بیاسی (۸۲) سال کی عمر میں عارفہ سب کچھ دیکھ چکی ہیں۔ ان کے آدھار کارڈ پر درج ہے کہ وہ یکم جنوری، ۱۹۳۸ کو پیدا ہوئی تھیں۔ عارفہ کو نہیں معلوم کہ آیا یہ صحیح ہے یا نہیں، لیکن انہیں اتنا ضرور یاد ہے کہ ۱۶ سال کی عمر میں وہ ۲۰ سالہ رضوان خان کی دوسری بیوی بن کر ہریانہ کے نوح ضلع کے بیواں گاؤں آئی تھیں۔ ’’میری ماں نے رضوان کے ساتھ میری شادی تب کر دی تھی، جب میری بڑی بہن [رضوان کی پہلی بیوی] اور ان کے چھ بچوں کی موت تقسیم کے دوران ایک بھگدڑ میں کچل جانے کی وجہ سے ہو گئی تھی،‘‘ عارفہ (بدلا ہوا نام) یاد کرتے ہوئے بتاتی ہیں۔
انہیں تھوڑا تھوڑا یہ بھی یاد ہے جب مہاتما گاندھی میوات کے ایک گاؤں میں آئے تھے اور میو مسلمانوں سے کہا تھا کہ وہ پاکستان نہ جائیں۔ ہریانہ کے میو مسلمان ہر سال ۱۹ دسمبر کو نوح کے گھاسیڑا گاؤں میں گاندھی جی کی اُس آمد کی یاد میں میوات دیوس مناتے ہیں (سال ۲۰۰۶ تک نوح کو میوات کہا جاتا تھا)۔
عارفہ کو وہ منظر آج بھی یاد ہے جب ماں نے ان کو زمین پر بیٹھاتے ہوئے سمجھایا تھا کہ انہیں رضوان سے کیوں شادی کر لینی چاہیے۔ ’’اس کے پاس تو کچھ بھی نہیں بچا، میری ماں نے مجھ سے کہا تھا۔ میری ماں نے مجھے اسے دے دیا پھر،‘‘ عارفہ کہتی ہیں، یہ بتاتے ہوئے کہ کیسے بیواں ان کا گھر بن گیا، جو کہ ان کے گاؤں، ریٹھوڑا سے تقریباً ۱۵ کلومیٹر دور ہے، دونوں ہی گاؤں اس ضلع کا حصہ ہیں جو کہ ترقی کے حساب سے ملک کے سب سے غریب ضلعوں میں شمار ہوتا ہے۔
قومی راجدھانی سے تقریباً ۸۰ کلومیٹر دور، فیروز پور جھرکہ بلاک کا بیواں گاؤں، ہریانہ اور راجستھان کی سرحد پر اراولی پہاڑیوں کے دامن میں بسا ہوا ہے۔ دہلی سے نوح کو جانے والی سڑک جنوبی ہریانہ کے گروگرام سے ہوکر گزرتی ہے، جو کہ ہندوستان میں تیسری سب سے زیادہ فی کس آمدنی کے ساتھ ایک مالی اور صنعتی مرکز ہے، لیکن یہیں پر ملک کا سب سے پس ماندہ ۴۴واں ضلع بھی ہے۔ یہاں کے ہرے بھرے کھیت، خشک پہاڑیاں، کمزور بنیادی ڈھانچے اور پانی کی کمی عارفہ جیسے بہت سے لوگوں کی زندگی کا حصہ ہیں۔
مسلمانوں کی میو برادری کے زیادہ تر لوگ ہریانہ کے اسی علاقے میں اور پڑوسی ریاست، راجستھان کے کچھ حصوں میں رہتے ہیں۔ نوح ضلع میں مسلمانوں کی آبادی ۷۹ء۲ فیصد ہے (مردم شماری ۲۰۱۱)۔
۱۹۷۰ کے عشرے میں، جب عارفہ کے شوہر رضوان نے بیواں سے پیدل دوری پر ریت، پتھر اور سلیکا کی کانوں میں کام کرنا شروع کیا تھا، تب عارفہ کی دنیا پہاڑیوں کے گرد گھومتی تھی، اور ان کا بڑا کام پانی لانا ہوتا تھا۔ بائیس سال پہلے جب رضوان کا انتقال ہو گیا، تو عارفہ اپنا اور اپنے آٹھ بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے کھیتوں میں مزدوری کرنے لگیں، اور تب انہیں دن بھر کی مزدوری صرف ۱۰ سے ۲۰ روپے ملتی تھی، جیسا کہ وہ بتاتی ہیں۔ ’’ہمارے لوگ کہتے ہیں کہ جتنے بچے پیدا کر سکتے ہو کرو، اللہ ان کا انتظام کرے گا،‘‘ وہ بتاتی ہیں۔










