گایتری کچّرابی کے پیٹ میں ہر مہینے ایک متعینہ وقت پر ناقابل برداشت درد ہونے لگتا ہے۔ لگاتار تین دنوں تک برقرار رہنے والا یہ درد سال بھر پہلے بند ہو چکے ان کے حیض کا واحد اشارہ ہے۔
گایتری (۲۸) کہتی ہیں، ’’اس درد سے میں سمجھ جاتی ہوں کہ میرا حیض شروع ہو چکا ہے، لیکن اس دوران مجھے خون نہیں آتا ہے۔‘‘ وہ آگے کہتی ہیں، ’’شاید تین بچوں کو جنم دینے کی وجہ سے میرے اندر اب اتنا خون نہیں بچا ہے کہ حیض کے دوران وہ بہہ سکے۔‘‘ ایمینوریا یا حیض کی مدت کے دوران خون نہ آنے کے بعد بھی ہر مہینے پیٹ اور پیٹھ میں ہونے والے ناقابل برداشت درد سے گایتری کو کبھی راحت نہیں ملی۔ یہ درد اتنا شدید ہوتا ہے کہ گایتری کو لگتا ہے گویا وہ لیبر روم (بچوں کی پیدائش والے کمرہ) میں ہوں۔ ’’میرے لیے اٹھنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔‘‘
گایتری دلکش آنکھوں اور بات چیت میں تلخ لہجے والی ایک لمبی اور دبلی عورت ہیں۔ وہ کرناٹک میں ہاویری ضلع کے رانے بینّور تعلقہ کے اسُنڈی گاؤں کی مڈِگرا کیری (دلت برادری سے تعلق رکھنے والے مڈیگا لوگوں کی بستی) میں رہنے والی ایک زرعی مزدور ہیں۔ اس کے علاوہ وہ فصلوں کی صاف صفائی یا ہاتھوں سے زیرہ پوشی کے کام میں بھی ماہر ہیں۔
تقریباً سال بھر پہلے پیشاب کرنے کے وقت ہونے والے تیز درد کی شکایت کے بعد انہیں اس کے علاج کی ضرورت محسوس ہوئی۔ وہ اپنے گاؤں سے تقریباً ۱۰ کلومیٹر دور بیاڈگی کے پرائیویٹ کلینک گئیں۔
















