روپی نے پرائیویٹ میٹرنیٹی کلینک میں ڈاکٹر سے خود اعتمادی کے ساتھ کہا کہ اس عورت کو دو بچے ہوں گے، حالانکہ اپنی بات کی تصدیق کے لیے ان کے پاس کوئی الٹرا ساؤنڈ رپورٹ نہیں تھی۔
روپی منّو بیٹے نے تقریباً دو سال پہلے کے واقعہ کو پرلطف انداز میں اور خوشی کے ساتھ یاد کیا۔ وہ اسٹیتھوسکوپ کا استعمال کرکے ڈاکٹر کی نقل کرتے ہوئے کہتی ہیں، ’’کان میں وہ لگایا۔‘‘ ڈاکٹر نے کمزور جسم والی حاملہ عورت کے پیٹ کی جانچ کی اور جڑواں بچے سے متعلق روپی کی پیشن گوئی کو خارج کر دیا۔
کلینک کے ڈیلیوری روم میں ایک اسٹول پر بیٹھتے ہوئے انہوں نے اپنی بات دہرائی، ’’میڈم، دو ہوتا، دو۔‘‘ تقریباً ۷۰ سال کی روپی اور درد زہ سے کراہ رہی عورت، اُس وقت شمال مشرقی مہاراشٹر کے میلگھاٹ جنگل کے کنارے واقع اپنے گاؤں جیتادیہی سے ۲۰ کلومیٹر دور پرتواڑہ قصبہ میں تھی۔
شام تک، ایک لڑکا پیدا ہوا اور کچھ سیکنڈ بعد ہی دوسرے بچے کا سر باہر آیا۔ اس بار لڑکی کی پیدائش ہوئی تھی، یعنی جڑواں بہن۔
روپی زور سے ہنستی ہیں۔ وہ مٹی سے بنے اپنے روایتی گھر کے برآمدے کے ایک کنارے لکڑی کے تخت (چوکی) پر بیٹھی ہیں۔ گھر کے برآمدے کی فرش کو گائے کے گوبر سے لیپا گیا ہے۔ اندر، لکڑی کی چھت والے تین کمرے خالی پڑے ہیں۔ ان کے بیٹے فیملی کے دو ایکڑ کے کھیت پر کام کرنے گئے ہوئے ہیں۔
وہ کورکو زبان میں کوئی گالی دیتی ہیں، جس کا لفظی معنی گدھے کا عضو تناسل ہے – اس کے بعد وہ تھوڑا اور ہنستی ہیں، ان کی پیشانی کی لکیریں مزید گہری ہوتی جاتی ہیں۔ شہری ڈاکٹر کو دی گئی گالی کو یاد کرتے ہوئے وہ پرسکون لہجے میں کہتی ہیں، ’’میں نے اسی یہی گالی دی تھی۔‘‘











