انارالاسلام جب بھی اپنی زمین پر کام کرنے جاتے ہیں، انہیں بین الاقوامی سرحد کو پار کرنا پڑتا ہے۔ اس سے پہلے انہیں تفصیلی طور طریقوں پر عمل کرنا اور سکیورٹی جانچ سے گزرنا پڑتا ہے۔ انہیں اپنی شناخت سے متعلق کوئی ثبوت جمع کرانا پڑتا ہے (وہ اپنا ووٹر آئی ڈی کارڈ لیکر چلتے ہیں)، رجسٹر میں دستخط کرنا ہوتا ہے اور اپنے پورے جسم کی جانچ پڑتال کروانی پڑتی ہے۔ وہ کاشتکاری سے متعلق جو بھی آلہ لیکر جاتے ہیں، اس کی جانچ ہوتی ہے۔ اور اُس دن اگر وہ اپنے ساتھ کسی گائے کو لیکر جا رہے ہیں، تو اس کی تصویروں کی ہارڈ کاپی بھی جمع کروانی ہوتی ہے۔

’’دو سے زیادہ گائے کی [ایک بار میں] اجازت نہیں ہے،‘‘ انارُل کہتے ہیں۔ ’’واپسی کے وقت مجھے دوبارہ دستخط کرنا پڑتا ہے، جس کے بعد میرے کاغذات لوٹا دیے جاتے ہیں۔ اگر کسی کے پاس شناخت کا کوئی ثبوت (آئی ڈی پروف) نہیں ہے، تو اسے وہاں سے آگے جانے کی اجازت نہیں دی جاتی ہے۔‘‘

انارالاسلام – یہاں پر سبھی لوگ انہیں بابل کے نام سے جانتے ہیں – اپنی فیملی کے ساتھ میگھالیہ کے جنوب مغربی گارو ہلز ضلع کے باغیچہ گاؤں میں رہتے ہیں۔ ہندوستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تقریباً ۴۱۴۰ کلومیٹر لمبی سرحد ہے، جو کہ دنیا کی پانچویں سب سے لمبی سرحد ہے، جس کا تقریباً ۴۴۳ کلومیٹر علاقہ اس ریاست کی سرحد کے ساتھ لگا ہوا ہے۔ میگھالیہ سے ملحق سرحد پر خاردار تاروں سے باڑ لگائی گئی ہے اور کنکریٹ سے بنی ہے۔

باڑ لگانے کا کام ۱۹۸۰ کی دہائی کے آس پاس شروع ہوا – حالانکہ صدیوں سے مہاجرت اس خطہ کی معیشت اور دیہی معاش کا حصہ رہی ہے۔ برصغیر کی تقسیم اور بعد میں بنگلہ دیش کی تخلیق نے ان سرگرمیوں پر روک لگا دی۔ دونوں ممالک کے درمیان معاہدہ کے ایک حصہ کے طور پر، باڑ سے ملحق ۱۵۰ گز کا فاصلہ، ایک قسم کا ’بفر ژون‘ برقرار رکھا گیا ہے۔

۴۷ سالہ انارالاسلام کو یہ چیز وراثت میں ملی ہے۔ سات سال کی عمر میں انہوں نے اسکول جانا چھوڑ دیا تھا اور ہل چلانے میں اپنے والد کی مدد کرنے لگے تھے۔ ان کے تین بھائیوں کو بھی وراثت میں زمین کا حصہ ملا ہے، جس پر وہ یا تو خود کھیتی کرتے ہیں یا کسی اور کو پٹّہ پر دے دیتے ہیں (اور ان کی چار بہنیں خاتونِ خانہ ہیں)۔

Anarul Islam in front of his house in South West Garo Hills: 'My ancestors lived here, what is now the international border'
PHOTO • Anjuman Ara Begum

انارالاسلام جنوب مغربی گارو ہلز میں اپنے گھر کے سامنے: ’میرے آباء و اجداد یہاں رہتے تھے، جو کہ اب بین الاقوامی سرحد ہے‘

انارُل کاشتکاری کے علاوہ دیگر چھوٹے موٹے کام بھی کرتے ہیں، مثلاً دوسروں کو پیسے قرض دینا اور تعمیراتی مقام پر مزدوری کرنا۔ لیکن زمین کے ساتھ وہ جذباتی طور پر جڑے ہوئے ہیں۔ ’’یہ میرے والد کی زمین ہے، جہاں پر میں بچپن سے آ رہا ہوں،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ ’’یہ میرے لیے خاص ہے۔ اب اس پر کھیتی کرکے مجھے خوشی ہوتی ہے۔‘‘

ان کے پاس، باڑ کو پار کرتے ہی، بالکل سرحد پر، سات بیگھہ (تقریباً ڈھائی ایکڑ) زمین ہے۔ لیکن سرحد پر ہونے والی جانچ پڑتال نے ’بفر ژون‘ علاقے تک پہنچنے میں رکاوٹیں پیدا کر دیں، جس کے نتیجہ میں گزشتہ برسوں میں چند کاشت کاروں کو کھیتی چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا۔ لیکن انارُل کھیتی کرنا جاری رکھے ہوئے ہیں کیوں کہ ان کا کھیت سرحد کے دروازے سے زیادہ دور نہیں ہے اور وہ خود کو پشتینی طور پر زمین سے جڑا ہوا محسوس کرتے ہیں۔ ’’میرے آباء و اجداد یہاں رہتے تھے، جو کہ اب بین الاقوامی سرحد ہے،‘‘ وہ کہتے ہیں۔

ایک زمانے میں ان کا خاندان کافی اثرورسوخ والا تھا، جس کی شاخیں ’دفدار بھیٹہ‘ (زمینداروں کی آبائی زمین) کے نام سے مشہور رہائشی علاقوں میں پھیلی ہوئی تھیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ جنگ کے بعد، ۱۹۷۰ کی دہائی میں، سرحدی علاقے میں موجود ڈاکوؤں سے حفاظت کا کوئی انتظام نہیں تھا، اس لیے ان میں سے کئی لوگ دیگر گاؤوں میں نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوئے یا مہندر گنج کے مضافات میں چلے گئے، جو کہ زِکزک بلاک میں ایک بڑی میونسپلٹی ہے۔ تقریباً ۶۰۰ لوگوں کی آبادی والا اُن کا گاؤں، باغیچہ اسی بلاک کا حصہ ہے۔ انارُل مزید بتاتے ہیں کہ باڑ لگانے کی وجہ سے حکومت نے اُن میں سے متعدد لوگوں کو معاوضے کی الگ الگ رقم دینے کا وعدہ کیا تھا، لیکن ابھی تک اس کی مکمل ادائیگی نہیں کی گئی ہے۔

سرحد کا دروازہ صبح ۸ بجے کھلتا ہے اور شام کو ۴ بجے بند ہوتا ہے۔ درمیانی گھنٹوں میں یہ بند رہتا ہے۔ کام پر جانے والے کسانوں کو درست شناختی ثبوت اور دستخط یا انگوٹھے کے نشان کے ساتھ اپنا نام درج کرانا پڑتا ہے، اور بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کے پاس ایک رجسٹر ہے جس پر ہر ایک داخلہ اور اخراج کو درج کیا جاتا ہے۔ ’’وہ کافی سختی برتتے ہیں۔ آئی ڈی پروف کے بغیر کوئی داخلہ نہیں۔ اگر آپ اپنا آئی ڈی لانا بھول گئے، تو آپ نے پورا دن ضائع کر دیا،‘‘ انارُل کہتے ہیں۔

کام پر جاتے وقت وہ اپنے ساتھ کھانا بھی لے جاتے ہیں، ’’چاول یا روٹی، دال، سبزی، مچھلی، بڑے کا گوشت...‘‘ وہ المونیم کے ایک برتن میں تمام چیزوں کو ایک ساتھ رکھ دیتے ہیں، پھر اسے ایک پلیٹ سے ڈھکنے کے بعد گمچھا یا سوتی تولیہ سے باندھ کر اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔ پانی وہ سرحد کے دروازہ کے قریب واقع ایک مزار کے کنویں سے نکالتے ہیں۔ اگر پانی ختم ہو گیا، تو انہیں ۴ بجے تک پیاسا رہنا پڑتا ہے یا پھر دوبارہ سے داخلہ یا اخراج کے پروٹوکول کی تعمیل کرنی ہوتی ہے، حالانکہ ان کا کہنا ہے کہ کئی بار بی ایس ایف کے اہلکار اس میں ان کی مدد کر دیتے ہیں۔ ’’اگر میں پانی پینا چاہوں، تو مجھے اتنی دوری طے کرکے یہاں آنا ہوگا، دوبارہ اس پوری کارروائی پر عمل کرنا ہوگا اور اکثر دروازہ کھلنے تک لمبا انتظار کرنا ہوگا،‘‘ انارُل کہتے ہیں۔ ’’کیا میرے جیسے کاشتکار کے لیے یہ ممکن ہے؟‘‘

Anarul has to cross this border to reach his land in a 'buffer zone' maintained as part of an India-Bangladesh agreement
PHOTO • Anjuman Ara Begum

ہند- بنگلہ دیش معاہدہ کے تحت بنائے گئے ’بفر ژون‘ میں اپنی زمین تک پہنچنے کے لیے، انارُل کو اس سرحد کو پار کرنا پڑتا ہے

صبح ۸ بجے سے شام ۴ بجے تک کے وقت پر سختی سے عمل بھی رکاوٹیں پیدا کرتا ہے۔ مہندر گنج میں کاشتکار روایتی طور پر علی الصبح، طلوع آفتاب سے پہلے کھیتوں میں ہل چلاتے ہیں۔ ’’باسی چاول یا رات کا بچا ہوا کھانا کھانے کے بعد، ہم صبح کو ۴ بجے اپنی زمین پر کام کرنا شروع کرتے ہیں اور سورج کے تیز ہونے سے پہلے اپنا کام ختم کر لیتے ہیں۔ لیکن یہاں پر یہ صبح کو ۸ بجے کھلتا ہے اور میں تیز دھوپ میں کام کرتا ہوں۔ یہ میری صحت پر اثر ڈالتا ہے،‘‘ انارُل کہتے ہیں۔

وہ سال بھر سکیورٹی پروٹوکول پر عمل کرتے ہیں۔ داخلہ کی اجازت سے قبل بی ایس ایف ہر ایک چیز کی جانچ پڑتال کرتی ہے۔ موبائل فون لے جانے کی اجازت نہیں ہے۔ انہیں اسے دروازے پر جمع کرانا پڑتا ہے اور لوٹتے وقت واپس لینا ہوتا ہے۔ ہر ایک زرعی آلہ اور ساتھ لے جائے جا رہے باقی تمام چیزوں کی گہرائی سے جانچ ہوتی ہے۔ ٹریکٹر اور بجلی سے چلنے والے ہل کو لے جانے کی اجازت ہے، اور انارُل بعض دفعہ انہیں پورے دن کے لیے کرایہ پر لیتے ہیں، لیکن اگر کوئی اعلی افسر سرحد کا دورہ کرنے والا ہو، تو انہیں روکا جاسکتا ہے۔ کئی بار گائے کو بھی روک دیا جاتا ہے، اور انارُل کہتے ہیں کہ ویسی حالت میں انہیں پورے دن کہیں اور رکھنا اور اپنی زمین پر کام کرنا مشکل ہوتا ہے۔ انہوں نے پچھلے سال اپنی تین گائیں فروخت کر دی تھیں، اور ایک گائے اور ایک بچھڑا بٹائی پر دے دیا ہے، لہٰذا ضرورت پڑنے پر وہ کرایے پر کوئی گائے لیکر اسے اپنے ساتھ کھیت پر لے جاتے ہیں۔

سرحد کے دروازے پر بیج کی بھی جانچ کی جاتی ہے، اور جوٹ اور گنّے کے بیج لے جانے کی اجازت نہیں ہے – ایسی کوئی بھی چیز جس کی لمبائی اُگنے کے بعد تین سے چار فٹ ہو اسے لے جانے کی اجازت نہیں ہے تاکہ دور تک دیکھنے میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ پیدا ہو۔

اس لیے انارُل سردی کے موسم میں دالیں، بارش کے موسم میں دھان، اور پپیتا، مولی، بینگن، مرچ، لوکی، ڈرم اسٹک (سہجن) اور ہری پتے دار سبزیاں سال بھر اُگاتے ہیں۔ دھان کے موسم میں، جولائی سے نومبر تک، انارُل بعض دفعہ اپنی کچھ زمین کو پٹہ پر دے دیتے ہیں اور سال کے باقی وقت وہ اس پر خود ہی کھیتی کرتے ہیں۔

اس پیداوار کو یہاں سے لے جانا ایک الگ چیلنج ہے – چند ہفتوں تک کٹائی کے بعد دھان کی فصل تقریباً ۲۵ کوئنٹل ہو سکتی ہے، جب کہ آلو ۲۵-۳۰ کوئنٹل تک ہو سکتا ہے۔ ’’میں اسے اپنے سر پر لاد کر لے جاتا ہوں اور اس میں ۲-۵ چکر لگانے پڑتے ہیں،‘‘ انارُل کہتے ہیں۔ وہ اپنی پیداوار کو پہلے دروازے تک لاتے ہیں اور پھر اس کے دوسری جانب اسے جمع کرتے ہیں، اس کے بعد اسے دوبارہ سڑک کے کنارے لے جاتے ہیں اور مقامی سطح پر چلنے والی گاڑیوں کا انتظار کرتے ہیں تاکہ اسے گھر یا مہندر گنج کے بازار تک لے جا سکیں۔

In his backyard, tending to beetle nut seedlings. Seeds are checked too at the border gate, and seeds of jute and sugarcane are not allowed – anything that grows more than three-feet high is not allowed to grow so that visibility is not obstructed
PHOTO • Anjuman Ara Begum

اپنے گھر کے پچھلے حصے میں، پان کی سُپاری کے پودوں کی رکھوالی کرتے ہوئے۔ سرحد کے دروازے پر بیجوں کی بھی جانچ پڑتال ہوتی ہے، اور جوٹ اور گنّے کے بیجوں کو لے جانے کی اجازت نہیں ہے – ایسی کسی بھی چیز کو لے جانے کی اجازت نہیں ہے جو بڑھنے کے بعد تین فٹ کی ہو جائے، تاکہ آگے دیکھنے میں کسی قسم کی دشواری نہ ہو

بعض دفعہ، جب سرحد کے اُس پار مویشی بھٹک جاتے ہیں، یا جمع کی گئی بھوسی/ڈنٹھل کا ڈھیر چوری ہو جاتا ہے، تو جھگڑے شروع ہو جاتے ہیں۔ کبھی کبھی سرحد کی حد بندی کو لیکر جھڑپ ہوتی ہے۔ ’’تقریباً ۱۰ سال قبل، میں اپنی زمین پر کام کر رہا تھا۔ اسی دوران جب میں نے کھیت میں تھوڑی اونچی جگہ کو کھود کر برابر کرنے کی کوشش کی، تو میرے اور کچھ بنگلہ دیشیوں کے درمیان بڑی لڑائی ہوئی،‘‘ انارُل بتاتے ہیں۔ ’’بنگلہ دیش کے بارڈر گارڈ کے اہل کار فوراً وہاں آ گئے اور مجھے کھدائی کرنے سے منع کیا، یہ کہتے ہوئے کہ وہ زمین بنگلہ دیش کی ہے۔‘‘ انارُل نے اس کی شکایت ہندوستانی بی ایس ایف سے کی۔ مقامی لوگ بتاتے ہیں کہ ہندوستان اور بنگلہ دیش کی سکیورٹی فورسز کے درمیان مرحلہ وار ہونے والی متعدد ’فلیگ میٹنگوں‘ اور بحث و مباحثہ کے بعد آخرکار ایک بانس سے سرحد کی لائن طے ہوئی۔ وہ بانس جلد ہی سڑ گیا۔ انارُل کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنی تقریباً دو بیگھہ زمین کھو دی، اور اس زمین کی بازیابی ابھی باقی ہے۔ اس طرح انہیں وراثت میں جو سات بیگھہ زمین ملی تھی، اس میں سے صرف پانچ بیگھہ پر وہ کھیتی کرتے ہیں۔

حالانکہ، ہندوستانی اور بنگلہ دیشی کسان ایک دوسرے سے صرف چند میٹر کی دوری پر، جسے سرحد کے ذریعہ الگ کیا گیا ہے، کھیتوں میں ایک ساتھ کام کرتے ہیں، لیکن انارُل کہتے ہیں، ’’میں اُن سے بات کرنے سے پرہیز کرتا ہوں کیوں کہ سکیورٹی فورسز کو یہ پسند نہیں ہے۔ تھوڑا سا بھی شک ہونے پر، زمین تک میری رسائی متاثر ہو سکتی ہے۔ میری بات چیت محدود ہے۔ اگر وہ سوال کرتے ہیں تب بھی میں خاموش رہنے کا بہانہ کرتا ہوں۔‘‘

’’چور میری سبزیاں چُرا لے جاتے ہیں۔ لیکن مجھے کوئی شکایت نہیں ہے،‘‘ وہ الزام لگاتے ہیں۔ ’’ان کے اندر ایمان نہیں ہے، لیکن میرے اوپر اللہ کا کرم ہے۔‘‘ سرحدی علاقے جانوروں کی اسمگلنگ کے لیے بدنام ہیں اور مہندر گنج کے رہائشی بتاتے ہیں کہ منشیات کی اسمگلنگ میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ ایک ۲۸ سالہ نوجوان آدمی، جسے انارُل نے ۲۰۱۸ میں ۷۰ ہزار روپے قرض دیے تھے، اور بطور سود اضافی ۲۰ ہزار روپے کی امید کر رہے تھے، منشیات کی وجہ سے جلد ہی اس کی موت ہو گئی۔ یہاں کے لوگ کہتے ہیں کہ یہ ’ٹیبلیٹ‘ سرحد پار سے اسمگلنگ کرکے لائی گئی تھی۔ ’’نشہ آور دوائیں حاصل کرنا آسان ہے،‘‘ انارُل بتاتے ہیں۔ ’’کسی کو اسے بس باڑ کے دوسری طرف پھینکنے کی ضرورت ہے۔ اگر آپ پھینکنے میں ماہر ہیں، تو آپ آسانی سے منشیات منتقل کر سکتے ہیں۔‘‘ بقایہ قرض سے فکرمند انارُل نے اُس نوجوان آدمی کی فیملی سے بات کی، جو آخرکار انہیں ۵۰ ہزار روپے لوٹانے کے لیے راضی ہو گئے۔

قرض دینے کے اپنے کام کے بارے میں وہ بتاتے ہیں، ’’میں اپنی بڑی فیملی کی دیکھ بھال نہیں کر پا رہا تھا۔ اس لیے میرے پاس جب کبھی پیسہ ہوتا ہے، تو میں اسے دوسروں کو سود پر قرض دے دیتا ہوں۔ مجھے پیسے کی ضرورت ہے۔ اسی لیے۔‘‘

The road and gate at the border on the India side. At times, fights break out when cattle stray across, or straw is stolen or demarcation lines are disputed
PHOTO • Anjuman Ara Begum
The road and gate at the border on the India side. At times, fights break out when cattle stray across, or straw is stolen or demarcation lines are disputed
PHOTO • Anjuman Ara Begum

سرحد پر ہندوستان کی جانب سڑک اور دروازہ۔ کئی بار، لڑائیاں تب شروع ہو جاتی ہیں جب جانور سرحد کے اُس پار بھٹک جاتے ہیں، یا بھوسا چوری ہو جاتا ہے یا حدبندی کی لکیریں متنازع ہو جاتی ہیں

باڑ لگانے سے آبپاشی اور پانی کی نکاسی کے راستے میں بھی رکاوٹیں پیدا ہو گئی ہیں۔ جولائی-اگست میں اگر بہت زیادہ بارش ہوئی، تو برسات پر منحصر انارُل کے کھیت میں پانی بھر جاتا ہے، اور پانی کو باہر نکالنے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ سخت قوانین اور چوروں کے ڈر سے پلاٹ پر پمپ رکھنا ناممکن ہے۔ اور یہ ایک بھاری مشین ہے جسے روزانہ لانا اور لے جانا مشکل ہے۔ جے سی بی جیسی بڑی مشینوں کو زمین برابر کرنے کے لیے داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے۔ اس لیے وہ پانی کے نکلنے کا انتظار کرتے ہیں، ایک یا دو دن تک، اور زبردست سیلاب کے دوران یہ انتظار دو ہفتے تک کا ہو سکتا ہے۔ یہ ان کی فصل کو برباد کر دیتا ہے، اور انارُل کو یہ نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔

زرعی مزدوروں کو کام پر رکھنا بھی ایک بڑی رکاوٹ ہے، کیوں کہ انارُل صرف انہیں لوگوں کو کام پر رکھ سکتے ہیں جن کے پاس درست آئی ڈی پروف ہو۔ وہ بتاتے ہیں کہ ہر کسی کے لیے پینے کے پانی کا انتظام کرنا بھی مشکل ہے، اور زمین پر کوئی بڑا درخت نہیں ہے جس کے سایہ میں آرام کیا جا سکے۔ ’’مزدوروں کو ان قوانین پر عمل کرنے میں دشواری ہوتی ہے،‘‘ وہ کہتے ہیں، اور جب وہ اپنی زمین کا محل وقوع بتاتے ہیں تو وہ وہاں جانے سے کتراتے ہیں۔ یہ تمام چیزیں انارُل کو تنہا کام کرنے پر مجبور کرتی ہیں، حالانکہ بعض دفعہ وہ مدد کے لیے اپنی بیوی یا فیملی کے کسی رکن کو ساتھ لے جاتے ہیں۔

لیکن خواتین کے لیے، سرحد پر واقع کھیتوں میں کئی اور مسائل ہیں، جیسے کہ بیت الخلاء تک رسائی۔ چھوٹے بچوں کو بفر ژون میں لے جانے کی اجازت نہیں ہے، اور وہ بتاتے ہیں کہ جن خواتین مزدوروں کو وہ کام پر رکھ سکتے ہیں، وہ بعض دفعہ بچوں کے ساتھ آتی ہیں۔

اپنی تیسری نوکری – تعمیراتی مقامات پر کام کرنے میں – انارُل بتاتے ہیں کہ وہ متوازن آمدنی کما لیتے ہیں۔ علاقے میں متعدد سرکاری اور نجی ترقیاتی پروجیکٹ، عام طور سے ۱۵-۲۰ کلومیٹر کے دائرے میں، مسلسل تعمیراتی کام فراہم کرتے ہیں۔ کئی بار وہ تورا جاتے ہیں۔ یہ ایک شہر ہے، جو تقریباً ۸۰ کلومیٹر دور ہے۔ (لیکن یہ پچھلے سال کے لاک ڈاؤن اور کووڈ- ۱۹ کے دوران بند ہو گیا ہے)۔ تقریباً تین سال قبل، انارُل کہتے ہیں کہ وہ ۳ لاکھ روپے کمانے میں کامیاب رہے، جس سے انہوں نے ایک سیکنڈ ہینڈ موٹر سائیکل اور اپنی بیٹی کی شادی کے لیے سونا خریدا تھا۔ حالانکہ، عام طور سے وہ ایک دن میں ۷۰۰ روپے کماتے ہیں، اور تعمیراتی مقامات پر مزدوری کرکے ایک سال میں تقریباً ایک لاکھ روپے کما لیتے ہیں۔ ’’یہ مجھے فوری طور پر آمدنی فراہم کرتا ہے، جب دھان کے کھیتوں سے کمانے کے لیے مجھے کم از کم تین مہینے تک انتظار کرنا پڑتا ہے،‘‘ وہ بتاتے ہیں۔

Left: Anarul and others in his village discussing ever-present border issues. Right: With his family celebrating the birth of his granddaughter
PHOTO • Anjuman Ara Begum
Left: Anarul and others in his village discussing ever-present border issues. Right: With his family celebrating the birth of his granddaughter
PHOTO • Anjuman Ara Begum

بائیں: انارُل اور ان کے گاؤں کے دیگر لوگ کبھی کبھی سرحد کے مسائل پر گفتگو کرتے ہیں۔ دائیں: اپنی فیملی کے ساتھ اپنی پوتی کی پیدائش کا جشن مناتے ہوئے

انارُل تعلیم کو کافی اہمیت دیتے ہیں۔ ان کے بڑے بھائی سابق اسکول ٹیچر ہیں۔ ان کی ۱۵ سالہ بیٹی شوبھا بیگم  ۸ویں کلاس میں ہے، ۱۱ سالہ بیٹا صدام اسلام کلاس ۴ میں اور چھ سالہ بیٹی سیما بیگم تیسری کلاس میں پڑھ رہی ہے۔ ان کی تین بڑی بیٹیاں، جن کی عمر ۲۱ سے ۲۵ سال تک ہے، شادی شدہ ہیں۔ انارُل کی دو بیویاں ہیں، جپسیلا ٹی سنگما اور جکیدا بیگم، دونوں کی عمر تقریباً ۴۰ سال ہے۔

وہ چاہتے تھے کہ ان کی بڑی بیٹیاں گریجویشن تک تعلیم حاصل کریں، لیکن بتاتے ہیں کہ ’’سنیما، ٹی وی، موبائل فون کا ان کے اوپر اثر ہوا اور وہ کسی سے محبت کرنے لگیں اور پھر ان کی شادی ہو گئی۔ میرے بچے آرزومند نہیں ہیں اور اس سے مجھے تکلیف ہوتی ہے۔ وہ نہ تو محنت سے کام کرتے ہیں اور نہ ہی مطالعہ کرتے ہیں۔ لیکن میں قسمت پر یقین کرتا ہوں اور مجھے امید ہے کہ وہ اپنی زندگی میں اچھی قسمت لیکر آئیں گے۔‘‘

سال ۲۰۲۰ میں، انارُل کاجو کے کاروبار میں قسمت آزمانا چاہتے تھے، لیکن بی ایس ایف نے اعلان کیا کہ کووڈ کو روکنے کے لیے سرحدی دروازے کو بند رکھا جائے گا اور کسانوں کو ان کی زمین پر جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ لہٰذا انارل کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنی کچھ پیداوار کھو دی۔ لیکن، پان کی سُپاری کے پودے میں انہیں کچھ منافع ہوا تھا۔

پچھلے سال، ۲۹ اپریل تک سرحدی دروازہ پوری طرح سے بند تھا، جس کے بعد کسانوں کو سرحد کے اُس پار ۳-۴ گھنٹے تک کام کرنے کی اجازت دی گئی تھی، پھر معمول کے گھنٹے دھیرے دھیرے بحال کر دیے گئے۔

ان برسوں میں، انارُل نے کئی بی ایس ایف اہلکاروں سے دوستی کر لی ہے۔ ’’بعض دفعہ مجھے ان کے بارے میں برا لگتا ہے،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ ’’وہ اپنی فیملی سے کافی دور رہتے ہیں اور یہاں ہماری حفاظت کرنے آتے ہیں۔‘‘ کئی بار وہ انہیں عید کی خوشی کے دوران گھر پر کھانے کی دعوت دے چکے ہیں، یا بعض دفعہ وہ بتاتے ہیں کہ وہ ان کے لیے چاول اور گوشت کا شوربا لے جاتے ہیں۔ اور کبھی کبھار وہ بھی انہیں سرحد کے دونوں طرف آتے جاتے وقت چائے پیش کرتے ہیں۔

رپورٹر کی فیملی مہندر گنج میں رہتی ہے۔

مترجم: محمد قمر تبریز

Mohd. Qamar Tabrez is PARI’s Urdu/Hindi translator since 2015. He is a Delhi-based journalist, the author of two books, and was associated with newspapers like ‘Roznama Mera Watan’, ‘Rashtriya Sahara’, ‘Chauthi Duniya’ and ‘Avadhnama’. He has a degree in History from Aligarh Muslim University and a PhD from Jawaharlal Nehru University, Delhi. You can contact the translator here:

Anjuman Ara Begum

Anjuman Ara Begum is a human rights researcher and freelance journalist based in Guwahati, Assam.

Other stories by Anjuman Ara Begum