html جھارکھنڈ کے پلامو میں، زندگی پر بہت سارے پٹّے

تیرا اور انیتا بھوئیا خریف کے اس موسم میں اچھی پیداوار کا بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں۔ انہوں نے دھان اور تھوڑا مکئی اُگائے ہیں، اور فصلوں کو کاٹنے کا وقت قریب آ رہا ہے۔

اس بار اچھی پیداوار ان کے لیے مزید اہمیت رکھتی ہے کیوں کہ آدھے سال تک وہ جو کام اینٹ بھٹے پر کرتے ہیں، وہ مارچ میں لاک ڈاؤن شروع ہونے کے بعد بند ہو گیا تھا۔

’’میں نے پچھلے سال بھی کھیتی کرنے کی کوشش کی تھی، لیکن ناکافی بارش اور کیڑوں کے سبب فصلیں خراب ہو گئیں،‘‘ تیرا بتاتے ہیں۔ ’’ہم تقریباً چھ مہینے تک کھیتی کرتے ہیں، لیکن یہ ہمیں ہاتھ میں کوئی پیسہ نہیں دیتی،‘‘ انیتا کہتی ہیں۔

۴۵ سالہ تیرا اور ۴۰ سالہ انیتا، بھوئیا تاڑھی میں رہتے ہیں، جو مہوگاواں کے جنوبی حصہ میں بھوئیا برادری – ایک درج فہرست ذات – کی ایک بستی ہے۔

جھارکھنڈ کے پلامو ضلع کے چین پور بلاک کے اس گاؤں میں، یہ فیملی ۲۰۱۸ سے ہر خریف سیزن میں بٹیا – بٹائی دار کھیتی کے لیے مقامی اصطلاح – پر کھیتی کرتی ہے۔ اس زبانی معاہدہ میں، بٹائی دار کسان اور زمیندار میں سے ہر ایک پیداوار کی لاگت کا آدھا حصہ لگاتے ہیں، اور فصل کا آدھا حصہ حاصل کرتے ہیں۔ بٹائی دار کسان عام طور پر اپنا زیادہ تر حصہ اپنے خود کے استعمال کے لیے رکھ لیتے ہیں، اور کبھی کبھار اس میں سے کچھ بازار میں بیچنے کی کوشش کرتے ہیں۔

'We farm for nearly six months, but it does not give us any money in hand', says Anita Bhuiya (foreground, in purple)
PHOTO • Ashwini Kumar Shukla

’ہم تقریباً چھ مہینے تک کھیتی کرتے ہیں، لیکن یہ ہمیں ہاتھ میں کوئی پیسہ نہیں دیتی‘، انیتا بھوئیا (سب سے آگے، بینگنی میں) کہتی ہیں

تقریباً پانچ سال پہلے تک، یہ فیملی زرعی مزدوری کرتی تھی – بوائی کے دونوں سیزن میں سے ہر ایک میں انہیں تقریباً ۳۰ دنوں تک کام ملتا اور وہ یومیہ مزدوری کے طور پر ۲۵۰-۳۰۰ روپے یا اناج پاتے تھے۔ باقی وقت میں، وہ سبزی کے کھیتوں پر، یا آس پاس کے گاؤوں اور مہوگاواں سے تقریباً ۱۰ کلومیٹر دور، ڈالٹن گنج شہر میں دہاڑی مزدور کا کام تلاش کرتے تھے۔

لیکن کھیتوں پر ملنے والے کام کی تعداد ہر سال کم ہونے لگی، جس کی وجہ سے ۲۰۱۸ میں انہوں نے کھیتی میں اپنی قسمت آزمانے کا فیصلہ کیا – اور ایک زمیندار کے ساتھ بٹیا کھیتی کا معاہدہ کر لیا۔ ’’اس سے پہلے میں زمینداروں کے لیے ہرواہی – بیلوں کا استعمال کرکے کھیتوں کی جُتائی – اور کاشتکاری کے دیگر کام کرتا تھا۔ لیکن اس کے بعد، جُتائی سے لیکر فصل کی کٹائی تک، ہر کام ٹریکٹر سے ہونے لگا۔ گاؤں میں اب صرف ایک ہی بیل بچا ہے،‘‘ تیرا بتاتے ہیں۔

اپنی بٹیا کھیتی کو آگے بڑھانے کے لیے، تیرا اور انیتا نے ۲۰۱۸ سے اینٹ بھٹے پر کام کرنا شروع کر دیا، جہاں ان کے گاؤں کے دیگر لوگ نومبر- دسمبر سے مئی- جون تک کام کرنے جاتے ہیں۔ ’’ہم پچھلے سال اپنی بیٹی کی شادی کی تھی،‘‘ انیتا بتاتی ہیں۔ ان کی دو بیٹیاں ہیں؛ چھوٹی، غیر شادی شدہ، ان کے ساتھ رہتی ہے۔ ۵ دسمبر، ۲۰۱۹ کو ہونے والی شادی کے تین دن بعد، فیملی نے بھٹے پر کام کرنا شروع کر دیا۔ ’’اپنا قرض [جو شادی کے خرچ کے لیے لیا گیا تھا] چُکانے کے بعد، ہم سال بھر کھیتی میں کام کرنا دوبارہ شروع کریں گے،‘‘ وہ مزید کہتی ہیں۔

مارچ کے آخر میں شروع ہونے والے لاک ڈاؤن سے پہلے، تیرا اور انیتا – اپنے بیٹوں، ۲۴ سالہ ستیندر اور ۲۲ سالہ اپیندر، اور بھوئیا تاڑھی کے دیگر لوگوں کے ساتھ – ہر صبح ایک ٹریکٹر پر سوار ہوکر آٹھ کلومیٹر دور، بوڑھی بیر گاؤں جاتے تھے۔ وہاں، وہ سردیوں کے مہینوں میں فروری تک صبح ۱۰ بجے سے شام ۵ بجے تک، اور مارچ کے بعد رات کے ۳ بجے سے صبح ۱۱ بجے تک کام کرتے تھے۔ ’’اس کے [بھٹے پر کام کرنے کے] بارے میں ایک اچھی بات یہ ہے کہ پوری فیملی ایک ہی جگہ پر کام کرتی ہے،‘‘ انیتا کہتی ہیں۔

With daily wage farm labour decreasing every year, in 2018, Anita and Teera Bhuiya leased land on a batiya arrangement
PHOTO • Ashwini Kumar Shukla
With daily wage farm labour decreasing every year, in 2018, Anita and Teera Bhuiya leased land on a batiya arrangement
PHOTO • Ashwini Kumar Shukla

کھیتوں پر یومیہ مزدوری کا کام ہر سال کم ہونے کے سبب، انیتا اور تیرا بھوئیا نے ۲۰۱۸ میں بَٹیا نظام پر کھیتی کرنا شروع کر دیا

اینٹ بھٹے پر، انہیں ہر ۱۰۰۰ اینٹیں بنانے کے ۵۰۰ روپے ملتے ہیں۔ بھٹے کے اس سیزن میں، انہیں ۳۰ ہزار روپے کی پیشگی رقم پر کام کرنا تھا، جو انہوں نے اکتوبر ۲۰۱۹ کے آس پاس اپنے گاؤں کے ٹھیکہ دار سے قرض لیے تھے۔ اپنی بیٹی کی شادی کے لیے انہوں نے اسی ٹھیکہ دار سے بغیر سود کی پیشگی رقم کے طور پر جو ۷۵ ہزار روپے کا ایک اور قرض لیا تھا، اس کے لیے انہیں نومبر ۲۰۲۰ سے دوبارہ شروع ہونے والے بھٹے پر مزدوری کرنی ہے۔

بھٹے پر تیرا، انیتا اور ان کے بیٹوں کو ۱۰۰۰ روپے کا ہفتہ واری بھتّہ ملتا ہے ’’جس سے ہم چاول، تیل، نمک اور سبزیاں خریدتے ہیں،‘‘ تیرا بتاتے ہیں۔ ’’اگر ہمیں زیادہ پیسے کی ضرورت ہوئی، تو ہم ٹھیکہ دار سے کہتے ہیں اور وہ ہمیں دیتا ہے۔‘‘ یہ ہفتہ واری بھتّہ، چھوٹے قرض اور بڑی پیشگی رقم اس آخری پیسے میں سے کاٹ لی جاتی ہے – جیسا کہ بھٹے پر مزدوری کا نظام ہے – جس کی ادائیگی مزدوروں کو بھٹے پر رہنے کے مہینوں کے دوران ان کے ذریعے بنائی گئی اینٹوں کی کل تعداد کے لیے کی جاتی ہے۔

پچھلے سال، جب وہ جون ۲۰۱۹ کی شروعات میں واپس لوٹے، تو ان کے ہاتھ میں ۵۰ ہزار روپے تھے، جس سے کچھ مہینوں تک ان کا کام چل گیا۔ لیکن اس بار، بھوئیا فیملی کا اینٹ کا کام لاک ڈاؤن کے سبب بند ہو گیا تھا۔ اور مارچ کے آخر میں، ٹھیکہ دار سے انہیں صرف ۲ ہزار روپے ہی ملے۔

تب سے، بھوئیا فیملی، اپنی برادری کے کئی دیگر لوگوں کی طرح، آمدنی کا ذریعہ تلاش کر رہی ہے۔ پردھان منتری غریب کلیان یوجنا کے تحت اپریل، مئی اور جون میں فیملی کے ہر ایک بالغ رکن کے لیے تقریباً پانچ کلو چاول اور ایک کلو دال کی شکل میں کچھ راحت ملی تھی۔ اور ان کے انتیودیہ انّ یوجنا راشن کارڈ (خوراک اور عوامی تقسیم محکمہ کی درجہ بندی میں ’’غریبوں میں سب سے غریب‘‘ کے لیے)، فیملی کو ہرمہینے رعایتی شرحوں پر ۳۵ کلو اناج ملتا ہے۔ ’’یہ میری فیملی کے لیے ۱۰ دنوں کے لیے بھی کافی نہیں ہے،‘‘ تیرا کہتے ہیں۔ ان کے اور انیتا اور ان کے دو بیٹوں اور ایک بیٹی کے علاوہ، گھر میں ان کی دو بہوئیں اور تین پوتے پوتیاں بھی ہیں۔

ان کا راشن ختم ہونے لگا ہے، اس لیے وہ مہوگاواں اور ارد گرد کے گاؤوں میں چھوٹے موٹے کام کرکے، اور پیسے قرض لیکر گزارہ کر رہے ہیں۔

Teera has borrowed money to cultivate rice and some maize on two acres
PHOTO • Ashwini Kumar Shukla

تیرا نے دو ایکڑ کھیت میں چاول اور تھوڑا مکئی کی کھیتی کرنے کے لیے پیسے قرض لیے ہیں

اس سال خریف کی بوائی کے لیے، تیرا اور انیتا کا اندازہ ہے کہ انہوں نے بٹائی پر لیے گئے دو ایکڑ کھیت پر چاول اور تھوڑا مکئی اُگانے کے لیے بیج، کھاد اور حشرہ کش دواؤں پر ۵ ہزار روپے خرچ کیے۔ ’’میرے پاس پیسے نہیں تھے،‘‘ تیرا بتاتے ہیں۔ ’’میں نے ایک رشتہ دار سے قرض لیا ہے، اور اب میرے سر پر بہت قرض ہے۔‘‘

جس زمین پر وہ کھیتی کر رہے ہیں، وہ اشوک شکلا کی ہے، جن کے پاس ۱۰ ایکڑ زمین ہے، اور وہ بھی بڑے پیمانے پر ناکافی بارش کے سبب پانچ سال سے نقصان اٹھا رہے ہیں۔ ’’ہم ۱۸ سے ۲۴ مہینے تک کے لیے [وافر] اناج اُگا لیتے تھے،‘‘ اشوک یاد کرتے ہیں۔ ’’آج کل، ہماری کوٹھی [ذخیرہ کرنے کا کمرہ] چھ مہینے کے اندر خالی ہو جاتی ہے۔ میں نے تقریباً ۵۰ برسوں تک کھیتی کی ہے۔ لیکن پچھلے ۵-۶ سالوں نے مجھے محسوس کرایا ہے کہ کاشتکاری میں کوئی مستقبل نہیں ہے – صرف نقصان ہے۔‘‘

شکلا کا کہنا ہے کہ گاؤں کے زمیندار بھی – ان میں سے زیادہ تر اونچی ذات کی برادری سے ہیں – تیزی سے دیگر نوکریوں کی تلاش میں قصبوں اور شہروں کی طرف ہجرت کر رہے ہیں۔ کم ہوتی پیداوار کے سبب، وہ ۳۰۰ روپے یومیہ پر مزدوروں کو کام پر رکھنے کے بجائے اپنی زمین کو بٹیا پر دینا پسند کرتے ہیں۔ ’’پورے گاؤں میں، اب آپ شاید ہی انہیں [اونچی ذات کے زمینداروں کو] خود سے کھیتی کرتے ہوئے پائیں گے،‘‘ شکلا کہتے ہیں۔ ’’وہ سبھی اپنی زمین بھوئیا یا دیگر دلتوں کو دے چکے ہیں۔‘‘ (مردم شماری ۲۰۱۱ کے مطابق، مہوگاواں کی ۲۶۹۸ کی آبادی میں سے ۲۱ سے ۳۰ فیصد لوگ درج فہرست ذات کے ہیں۔)

اس سال حالانکہ بارش اچھی ہوئی ہے۔ اس لیے تیرا کو امید ہے کہ ان کی فصل بھی اچھی ہوگی۔ اچھی فصل کا مطلب ہے ان کی دو ایکڑ زمین پر کل ۲۰ کوئنٹل دھان، وہ اندازہ لگاتے ہیں۔ اناج سے بھوسی کو الگ کرنے، اور پیداوار میں سے اشوک شکلا کا آدھا حصہ نکالنے کے بعد، ان کے پاس تقریباً ۸۰۰ کلو چاول بچے گا – اور یہ تیرا کی ۱۰ رکنی فیملی کے لیے تمام کھانے کی اہم بنیاد ہوگا، جن کے پاس دیگر اناجوں کا کوئی باقاعدہ ذریعہ نہیں ہے۔ ’’کاش، میں اسے بازار میں فروخت کر سکتا،‘‘ تیرا کہتے ہیں، ’’لیکن دھان [اناج] ہمارے لیے چھ مہینے کے لیے بھی کافی نہیں ہوگا۔‘‘

تیرا کہتے ہیں کہ وہ کسی اور کے مقابلے زرعی کام کو اچھی طرح جانتے ہیں، اور چونکہ کئی دیگر زمیندار بھی انہیں اپنی زمین بٹیا پر دینے کے لیے تیار ہیں، اس لیے وہ آنے والے دنوں میں زیادہ کھیتوں پر مختلف قسم کی فصلیں اُگانے کی امید کر رہے ہیں۔

فی الحال، وہ اور انیتا کچھ ہفتوں میں بڑی مقدار میں فصل کاٹنے کی امید لگائے بیٹھے ہیں۔

مترجم: محمد قمر تبریز

Mohd. Qamar Tabrez is PARI’s Urdu/Hindi translator since 2015. He is a Delhi-based journalist, the author of two books, and was associated with newspapers like ‘Roznama Mera Watan’, ‘Rashtriya Sahara’, ‘Chauthi Duniya’ and ‘Avadhnama’. He has a degree in History from Aligarh Muslim University and a PhD from Jawaharlal Nehru University, Delhi. You can contact the translator here:

Ashwini Kumar Shukla

Ashwini Kumar Shukla is a freelance journalist based in Mahugawan village, Palamu, Jharkhand, and a graduate of the Indian Institute of Mass Communication (2018-2019), New Delhi.

Other stories by Ashwini Kumar Shukla
Ujwala P.

Ujwala P. is a freelance journalist based in Bengaluru, and a graduate of the Indian Institute of Mass Communication (2018-2019), New Delhi.

Other stories by Ujwala P.