این شنکریہ نے ۱۵ نومبر، ۲۰۲۳ کو آخری سانس لی۔ وہ ۱۰۲ سال کے تھے؛ ان کے پس ماندگان میں بیٹے چندر شیکھر اور نرسمہن، اور بیٹی چترا ہیں۔

شنکریہ نے دسمبر ۲۰۱۹ میں پی سائی ناتھ اور پاری کے ساتھ ایک انٹرویو کے دوران اپنی زندگی کے بارے میں تفصیل سے بات کی تھی اور بتایا تھا کہ ان کی زندگی کا زیادہ تر حصہ احتجاج میں گزرا ہے۔ پڑھیں: شنکریہ: نو دہائیوں سے ایک انقلابی

انٹرویو کے وقت ان کی عمر ۹۹ سال تھی، باوجود اس کے ان کی صحت پر زیادہ اثر نہیں پڑا تھا۔ آواز کافی دمدار تھی اور یادداشت پر بھی زیادہ فرق نہیں پڑا تھا۔ وہ زندگی سے بھرپور تھے۔ امیدوں سے بھرے ہوئے تھے۔

جدوجہد آزادی کے دوران شنکریہ نے آٹھ سال جیل میں گزارے – ایک بار ۱۹۴۱ میں، جب وہ مدورئی کے امیریکن کالج میں زیر تعلیم تھے، اور دوسری بار ۱۹۴۶ میں، جب انہیں مدورئی سازش کے کیس میں ملزم بنایا گیا تھا۔ ہندوستانی حکومت نے مدورئی سازش کو تحریک آزادی کا ایک حصہ تسلیم کیا ہے۔

حالانکہ، شنکریہ ایک اچھے طالب علم تھے، لیکن اپنی ڈگری مکمل نہیں کر سکے کیوں کہ ۱۹۴۱ میں برطانوی حکومت کے خلاف احتجاج کرنے کی وجہ سے انہیں بی اے کے فائنل امتحان سے ۱۵ دن پہلے ہی گرفتار کر لیا گیا تھا۔

انہیں ہندوستان کی آزادی سے ایک دن پہلے – ۱۴ اگست، ۱۹۴۷ کو رہا کیا گیا۔ سال ۱۹۴۸ میں کمیونسٹ پارٹی پر پابندی لگنے کے بعد، شنکریہ نے انڈر گراؤنڈ رہ کر تین سال گزارے۔ شنکریہ کی پرورش سیاسی طور پر ایک ہنگامہ خیز ماحول میں ہوئی تھی – ان کے نانا پیریار کے پیروکار تھے۔ یہی وجہ ہے کہ شنکریہ اپنے کالج کے دنوں میں ہی بائیں بازو کی تحریک سے جڑ گئے تھے۔ جیل سے رہائی اور آزادی ملنے کے بعد، شنکریہ کمیونسٹ تحریک کے ساتھ سرگرمی سے جڑ گئے۔ تمل ناڈو میں کسانوں کی تحریک شروع کرنے، اور اس قسم کی دیگر لڑائیوں کو آگے بڑھانے میں انہوں نے کلیدی رول ادا کیا۔

جدوجہد آزادی کا حصہ ہونے کے ساتھ ساتھ، شنکریہ نے دیگر کمیونسٹ لیڈروں کی طرح ہی دوسرے مسائل کو لے کر بھی لڑائی لڑی۔ ’’ہم نے یکساں اجرت، چھواچھوت کے مسائل اور مندر میں داخلہ کی تحریکوں کے لیے لڑائی لڑی،‘‘ انہوں نے انٹرویو کے دوران پاری کو بتایا تھا۔ ’’زمینداری نظام کو ختم کرنا ایک اہم قدم تھا۔ کمیونسٹوں نے یہ لڑائی لڑی تھی۔‘‘

پی سائی ناتھ کے ساتھ ان کا یہ انٹرویو پڑھیں، شنکریہ: نو دہائیوں سے ایک انقلابی اور ویڈیو دیکھیں۔

مترجم: محمد قمر تبریز

Translator : Mohd. Qamar Tabrez

Mohd. Qamar Tabrez is the Translations Editor, Urdu, at the People’s Archive of Rural India. He is a Delhi-based journalist.

Other stories by Mohd. Qamar Tabrez