دوپہر کے قریب ۳۲ سالہ پوسانی اشوِن جب اپنے گھر سے باہر نکلے، تو انہوں نے آشیرواد لینے کے لیے اپنی ۷۶ سالہ دادی، پوسانا لکشمی امّا کے پیر چھوئے۔ لیکن تین گھنٹے بعد جب وہ، عارضی طور پر دیوتا کی شکل میں، واپس لوٹے تو اس بار دادی نے ان کے پیر چھوئے۔ عقیدت کے ان دو مناظر کے درمیان سو سال سے چلی آ رہی ایک رسم ہے – پوتھو راج کی روایت – جس میں پوری برادری کی عقیدت پوشیدہ ہے۔
اشوِن اپنے پورے جسم پر سندور اور ہلدی لگائے، ہاتھوں میں کوڑا لیے اور برہم، خوفناک نظر آنے والے پوتھو راجو کی شکل اختیار کیے گھر لوٹے، تو فٹ پاتھوں پر اور گھروں کی بالکنی میں کھڑے عقیدت مندوں نے ان کے اوپر پھولوں کی بارش کی۔ وہ جب جنوب مشرقی حیدرآباد کے میکل بنڈا علاقے میں واقع لکشمی نِلایم کے دروازے میں داخل ہوئے، تو اپنے کوڑے کو بجاتے ہوئے وہاں موجود خوشیوں سے بھرے، جے جے کار کرتے مجمع کو تتر بتر کیا۔ گھر کے اندر، وہ اپنی دادی کے آمنے سامنے آئے۔ وہ جھکیں اور اپنی آنکھوں میں آنسو لیے ان کے پیر چھوئے۔ اشون کی خوف زدہ بیٹی، آٹھ سالہ شارسا، جو ابھی اپنے والد کو اس شکل میں دیکھنے کی عادی نہیں ہے، اپنی ماں کویتا کے پیچھے چھپ گئی۔ شارسا کا بڑا بھائی، ۱۰ سالہ رِتوِک بھی خوفناک اوتار والے اپنے والد سے دور ہی رہا۔
’’پوتھو راجو بننے کے بعد میں پوری طرح سے بیہوشی کی حالت میں چلا جاتا ہوں،‘‘ اشون کہتے ہیں۔ ’’میرا اپنے جسم پر کوئی قابو نہیں ہوتا۔ میں دیوی کی خواہش کے مطابق کام کرتا ہوں۔ جب میں اپنے گھر آتا ہوں، تو مجھے اس کا احساس نہیں ہوتا۔ دیوی مجھے حکم دیتی ہیں۔‘‘
اشون گزشتہ پانچ سالوں سے پوتھو راجو کی شکل اختیار کر رہے ہیں، بونالو کے دن – جو کہ ریاست تلنگانہ میں آشاڑھ (جون-جولائی) کے مہینے میں دیوی مہا کالی کی نذر ایک سالانہ تہوار ہے۔ جشن کی شروعات میکل بنڈا سے تقریباً ۱۲ کلومیٹر دور، گولکُنڈا کے قلعہ میں ہوتی ہے، اور شہر کے مختلف حصوں میں چار اتواروں کو منایا جاتا ہے۔







