فاطمہ بی بی کہتی ہیں، ’’لوگ میرے سسر سے پوچھتے تھے کہ ’کیا آپ کے گھر کی لڑکی پیسے کمانے کے لیے گھر سے باہر جائے گی؟‘ میں اس قصبے کی بیٹی نہیں ہوں، اس لیے میرے لیے قاعدے قانون کچھ زیادہ سخت ہیں۔‘‘

فاطمہ تیزی سے اپنا نقاب اتار کر اسے سامنے والے دروازے کی کھونٹی پر ٹانگ دیتی ہیں، اور ہم سے بات چیت کو جاری رکھتے ہوئے گھر کے اندر داخل ہوتی ہیں۔ ’’میں جب چھوٹی تھی، تو سوچتی تھی کہ میری پہنچ صرف باورچی خانہ تک ہوگی – میری زندگی کھانا پکانے اور گھر سنبھالنے تک ہی محدود ہو کر رہ جائے گی،‘‘ وہ پرانی باتوں کو یاد کرتے ہوئے، ہنستے ہوئے کہتی ہیں۔  ۲۸ سال کی فاطمہ سفید رنگ کا دوپٹہ اوڑھے ہوئی ہیں، جس پر لگا ستارہ دوپہر کی دھوپ میں تیز چمک رہا ہے۔ وہ آگے کہتی ہیں، ’’میں نے جب بھی کچھ کرنے کا فیصلہ کیا، میری فیملی نے مجھے باہر نکلنے اور اپنے لیے کچھ کرنے کی پوری آزادی دی۔ میں بھلے ہی ایک نوجوان مسلم عورت ہوں، لیکن ایسا کوئی کام نہیں ہے جو میں نہیں کر سکتی۔‘‘

فاطمہ، اتر پردیش کے پریاگ راج (پہلے الہ آباد کے نام سے مشہور) ضلع کے مہیوا قصبہ میں رہتی ہیں، جہاں کی زندگی پاس میں بہنے والی یمنا ندی کی طرح ہی سست رفتار ہے۔ لیکن فاطمہ بیکار بیٹھنے والوں میں سے نہیں ہیں، اس لیے آج وہ ایک ماہر کاریگر اور دستکاری کے کاروبار سے جڑی ہوئی ہیں۔ وہ سرکنڈے جیسی پتلی اور کھوکھلی گھاس، جسے ’مونج‘ یا ’سرپت‘ کہتے ہیں – کی تیلیوں سے مختلف قسم کی گھریلو اشیاء بنا کر بیچتی ہیں۔

فاطمہ جب چھوٹی تھیں، تو انہیں خود بھی یہ معلوم نہیں تھا کہ آگے جا کر وہ کیا کرنے والی ہیں، لیکن محمد شکیل سے شادی ہونے کے بعد وہ مہیوا کے ایک ایسے گھر میں پہنچ گئیں، جہاں پر ان کی ساس عائشہ بیگم کو ’مونج‘ کے سامان بنانے میں مہارت حاصل تھی۔

PHOTO • Priti David
PHOTO • Priti David

بائیں: عائشہ بیگم مونج کی ٹوکری کا ڈھکن بُن رہی ہیں۔ وہ سوکھی گھاس سے کئی قسم کی اشیاء بناتی ہیں، جیسے ٹوکریاں، ڈسٹ بن، چھوٹی چٹائی یا برتن کے ڈھکن، مصنوعی زیورات اور آرائشی سامان۔ دائیں: عائشہ کی بہو، فاطمہ بی بی مختلف قسم کی تیار ٹوکریوں کے ساتھ بیٹھی ہیں، جنہیں بازاروں اور نمائشوں میں فروخت کیا جائے گا

شادی کے بعد جب فاطمہ اپنے سسرال پہنچیں، تو وہ بڑے غور سے اپنی ساس کو مونج سے مختلف قسم کی اشیاء پوری مہارت سے بناتے ہوئے دیکھتی تھیں۔ ان میں مختلف شکلوں اور سائزوں کی، ڈھکن یا بغیر ڈھکن والی ٹوکریاں؛ چھوٹی چٹائیاں یا برتنوں کے ڈھکن؛ ٹرے؛ قلم دان؛ تھیلے؛ ڈسٹ بن؛ اور آرائشی سامان جیسے کہ چھوٹے جھولے، ٹریکٹر وغیرہ شامل تھے۔ ان اشیاء کی فروخت سے اچھی خاصی آمدنی ہوتی تھی، اور یہ پیسہ گھر کی عورتوں کو ہی ملتا تھا جسے وہ جہاں مناسب سمجھتیں وہاں استعمال کرتی تھیں۔

فاطمہ بتاتی ہیں، ’’میں نے پیپیرسا میں، اپنے گھر میں امی کو بھی یہ کام کرتے ہوئے [مونج سے اشیاء بناتے ہوئے] دیکھا تھا۔‘‘ جلد ہی، فاطمہ بھی اس ہنر کی باریکیاں سیکھ گئیں۔ نو سال کی عافیہ اور پانچ سال کے آلیان کی ماں، فاطمہ کہتی ہیں، ’’میں اپنا گھر سنبھالنے والی ایک خاتون خانہ تھی، لیکن مجھے کچھ اور بھی کرنے کی بڑی خواہش تھی۔ اب [اس کام سے] میں ہر مہینے تقریباً ۷۰۰۰ روپے کما لیتی ہوں۔‘‘

فاطمہ کو جب مونج کی اشیاء بنانے سے فرصت ملتی ہے، تو وہ اس ہنر کو مختلف طریقے سے پھیلانے میں مصروف ہو جاتی ہیں: وہ بنائی گئی مونج کی اشیاء کو اکٹھا کرکے انہیں فروخت کرتی ہیں، نئے خریدار تلاش کرتی ہیں، ٹریننگ ورکشاپ کا انتظام و انصرام کرتی ہیں، اور اس دستکاری سے متعلق نئی پالیسیاں بناتی ہیں۔ اس کے علاوہ، وہ اپنے ذریعے قائم کردہ عورتوں کا سیلف ہیلپ گروپ (ایس ایچ جی) بھی چلاتی ہیں، جس کا نام انہوں نے ’اینجل‘ (یعنی فرشتہ) رکھا ہے – یہ گروپ انہوں نے دوسری عورتوں کو ساتھ لے کر چلنے والی طاقتور، ہمدرد عورتوں کی کہانیوں سے متاثر ہو کر بنایا تھا۔ وہ بتاتی ہیں، ’’مجھے ایسی کہانیاں اور فلمیں پسند ہیں، جن میں عورتیں ایک دوسرے سے مقابلہ کرنے کی بجائے ایک دوسرے کی مددگار بنتی ہیں۔‘‘

خود کو ملنے والی پہچان اور عزت سے وہ کافی خوش ہیں، جس میں ریاست کے وزیر اعلیٰ سے ملاقات بھی شامل ہے۔ اپنی آزادی کے احساس کو شیئر کرتے ہوئے وہ بتاتی ہیں، ’’پہلے میرے شوہر [جو پیشہ سے ایک موٹر میکینک ہیں] میرے باہر آنے جانے سے فکرمند رہتے تھے، لیکن اب مجھے جو پہچان مل رہی ہے اسے دیکھ کر انہیں بہت فخر ہوتا ہے۔ پچھلے دو سالوں سے، میں گھر پر ہفتے میں صرف دو دن ہی گزار پاتی ہوں۔‘‘ ان کا سارا وقت ایس ایچ جی ممبران اور خریداروں سے ملنے، دوسروں کو ٹریننگ دینے اور اپنے بچوں کی دیکھ بھال کرنے میں ہی گزر جاتا ہے۔

ویڈیو دیکھیں: پریاگ راج میں گھاس کا سبز رنگ کچھ زیادہ ہی گہرا ہے

مہیوا کی کاروباری عورتوں نے مونج کو فروغ دینے کے قدم کا تہ دل سے خیر مقدم کیا اور اپنی آمدنی کو بڑھانے کے اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھایا

پھر بھی، لوگوں کی چغلی بند نہیں ہوئی۔ اتر پردیش کے اس چھوٹے سے قصبہ میں معاشرہ کی تنگ نظری کا ذکر کرتے وہ بتاتی ہیں، ’’ٹریننگ کی اُن میٹنگوں میں جہاں مرد موجود ہوتے ہیں اور گروپ فوٹو لی جاتی ہے، تو لوگ میری ساس سے جا کر شکایت کرتے ہیں کہ ’اسے دیکھو، مردوں کے ساتھ تصویریں کھنچوا رہی ہے!‘ لیکن اس قسم کی باتوں پر میں دھیان نہیں دیتی اور اپنا کام کرتی رہتی ہوں۔‘‘

یوپی کے مہیوا پٹّی پشچم اوپرہار کو (۲۰۱۱ کی مردم شماری کے مطابق) ۶۴۰۸ لوگوں کی آبادی والا ایک قصبہ قرار دیا گیا ہے، لیکن مقامی باشندے اسے اب بھی ’مہیوا گاؤں‘ ہی کہتے ہیں۔ گنگا اور یمنا ندیوں کے آپس میں ملنے کی جگہ، اور ہندو عقیدت مندوں کے لیے ایک اہم مقام – سنگم سے چند کلومیٹر کے فاصلہ پر آباد یہ قصبہ کرچھانا تحصیل میں آتا ہے۔

یمنا، مہیوا کے لوگوں کی زندگی اور معاش کے لیے ایک اہم مقام ہے۔ یہاں کی کاریگر عورتیں بازار میں تاڑ کے پتوں سے بُنی چھوٹی چھوٹی ٹوکریاں بھی سپلائی کرتی ہیں، جن میں سنگم پر آنے والے عقیدت مندوں کے لیے پھول اور پوجا سے متعلق دیگر اشیاء بھری ہوتی ہیں۔ یہاں کے مرد میکینک اور ڈرائیور کا کام کرنے باہر، پریاگ راج شہر جاتے ہیں یا پھر آس پاس کے علاقوں میں چھوٹی دکانیں چلاتے ہیں اور ڈھابوں میں کام کرتے ہیں۔

ایک دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ سال ۲۰۱۱ کی مردم شماری کے مطابق، پریاگ راج ضلع کی کل آبادی میں ۱۳ فیصد مسلمان ہیں، جب کہ مہیوا میں مسلمان کل آبادی کا صرف ایک فیصد ہیں۔ اس کے باوجود فاطمہ اور عائشہ ان چنندہ یا شاید اکیلی عورتوں میں شامل ہیں، جو دستکاری کے اس ہنر کو دوبارہ زندہ کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ فاطمہ کہتی ہیں، ’’ویسے تو ہم تمام عورتوں کو ٹریننگ دے رہے ہیں، لیکن آخر تک جو عورتیں اس دستکاری کی مشق کر رہی ہیں ان کا تعلق زیادہ تر ایک ہی برادری سے ہے، باقی عورتیں اسے درمیان میں ہی چھوڑ دیتی ہیں اور واپس کبھی نہیں لوٹتیں۔ شاید وہ اپنے لیے کسی اور کام کا انتخاب کر لیتی ہیں۔‘‘

*****

PHOTO • Priti David
PHOTO • Priti David

بائیں: فاطمہ اور عائشہ چھت والے اُس کمرے کے باہر کھڑی ہیں، جہاں سوکھی گھاس رکھی جاتی ہے۔ دائیں: تازہ کاٹی گئی مونج کو ایک ہفتے تک دھوپ میں رکھ کر خشک کیا جاتا ہے، جب تک کہ اس کا رنگ تبدیل ہو کر ’کریم‘ نہ ہو جائے۔ پھر اسے سوکھے کاس (سرکنڈے نما پتلی گھاس، جسے مونج کو باندھنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے) کے ساتھ بنڈلوں میں باندھ دیا جاتا ہے

مہیوا کے اپنے گھر کی چھت پر فاطمہ ایک اسٹور روم کا دروازہ کھولتی ہیں، جو سوکھی ہوئی مونج کے قیمتی گٹھروں سے بھرا ہوا ہے۔ یہ گٹھر گھر کے کباڑ کے سب سے اوپر رکھے ہوئے ہیں۔ وہ بتاتی ہیں، ’’ہمیں مونج صرف سردیوں کے موسم میں (نومبر سے فروری کے درمیان) ملتی ہے۔ ہم سبز رنگ کی گھاس کو پٹیوں کی شکل میں کاٹ لیتے ہیں، پھر اسے سُکھانے کے بعد اس کباڑ خانہ میں جمع کر لیتے ہیں۔ یہ گھر کی سب سے خشک جگہ ہے اور یہاں تھوڑی سی بھی ہوا نہیں آتی ہے۔ بارش اور سردیوں کے موسم میں گھاس کے رنگ بدل کر زرد ہو جاتے ہیں۔‘‘

زرد گھاس، کچھ بنانے کے لیے مناسب نہیں ہوتی ہے کیوں کہ اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ گھاس بہت نازک اور کمزور ہو گئی ہے اور اس پر رنگ بھی نہیں چڑھایا جا سکتا۔ سب سے بہتر گھاس ہلکے کریم رنگ کی ہوتی ہے، جنہیں پسندیدہ رنگوں سے رنگا جا سکتا ہے۔ ایسی گھاس حاصل کرنے کے لیے تازہ کاٹی گئی مونج کو احتیاط کے ساتھ بنڈلوں میں باندھ کر کھلی اور تیز دھوپ میں ہفتے بھر تک سُکھایا جاتا ہے۔ اس بات کا خاص خیال رکھا جاتا ہے کہ گھاس میں تھوڑی بھی ہوا نہ لگنے پائے، اور نمی سے پوری طرح پاک ہو۔

دریں اثنا، گھاس کے ذخیرہ کو دیکھنے کے ارادے سے فاطمہ کی ساس، عائشہ بیگم بھی چھت پر چلی آئی ہیں۔ وہ ۵۰ کی عمر پار کر چکی ہیں اور اب ایک ماہر کاریگر ہیں۔ گفتگو کے دوران وہ اُن دنوں کو یاد کرنے لگتی ہیں جب کوئی بھی یمنا کے کنارے تھوڑی دور پیدل چل کر جتنی مرضی ہو، اتنی مونج اکٹھا کر سکتا تھا۔ لیکن گزشتہ کچھ دہائیوں میں بے تحاشہ ترقی اور شہروں کے پھیلنے سے ندی کا کنارہ تنگ ہو گیا ہے، جہاں کبھی یہ جنگلی گھاس بغیر کسی رکاوٹ کے لہلہاتی رہتی تھی۔

عائشہ ہمیں بتاتی ہیں، ’’اب یمنا پار سے آنے والے ملاح اپنے ساتھ مونج لے کر آتے ہیں اور ہمیں ۳۰۰ سے ۴۰۰ روپے میں ایک ’گٹّا‘ بیچتے ہیں۔ ایک ’گٹّے‘ میں تقریباً ۲ سے ۳ کلو گھاس ہوتی ہے۔‘‘ ہم لوگ بات چیت کرتے ہوئے چھت سے اتر کر گھر کے احاطے میں پہنچ گئے ہیں، جہاں وہ اپنا کام کرتی ہیں۔ مونج کے ایک ’گٹّے‘ سے کاریگر عموماً ۱۲ بائی ۱۲ انچ کی دو ٹوکریاں بنا سکتا ہے، جو ۱۵۰۰ روپے میں فروخت ہو سکتی ہیں۔ اس سائز کی ٹوکریاں عموماً پودے لگانے اور کپڑے رکھنے کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔

سرپت گھاس، جو کہ۷ سے ۱۲ فٹ تک لمبی ہوتی ہے، مونج کی دستکاری میں کافی مفید ثابت ہوتی ہے۔ بالکل ایسی ہی ضروری مدد تھوڑی اور پتلی اور سرکنڈے نما ایک دوسری گھاس سے بھی ملتی ہے، جسے کاس کہتے ہیں۔ کاس کی گھاس سے مونج مضبوط بندھ جاتی ہے اور سامان کے پوری طرح تیار ہو جانے کے بعد یہ نظر بھی نہیں آتی ہے۔ مضبوط بندھے گٹھر کی شکل میں فروخت ہونے والی یہ گھاس ندی کے کناروں پر بہت زیادہ اُگتی ہے اور ایک گٹھر کی قیمت ۵ سے ۱۰ روپے کے درمیان ہوتی ہے۔

PHOTO • Priti David
PHOTO • Priti David

بائیں: عائشہ بیگم، سیراہی (ایک تیز سوئی) سے ایک گھُنڈی بُن رہی ہیں۔ دائیں: وہ اسے صحیح شکل دینے کے لیے کاس کے چاروں طرف مونج کی موٹی پٹیوں کو باندھتی ہیں

اپنے گھر کے ہی احاطہ میں عائشہ اپنے کام کرنے کی جگہ پر بیٹھ گئی ہیں۔ وہ ٹوکری کے ڈھکنوں کو کھولنے لگانے کے لیے اُن پر لگنے والی گھُنڈیاں بنا رہی ہیں۔ قینچی اور دھار دار چھُری کے سہارے وہ گھاس کے ڈنٹھلوں کو ایک دوسرے میں پھنساتے نکالتے ہوئے ان سے ایک مضبوط بُنائی کر رہی ہیں۔ جو گھاس تھوڑی سخت ہے، انہیں لچکدار بنانے کے لیے وہ پانی کی ایک بالٹی میں انہیں کچھ دیر کے لیے ڈبو دیتی ہیں۔

عائشہ بتاتی ہیں، ’’میں نے یہ کام اپنی ساس کو دیکھ کر سیکھا۔ تقریباً ۳۰ سال پہلے، جو پہلا سامان میں نے بنایا تھا وہ روٹی کا ایک ڈبہ تھا۔ اس وقت میں شادی کرکے بس آئی ہی تھی۔‘‘ ایک بار انہوں نے کرشن بھگوان کی بچپن کی ایک مورتی کو جنماشٹمی (ان کے یوم پیدائش پر منایا جانے والا تہوار) میں جھلانے کے لیے ایک چھوٹا سا جھولا بھی بنایا تھا۔

زخم کے نشانوں سے بھری اپنی روکھی ہتھیلیوں کو دکھاتے ہوئے وہ کہتی ہیں، ’’کام کرتے وقت ہمارے ہاتھ اِن دھار دار، لیکن بے حد مضبوط گھاسوں سے اکثر کٹ جاتے ہیں۔‘‘ پرانے دنوں کو یاد کرتے ہوئے وہ آگے کہتی ہیں، ’’اُن دنوں اس کام کو کرنے کے لیے پوری فیملی جمع ہو جاتی تھی – عورتیں اور بچے مونج سے مختلف قسم کی اشیاء بناتے تھے، اور مرد انہیں بیچنے کے لیے بازاروں میں لے جاتے تھے۔ اگر ایک گھر کی دو یا تین عورتیں ایک ساتھ مل کر یہ کام کرتی تھیں، تو وہ ایک دن میں ۳۰ روپے تک کما لیتی تھیں۔ ان سب کی آمدنی کو ملا دینے پر، گھر چلانے کے لیے یہ پیسہ کافی ہوتا تھا۔‘‘

تقریباً دس سال پہلے مونج کی مانگ میں اچانک تیزی سے گراوٹ آئی اور اس کام کو کرنے والی عورتوں کی تعداد کم ہو گئی۔ بازار میں بھی مونج سے بنے سامان کی فروخت کم دکھائی دینے لگی۔ پھر غیر متوقع مدد ملنے کی وجہ سے اس کام کو دوبارہ نئی زندگی ملی۔ اس کا سہرا اتر پردیش حکومت کی ’وَن ڈسٹرکٹ وَن پروڈکٹ‘ (او ڈی او پی) اسکیم کے سر جاتا ہے، جس کی شروعات ۲۰۱۳ میں ہوئی تھی۔ پریاگ راج ضلع میں مونج کو ’مخصوص پروڈکٹ‘ کے طور پر منتخب کیا گیا، جس سے وابستہ دست کاری کی تاریخ کم از کم ۷۰ سال پرانی تھی۔

PHOTO • Priti David
PHOTO • Priti David

بائیں: عائشہ بیگم، جو ۵۰ سال سے زیادہ عمر کی ہیں، مونج سے متعلق دستکاری کی ایک تجربہ کار کاریگر ہیں۔ ’میں نے یہ کام اپنی ساس کو دیکھ کر سیکھا۔ تقریباً ۳۰ سال پہلے، میں نے جو پہلا سامان بنایا تھا وہ روٹی کا ایک ڈبہ تھا۔‘ دائیں: عائشہ کے ذریعے حال ہی میں بنائے گئے کچھ ڈبے اور ٹوکریاں

پریاگ راج ضلع کے ڈپٹی کمشنر برائے انڈسٹری، اجے چورسیا کہتے ہیں، ’’او ڈی او پی اسکیم نے مونج سے تیار کردہ سامانوں کی مانگ اور فروخت دونوں میں اضافہ کیا ہے، اسی لیے بہت سے کاریگر اس دستکاری کی جانب دوبارہ لوٹ رہے ہیں۔ نئے لوگوں نے بھی اس ہنر کو سیکھنے میں کافی جوش دکھایا ہے۔‘‘ چورسیا، ضلع اُدیوگ کیندر کے صدر بھی ہیں۔ یہ ریاستی حکومت کا وہ ادارہ بھی ہے جس کے توسط سے خواتین کاریگروں کو او ڈی او پی کی سہولیات پہنچائی جاتی ہیں۔ چورسیا اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے آگے کہتے ہیں، ’’ہم خواہش مند عورتوں کو ٹریننگ دیتے ہیں اور انہیں ضروری سامان مہیا کراتے ہیں۔ اور ہمارا ہدف ہر سال ۴۰۰ خواتین کو ٹریننگ دینا ہے۔‘‘ یہ اُدیوگ کیندر ، ریاستی اور قومی، دونوں سطحوں پر مسلسل لگنے والے میلوں اور تہواروں کے ذریعے بھی دستکاری کے اس ہنر کو فروغ دینے کا کام کرتا ہے۔

مہیوا کی کاروباری عورتوں نے مونج کے ہنر کو فروغ دینے کی اس پہل کا تہ دل سے خیر مقدم کیا اور اپنی آمدنی میں اضافہ کرنے کے اس موقع کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔ فاطمہ بتاتی ہیں کہ اب اُن خواتین کاریگروں کو وہاٹس ایپ پر بھی آرڈر ملتے ہیں۔ کام اور اشیاء کی فروخت سے ہونے والے منافع کو عورتوں میں برابر برابر تقسیم کر دیا جاتا ہے۔

او ڈی او پی اسکیم نے خواتین کاروباریوں کو مالی مدد فراہم کرنے کا کام بھی بہت آسان کر دیا ہے۔ فاطمہ بتاتی ہیں، ’’اس اسکیم نے ہمارے لیے قرض لینا آسان کر دیا ہے۔ میرے سیلف ہیلپ گروپ میں کام شروع کرنے کے لیے بہت سی عورتوں نے ۱۰ سے ۴۰ ہزار روپے تک کا قرض لیا ہے۔‘‘ اس اسکیم کے ذریعے قرض کی کل رقم کا ۲۵ فیصد گرانٹ کی شکل میں ملتا ہے – جس کا واضح مطلب ہے کہ قرض کا صرف ۷۵ فیصد ہی واپس لوٹانا ہوتا ہے۔ بقیہ رقم اگر تین مہینے کے اندر واپس کر دی گئی، تو اس سے استفادہ کرنے والے کو قرض کی رقم پر کوئی سود نہیں چُکانا پڑتا ہے۔ اس مدت کے ختم ہونے کے بعد قرض کی رقم پر پانچ فیصد کی معمولی شرح سے سالانہ سود دینا ہوتا ہے۔

اس اسکیم سے امید کی جا رہی ہے کہ دوسری جگہوں کی بھی خواہش مند عورتیں اس دستکاری میں اپنی دلچسپی دکھائیں گی۔ عائشہ کی شادی شدہ بیٹی نسرین، پھول پور تحصیل کے انداوا گاؤں میں رہتی ہیں جو مہیوا سے تقریباً ۱۰ کلومیٹر دور ہے۔ نسرین (۲۶ سال)، جنہوں نے ایجوکیشن اور علم نفسیات میں گریجویشن کیا ہے، کہتی ہیں، ’’انداوا میں یہی گھاس صرف کچی چھت بنانے کے کام آتی ہے، جنہیں کھپریل کے نیچے بچھایا جاتا ہے، تاکہ یہ بارش کے پانی کو نیچے کی طرف ٹپکنے سے روک سکے۔‘‘ اپنے میکے میں مونج کے ہنر سے متعلق مالی امکانات کو بھانپتے ہوئے انہوں نے اس کام کو یہاں شروع کرنے کے بارے میں سوچا ہے۔

PHOTO • Priti David
PHOTO • Priti David

عائشہ بیگم اور فاطمہ بی بی کی پڑوسن، جن کا نام بھی عائشہ بیگم ہے، مونج سے بنائے گئے اپنے ہر ایک سامان کو فروخت کرکے ۱۵۰ سے ۲۰۰ روپے تک کما لیتی ہیں۔ ’اپنا وقت فالتو ضائع کرنے کی بجائے میں پیسے بھی کما رہی ہوں اور میرا وقت بھی ٹھیک ٹھاک گزر جاتا ہے‘

بیس سال پہلے روٹی رکھنے والی مونج کی ایک ٹوکری ۲۰ روپے میں آتی تھی۔ آج اسی ٹوکری کی قیمت ۱۵۰ روپے یا اس سے بھی زیادہ ہے، اور مہنگائی کے باوجود یہ ایک معقول آمدنی مانی جائے گی۔ یہی وجہ ہے کہ فاطمہ کی ۶۰ سالہ پڑوسن، جن کا نام بھی عائشہ بیگم ہی ہے، کے من میں اس ہنر کے بارے میں گہری دلچسپی ہے۔ گھنٹوں کام کرتے رہنے کی عادت کی وجہ سے ان کی آنکھوں کی کم ہوتی روشنی کے باوجود ان کی محنت میں آج بھی کوئی کمی نظر نہیں آتی ہے۔ وہ بتاتی ہیں، ’’میں اپنے بنائے ہوئے ہر سامان سے تقریباً ۲۰۰-۱۵۰ روپے کما سکتی ہوں۔ اپنا وقت فالتو ضائع کرنے کی بجائے میں پیسے بھی کما رہی ہوں اور میرا وقت بھی ٹھیک ٹھاک گزر جاتا ہے۔‘‘ وہ اپنے مکان کے آگے والے کھلے حصے میں ایک چٹائی پر بیٹھی ہیں، ان کی پیٹھ دیوار سے ٹکی ہے، اور انگلیاں مونج کی بُنائی کرتے ہوئے ہواؤں میں لہرا رہی ہیں۔ وہ تندہی سے ایک ٹوکری کا ڈھکن بنانے میں مصروف ہیں۔

ان کے شوہر، محمد متین ان کی باتوں کو غور سے سنتے ہوئے کہتے ہیں، ’’یہ کام کرنے کے بعد وہ ابھی پیٹھ میں درد کی شکایت کرے گی۔‘‘ محمد متین پہلے ایک چائے کی دکان چلایا کرتے تھے۔ جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ کیا مرد بھی یہ کام کرتے ہیں، تو وہ مسکرانے لگتے ہیں، ’’کچھ مرد یہ کر سکتے ہیں، لیکن میں نہیں کر سکتا۔‘‘

دوپہر اب پوری طرح ڈھلنے ہی والی ہے اور فاطمہ کی امی، عاصمہ بیگم تیار ہو چکے سامانوں کے ساتھ اپنی بیٹی کے گھر میں حاضر ہو چکی ہیں۔ فاطمہ ہاتھ سے بنائی گئی ان اشیاء کو اگلے دن پریاگ راج کے سرکٹ ہاؤس میں لگی ایک چھوٹی سی نمائش میں رکھنے اور بیچنے کے لیے لے جائیں گی۔ اپنا کام دکھانے کے مقصد سے عاصمہ ایک ٹوکری کو اٹھاتی ہیں، جس کے ڈھکن پر ایک خوبصورت ڈیزائن بنا ہوا ہے۔ وہ اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے کہتی ہیں، ’’ایک خوبصورت کوسٹر بنانے میں تین سے چار دن کا وقت لگتا ہے۔ آپ کو اسے بہت دھیرے دھیرے اور سنبھل کر بنانا پڑتا ہے، ورنہ گھاسوں سے کٹنے کا خطرہ رہتا ہے۔‘‘ زیادہ نفیس اور خوبصورت سامان بنانے کے لیے کاریگر گھاس کی زیادہ پتلی تیلیوں کا استعمال کرتے ہیں۔ ایسی فنکارانہ چیزوں کے عوض وہ زیادہ قیمت وصول کرتے ہیں۔

عاصمہ ابھی ۵۰ سال سے کم عمر کی ہی ہیں، لیکن ان کو مونج کے اس ہنر کا با عزت کاریگر مانا جاتا ہے۔ انہوں نے ابھی حال ہی میں پیپیرسا کے اپنے گھر میں، جو مہیوا سے تقریباً ۲۵ کلومیٹر کے فاصلہ پر ہے، ۹۰ عورتوں کو مونج کے ہنر کی ٹریننگ دی ہے۔ ٹریننگ حاصل کرنے والوں میں ۱۴ سے ۵۰ سال کی لڑکیاں اور عورتیں شامل ہیں۔ ان کا کہنا ہے، ’’یہ ایک اچھا کام ہے۔ اسے کوئی بھی سیکھ سکتا ہے، اس کے ذریعے اپنی آمدنی بڑھا سکتا ہے اور زندگی میں ترقی کر سکتا ہے۔‘‘ وہ مزید کہتی ہیں، ’’جب تک مجھ سے ہو پائے گا، تب تک یہ کام کرتی رہوں گی۔ اپنی بیٹی فاطمہ کے کاموں کو دیکھ کر مجھے بے حد خوشی ملتی ہے۔‘‘

PHOTO • Priti David
PHOTO • Priti David

بائیں: فاطمہ کی ماں، عاصمہ بیگم (بائیں، ہرے دوپٹے میں)، ایک ماہر کاریگر ہیں جو عورتوں کو مونج کے ہنر کی ٹریننگ دیتی ہیں۔ ’اسے کوئی بھی سیکھ سکتا ہے، اس کے ذریعے اپنی آمدنی بڑھا سکتا ہے اور زندگی میں ترقی کر سکتا ہے۔‘ دائیں: عاصمہ اپنے ذریعے بنائی گئی ڈھکن والی ایک رنگین ٹوکری کے ساتھ

عاصمہ نے چوتھی کلاس تک پڑھائی کی ہے اور جب فاطمہ کے ابا کے ساتھ ان کا نکاح ہوا تھا، اس وقت وہ ۱۸ سال کی تھیں۔ فاطمہ کے ابا ایک چھوٹے سے کسان ہیں، جن کے پاس تقریباً دو ایکز زمین ہے۔ ایک ٹرینر (تربیت دینے والے) کے طور پر عاصمہ کو ضلع اُدیوگ کیندر سے ہر مہینے ۵ ہزار روپے کی آمدنی ہو جاتی ہے، اور جو لڑکیاں چھ مہینے کے ٹریننگ سیشن میں شامل ہوتی ہیں، انہیں ہر مہینے ۳ ہزار روپے دیے جاتے ہیں۔ وہ بتاتی ہیں، ’’یہ لڑکیاں عموماً کچھ نہیں کر رہی ہوتی ہیں، لیکن سیشن میں شامل ہوکر وہ گھر میں بیٹھے بیٹھے کچھ سیکھنے اور کمانے لگتی ہیں۔ کچھ لڑکیاں ان پیسوں کا استعمال اپنی آگے کی پڑھائی میں کرتی ہیں۔‘‘

مونج کی دستکاری سے وابستہ کاریگروں کے لیے سرکار کے آئندہ کے منصوبوں میں ایک میوزیم اور ایک ورکشاپ کی تعمیر شامل ہے۔ ’’ہم میوزیم کے قیام کا بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں، تاکہ لوگ ہمارے کام کو دیکھ سکیں اور ان کی پذیرائی کر سکیں۔ وہاں ہاتھ سے بنائی گئی ہماری بہترین چیزوں کی نمائش کی جائے گی اور آپ انہیں بنانے کے طور طریقوں سے بھی واقف ہو سکیں گے،‘‘ فاطمہ کی آواز میں ایک خوشی ہے۔ میوزیم سے ملحق ورکشاپ زیادہ سے زیادہ عورتوں کو اپنی جانب متوجہ کرنے میں کامیاب ہوگا۔ چورسیا کے مطابق، پچھلے سال مرکزی حکومت نے ایک کرافٹ ہاؤس کی تعمیر کے لیے ۳ کروڑ روپے مختص کیے تھے۔ میوزیم اسی کرافٹ ہاؤس کے اندر بنایا جائے گا۔ ’’اس کا کام شروع ہو چکا ہے، لیکن اسے پوری طرح مکمل ہونے میں تھوڑا وقت لگے گا،‘‘ وہ بتاتے ہیں۔

مستقبل میں اس گھاس سے متعلق اپنے خوابوں کے بارے میں فاطمہ بتاتی ہیں، ’’ورکشاپ میں کچھ کاریگر صرف بُنائی کریں گے، اور کچھ کاریگر تیار سامانوں پر صرف رنگ چڑھانے کا کام کریں گے۔ سب کے کام بٹے ہوں گے۔ یہ بہت اچھا ہوگا کہ سبھی لوگ ایک ساتھ بیٹھ کر اپنا اپنا کام کریں گے۔ اس طرح مونج کے ہنر کی ماہر خواتین کاریگروں کی ایک برادری بن جائے گی۔‘‘

رپورٹر، پریاگ راج کی سیم ہِگِن باٹم یونیورسٹی آف ایگریکلچر، ٹیکنالوجی اینڈ سائنس (ایس ایچ یو اے ٹی ایس) کی پروفیسر جہاں آرا اور پروفیسر عارف براڈوے کا، اس اسٹوری میں ان کے ہمدردانہ تعاون کے لیے شکریہ ادا کرنا چاہتی ہیں۔

مترجم: محمد قمر تبریز

Reporter : Priti David

Priti David is the Executive Editor of PARI. She writes on forests, Adivasis and livelihoods. Priti also leads the Education section of PARI and works with schools and colleges to bring rural issues into the classroom and curriculum.

Other stories by Priti David
Editor : Sangeeta Menon

Sangeeta Menon is a Mumbai-based writer, editor and communications consultant.

Other stories by Sangeeta Menon
Translator : Qamar Siddique

Qamar Siddique is the Translations Editor, Urdu, at the People’s Archive of Rural India. He is a Delhi-based journalist.

Other stories by Qamar Siddique