آسمان کی طرف عقیدت کے ساتھ اشارہ کرتے ہوئے شمپا نے کہا، ’’ماں بون بی بی کی پکار کو کوئی بھی ان سنا نہیں کر سکتا ہے۔ ماں بون بی بی کی جے!‘‘ وہ اپنے شوہر رگھو گُچھئی اور تین سال کے بیٹے کے ساتھ ماں بون بی بی کے مندر کی طرف تیزی سے جا رہی تھیں۔ ماں بون بی بی کا ایک سو پچاس سال پرانا مندر گاؤں کے جنوبی کونے میں موجود ہے۔ یہ جنوری کی ایک دوپہر کا وقت تھا، اور مغربی بنگال کے جنوبی ۲۴ پرگنہ ضلع میں واقع رام رودر پور کا ہر باشندہ، چاہے وہ ہندو ہو یا مسلمان، مندر کی طرف بڑھ رہا تھا۔ گاؤں کی بزرگ پھول ماشی (خالہ) نے کہا، ’’ماں بون بی بی جنگل کی رانی ہیں۔ آج یہاں جنگل نہیں بچا، لیکن ان کا آشیرواد اب بھی بنا ہوا ہے۔ بون بی بی طاقت کی علامت ہیں اور یہ میلہ اس گاؤں کی قدیم روایت کا حصہ رہا ہے۔‘‘
بون بی بی تہوار سال میں ایک بار، جنوری یا فروری میں منایا جاتا ہے، اور رام رودرپور کا میلہ سب سے بڑے اور پرانے میلے میں سے ایک ہے۔ رگھو مجھے میلہ میں لگا اپنا اسٹال دکھانے لے گئے، جو انہوں نے اپنے بھائی شیبو کے ساتھ مل کر لگایا تھا۔ ان کا اسٹال رنگین چوڑیوں اور مختلف قسم کے مصنوعی زیورات سے بھرا ہوا ہے، جسے انہوں نے کولکاتا کے ایک تاجر سے خریدا تھا۔ دونوں بھائی بون بی بی کا آشیرواد پانے کے اتنے خواہش مند نہیں تھے، لیکن انہوں نے سوچ سمجھ کر اپنی دکان مندر کے پاس ایسی جگہ پر لگائی تھی جہاں عورتوں کی سب سے زیادہ بھیڑ جمع ہوتی ہے۔ اسی گاؤں کی سکینہ منڈل نے مسکراتے ہوئے مجھ سے پوچھا، ’’دیدی، آپ مندر ہو آئیں؟‘‘ اور اپنی بیٹی شبینہ کو وہاں لے جانے کے لیے میرے ساتھ بھیج دیا۔
















