وہ اپنے بیگ میں ایک ریپڈ ملیریا ٹیسٹ کٹ تلاش کر رہی ہیں۔ بیگ میں دوائیں، سیلائن کی بوتلیں، آئرن کی ٹیبلیٹس، انجیکشنز، بی پی مشین، اور بہت سارا سامان بھرا ہوا ہے۔ جس عورت کے گھر والے اسے دو دن سے تلاش کر رہے تھے، وہ بستر پر پڑی ہوئی ہے۔ اس کا درجہ حرارت سے بڑھ رہا ہے۔ ٹیسٹ پازیٹو آتا ہے۔
وہ ایک بار پھر اپنے بیگ میں جھانکتی ہیں۔ اس بار وہ ۵۰۰ ایم ایل ڈیکسٹروز انٹراوینس (آئی وی) سالیوشن تلاش کر رہی ہیں۔ وہ عورت کے بستر کے پاس پہنچتی ہیں، بڑی مہارت سے ایک پلاسٹک کی رسی کو چھت پر لگی لوہے کی چھڑ پر لپیٹتی ہیں، اور تیزی سے اس پر آئی وی بوتل باندھ دیتی ہیں۔
۳۵ سالہ جیوتی پربھا کِسپوٹا گزشتہ ۱۰ سال سے جھارکھنڈ کے مغربی سنگھ بھوم ضلع کے گاؤوں اور آس پاس کے علاقوں میں اپنی طبی خدمات پہنچا رہی ہیں۔ ان کے پاس ڈاکٹر کی ڈگری نہیں ہے، وہ کوئی تربیت یافتہ نرس بھی نہیں ہیں۔ وہ کسی سرکاری اسپتال یا طبی خدمات کے مرکز سے بھی نہیں وابستہ نہیں ہیں۔ لیکن اوراؤں برادری کی یہ خاتون مغربی سنگھ بھوم کے آدیواسی اکثریتی گاؤوں کے لیے پہلا سہارا ہیں، اور اکثر آخری امید بھی۔ یہ گاؤں خستہ حال سرکاری طبی خدمات کے حوالے ہے۔
جیوتی ایک آر ایم پی ہیں۔ علاقائی سروے بتاتے ہیں کہ دیہی علاقوں میں ۷۰ فیصد طبی خدمات تمام آر ایم پی کے ذریعے ہی مہیا کرائی جا رہی ہیں۔ یہاں آر ایم پی کا مطلب ’رجسٹرڈ میڈیکل پریکٹشنر‘ نہیں، بلکہ ’رورل میڈیکل پریکٹشنر‘ ہے؛ عام بول چال میں ہم جسے ’جھولا چھاپ ڈاکٹر‘ کہتے ہیں۔ دیہی علاقوں میں یہ نا اہل ڈاکٹر متوازی طور پر پرائیویٹ طبی خدمات فراہم کر رہے ہیں۔ اکیڈمکس کی دنیا میں انہیں حقارت سے دیکھا جاتا ہے اور طبی خدمات پر مرکوز سرکاری پالیسیوں میں پس و پیش کے جذبے سے۔
آر ایم پی اکثر ہندوستان میں کسی بھی منظور شدہ ادارے سے رجسٹرڈ نہیں ہوتے ہیں۔ ان میں سے کچھ ہومیو پیتھ یا یونانی ڈاکٹر کے بطور رجسٹر ہو سکتے ہیں، لیکن وہ ایلوپیتھی دواؤں کے ذریعے بھی مریضوں کا علاج کرتے ہیں۔
جیوتی کے پاس ایلوپیتھی دواؤں کا ایک آر ایم پی سرٹیفکیٹ ہے، جسے ’کاؤنسل آف اَن امپلائیڈ رورل میڈیکل پریکٹشنرز‘ نام کے ایک پرائیویٹ ادارہ نے جاری کیا ہے۔ سرٹیفکیٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ ادارہ بہار حکومت کے ذریعے رجسٹرڈ ہے۔ جیوتی نے ۱۰ ہزار روپے دے کر وہاں سے ۶ مہینے کا یہ کورس کیا تھا۔ اس ادارہ کا اب کوئی نام و نشان نہیں ہے۔

















