وہ لے میں اور چستی کے ساتھ آگے بڑھ رہی تھیں – ’’رے ریلا رے ریلا رے ریلا رے‘‘ – نوجوان خواتین کا ایک گروپ گھٹنے تک لمبی سفید ساڑیوں میں ملبوس اور سر پر چمکیلے پھندنوں کے ساتھ، ایک بار میں تین حرکت کر رہی تھیں، ایک دوسرے کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے ہوئے، ریلا گیت گا رہی تھیں جو گونڈ برادریوں کے درمیان مقبول ہیں۔
تھوڑی ہی دیر میں نوجوان مردوں کا ایک گروپ ان کے ساتھ شامل ہو جاتا ہے، یہ بھی سفید کپڑوں میں ملبوس ہیں اور ان کے سر پر رنگین پروں سے سجی ہوئی سفید پگڑیاں ہیں۔ ان کے پیروں میں بندھے گھنگھرو قدم کی پیچیدہ چال کے ساتھ تال میل بیٹھاتے ہوئے بج رہے تھے، ساتھ ہی وہ اپنے ہاتھوں میں پکڑے ہوئے چھوٹے ڈھول (مانڈری) کو بجا رہے تھے اور ریلا گیت گا رہے تھے۔ ایک دوسرے کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے ہوئے، نوجوان خواتین نے مردوں کے گروپ کے چاروں طرف ایک دائرہ بنا لیا۔ یہ سبھی گاتے رہے اور رقص کرتے رہے۔
گونڈ آدیواسی برادری کے ۴۳ مرد و خواتین کی جماعت، جن کی عمر ۱۶ سال سے ۳۰ سال کے درمیان تھی، چھتیس گڑھ کے کونڈا گاؤں ضلع کے کیش کال بلاک میں واقع بیدماماری گاؤں سے یہاں آئی تھی۔
یہ لوگ ایک گاڑی کے ذریعہ ۳۰۰ کلومیٹر کا سفر طے کرکے ریاست کی راجدھانی، رائے پور سے تقریباً ۱۰۰ کلومیٹر دور، (بستر خطہ میں) رائے پور- جگدل پور شاہراہ کے قریب واقع اس جگہ پر پہنچے تھے۔ وسطی ہندوستان اور خاص کر چھتیس گڑھ کی آدیواسی برادریوں کے دیگر رقاص بھی تین روزہ ’ویر میلے‘ کے لیے یہاں موجود تھے، جو ۲۰۱۵ سے ۱۰ سے ۱۲ دسمبر تک ویر نارائن سنگھ کی قربانی کی یاد میں منایا جاتا ہے، جو چھتیس گڑھ کے بلودہ بازار-بھاٹ پارہ ضلع میں سوناکھن کے قبائلی بادشاہ تھے۔ بادشاہ نے برطانوی حکومت کے خلاف بغاوت کی تھی، جنہیں نوآبادیاتی حکمرانوں کے ذریعہ پکڑنے کے بعد دسمبر ۱۸۵۷ میں رائے پور ضلع میں جئے استمبھ چوک پر پھانسی پر لٹکا دیا گیا تھا۔ مقامی کہانیوں کے مطابق، پھانسی کے بعد انگریزوں نے ان کے جسم کو دھماکہ سے اڑا دیا تھا۔






