ہمیں معلوم ہی نہیں کہ ہمارا بیٹا کیسے مرا، کمپنی نے ہمیں بتایا بھی نہیں،‘‘ نیلم یادو کہتی ہیں۔

نیلم (۳۳) سونی پت کے رائی صنعتی علاقہ میں واقع اپنے گھر کے اندر کھڑی ہو کر یہ بتاتی ہیں، اور ہم سے اپنی نظریں بچانے کی کوشش کرتی ہیں۔ تقریباً چھ مہینے پہلے ان کے دیور کا بیٹا رام کمل، جس کی پرورش انہوں نے ۲۰۰۷ میں اپنی شادی کے بعد سے اپنے ہاتھوں سے کی تھی، کی موت ایک مقامی خوردہ فوڈ فیکٹری میں کام کرتے ہوئے ہو گئی۔ رام کمل (۲۷) فیکٹری میں اے سی کی مرمت کرنے والی یونٹ میں کام کرتے تھے۔

یہ ۲۹ جون، ۲۰۲۳ کا واقعہ تھا۔ نیلم یاد کرتے ہوئے بتاتی ہیں کہ وہ ایک سست اور تیز دھوپ والی دوپہر تھی۔ ان کے تینوں چھوٹے بچے – دو بیٹیاں اور ایک بیٹا، اور سسر شوبھ ناتھ نے ابھی ابھی ان کے ہاتھ کا پکا ہوا دال چاول کھایا تھا۔ اس کے بعد وہ باورچی خانہ کی صفائی میں لگ گئیں اور شوبھ ناتھ دوپہر میں جھپکی لینے کے ارادے سے لیٹ گئے تھے۔

دوپہر ایک بجے کے قریب دروازے کی گھنٹی بجی۔ انہوں نے اپنے ہاتھ دھوئے اور دوپٹہ کو ٹھیک کرتے ہوئے دروازہ کھولنے گئیں۔ دروازے پر نیلی وردی پہنے ہوئے دو آدمی کھڑے تھے، جو انگلیوں میں پھنسی اپنی بائک کی چابی سے کھیل رہے تھے۔ نیلم انہیں پہچان گئیں۔ وہ اسی کمپنی کے آدمی تھے جس میں رام کمل کام کرتے تھے۔ انہیں یاد ہے کہ ان میں سے ایک آدمی نے کہا تھا، ’’رام کو بجلی کا جھٹکا لگ گیا ہے۔ آپ جلدی سے سول ہاسپٹل پہنچ جائیے۔‘‘

’’میں ان سے پوچھتی رہی کہ وہ کیسا ہے، اسے کچھ ہوا تو نہیں، وہ ہوش میں ہے کہ نہیں۔ انہوں نے بس اتنا بتایا کہ وہ ہوش میں نہیں ہے،‘‘ یہ سب بتاتے ہوئے نیلم کی آواز بھرانے لگتی ہے۔ انہوں نے اور شوبھ ناتھ نے سواری گاڑیوں کے انتظار میں وقت ضائع کرنے کی بجائے ان دونوں سے ہی گزارش کی کہ وہ انہیں بھی اپنی بائک پر ہی اسپتال لے چلیں۔ اسپتال پہنچنے میں ان سب کو تقریباً ۲۰ منٹ لگ گئے۔

Left: Six months ago, 27-year-old Ram Kamal lost his life at work in a food retail factory. He worked as a technician in an AC repair unit.
PHOTO • Navya Asopa
Right: Ram's uncle Motilal standing outside their house in Sonipat, Haryana
PHOTO • Navya Asopa

چھ مہینے پہلے ۲۷ سال کے رام کمل کی ایک خوردہ فوڈ فیکٹری میں کام کرتے ہوئے موت ہو گئی۔ وہ فیکٹری میں اے سی کی مرمت کرنے والی یونٹ میں بطور ٹیکنیشین کام کرتے تھے۔ دائیں: رام کے چچا موتی لال ہریانہ کے سونی پت میں اپنے گھر کے باہر کھڑے ہیں

Left: The cupboard dedicated for the safekeeping of Ram Kamal’s documents and evidence of the case.
PHOTO • Ashish Kothari
Right: Ram lived with his uncle and aunt at their house in Sonipat since 2003
PHOTO • Navya Asopa

بائیں: اس الماری میں رام کمل کے سبھی کاغذات اور کیس سے متعلق تمام ثبوت بحفاظت رکھے ہوئے ہیں۔ دائیں: رام اپنے چچا اور چچی کے ساتھ سونی پت کے گھر میں ۲۰۰۳ سے رہ رہے تھے

نیلم کے شوہر اور رام کے چچا موتی لال کو جب ان کی بیوی نے فون کیا، تب وہ اپنی نوکری پر تھے۔ وہ روہتک میں سمچانا کے ایک تعمیراتی مقام پر کام کرتے ہیں۔ خبر ملنے کے بعد، اپنے اسکوٹر سے آدھے گھنٹے میں تقریباً ۲۰ کلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے وہ اسپتال پہنچے۔

’’انہوں نے اسے پوسٹ مارٹم یونٹ میں رکھا ہوا تھا،‘‘ ان کے ۷۵ سالہ دادا شوبھ ناتھ بتاتے ہیں۔ ان کی چچی نیلم نم آنکھوں سے کہتی ہیں، ’’میں اسے نہیں دیکھ پا رہی تھی۔ لوگوں نے اسے کالے کپڑے سے ڈھانپ رکھا تھا۔ میں اس کا نام پکارتی رہی۔‘‘

*****

اب آنجہانی ہو چکے اس نوجوان کو اس کے والدین – گلاب اور شیلا یادو نے اس کے چچا چچی کے پاس رہنے کے ارادے سے بھیجا تھا۔ رام کمل صرف سات سال کے تھے، جب موتی لال انہیں اتر پردیش کے اعظم گڑھ ضلع کی نظام آباد تحصیل سے لے کر آئے تھے۔ ’’ہم نے ہی اس کی پرورش و پرداخت کی تھی،‘‘ موتی لال نے بتایا۔

رام کمل جنوری ۲۰۲۳ سے اس فیکٹری میں کام کر رہے تھے اور مہینہ میں ۲۲ ہزار روپے کماتے تھے۔ آدھی تنخواہ وہ اپنے گھر بھیج دیتے تھے، جہاں ان کی چار رکنی فیملی رہتی تھی – جس میں ان کے والدین، بیوی اور آٹھ مہینہ کی ایک بیٹی تھی۔

’’اپنی چھوٹی سی بیٹی سے اسے بہت پیار تھا۔ اب اس کا کیا ہوگا؟ کمپنی کے لوگوں نے اس کے بارے میں کبھی ایک لفظ نہیں پوچھا،‘‘ شوبھ ناتھ کہتے ہیں۔ کمپنی کے مالک ایک بار بھی ان کے اہل خانہ کی خبر خیریت پوچھنے نہیں آئے ہیں۔

'If this tragedy took place at their home [the employers], what would they have done?' asks Shobhnath, Ram's grandfather.
PHOTO • Navya Asopa
Right: It was two co-workers who informed Neelam about Ram's status
PHOTO • Navya Asopa

بائیں: ’اگر یہ حادثہ ان کے [مالکوں کے] گھر ہوا ہوتا، تب وہ کیا کرتے؟‘ رام کے دادا جی شوبھ ناتھ پوچھتے ہیں۔ دائیں: رام کے دو ساتھیوں نے نیلم کو اس کے ساتھ ہوئے واقعہ کی اطلاع دی تھی

جس دن رام کی موت ہوئی اس سے پچھلی رات وہ گھر نہیں لوٹے تھے۔ نیلم یاد کرتے ہوئے کہتی ہیں: ’’اس نے کہا تھا، وہ کام کی وجہ سے بہت مصروف ہے۔ رام کو اپنے کام کے سلسلے میں اپنی سائٹ پر ۲۴ گھنٹے لگاتار بھی رہنا پڑتا تھا۔‘‘ فیملی کے لوگوں کو اس کے کام کے گھنٹوں کے بارے میں صحیح معلومات نہیں تھی۔ کئی بار تو وہ کھانا بھی نہیں کھاتا تھا، اور کئی بار وہ اپنی راتیں کمپنی کے احاطہ میں بنی چھاؤنی میں سو کر گزار دیتا تھا۔ ’’ہمارا بچہ بہت محنتی تھا،‘‘ موتی لال مسکراتے ہوئے بتاتے ہیں۔ فرصت کے وقت اسے اپنی بیٹی کاویہ کو ویڈیو کال کرنا پسند تھا۔

فیکٹری کے کچھ دوسرے ملازمین سے رام کے اہل خانہ کو یہ اطلاع ملی کہ وہ ایک کولنگ پائپ لائن کی مرمت کر رہے تھے۔ یہ ایک ایسا کام تھا جس کے لیے رام کو احتیاط برتنے کے لیے کوئی حفاظتی آلہ مہیا نہیں کرایا گیا تھا۔ ’’جب وہ اس جگہ پر اپنی اے سی پائپ اسپرے اور پلائر لے کر پہنچا، تو اس نے کوئی سلیپر نہیں پہن رکھی تھی اور اس کے ہاتھ بھی گیلے تھے۔ اگر کمپنی کے منیجر نے اسے آگاہ کیا ہوتا، تو ہم نے آج اپنا بیٹا نہیں کھویا ہوتا،‘‘ ان کے چچا موتی لال کہتے ہیں۔

اپنے بیٹے کے مرنے کی خبر ملنے کے دوسرے دن رام کے والد گلاب یادو اپنے بیٹے کی آخری رسومات ادا کرنے کے لیے سونی پت پہنچے۔ اگلے دن وہ رائی پولیس اسٹیشن گئے اور کمپنی کے لاپروائی بھرے رویہ کے لیے اس کے خلاف شکایت درج کی۔ رام کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ تفتیشی افسر سمت کمار کو معاملے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی، اور انہوں نے تفتیش کی بجائے رام کے اہل خانہ کو صلح کے لیے بہلانے کی کوشش کی…

’’پولیس نے ہم سے ایک لاکھ روپے لے کر معاملہ کو رفع دفع کرنے کی لالچ دی۔ لیکن ہمیں یہ منظور نہیں ہے۔ جو ہوگا وہ اب عدالت طے کرے گی۔‘‘

The police at the station in Rai, Sonipat, asked Ram's family to settle
PHOTO • Navya Asopa

ہریانہ کے سونی پت میں رائی تھانہ میں تعینات پولیس والوں نے رام کے اہل خانہ کو معاملہ کو رفع دفع کرنے کا مشورہ دیا

سونی پت میں فیکٹری میں کام کرنے والے مزدوروں کی موت کا واقعہ کوئی نیا نہیں ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں سے سونی پت ایک بڑے صنعتی مرکز کے طور پر ابھرا ہے۔ یہاں کام کرنے والے زیادہ تر لوگ اتر پردیش، بہار اور دہلی سے آئے مہاجر مزدور ہیں

یہ بات سمجھ میں آنے کے بعد کہ پولیس معاملے کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے، موتی لال نے حادثہ کے ایک مہینہ بعد عدالت میں مقدمہ دائر کرنے کا فیصلہ کیا۔ رائی کے لیبر کورٹ میں رام کی نمائندگی کرنے والے وکیل نے صرف کاغذی کارروائی کرنے کے عوض ان سے ۱۰ ہزار روپے وصول کیے۔ مہینہ میں تقریباً ۳۵ ہزار روپے کمانے والی فیملی کے لیے یہ ایک بڑی رقم تھی۔ ’’ہمارے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا، لیکن مجھے یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ مجھے عدالت کے کتنے چکر لگانے پڑیں گے،‘‘ اب فیملی میں تنہا کمانے والے رہ گئے موتی لال کہتے ہیں۔

پولیس افسر نے رام کی اُس اسکوٹی کی برآمدگی میں بھی گلاب اور موتی لال کی کوئی مدد نہیں کی، جس اسکوٹی سے وہ اپنے گھر سے ۱۰ کلومیٹر دور واقع فیکٹری میں آتے جاتے تھے۔ کمپنی میں اسکوٹی کے بارے میں پوچھ گچھ کرنے کے لیے جانے سے پہلے موتی لال نے پولیس اسٹیشن میں فون بھی کیا تھا۔ ایک افسر نے انہیں صلاح دی کہ انہیں سائٹ کے سپروائزر سے سیدھی بات کرنی چاہیے۔ لیکن سپروائزر نے موتی لال کی درخواست کو ٹھکرا دیا: ’’جب میں بائک لینے کے لیے گیا، تو سپروائزر نے مجھ سے پوچھا کہ میں نے سمجھوتہ کیوں نہیں کیا؟ ہم نے مقدمہ کیوں کیا۔‘‘

موتی لال کو یہ بھی معلوم نہیں ہے کہ رام کا ورکر آئی ڈی کارڈ کہاں ہے۔ ’’ایف آئی آر میں انہیں ایک ٹھیکہ پر کام کرنے والا ملازم بتایا گیا ہے۔ لیکن ان کی تنخواہ مرکزی کمپنی کی معرفت بھیجی جاتی تھی۔ انہیں بطور ملازم آئی ڈی کارڈ دیا گیا تھا، لیکن انہوں نے ابھی تک ہمیں وہ کارڈ دیا نہیں ہے۔‘‘ وہ یہ بھی بتاتے ہیں کہ کمپنی نے انہیں سی سی ٹی وی فوٹیج بھی مہیا نہیں کرایا ہے۔

سپروائزر کا دعویٰ ہے کہ ’’یہ اُس لڑکے کی لاپروائی کا نتیجہ تھا۔ وہ پہلے ہی ایک اے سی کی سروسنگ کر چکا تھا…اس کے ہاتھ پیر ابھی گیلے تھے، جس کی وجہ سے اسے بجلی کا جھٹکا لگا۔‘‘ اس نے اپنی ذمہ داری میں کسی طرح کی کوتاہی ہونے سے صاف انکار کیا۔

Left: Ram Kamal’s postmortem report states the entry wound was found on his left finger, but the family are skeptical about the findings.
PHOTO • Navya Asopa
Right: Article about Ram's death in Amar Ujala newpaper
PHOTO • Navya Asopa

بائیں: رام کی پوسٹ مارٹم رپورٹ بتاتی ہے کہ زخم کے ابتدائی نشان ان کی بائیں انگلیوں پر ملے ہیں، لیکن گھر والوں کو اس نتیجہ پر شبہ ہے۔ دائیں: امر اجالا اخبار میں چھپی رام کی موت کی خبر

پوسٹ مارٹم کی رپورٹ بتاتی ہے کہ رام کمل کی ’’بائیں چھوٹی انگلی کے پچھلے حصہ میں بجلی کے جھٹکے کے نشان ہیں۔‘‘ لیکن فیملی کے لوگ اس رپورٹ کو من گھڑت مانتے ہیں۔ خاص کر اس لیے بھی، کیوں کہ رام دائیں ہاتھ سے کام کرنے کے عادی تھے۔ نیلم کہتی ہیں، ’’بجلی کا جھٹکا لگنے کے بعد جسم پر جلنے کے نشان رہ جاتے ہیں، اور ان کا چہرہ سیاہ پڑ جاتا ہے۔ لیکن وہ پوری طرح سے ٹھیک تھا۔‘‘

سونی پت میں فیکٹری میں کام کرنے والے مزدوروں کی موت کا واقعہ کوئی نیا نہیں ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں سے سونی پت ایک بڑے صنعتی مرکز کے طور پر ابھرا ہے۔ یہاں کام کرنے والے زیادہ تر لوگ اتر پردیش، اس کے بعد بہار اور دہلی سے آئے مہاجر مزدور ہیں (مردم شماری ۲۰۱۱)۔ پولیس بھی کہتی ہے کہ ان کی نظر میں آس پاس کی فیکٹریوں میں ہر مہینے مزدوروں کے زخمی ہونے کے کم از کم پانچ معاملے سامنے آتے ہیں۔ ’’مزدوروں کے زخمی ہونے کے بہت سے معاملے تو پولیس اسٹیشن تک پہنچتے بھی نہیں ہیں۔ انہیں باہر ہی نمٹا لیا جاتا ہے،‘‘ وہ کہتے ہیں۔

چونکہ رام کا مقدمہ ابھی عدالت میں زیر التوا ہے، اس لیے دہیا کو اس بات کا بھی امکان نظر آتا ہے کہ مناسب معاوضہ کے ساتھ معاملے کو نمٹایا جا سکتا ہے۔ ’’اتنے زیادہ لوگ مرتے ہیں، ان کی خیر خبر کون لینے والا ہے؟ یہ آئی پی سی کی دفعہ ۳۰۴ کا مقدمہ ہے اور میں اسے اس چھوٹی سی بچی کے مستقبل کے لیے لڑنا چاہتا ہوں،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ تعزیرات ہند کی دفعہ ۳۰۴ کے تحت ’’غیر ارادتاً قتل کے معاملے درج ہوتے ہیں، اور اسے قتل جیسا سنگین جرم نہیں مانا جاتا۔‘‘

معاشی اور جذباتی مشکلوں کے بعد بھی رام کی فیملی انصاف کے لیے جدوجہد کرنے کے اپنے فیصلے پر قائم ہے۔ شوبھ ناتھ کہتے ہیں، ’’اگر یہ حادثہ ان کے [مالکوں کے] گھر میں ہوا ہوتا، تو وہ کیا کرتے؟‘‘ وہ مزید کہتے ہیں، ’’جو گیا وہ تو واپس نہیں آئے گا۔ وہ پیسہ چاہے کم ہی کیوں نہ دیں، ہمیں انصاف چاہیے۔‘‘

مترجم: محمد قمر تبریز

Student Reporter : Navya Asopa

Navya Asopa is a third-year undergraduate student of Political Science and Media Studies at Ashoka University, Sonipat. She wants to become a journalist and is keen on exploring issues of development, migration and politics in India.

Other stories by Navya Asopa
Editor : Sarbajaya Bhattacharya

Sarbajaya Bhattacharya is a Senior Assistant Editor at PARI. She is an experienced Bangla translator. Based in Kolkata, she is interested in the history of the city and travel literature.

Other stories by Sarbajaya Bhattacharya
Translator : Mohd. Qamar Tabrez

Mohd. Qamar Tabrez is the Translations Editor, Urdu, at the People’s Archive of Rural India. He is a Delhi-based journalist.

Other stories by Mohd. Qamar Tabrez