساتھ۔ پُڈھو منڈپم مختصر شکل میں مدورئی ہے۔ ایک ۳۸۴ سال پرانا تاریخی ڈھانچہ جس میں ایک شاپنگ کامپلیکس بھی ہے، یہ اس قدیم شہر کی تلخیص کی ایک طرح سے علامت ہے، جس کی برابری کوئی دیگر حصہ نہیں کر سکتا۔ تیز، چمکیلے کپڑے پر کام کرنے والے پوشاک ساز سے لے کر روایتی برتن بیچنے والی دکانوں تک، اس مقام کے کئی رنگ ہیں۔
یہی وہ جگہ ہے جہاں تمل ناڈو کے سب سے اہم ہندو مندر کے تہواروں میں سے ایک میں بڑی تعداد میں آنے والے بھکتوں کے لیے کپڑے کی سلائی ہوتی ہے۔ اور جہاں شہر کے کل ۱۵۰ پوشاک سازوں میں سے ایک تہائی سے زیادہ مسلم ہیں۔ یہ جن مذہبی لوگوں کے لیے لباس تیار کرتے ہیں، وہ زیادہ تر مدورئی کے ارد گرد کے دیہی علاقوں کے ہندو ہیں۔
پوشاک سازوں سے ان کے مسلمان ہو کر ہندو تہوار کے لیے پوشاک کی سلائی کرنے کے بارے میں پوچھنے پر، وہ ان کی اندیکھی کر دیتے ہیں۔ ’’یہ شمالی ہندوستان نہیں ہے، میڈم،‘‘ عامر جان کہتے ہیں۔ ’’ہم کئی نسلوں سے ایک ساتھ رہتے آ رہے ہیں اور ایک دوسرے کے رشتہ داروں کے طور پر مخاطب کرتے ہیں۔ یہاں کچھ غلط کیسے ہو سکتا ہے؟‘‘
’’اس بارے میں اتنا حیران ہونے کی کیا بات ہے؟‘‘ پڈھو منڈپم کے ایک اور پوشاک ساز، ۴۲ سالہ مبارک علی پوچھتے ہیں۔ ’’ہم کئی نسلوں سے ایسا کرتے آ رہے ہیں۔‘‘










