اس رپورٹ میں میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ذہنی یا جسمانی معذوری کی شکار لڑکیاں اور خواتین ہندوستان میں جنسی تشدد کے تئیں زیادہ حساس ہوتی ہیں، کیوں کہ بات چیت میں رکاوٹ اور ان کا دیکھ بھال کرنے والوں پر انحصار اس خطرے کو بڑھاتے ہیں۔ جب شکایتیں درج ہوتی بھی ہیں، جیسے ۲۱ سالہ کجری کے معاملے میں جو ذہنی طور پر معذور ہیں، تب بھی قانونی عمل خود ایک سزا بن جاتا ہے۔ کجری کا ۲۰۱۰ میں اغوا ہوا تھا اور وہ ۱۰ سالوں تک اسمگلنگ، جنسی استحصال اور بچہ مزدوری کی شکار رہیں۔ ان کے والد کہتے ہیں، ’’مجھے ایک ہی جگہ نوکری جاری رکھنا مشکل ہو گیا ہے، کیوں کہ مجھے پولیس بیان، ٹیسٹ وغیرہ کے لیے کجری کو لے جانے کی خاطر چھٹیاں چاہیے ہوتی ہیں۔ جب بھی میں بار بار چھٹی مانگتا ہوں، تو مجھے نوکری سے نکال دیا جاتا ہے۔‘‘
اپنے مضمون ’’ابتدائی ہندوستان میں برہمن وادی پدرانہ معاشرے کا تصور‘‘ میں پروفیسر اوما چکرورتی خواتین پر کنٹرول کے مؤثر نظام کو قائم کرنے اور انہیں لگاتار قابو میں رکھنے کی مسلسل ’’کوشش‘‘ کے بارے میں لکھتی ہیں۔ یہ کنٹرول، جیسا کہ مضمون میں بتایا گیا ہے، اکثر ان خواتین کو انعام سے سرفراز کرنے کے ذریعہ ہوتا ہے جو پدرانہ پیمانوں کی پیروی کرتی ہیں، اور جو اس کی پیروی نہیں کرتیں انہیں شرمسار کیا جاتا ہے۔ خواتین کو پر تشدد طریقے سے سماجی قید میں رکھنے والے یہ ضابطے اکثر خواتین کی جنسیت اور مالی آزادی کے ڈر سے بنائے جاتے ہیں۔ ’’پہلے وہ [میرے سسرال والے] جب بھی میں گاؤں میں کسی حاملہ عورت سے ملنے جاتی یا انہیں اسپتال لے جاتی، تو کہتے تھے کہ میں دیگر مردوں سے ملنے جا رہی ہوں۔ ایک آشا ورکر ہونے کے ناطے، یہ میرا فرض ہے،‘‘ ۳۰ سالہ گریجا کہتی ہیں۔ اتر پردیش کے مہوبہ ضلع کی گریجا پر ان کے سسرال والے دباؤ ڈالتے ہیں کہ وہ منظور شدہ سماجی طبی کارکن کے طور پر اپنی نوکری چھوڑ دیں۔ وہ کہتی ہیں، ’’کل میرے شوہر کے دادا نے مجھے لاٹھی سے پیٹا اور میرا گلا گھونٹنے کی بھی کوشش کی۔‘‘
جب عورتیں کام کرنے اور اس کے لیے اجرت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہیں، تو کام کی جگہ پر استحصال اگلی جنسی رکاوٹ بن جاتی ہے۔ قومی راجدھانی خطہ اور بنگلورو میں کپڑے کی صنعت کے مزدوروں کے ایک سروے کے مطابق، ۱۷ فیصد خواتین مزدوروں نے کام کی جگہ پر جنسی ہراسانی کے واقعات کی رپورٹ کی۔ لتا، کپڑے کی صنعت کے ایک کارخانہ میں مزدور ہیں، وہ بتاتی ہیں، ’’مرد مینیجر، سپروائزر اور میکینک – وہ ہمیں چھونے کی کوشش کرتے تھے اور شکایت کرنے کے لیے ہمارے پاس کوئی نہیں تھا،‘‘ (پڑھیں: دلت خواتین کے اتحاد نے ڈنڈی گل میں رقم کی تاریخ)۔ خواتین مزدوروں کی اجتماعی سمجھوتے کی طاقت کو مضبوط کرنے کے مقصد سے، وشاکھا گائڈ لائنس (۱۹۹۷) تنظیموں کو ایک شکایت کمیٹی قائم کرنے کی سفارش کرتا ہے، جس کی صدارت ایک خاتون کے ذریعہ کی جانی چاہیے اور کمیٹی میں کم از کم آدھی رکن خواتین ہونی چاہئیں۔ کاغذ پر ایسے رہنما خطوط کی موجودگی کے باوجود، ان کے نفاد کی حالت بہت کمزور ہے۔ خواتین کے خلاف تشدد کام کی جگہ اور گھر، دونوں جگہ برقرار ہے۔