جب کارچُنگ، مونپا شادیوں میں گاتے ہیں، تو وہ اپنی خدمات کے لیے میمنے کا پکا ہوا گوشت بطور اجرت لیتے ہیں۔ ایسا کہا جاتا ہے کہ ان کی مترنم پیشکش شادی کی تقریب میں چار چاند لگا دیتی ہے، اور دلہن کی فیملی انہیں مدعو کرتی ہے۔
جب مونپا برادری کے دو رکن شادی کے لیے راضی ہوتے ہیں، تو دو دن کی تقریب منعقد کی جاتی ہے، جو دولہے کے لڑکی کے گھر جانے سے شروع ہوتی ہے۔ وہاں پر مقامی شراب ’آرا‘ پلائی جاتی ہے، اور بڑی دعوت رکھی جاتی ہے جس میں خاندان کے ممبران شامل ہوتے ہیں اور رقص کرتے ہیں۔ اسی موقع پر کارچُنگ بغیر کسی آلہ موسیقی کے اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ اگلے دن دولہا اپنی دلہن کے ساتھ گھر لوٹتا ہے۔
کارچُنگ کا اصلی نام رِنچِن تاشی ہوا کرتا تھا، لیکن جلد ہی ’کارچُنگ‘ ان کے عرفی نام کے طور پر مشہور ہو گیا۔ وہ اروناچل پردیش کے ویسٹ کمینگ ضلع میں چانگپا روڈ پر پنساری کی ایک چھوٹی سی دکان چلاتے ہیں۔ موسیقی کے تئیں ان کی محبت ریڈیو پر بجتے نغموں میں نظر آ جاتی ہے، جو ان کے کام کرنے کے وقت بیک گراؤنڈ میں بجتا رہتا ہے اور مشہور گانے چلاتا ہے۔ کارچُنگ آرا کے بارے میں بھی ایک گیت گاتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں، ’’میں کھیتی کے وقت یا دوستوں کے ساتھ بات چیت کے دوران اسے گاتا ہوں۔‘‘
تقریباً ۵۳ سال کے کارچُنگ اپنی بیوی پیم جومبا کے ساتھ رہتے ہیں، جنہیں وہ فیملی کی ’باس‘ بلاتے ہیں۔ اس زرخیز وادی میں ان کے پاس تقریباً ایک ایکڑ زمین ہے، جس پر کھیتی کا کام پیم ہی سنبھالتی ہیں۔ ’’ہم دھان [چاول]، مکئی، بیگن، تیکھا بیگن، لائی ساگ (سرسوں کا ساگ)، پیاز اور پھول گوبھی اُگاتے ہیں،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ ان کی فیملی کھیت میں اُگنے والے زیادہ تر چاول، موٹے اناج اور سبزیوں کا استعمال خود ہی کرتی ہے، اور بقیہ پیداوار کو کبھی کبھی دیرانگ بلاک کے راما کیمپ کے ہفتہ وار بازار میں فروخت کر دیتی ہے۔





