’’دو دن پہلے ہم سبھی نے اپنے مسلز (پٹھوں) کی تصویریں لی تھیں۔ میرے پاس تو سکس پیک ایبس ہیں، بغیر ورزش کیے، اور شہباز کے بائی سیپس دیکھئے!‘‘ نوجوان عادل اپنے رفیق کار کی جانب ہنستے ہوئے اشارہ کرتے ہیں۔

محمد عادل اور شہباز انصاری میرٹھ کے جِم اور فٹنس کے ساز و سامان کی صنعت میں کام کرتے ہیں اور ایک دن میں اس سے کہیں زیادہ وزن اٹھا لیتے ہیں، جتنا جِم جانے والے ایک ہفتہ میں اٹھاتے ہیں۔ یہ وزن اٹھانا ان کے لیے فٹنس کا کوئی ٹارگیٹ پورا کرنے جیسا نہیں ہے، بلکہ اتر پردیش کے میرٹھ شہر میں مسلم خاندانوں کے نوجوان لڑکوں کے لیے روزی روٹی کا ذریعہ ہے۔ دراصل، مغربی اتر پردیش کا یہ ضلع کھیل کے سامان بنانے کا مرکز ہے۔

صنعت کار محمد ثاقب کہتے ہیں، ’’ابھی کچھ دن پہلے، لڑکے اپنی بائی سیپس اور ایبس [پیٹ کے پٹھوں] کے موازنہ کے لیے فوٹو کھینچ رہے تھے۔‘‘ ثاقب (۳۰) سورج کنڈ روڈ پر فیملی کے ذریعہ کرایے پر لیے گئے جِم کے ساز و سامان والے شو روم میں کاؤنٹر پر بیٹھے ہیں۔ سورج کنڈ روڈ پر ایک کلومیٹر کا علاقہ میرٹھ میں کھیلوں کے ساز و سامان کے بازار کا مرکز ہے۔

وہ مزید کہتے ہیں، ’’گھروں میں استعمال کیے جانے والے عام ڈمبل سے لے کر پیشہ ور کھلاڑیوں کے ذریعہ استعمال کیے جانے والے جِم کے سیٹ اپ تک، آج کل سبھی کو جم اور فٹنس ایکوئپمنٹ چاہیے۔‘‘

جب ہم بات کر رہے تھے، تب لوہے کی چھڑوں اور پائپوں کے علاوہ ہوم جِم اور لوہے کی سلاخوں جیسے تیار مال سے لدی تین پہیے والی کئی الیکٹرک گاڑیاں (مقامی لوگ انہیں مِنی میٹرو کہتے ہیں) اس مصروف سڑک سے گزریں۔ ثاقب شو روم کے شیشے کے دروازے سے اس آمد و رفت کو دیکھتے ہوئے کہتے ہیں، ’’جِم مشین کئی حصوں میں بنتی ہے اور پھر اسیمبل کی جاتی ہے۔‘‘

Left: Mohammad Saqib at their rented gym equipment showroom on Suraj Kund Road in Meerut city .
PHOTO • Shruti Sharma
Right: Uzaif Rajput, a helper in the showroom, demonstrating how a row machine is used
PHOTO • Shruti Sharma

بائیں: میرٹھ میں سورج کنڈ روڈ پر محمد ثاقب کا جم ایکوئپمنٹ کا شو روم، جو انہوں نے کرایے پر لیا ہے۔ دائیں: شو روم میں معاون کے طور پر کام کرنے والے عزیف راجپوت دکھا رہے ہیں کہ رو مشین کیسے استعمال کی جاتی ہے

لوہے کے کام میں میرٹھ کا مرکزی رول نیا نہیں ہے۔ ثاقب نے پاری کو بتایا، ’’شہر اپنی لوہے کی قینچیوں کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہے۔‘‘ سال ۲۰۱۳ میں تقریباً تین صدی پرانی میرٹھ کی قینچی کی صنعت کو جی آئی ٹیگ ملا تھا۔

حالانکہ، میرٹھ میں جِم کے ساز و سامان بنانے کی تاریخ زیادہ پرانی نہیں ہے، اور اس کی ابتدا ۱۹۹۰ کی دہائی کے شروع سے ہوتی ہے۔ ثاقب بتاتے ہیں، ’’کچھ پنجابی اور کچھ مقامی کارخانہ مالک، جو میرٹھ کی اسپورٹس انڈسٹری میں پہلے سے تھے، انہوں نے اس کی شروعات کی تھی۔ لوہے کے کام کرنے والے کاریگر یہاں تھے ہی، خام مال جیسے ری سائیکل کیے ہوئے آئرن پائپ، راڈ، شیٹ جس سے جِم ایکوئپمنٹ تیار ہوتے ہیں، وہ بھی آسانی سے شہر کی لوہا منڈی [کچے مال کا تھوک بازار] میں مل جاتے تھے۔‘‘

زیادہ تر لوہار اور لوہے کی ڈَھلائی کرنے والے کاریگر مسلمان ہیں اور غریب خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ ثاقب کہتے ہیں، ’’خاندان کا سب سے بڑا بیٹا تو بہت کم عمر میں ہی سیکھ جاتا ہے۔ سیفی/لوہار (دیگر پس ماندہ طبقہ یعنی او بی سی) ذات سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو اس پیشہ میں بے حد ہنرمند مانا جاتا ہے۔‘‘ ثاقب کا خاندان انصاری برادری سے ہے، جو بُنکروں کی ایک مسلم ذات ہے، جسے ریاست میں او بی سی کے طور پر درج کیا گیا ہے۔

ثاقب کہتے ہیں، ’’کئی یونٹ ملیں گے آپ کو مسلم محلوں میں، جیسے اسلام آباد ہو گیا، ذاکر حسین کالونی، سلاڑی گیٹ اور زیدی فارم۔‘‘ میرٹھ ضلع میں مسلمانوں کی آبادی تقریباً ۳۴ فیصد ہے، جو ریاست میں ساتویں سب سے بڑی آبادی ہے (مردم شماری ۲۰۱۱)۔

لوہے کے کاریگروں کا مسلم پروفائل صرف میرٹھ میں ہی نہیں ہے۔ ہندوستانی مسلمانوں کی سماجی، اقتصادی اور تعلیمی حالت پر سال ۲۰۰۶ کی رپورٹ ( سچر کمیٹی رپورٹ ) کے مطابق فیبرکیٹڈ میٹل پروڈکٹس اُن تین مینوفیکچرنگ شعبوں میں شامل ہیں، جن میں مسلمان نسبتاً بڑی تعداد میں کام کرتے ہیں۔

Asim and Saqib in their factory at Tatina Sani. Not just Meerut city, but this entire district in western UP is a hub for sports goods’ production
PHOTO • Shruti Sharma
Asim and Saqib in their factory at Tatina Sani. Not just Meerut city, but this entire district in western UP is a hub for sports goods’ production
PHOTO • Shruti Sharma

تتینا ثانی میں اپنی فیکٹری میں موجود عاصم اور ثاقب۔ صرف میرٹھ شہر ہی نہیں، بلکہ مغربی اتر پردیش کا یہ پورا ضلع کھیلوں کے سامان کا مرکز ہے

ثاقب اور ان کے بھائی محمد ناظم اور محمد عاصم نے جب شہر کی لوہا صنعت میں کام کرنا شروع کیا، تو دونوں کی عمر تیس کے آس پاس تھی۔ سال ۲۰۰۰ کی دہائی کی شروعات میں جب وہ چھوٹے ہی تھے، ان کے والد کے تھوک کپڑا کاروبار کو بھاری نقصان پہنچا تھا۔ اس لیے انہوں نے یہ کام شروع کیا۔

عاصم نے احمد نگر علاقے میں اپنے گھر پر ڈمبل پلیٹس بنانی شروع کیں، جب کہ ناظم ایک آٹو پارٹس بنانے کے کاروبار میں لگ گئے۔ ثاقب میٹل فیبرکیشن کارخانہ میں کاریگر فخرالدین علی سیفی کے ہیلپر (معاون) بن کر کام کرنے لگے۔ ثاقب بتاتے ہیں، ’’انہوں نے مجھے لوہے سے الگ الگ چیزیں بنانی سکھائیں۔ لوہے کو کاٹنا، جوڑنا، موڑنا اور اسیمبل کرکے جِم ایکوئپمنٹ، جھولے، جالی، گیٹس وغیرہ بنانا سکھایا۔‘‘

اب یہ بھائی تتینا ثانی گاؤں میں اپنی فٹنس اور جم ایکوئپمنٹ بنانے کی فیکٹری چلاتے ہیں، جو شہر میں ان کے شو روم سے تقریباً نو کلومیٹر دور ایک چھوٹی سی بستی ہے۔ میرٹھ لوہے کے ساز و سامان تیار کرنے کا بھی مرکز ہے جیسے اوزار، قینچیاں اور لوہے کے فرنیچر ضلع سے برآمد کیے جانے والے بڑے سامانوں میں شامل ہیں (مردم شماری ۲۰۱۱)۔

ثاقب کہتے ہیں، ’’میرٹھ میں لوہے کا کام کرنے والے بے شمار ماہر کاریگر مجھ سے زیادہ جانتے ہیں۔ مگر بات یہی ہے کہ میں کاریگر سے مالک بن گیا اور زیادہ تر نہیں بن پائے ابھی تک۔‘‘

ان کا سفر ایک موقع کی وجہ سے ممکن ہو سکا۔ بھائیوں کے بچائے پیسے سے وہ ماسٹر اِن کمپیوٹر ایپلی کیشن یعنی ایم سی اے کر پائے۔ ثاقب کہتے ہیں، ’’میرے بھائی گھبرا رہے تھے۔ مگر ان کو یقین بھی تھا کہ میں نے ایم سی اے کر کے جو سیکھا ہے، اس سے ہم جم اور فٹنس انڈسٹری میں اپنا خود کا بزنس کھول سکیں گے۔‘‘

*****

Left: Metal pieces are cut, welded, buffed, finished, painted, powder-coated and packed in smaller parts which are later assembled and fitted together.
PHOTO • Shruti Sharma
Right : A band saw cutting machine used to slice solid iron cylindrical lengths into smaller weight plates
PHOTO • Shruti Sharma

بائیں: دھات کے ٹکڑے کاٹ کر ویلڈ، بف، فنش، پینٹ اور پھر انہیں پاؤڈر کوٹ کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد انہیں چھوٹے چھوٹے حصوں میں پیک کیا جاتا ہے، جنہیں بعد میں اکٹھا کر کے ایک ساتھ فٹ کیا جاتا ہے۔ دائیں: ایک مڑی ہوئی آرا مشین کا استعمال ٹھوس لوہے کے بیلن جیسے ٹکڑوں کو چھوٹے وزن کی پلیٹوں میں کاٹنے کے لیے کیا جاتا ہے

The factory workers dressed in colourful t-shirts operate electric machines that radiate sparks when brought in contact with metal
PHOTO • Shruti Sharma

رنگ برنگی ٹی شرٹس پہنے فیٹکری کے ملازم بجلی کی مشینیں چلا رہے ہیں، جو دھات کے رابطہ میں آنے پر چنگاریاں پھینکتی ہیں

فیکٹری میں گھومتے ہوئے ثاقب بتاتے ہیں، ’’جم ایکوئپمنٹ بنانے کے لیے لوہے کے ٹکڑے کاٹ کر، ویلڈ کرکے، بفنگ، فنشنگ، پینٹنگ، پاؤڈر کوٹنگ اور پیکنگ کی جاتی ہے۔ چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں کو بعد میں اکٹھا کر کے ایک ساتھ فٹ کیا جاتا ہے۔ آپ جب فیکٹری آئیں گے، تو آپ کو پتہ ہی نہیں چلے گا کہ کون سا پارٹ بن رہا ہے، کیوں کہ آپ نے فٹ کیا ہوا فینسی سا ایکوئپمنٹ جِم میں دیکھا ہوگا۔‘‘

وہ جس قسم کے جِم کا ذکر کر رہے ہیں، وہ اس فیکٹری سے کافی الگ ہوتا ہے جس میں ہم موجود ہیں۔ تین دیواروں اور اوپر ٹین شیڈ کے چھت والی تتینا ثانی کی اس فیکٹری کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے  – فیبرکیشن ایریا، پینٹنگ ایریا اور پیکنگ ایریا۔ کھلے سرے سے کچھ ہوا آ پاتی ہے۔ گرمی کے لمبے مہینوں میں یہ کافی اہم ہوتا ہے، جب درجہ حرارت ۴۰ کے آس پاس اور کبھی کبھی ۴۵ ڈگری سیلسیس سے اوپر چلا جاتا ہے۔

فیکٹری میں چلتے ہوئے ہمیں زمین پر پیر رکھتے وقت کافی دھیان رکھنا پڑ رہا ہے۔

لوہے کی ۱۵ فٹ لمبی راڈ اور پائپ، ۴۰۰ کلو سے زیادہ کے ٹھوس لوہے کے بیلن جیسے حصے، وزن والی پلیٹوں کو کاٹنے کے لیے استعمال ہونے والی ٹھوس اور مسطح دھات کی چادریں، تعمیر کے الگ الگ مراحل میں استعمال ہونے والی بجلی کی بڑی مشینیں اور جم کے سامان – سبھی فرش پر پڑے ہیں۔ ان کے درمیان ایک تنگ، بغیر نشان والا پگڈنڈی جیسا راستہ ہے، اور چوکنے کا مطلب ہے کہ تیز دھار سے گہرا زخم لگنے کا خوف۔ یہاں تک کہ پیروں پر کسی بھاری چیز کے گرنے سے ہڈی ٹوٹنے کا بھی خطرہ رہتا ہے۔

ان بھورے، سرمئی اور سیاہ رنگ کے وزنی سامانوں کے درمیان واحد حرکت اور چمک آتی ہے کاریگروں سے۔ رنگین ٹی شرٹ پہنے وہ بجلی کی مشینیں چلا رہے ہیں، جو دھاتوں کے رابطہ میں آنے پر چنگاریاں پھینکتی ہیں۔

Asif pushes the iron pipe along the empty floor on his left to place it on the cutting machine; he cuts (right) the 15 feet long iron pipe that will go into making the 8 station multi-gym
PHOTO • Shruti Sharma
Asif pushes the iron pipe along the empty floor on his left to place it on the cutting machine; he cuts (right) the 15 feet long iron pipe that will go into making the 8 station multi-gym
PHOTO • Shruti Sharma

آصف لوہے کے پائپ کو کٹنگ مشین پر رکھنے کے لیے اپنے بائیں طرف کے خالی فرش پر دھکیلتے ہیں۔ وہ ۱۵ فٹ لمبی لوہے کی پائپ (دائیں) کو کاٹتے ہیں، جو ۸ اسٹیشن ملٹی جم کی تعمیر میں استعمال ہوگی

Left: Mohammad Naushad, the lathe machine technician at the factory, is in-charge of cutting and shaping the cut cylindrical iron and circular metal sheet pieces into varying weights.
PHOTO • Shruti Sharma
Right: At Naushad's station, several disc-shaped iron pieces stacked on top of one another based on their weight
PHOTO • Shruti Sharma

بائیں: کارخانہ میں کھراد مشین کے کاریگر محمد نوشاد کے ذمہ کٹے ہوئے بیلن جیسے لوہے اور دائرہ کار میٹل شیٹ کے ٹکڑوں کو الگ الگ وزن اور سائز میں کاٹنے کا کام ہے۔ دائیں: نوشاد کے ورک اسٹیشن پر ڈسک کی شکل کے کئی لوہے کے ٹکڑے اپنے وزن کے حساب سے ایک دوسرے کے اوپر رکھے ہوئے ہیں

یہاں محمد آصف تتینا ثانی کے اکیلے کاریگر ہیں۔ دوسرے لوگ میرٹھ کے آس پاس کے علاقوں سے آتے ہیں۔ آصف (۱۸) بتاتے ہیں، ’’میں یہاں تقریباً ڈھائی سال سے کام کر رہا ہوں، لیکن یہ میرا پہلا کام نہیں ہے۔ اس سے پہلے میں دوسری جم مشین فیکٹری میں کام کرتا تھا۔‘‘ آصف لوہے کے پائپ کاٹنے کے ایکسپرٹ ہیں۔ بے ترتیب پڑے ڈھیر سے ۱۵ فٹ لمبے پائپ باہر نکال کر وہ انہیں ایک ایک کرکے پائپ کٹنگ مشین پر رکھنے سے پہلے اپنے بائیں طرف خالی فرش پر دھکیلتے ہیں۔ جہاں کاٹنا ہے وہاں نشان لگانے کے لیے وہ انچ ٹیپ کا استعمال کرتے ہیں۔ اُس جگہ جِم ایکوئپمنٹ بنانے کے لیے ضروری لمبائی اور ڈیزائن کے مطابق کٹ لگانا ہے۔

آصف بتا رہے ہیں، ’’میرے والد جو آٹو چلاتے ہیں وہ اُن کا نہیں ہے۔ ان کی کمائی کافی نہیں ہوتی، اس لیے مجھے جلد کام کرنا شروع کرنا پڑا۔‘‘ وہ ہر مہینے ساڑھے چھ ہزار روپے کما لیتے ہیں۔

فیکٹری کے دوسرے حصے میں محمد نوشاد لوہے کے ایک ٹھوس سیلنڈر کے سائز والے ٹکڑے کو آرا مشین سے کاٹ رہے ہیں۔ نوشاد (۳۲) بھی یہاں کھراد مشین پر کام کرتے ہیں اور عاصم کے ساتھ ۲۰۰۶ سے کام کر رہے ہیں۔ وزن کے مطابق ایک دوسرے کے اوپر رکھے ڈسک کی شکل والے لوہے کے کئی ٹکڑوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے نوشاد کہتے ہیں، ’’یہ سارے فٹنگ کے لیے الگ الگ ٹائپ کے جِم ایکوئپمنٹ میں لگائے جائیں گے۔‘‘ نوشاد ۱۶ ہزار روپے تک کما لیتے ہیں۔

نوشاد کے کام کی جگہ کے بائیں طرف محمد آصف سیفی (۴۲)، اور عامر انصاری (۲۷) بیٹھتے ہیں، جو آٹھ اسٹیشن والا ملٹی جم لگا رہے ہیں۔ یہ اُس مال کا حصہ ہے جسے کپواڑہ میں آرمی کے کیمپ میں پہنچایا جانا ہے۔

کمپنی کے گاہکوں میں ہندوستانی فوج کے سرینگر اور کٹرہ (جموں و کشمیر)، انبالہ (ہریانہ)، بیکانیر (راجستھان) اور شیلانگ میں موجود ادارے شامل ہیں اور ثاقب کے مطابق، ’’پرائیویٹ جم سیٹ اپ کی فہرست منی پور سے کیرالہ تک ہے۔ ہم نیپال اور بھوٹان کو بھی سامان برآمد کرتے ہیں۔‘‘

Left: Asif Saifi finalising the distance between two ends of the multi-gym based on the cable crossover exercise.
PHOTO • Shruti Sharma
Right: He uses an arc welder to work on the base of the multi-gym
PHOTO • Shruti Sharma

بائیں: آصف سیفی کیبل کراس اوور ورزش کے مطابق، ملٹی جم کے دو سروں کے درمیان کے فاصلہ کو حتمی شکل دے رہے ہیں۔ دائیں: وہ ملٹی جم کے بیس پر کام کرنے کے لیے ایک آرک ویلڈر کا استعمال کرتے ہیں

Amir uses a hand operated drilling machine (left) to make a hole into a plate that will be welded onto the multi-gym. Using an arc welder (right), he joins two metal pieces
PHOTO • Shruti Sharma
Amir uses a hand operated drilling machine (left) to make a hole into a plate that will be welded onto the multi-gym. Using an arc welder (right), he joins two metal pieces
PHOTO • Shruti Sharma

عامر پلیٹ میں سوراخ کرنے کے لیے ہاتھ سے چلنے والی ڈرلنگ مشین (بائیں) استعمال کر رہے ہیں، جسے ملٹی جم پر ویلڈنگ سے جوڑا جائے گا۔ ایک آرک ویلڈر (دائیں) استعمال کرکے وہ دو دھات کے ٹکڑوں کو جوڑتے ہیں

دونوں آرک ویلڈنگ کے ماہر ہیں اور چھوٹے حصے بنانے کے ساتھ ساتھ بڑے پرزے جوڑنے کا کام بھی کرتے ہیں۔ آرڈر اور بنائی گئی مشینوں کی بنیاد پر وہ مہینہ میں تقریباً ۶۰-۵۰ ہزار روپے کما لیتے ہیں۔

عامر کہتے ہیں، ’’آرک ویلڈر کے آگے ایک پتلا سا الیکٹروڈ لگتا ہے جو موٹے لوہے کو بھی پگھلا دیتا ہے۔ جب دھات کے دو ٹکڑوں کو جوڑا جاتا ہے، تو الیکٹروڈ کو ہاتھوں سے ہی چلانا پڑتا ہے۔ اس کی وجہ سے یہ کام آسان نہیں ہوتا، اور اس پر مہارت حاصل کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔‘‘

ثاقب ان کی تنخواہ کے بارے میں بتاتے ہیں، ’’عامر اور آصف ٹھیکہ پر کام کرتے ہیں۔ جس کام میں سب سے زیادہ مہارت چاہیے وہ ٹھیکہ پر کیے جاتے ہیں، نہ کہ وہ کام جو کم ہنر والے ہوں۔ ایکسپرٹ کی مانگ زیادہ ہوتی ہے اور وہ اس حالت میں ہوتے ہیں کہ مالک سے بہتر تنخواہ مانگ سکیں۔‘‘

اچانک دکان میں روشنی مدھم پڑ گئی۔ لائٹ چلی گئی تھی؛ فیکٹری کا جنریٹر چلنے تک کچھ سیکنڈ کے لیے کام رک جاتا ہے۔ جنریٹر کی آواز اور بجلی کی مشینوں کے شور میں اپنی بات کہنے کے لیے ملازم اب اونچی آواز میں بول رہے ہیں۔

اگلے ورک اسٹیشن پر ۲۱ سال کے عباد سلمانی میٹل انرٹ گیس (ایم آئی جی) ویلڈر کے ذریعہ جم ایکوئپمنٹ کے جوڑ کو مضبوط کر رہے ہیں۔ عباد کہتے ہیں، ’’لوہا پگھل جائے گا اگر آپ کو پتہ نہیں کہ موٹے اور پتلے ٹکڑوں کی کتنے درجہ حرارت پر ویلڈنگ کرنی ہے۔‘‘ وہ مہینہ میں ۱۰ ہزار روپے تک کما لیتے ہیں۔

دھات کے ٹکڑے پر کام کرنے کے لیے نیچے جھکے عباد اس دوران پیدا ہونے والی چنگاری سے اپنی آنکھوں اور بازوؤں کو بچانے کے لیے ڈھال کا استعمال کرتے ہیں۔ ثاقب کہتے ہیں، ’’ہمارے پاس تمام حفاظتی آلات موجود ہیں۔ کیا محفوظ ہے اور کیا نہیں، کاریگر اپنی آسانی اور دقت کے حساب سے پرکھتے ہیں اور ان کا استعمال کرتے ہیں۔‘‘

Left: Ibad Salmani  uses a hand shield while strengthening the joints of gym equipment parts with a Metal Inert Gas (MIG) welder.
PHOTO • Shruti Sharma
Right: Babu Khan, 60, is the oldest karigar at the factory and performs the task of buffing, the final technical process
PHOTO • Shruti Sharma

بائیں: عباد سلمانی میٹل انرٹ گیس (ایم آئی جی) ویلڈر کے ذریعہ جم ایکوئپمنٹ کے حصوں کے جوڑ کو مضبوط کرتے وقت ایک ڈھال کا استعمال کرتے ہیں۔ دائیں: ۶۰ سال کے بابو خان کارخانہ کے سب سے پرانے کاریگر ہیں اور بفنگ کا کام کرتے ہیں، جو آخری تکنیکی عمل ہے

آصف سیفی کہتے ہیں، ’’انگلیاں جلتی ہیں۔ آئرن پائپ پیروں پر گر جاتے ہیں۔ کٹ وغیرہ تو عام بات ہے۔ بچپن سے کرتے آ رہے ہیں، عادت ہو گئی ہے۔ کام کو چھوڑ نہیں سکتے۔‘‘

سب سے بزرگ کاریگر بابو خان (۶۰) اپنے جسم اور پیروں کو چنگاری سے بچانے کے لیے اپنے بازوؤں کو سوتی کپڑے کے ٹکڑوں سے ڈھکتے ہیں اور اپنی کمر کے چاروں طرف ایک بڑا کپڑا باندھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں، ’’پہلے میں دوسری فیکٹری میں لوہے کے راڈ کی ویلڈنگ کرتا تھا۔ یہاں پر بفنگ کرتا ہوں۔‘‘

ثاقب بتاتے ہیں، ’’بفنگ سے لوہے کے اوپر کٹنگ اور ویلڈنگ کے جتنے بھی نشان ہیں، سب برابر ہو جاتے ہیں۔ یہ پورے عمل کا آخری تکنیکی کام ہے۔‘‘ بابو کو مہینہ میں ۱۰ ہزار روپے تنخواہ ملتی ہے۔

جب سطح چکنی ہو جاتی ہے، اس کے بعد ۴۵ سال کے شاکر انصاری کے ذمہ ایکوئپمنٹ کے حصوں کے جوڑ ڈھکنے کے لیے باڈی فلر پُٹّی لگانا ہوتا ہے اور وہ انہیں ریگ مال سے چکنا کرتے ہیں۔ شاکر، ثاقب کے بہنوئی ہیں اور چھ سال سے یہاں کام کر رہے ہیں۔ وہ ٹھیکہ پر کام کرتے ہیں اور مہینہ میں ۵۰ ہزار روپے تک کما لیتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں، ’’میرا ڈیزل سے چلنے والے آٹو کے لیے لوہے کے نوزل بنانے کا کاروبار تھا۔ مگر کمپریسڈ نیچرل گیس (سی این جی) آٹو کے آنے کے بعد میرا کام پوری طرح سے چوپٹ ہو گیا تھا۔‘‘

ایک بار جب شاکر ایکوئپمنٹ پر پرائمر اور پینٹ لگا کر کام مکمل کر لیتے ہیں، تو اس پر مشین سے پاؤڈر کوٹ کیا جاتا ہے۔ ثاقب کہتے ہیں، ’’وہ اسے پائیدار بناتا ہے اور زنگ نہیں لگنے دیتا۔‘‘

Left: Shakir Ansari applies body filler putty to cover gaps on the surface at the joints.
PHOTO • Shruti Sharma
Right: Sameer Abbasi (pink t-shirt) and Mohsin Qureshi pack individual parts of gym equipment
PHOTO • Shruti Sharma

بائیں: شاکر انصاری جوڑوں کی سطح پر جگہوں کو بھرنے کے لیے باڈی فلر پُٹّی لگا رہے ہیں۔ دائیں: سمیر عباسی (گلابی ٹی شرٹ) اور محسن قریشی جم ایکوئپمنٹ کے الگ الگ حصے پیک کر رہے ہیں

سبھی نئے آلات کے حصوں کو گیٹ کے پاس ایک جگہ پیک کیا جاتا ہے، جہاں سے انہیں ٹرکوں پر لادا جاتا ہے۔ پیک کرنے اور فٹ کرنے والے محمد عادل، سمیر عباسی، محسن قریشی اور شہباز انصاری کی ٹیم کی عمر ۱۸-۱۷ سال کے درمیان ہے اور ان میں سے ہر کوئی ۶۵۰۰ روپے مہینے کماتا ہے۔

فوج کے جم کے لیے کپواڑہ جانے والا ٹرک آ چکا ہے اور وہ اسے لوڈ کرنا شروع کریں گے۔

سمیر کہتے ہیں، ’’جہاں آرڈر ٹرک سے جاتا ہے، ہم لوگ ٹرین سے چلے جاتے ہیں۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں، ’’اس کام کی وجہ سے ہم نے پہاڑ، سمندر اور ریگستان سب دیکھ لیے ہیں۔‘‘

مترجم: محمد قمر تبریز

Shruti Sharma

Shruti Sharma is a MMF-PARI fellow (2022-23). She is working towards a PhD on the social history of sports goods manufacturing in India, at the Centre for Studies in Social Sciences, Calcutta.

Other stories by Shruti Sharma
Editor : Sarbajaya Bhattacharya

Sarbajaya Bhattacharya is a Senior Assistant Editor at PARI. She is an experienced Bangla translator. Based in Kolkata, she is interested in the history of the city and travel literature.

Other stories by Sarbajaya Bhattacharya
Translator : Mohd. Qamar Tabrez

Mohd. Qamar Tabrez is the Translations Editor, Urdu, at the People’s Archive of Rural India. He is a Delhi-based journalist.

Other stories by Mohd. Qamar Tabrez