۵۰۔ وزیری تھل: طبی سہولیات پر بھی اندھیرے کا غلبہ
جموں و کشمیر کے بانڈی پورہ ضلع کے ایک دورافتادہ گاؤں میں حاملہ خواتین بجلی کی ناقص فراہمی اور صحت عامہ کی خراب سہولیات کے ساتھ جدوجہد کر رہی ہیں۔ گاؤں میں ان کی واحد امید ایک بزرگ دائی (دایہ) ہیں



جموں و کشمیر کے بانڈی پورہ ضلع کے ایک دورافتادہ گاؤں میں حاملہ خواتین بجلی کی ناقص فراہمی اور صحت عامہ کی خراب سہولیات کے ساتھ جدوجہد کر رہی ہیں۔ گاؤں میں ان کی واحد امید ایک بزرگ دائی (دایہ) ہیں
مرشد آباد ضلع میں غریب عورتیں ہی بیڑی بنانے کا کام کرتی ہیں، جس کے لیے انہیں کڑی محنت کرنی پڑتی ہے جب کہ اجرت بہت کم ملتی ہے۔ تمباکو کے رابطے میں لگاتار رہنا عام صحت کے ساتھ ساتھ ان کی تولیدی صحت کو بھی خطرے میں ڈال رہا ہے
اتراکھنڈ کے اودھم سنگھ نگر ضلع کی عورتیں بتا رہی ہیں کہ حیض اور زچگی کے دوران کیسے انہیں قدیم رواجوں پر عمل کرنے کے ساتھ ساتھ دیگر مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے
ہماچل پردیش میں قابل رسائی طبی خدمات اور پوری طرح سے کام کر رہے صحت عامہ کے مراکز دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے وہاں کے دیہی علاقوں میں رہنے والی عورتوں کو آج بھی زچگی کے دوران مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے
کم مزدوری اور پیٹ بھرنے لائق کھانا نہیں ملنے سے ہاویری ضلع کے اس گاؤں کی عورتوں کی صحت پر برا اثر پڑ رہا ہے۔ ان کی کالونی میں بیت الخلاء نہ ہونے کی وجہ سے حیض سے متعلق مسائل میں مبتلا خواتین کی حالت بہت خراب ہو چکی ہے
ان کی فیملی کے مرد عموماً سورت اور دوسرے شہروں میں مہاجر مزدوروں کے طور پر کام کرتے ہیں، اسی لیے اُدے پور کی گمیتی برادری کی ان تنہا عورتوں نے صحت اور مانع حمل جیسے معاملوں میں خود کفیل ہونا سیکھ لیا ہے، اور اپنے فیصلے خود لیتی ہیں
سنیتا دیوی کی خواہش تھی کہ وہ محفوظ اور آسان طریقے سے بچے پیدا کرنا بند کر دیں، اسی لیے انہوں نے کاپر ٹی لگوائی، لیکن جب یہ حمل کو روکنے میں ناکام رہی، تو انہیں اپنا اسقاط حمل کروانے کے لیے دہلی اور بہار میں واقع پی ایچ سی سے پرائیویٹ کلینک اور پھر وہاں سے سرکاری اسپتالوں تک کے چکر لگانے پر مجبور ہونا پڑا
مانع حمل اور کنڈوم کے تھیلے کے ساتھ کلاوتی سونی، امیٹھی ضلع کے ٹیکری گاؤں کی خواتین کی ایک قابل اعتماد سہیلی بن چکی ہیں۔ ان کی غیر رسمی گفتگو نے یہاں تولیدی حقوق کے پیغام کو زندہ رکھا ہے
بیڈ ضلع میں گنّے کے کھیتوں میں کام کرنے والی خواتین مزدوروں کی ایک بڑی آبادی کو بچہ دانی نکلوانے کی سرجری سے گزرنے کے بعد بے چینی، تناؤ، جسمانی امراض، اور تلخ شادی شدہ زندگی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے
ندی کا پانی بہت زیادہ کھارا ہو چکا ہے، گرمیوں میں درجۂ حرات کافی بڑھ جاتا ہے، اور صحت عامہ کے مراکز تک رسائی حاصل کرنا اُن کے لیے آج بھی ایک ادھورا خواب بنا ہوا ہے۔ ان تمام چیزوں کی وجہ سے سندربن کی عورتیں مختلف قسم کے طبی مسائل میں مبتلا ہیں
https://ruralindiaonline.org/ur/articles/%D8%AF%D9%88%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%BA-%D8%AF%DB%8C%D8%AA%DB%92-%D9%88%D9%82%D8%AA-%D9%88%DB%81-%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92-%D8%AC%D8%B3%D9%85-%D9%BE%D8%B1-%DB%81%D8%A7%D8%AA%DA%BE-%D9%BE%DA%BE%DB%8C%D8%B1%D8%AA%DB%92-%DB%81%DB%8C%DA%BA/
راجدھانی دہلی میں بھی اسپتال کے عملہ کے ذریعے ہونے والے استحصال و ذلت آمیز رویہ، اور اپنی رازداری کی خلاف ورزی کی وجہ سے سیکس ورکرز کا حفظان صحت کی سہولیات تک پہنچنا مشکل ہو گیا ہے، اور وبائی مرض نے ان کی مشکلوں کو مزید بڑھا دیا ہے
جھارکھنڈ کے مغربی سنگھ بھوم ضلع کے دور افتادہ گاؤوں میں طبی خدمات کی حالت کافی خستہ ہے۔ بنیادی ڈھانچے کے چیلنجز اسے مزید سنگین بناتے ہیں۔ ایسے میں ’دیہی میڈیکل پریکٹشنر‘ یعنی ’جھولا چھاپ ڈاکٹروں‘ کو نظر انداز کرنا ناممکن ہو گیا ہے، اور طبی نگہداشت کا سارا بوجھ انسانی بھروسے کی کمزور رسی پر ٹکا ہوا ہے
https://ruralindiaonline.org/ur/articles/%D9%85%DB%8C%D9%84%DA%AF%DA%BE%D8%A7%D9%B9-%DA%A9%DB%8C-%D8%A2%D8%AE%D8%B1%DB%8C-%D8%A8%DA%86%DB%8C%DA%BA-%D8%B1%D9%88%D8%A7%DB%8C%D8%AA%DB%8C-%D8%AF%D8%A7%DB%8C%DB%81/
مہاراشٹر کے میلگھاٹ ٹائیگر ریزرو کے آس پاس کی آدیواسی بستیوں میں، روپی اور چارکو جیسی روایتی دایہ نے ہی برسوں سے گھر پر بچوں کی ڈیلیوری کروائی ہے۔ لیکن، اب دونوں بوڑھی ہو چکی ہیں اور ان کی روایت کو آگے بڑھانے والا کوئی نہیں ہے
یوپی کے وارانسی ضلع میں، موسہر خواتین کی طبی خدمات تک رسائی تو کم ہے ہی، لیکن بار بار رسوائی کے ڈر سے وہ اپنے اختیارات کا استعمال بھی پوری طرح نہیں کر پا رہی ہیں
بہار کے مدھوبنی ضلع کے غریب اور مالی اعتبار سے پس ماندہ خاندانوں سے تعلق رکھنے والی عورتوں کو بنیادی طبی سہولیات تک رسائی حاصل کرنے اور ان کا فائدہ اٹھانے کے لیے مصیبتوں کے تلاطم سے گزرتے ہوئے تمام طرح کی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے صحت کے جس نظام سے انہیں تھوڑی بہت مدد یا راحت مل جاتی ہے، جب اس میں بھی بدعنوانی کے معاملے سامنے آتے ہیں، تو پھر بے بسی کے عالم میں ان کے پاس بس نا امیدی ہی بچتی ہے
سونو اور مینا کی کہانی، پریاگ راج کے دیہی علاقوں کی دلت بستیوں میں رہنے والی تمام نو عمر بچیوں کی کہانی ہے۔ سونو اور مینا کی جلد ہی شادی ہونے والی ہے، جب کہ ان کی عمر ابھی کافی کم ہے
غریبی، ناخواندگی، اور اپنی زندگی پر کنٹرول نہ ہونے کے سبب، بہار کے گیا ضلع کی مختلف طبقوں کی عورتوں کی صحت کو مسلسل خطرہ لاحق ہے
دیپا جب ڈیلیوری کے بعد دہلی کے ایک اسپتال سے واپس لوٹیں، تو انہیں معلوم نہیں تھا کہ ان کے جسم میں کاپر ٹی لگایا جا چکا ہے۔ دو سال بعد جب انہیں درد اور خون آنے لگا، تو ڈاکٹر کئی مہینوں تک ڈیوائس کا پتہ ہی نہیں لگا سکے
بند پڑے پبلک ٹوائلیٹ، دور افتادہ بلاک، پردے سے ڈھکے چھوٹے ڈبے جیسے ٹوائلیٹ، غسل اور سینیٹری پیڈ کے استعمال اور نمٹارہ کے لیے رازداری کی کمی، رات کے وقت بیت الخلاء کے لیے ریل کی پٹریوں پر جانے کی مجبوری: یہ ایسی مشکلیں ہیں جن کا سامنا پٹنہ کی جھگی بستیوں میں رہنے والی لڑکیاں ہر روز کرتی ہیں
بہار کے گاؤوں میں زمین کے اندر سے نکلنے والے پانی میں آرسینک ہونے کی وجہ سے پریتی کی فیملی جیسے لوگوں کی کینسر سے موت ہو گئی اور خود ان کے سینے میں بھی گانٹھ ہو گیا ہے۔ لیکن یہاں کی عورتوں کو اپنا علاج کرانے میں اکثر چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے
شانتی مانجھی نے بہار کے شیوہر ضلع کی موسہر بستی میں سات بچوں کو گھر پر ہی جنم دیا۔ یہاں کے کچھ ہی لوگوں کی رسائی طبی خدمات تک ہے اور اکثر کو یہ بھی نہیں معلوم ہے کہ بچوں کی ڈیلیوری کے لیے کیا یہاں کوئی پی ایچ سی موجود ہے
بہار کے پٹنہ ضلع کی کم عمر اور نوجوان دلہنوں کے سامنے بیٹے کی خواہش میں بچے پیدا کرتے جانے کے علاوہ کوئی دوسرا متبادل نہیں بچا ہے۔ ان کے لیے، سماجی رسم و رواج اور بدگمانی کی اہمیت قانون اور قانونی ضابطوں سے کہیں زیادہ ہے
قانون، سماجی بیداری مہم، اور انفرادی جدوجہد کے باوجود معاشرے میں بدنامی اور غیبی عذاب کے خوف سے، کرناٹک کی کاڈوگولّا برادری کی خواتین زچگی کے بعد اور حیض کے دوران درختوں کے نیچے اور جھونپڑیوں میں خود کو علیحدہ رکھنے پر مجبور ہیں
بہار کے مظفر پور ضلع کے چتربھُج استھان کی سیکس ورکرز، اکثر اپنے ’پرماننٹ‘ گاہکوں کو خوش کرنے کے سبب کم عمر میں ہی حاملہ ہو جاتی ہیں؛ کووڈ۔۱۹ لاک ڈاؤن کی وجہ سے ان کے حالات بے حد خراب ہیں
اوڈیشہ کے ملکانگیری میں آبی ذخائر والی آدیواسی بستیوں میں، گھنے جنگلات، اونچی پہاڑیوں اور ریاست و ملی ٹینٹ کے درمیان تصادم کے بیچ، کمیاب طبی مراکز تک پہنچنے کا سہارا کبھی کبھار چلنے والی کشتیاں اور ٹوٹی پھوٹی سڑکیں ہیں
بہار کے گاؤوں میں پچھلے سال لاک ڈاؤن کے دوران، اپنے گاؤں لوٹے مہاجر لڑکوں سے کئی نو عمر لڑکیوں کی شادی کر دی گئی تھی۔ ان میں سے کئی اب حاملہ ہیں اور اس بات کو لیکر فکرمند ہیں کہ آگے کیا ہوگا
ایک دہائی قبل، بہار کے حسن پور گاؤں میں خاندانی منصوبہ بندی کو درکنار کر دیا جاتا تھا۔ لیکن اب یہاں کی عورتیں صالحہ اور شمع جیسی طبی کارکنوں کے پاس مانع حمل انجیکشن لگوانے آ رہی ہیں۔ یہ تبدیلی کیسے ہوئی؟
بہار کے کشن گنج ضلع میں کام کر رہی خواتین گائناکولوجسٹ کے لیے، دن لمبا ہوتا ہے، میڈیکل سپلائیز کم ہیں، اور اپنی متعدد حاملہ مریضوں اور مانع حمل کو لیکر ان کی ہچکچاہٹ کو سنبھالنا انتہائی مشکل کام
گجرات کے ڈھولکا تعلقہ میں بھارواڑ گلہ بان برادری کی عورتوں کے لیے، بیٹے پیدا کرنے کے لیے دباؤ اور خاندانی منصوبہ بندی کے چند متبادل کا مطلب ہے کہ مانع حمل کے اختیارات اور تولیدی حقوق صرف الفاظ تک محدود ہیں
بہار کے سمستی پور ضلع میں، مہادلت برادری کی نوجوان لڑکیوں کو سماج کی طرف سے طعنے سننے پڑتے ہیں، بلکہ بعض دفعہ تشدد کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے کہ وہ اپنی تعلیم کو ترک کر دیں، خواب دیکھنا چھوڑ دیں، اور شادی کر لیں – کچھ تو اس کا مقابلہ کرتی ہیں، لیکن دیگر لڑکیاں ہار مان لیتی ہیں
بہار کے دربھنگہ ضلع کے پرائمری ہیلتھ سینٹر میں جگہ اور سہولیات کی کمی کے سبب وہاں کے طبی ملازمین کو دفتر میں، وارڈ کے بستر پر، اور کبھی کبھی فرش پر بھی سونے کے لیے مجبور ہونا پڑتا ہے
بہار کے ویشالی ضلع کے ایک پرائمری ہیلتھ سینٹر میں، الٹرا ساؤنڈ مشین مکڑیوں کا گھر ہے، ملازم پیسے مانگتے ہیں، اور ایک فیملی کو بتایا گیا کہ ان کی بچی پیٹ میں ہی مر چکی ہے – جس سے انہیں زیادہ پیسے خرچ کرکے پرائیویٹ اسپتال کی طرف بھاگنا پڑا
ملازمین کی کمی سے دو چار ابتدائی طبی مراکز جہاں جنگلی جانور گھومتے ہوں، اسپتالوں کے بارے میں خوف، فون کی خراب کنیکٹیوٹی – یہ تمام چیزیں اس بات کو یقینی بناتی ہیں کہ بہار کے بڑگاؤں خورد گاؤں کی حاملہ خواتین گھر پر ہی بچے کو جنم دیں
پچھلے سال، اتراکھنڈ کے الموڑہ ضلع کی رانو سنگھ نے پہاڑی راستے سے اسپتال جاتے ہوئے، بیچ راستے میں ہی بچہ کو سڑک پر جنم دیا۔ یہ ایک ایسا خطہ ہے جہاں پر مشکل گزار راستے اور اخراجات پہاڑی بستیوں میں رہنے والی بہت سی خواتین کو گھروں پر ہی بچے کو جنم دینے پر مجبور کرتے ہیں
راجستھان کے بانسی گاؤں کی بھاونا سُتھار کی پچھلے سال ایک ’کیمپ‘ میں نس بندی کے بعد موت ہو گئی، جہاں ضابطوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے انہیں متبادل پر غور کرنے کا وقت نہیں دیا گیا تھا۔ ان کے شوہر دِنیش کو اب بھی انصاف کی تلاش ہے
چار بار اسقاط حمل، شرابی شوہر، اور فیکٹری کی نوکری چلی جانے کے بعد دہلی میں مقیم ہنی نے پانچویں بار حاملہ ہونے پر جسم فروشی کرنے کا فیصلہ کیا اور تب سے انہیں ایس ٹی ڈی ہے۔ اب، لاک ڈاؤن میں وہ کمانے کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں
نس بندی کے بعد انفیکشن ہو جانے کے سبب، راجستھان کے دوسہ ضلع کی ۲۷ سالہ سُشیلا دیوی کو تین سالوں تک درد برداشت کرنا پڑا، اسپتالوں کے چکر کاٹنے پڑے، قرض بڑھتا گیا اور آخر میں انہیں اپنی بچہ دانی نکلوانی پڑی
زندگی بھر بیماری اور کئی سرجری کے بعد، پونہ ضلع کے ہڈشی گاؤں کی بیبا بائی لوئرے کمر سے جھک گئی ہیں۔ پھر بھی، وہ کھیتی کا کام اور اپنے فالج زدہ شوہر کی دیکھ بھال کرنا جاری رکھے ہوئی ہیں
مہاراشٹر کے نندربار ضلع میں باہر نکلی بچہ دانی والی عورتوں کی رسائی طبی مراکز تک نہیں ہے۔ سڑک یا موبائل سہولیات نہ ہونے کے سبب جدوجہد کر رہی ان عورتوں کو مشکل زچگی اور اذیت ناک درد برداشت کرنا پڑتا ہے
ذہنی طور پر معذور عورتوں کی جنسی اور تولیدی صحت کے حقوق کی اکثر خلاف ورزی کی جاتی ہے اور انہیں اکثر اپنی بچہ دانی نکلوانے کے لیے مجبور کر دیا جاتا ہے۔ لیکن مہاراشٹر کے واڈی گاؤں میں، مالن مورے خوش قسمت ہیں کہ انہیں اپنی ماں کا ساتھ ملا
ہریانہ کے بیواں گاؤں میں، مانع حمل تک میو مسلمانوں کی رسائی ثقافتی اسباب، ناقابل رسا طبی خدمات اور متعصب فراہم کنندگان کی وجہ سے انتہائی مشکل ہے – نتیجتاً وہاں کی عورتیں بچے پیدا کرنے کے جال میں پھنس جاتی ہیں
اترپردیش کے چترکوٹ ضلع میں اسکول بند ہو جانے کے سبب غریب کنبوں کی لڑکیوں کو مفت سینیٹری نیپکن نہیں مل پا رہا ہے، اس لیے اب وہ جوکھم بھرا متبادل اپنانے لگی ہیں۔ اکیلے یوپی میں ایسی لڑکیوں کی تعداد لاکھوں میں ہے
معمولی تنخواہ اور بے شمار سروے، رپورٹ اور کاموں کے بوجھ سے لدی سنیتا رانی اور ہریانہ کے سونی پت ضلع کی دیگر آشا کارکن دیہی کنبوں کی افزائشی صحت سے متعلق ضروریات کو پورا کرنے کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں
تقریباً بغیر ہیموگلوبن والی مائیں، دو سال کے بچوں کا وزن ۷ کلو، شراب کی لت، کم آمدنی اور جنگل سے ان کی بڑھتی دوری، یہ سب تمل ناڈو کے گڈلور کی آدیواسی عورتوں میں تیز رفتار کم غذائیت کو فروغ دے رہے ہیں
دہلی سے تقریباً ۴۰ کلومیٹر دور، ہریانہ کے ہرسانا کلاں گاؤں کی عورتیں بتا رہی ہیں کہ مردانہ چشمک کے دوران انہیں خود اپنی زندگیوں اور تولیدی اختیارات پر کچھ حد تک قابو پانے کے لیے کتنی جدوجہد کرنی پڑتی ہے
مہاراشٹر کے نندُربار ضلع میں دھڑگاؤں علاقے کی بھیل عورتیں بدنامی، سماجی بائیکاٹ اور دیہی طبی نظام، جو بانجھ پن کا کارگر علاج مہیا کرنے میں ناکام ہے، کی وجہ سے جدوجہد کر رہی ہیں
فیملی پلاننگ میں ’مردوں کی شمولیت‘ ایک معروف لفظ ہے، لیکن بہار کے وکاس متر اور آشا کارکنوں کو مردوں کو نس بندی کرانے کے لیے سمجھانے میں بہت کم کامیابی ملی ہے، اور مانع حمل صرف عورتوں تک ہی محدود ہے
تمام سہولیات سے لیس چھتیس گڑھ کے نارائن پور ضلع کا پرائمری ہیلتھ سینٹر کئی آدیواسی خواتین کی پہنچ سے دور ہے، اس لیے وہ ممکنہ خطرناک اسقاط حمل اور زچگی کے لیے نااہل طبیبوں کا رخ کرتی ہیں
سپریم کورٹ کے ۲۰۱۶ کے حکم کے بعد نس بندی کیمپوں کی جگہ اب ’نس بندی کے دن‘ نے لے لی ہے، لیکن آج بھی نس بندی بنیادی طور پر عورتوں کی ہی کی جاتی ہے – اور یوپی میں بہت سی عورتیں ایسا صرف اس لیے کرتی ہیں کیوں کہ ان کے پاس مانع حمل کے جدید طریقوں کا کوئی دوسرا متبادل نہیں ہے
مدورئی ضلع کے کوولاپورم اور چار دیگر گاؤوں میں، حیض والی عورتوں کو علیحدہ کرکے ’مہمان خانہ‘ میں بھیج دیا جاتا ہے۔ دیوتاؤں اور انسانوں کے غضب کے خوف سے کوئی بھی اس تفریق کو چیلنج نہیں کر پاتا
Want to republish this article? Please write to [email protected] with a cc to [email protected]
All donors will be entitled to tax exemptions under Section-80G of the Income Tax Act. Please double check your email address before submitting.
PARI - People's Archive of Rural India
ruralindiaonline.org
https://ruralindiaonline.org/articles/خواتین-کی-صحت-پر-پاری-کی-سیریز