’’نس بندی کے عمل کے سبھی تین مراحل میں، جس میں چیرا لگانا، اسے بند کرنا اور لیپروسکوپک آلات کے ساتھ بیض نالی پر کام کرنا شامل ہے، مناسب روشنی کا انتظام ہونا ضروری ہے،‘‘ گوسوامی نے کہا۔ دوپہر کی تیز روشنی نے شام کے ڈھلتے سورج کو راہ دکھائی۔ کمرے میں روشنی ناکافی لگ رہی تھی، لیکن کسی نے بھی وہاں موجود ایمرجنسی لائٹ نہیں جلائی۔
پانچ منٹ سے بھی کم وقت میں، ایک عمل پورا ہو گیا اور ڈاکٹر اگلی میز پر چلا گیا۔ ’’ہو گیا، ڈن!‘‘ انہوں نے کہا، یہ وہاں موجود معاون اور آشا کارکن کے لیے ایک اشارہ تھا کہ عورت کو میز سے نیچے اترنے میں مدد کی جائے اور اگلے گروپ کو تیار رکھا جائے۔
بغل کے کمرے میں، گدّے بچھا دیے گئے تھے۔ پیلی دیواروں پر نمی اور کائی کے داغ تھے۔ سامنے کے دروازے پر موجودہ ٹوائلیٹ سے بدبو آ رہی تھی۔ عمل پورا ہو جانے کے بعد، نیہا کو لیٹانے کے لیے لایا گیا جہاں پر ٹھیک ہوجانے کے بعد انہیں اور دیگر عورتوں کو ایک ایمبولینس سے گھر چھوڑا گیا۔ آدھے گھنٹے بعد جب وہ ایمبولینس میں سوار ہوئیں، تب بھی انہیں ہوش نہیں آیا تھا۔ جزوی طور پر اس لیے کیوں کہ یہ سب اتنی جلدی کیا گیا تھا، اور جزوی طور پر اس لیے کہ انہیں ٹھیک سے انیستھیسیا نہیں دیا گیا تھا۔
وہ جب گھر پہنچیں، ساس کے ساتھ ساتھ، تو آکاش ان کا انتظار کر رہے تھے۔ ’’مرد جب گھر لوٹتے ہیں، تو امید کرتے ہیں کہ ان کی ماں، ان کی بیوی، ان کے بچے، ان کا کتّا انتظار کرتا ہوا ملے، جب کہ دوسروں کے لیے وہ ایسا نہیں چاہتے،‘‘ ساس نے تبصرہ کیا اور سیدھے گھر کے ایک چھوٹے سے کونے میں چلی گئیں، یعنی باورچی خانہ میں نیہا کے لیے چائے بنانے۔
’’انجکشن لگنے کے بعد بھی درد ہو رہا تھا،‘‘ انہوں نے پیٹ کو پکڑے ہوئے کہا، جہاں پٹّی کا ایک چوکور ٹکڑا چیرا پر لگا دیا گیا تھا۔
دو دن بعد، نیہا باورچی خانہ میں تھیں، کولہے کے بل بیٹھ کر کھانا بنا رہی تھیں۔ پٹّی ابھی بھی لگی ہوئی تھی، تکلیف ان کے چہرے سے نظر آ رہی ہیں، اور ٹانکے کا زخم ٹھیک ہونا ابھی باقی تھا۔ ’’لیکن پریشانی ختم،‘‘ انہوں نے کہا۔
کور کا خاکہ: پرینکابورار نئے میڈیا کی ایک آرٹسٹ ہیں جو معنی اور اظہار کی نئی شکلوں کو تلاش کرنے کے لیے تکنیک کا تجربہ کر رہی ہیں۔ وہ سیکھنے اور کھیلنے کے لیے تجربات کو ڈیزائن کرتی ہیں، باہم مربوط میڈیا کے ساتھ ہاتھ آزماتی ہیں، اور روایتی قلم اور کاغذ کے ساتھ بھی آسانی محسوس کرتی ہیں۔
پاری اور کاؤنٹر میڈیا ٹرسٹ کی جانب سے دیہی ہندوستان کی بلوغت حاصل کر چکی لڑکیوں اور نوجوان عورتوں پر ملگ گیر رپورٹنگ کا پروجیکٹ پاپولیشن فاؤنڈیشن آف انڈیا کے مالی تعاون سے ایک پہل کا حصہ ہے، تاکہ عام لوگوں کی آوازوں اور ان کی زندگی کے تجربات کے توسط سے ان اہم لیکن حاشیہ پر پڑے گرہوں کی حالت کا پتہ لگایا جا سکے۔
اس مضمون کو شائع کرنا چاہتے ہیں؟ براہِ کرم [email protected] کو لکھیں اور اس کی ایک کاپی[email protected] کو بھیج دیں۔
(مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)