’’انھوں نے کہا تھا کہ ہماری زندگی بہتر ہو جائے گی، لیکن ہمارے ساتھ انھوں نے دھوکہ کیا ہے،‘‘ جُنوانی گاؤں کے پریتم کُنجم کہتے ہیں۔ ’’ہماری زمین لینے کے بعد، اہل کاروں نے بدلے میں پٹّہ پر یہ چھوٹا سا ٹکڑا دیا اور ہمیں یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ ہمارے پاس کل زمین اتنی ہی ہے۔ ہم میں سے کچھ نے اپنا گھر کھو دیا، کھیت اور کھلہان کھو دیے۔ لیکن ہم حقیقتاً جو چیز کھوئی، وہ ہے ہماری چراگاہیں، جنگلات، عوامی زمین، شمشان اور کھیل کے میدان۔ ہم کئی مہینوں سے سرکاری دفاتر کے چکّر لگا رہے ہیں کہ وہ ہمیں ہماری زمین واپس کر دیں۔‘‘

چھتیس گڑھ کے دھمتاری ضلع کے جُنوانی گاؤں، جو رائے پور سے ۱۴۰ کلومیٹر دور ہے، کے لوگوں نے اپنی زمینیں واپس لینے کی ایک تحریک دسمبر ۲۰۱۵ میں شروع کی۔ وہ شیڈولڈ ٹرائبس اینڈ اَدَر ٹریڈیشنل فاریسٹ ڈویلرس ایکٹ، یا فاریسٹ رائٹس ایکٹ (ایف آر اے) کے تحت زمین کے مالکانہ حق کی لڑائی لڑ رہے ہیں۔ یہ قانون دسمبر ۲۰۰۶ میں بنایا گیا تھا، جسے یکم جنوری ۲۰۰۸ کو نافذ کیا گیا۔ ایف آر اے قانون ہندوستان بھر میں جنگلوں میں رہنے والے لوگوں کے روایتی جنگلاتی حقوق کی بازیابی کو یقینی بناتا ہے۔ یہ ان آدیواسی برادریوں کو جنگلات کی چھوٹی پیداوار اور چراگاہوں کو استعمال کرنے، اور ان زمینوں کے انفرادی مالکانہ حق کو یقینی بناتا ہے، جن پر وہ ۱۳ دسمبر، ۲۰۰۵ تک کھیتی کر رہے تھے۔

چھتیس گڑھ حکومت حالانکہ یہ دعویٰ کرتی ہے کہ ایف آر اے قانون کے تحت آدیواسیوں کو پٹّہ پر زمین دینے کے معاملے میں وہ دوسری ریاستوں سے آگے ہے، لیکن رائے پور میں ۱۵ نومبر، ۲۰۱۵ کو جنگلات سے متعلق حقوق پر منعقدہ ورکشاپ میں جو اعداد و شمار پیش کیے گئے، وہ بالکل الگ تصویر پیش کرتے ہیں، جب کہ اس ورکشاپ میں ریاستی اور مرکزی حکومتوں کے اہل کار بھی موجود تھے۔

ریاستی حکومت نے گزشتہ سات برسوں میں آدیواسیوں کے ذریعے انفرادی حقوق حاصل کرنے سے متعلق داخل کی گئی ۶۰ فیصد درخواستوں، یا ایف آر اے کے تحت کیے گئے ایسے تقریباً ۵۱۲،۰۰۰ دعووں کو خارج کر دیا ہے۔ اور قانون کے برخلاف، جو ہر بالغ کو ڈھائی ایکڑ زمین کا حق دیتا ہے، چھتیس گڑھ حکومت نے اوسطاً ہر فیملی کے لیے جنگل کی صرف ۲ ایکڑ زمین منظور کی ہے۔

جب چھتیس گڑھ کی ۴۴ فیصد زمین جنگلات پر مشتمل ہے، تو ایسے میں حقدار لوگوں کو ان کے یہ حقوق نہ دینا اس سے بھی زیادہ اہم ہو جاتا ہے۔ مذکورہ ورکشاپ میں جو اعداد و شمار پیش کیے گئے، وہ بتاتے ہیں کہ تریپورہ اور کیرلہ نے ایسے صرف ۳۴ فیصد انفرادی دعووں کو خارج کیا ہے۔

جُنوانی کی پنچایت کے پاس ووٹروں کی جو فہرست ہے، اس کے مطابق یہاں صرف ۲۶۵ ووٹرس ہیں، جنہیں انفرادی حقوق کے طور پر ۶۶۲ ایکڑ زمین ملنی چاہیے۔ لیکن مقامی کارکن بینی پوری گوسوامی کہتے ہیں کہ ’’دہائیوں پرانے ریکارڈس کو استعمال کیا جا رہا ہے اور انفرادی پٹّے کے طور پر صرف ۱۸۰ ایکڑ زمین ہی دی گئی ہے۔‘‘ ماحولیاتی اور حیاتیاتی امور پر مبنی وسندھرا، بھوبنیشور کے تحقیقی اور پالیسی گروپ کی ایگزیکٹو کمیٹی کے صدر، مدھو سرین بتاتے ہیں، ’’ہمارا قانون ہمیں ڈھائی ایکڑ زمین کی اجازت دیتا ہے، لیکن انھوں نے ہمیں زمین کا چھوٹا ٹکڑا دیا ہے، اور وہ بھی والد کے نام پر۔‘‘ جُنوانی میں کسی بھی عورت کو زمین نہیں دی گئی ہے، کُنجم کہتے ہیں۔ ’’ایک بھی عورت کا نام رجسٹر نہیں کیا گیا ہے۔‘‘ اور، وہ کہتے ہیں، پٹّے کے ساتھ کوئی بھی نشاند یا نقشہ نہیں فراہم کیا گیا ہے۔


02-Gramsabha-in-JUlvani-vilaage-shirish-khare007-Shirish-Khare-SK-If we lose our land, where do we go?.jpg

جُنوانی میں عورتوں کو کوئی زمین نہیں دی گئی ہے، جب کہ گاؤں کے بقیہ لوگوں کو تھوڑی دی گئی ہے


چھتیس گڑھ نے کمیونٹی لیز (یہ انفرادی مالکانہ حقوق سے مختلف ہیں) کی تعداد بھی جاری نہیں کی ہے کہ ریاست ایسی کتنی لیز دینے والی ہے۔ ’’قانون میں حالانکہ اس کا انتظام کیا گیا ہے، لیکن حکومت زمینوں کی کمیونٹی لیز نہیں دے رہی ہے،‘‘ بینی پوری بتاتے ہیں۔ رائے پور کے مذکورہ ورکشاپ میں جو اعداد و شمار پیش کیے گئے اس کے مطابق، کمیونٹی لیزنگ کے تحت گجرات حکومت نے ہر گاؤں میں اوسط کے حساب سے جنگلات کی ۲۸۰ ایکڑ زمینیں تقسیم کی ہیں، کرناٹک نے اوسطاً ۲۶۰ ایکڑ، مہاراشٹر نے ۲۴۷ ایکڑ اور تلنگانہ نے ۶۷۶ ایکڑ۔

مزید برآں، جنوری ۲۰۱۴ میں، چھتیس گڑھ نے ان جنگلوں میں واقع ۴۲۵ گاؤوں کو مالیتی گاؤوں میں تبدیل کرنے کا فیصلہ سنایا۔ بظاہر تو یہ اعلان انھیں ’مین اسٹریم‘ میں لانے اور ’ترقی‘ میں شامل کرنے کے لیے کیا گیا، لیکن اس عمل کے دوران وہاں رہنے والے لوگوں سے صلاح نہیں لی گئی۔ اور جب رِیونیو اور فاریسٹ ڈپارٹمنٹ دونوں نے ایک ہی زمین پر اپنا اختیار جتاتے ہیں، تو آدیواسیوں کو دوہرا خوف ستانے لگتا ہے کہ ان کے جنگلاتی حقوق اس محکمہ جاتی لڑائی میں کہیں دفن نہ ہو جائیں۔ ’’ایک ہزار ایکڑ زمین اس گاؤں کی ہے،‘‘ کُنجم کہتے ہیں، ’’جسے کسی ڈپارٹمنٹ یا پرائیویٹ سیکٹر کو نہیں دیا جا سکتا۔‘‘

تاہم، محکمہ درج ذات فہرست و قبائل کے ڈائرکٹر، راجیش سوکمار ٹوپو نے اس بات پر زور دے کر کہا کہ چھتیس گڑھ ’’انفرادی لیزنگ کے کھیل میں آگے ہے، لیکن اب ترجیح کمیونٹی لیزنگ کو دی جائے گی۔‘‘ وہ کہتے ہیں کہ ۲۰ نومبر، ۲۰۱۵ کو چیف سکریٹری نے کلکٹروں کو کمیونٹی لیزنگ کے پروسیس میں ہاتھ بٹانے کا حکم دیا، اور یہ کہا کہ ’’اس قسم کی زمینوں کو ریکارڈس میں بھی شامل کیا جائے گا۔‘‘

ریاستی وزیر جنگلات، مہیش گاگڑا نے راقم الحروف کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا، ’’آدیواسیوں کو (جنگلاتی) زمین غیر آدیواسیوں کے مقابلے لیز پر آسانی سے مل جاتی ہے۔ جیسا کہ رواج ہے، زمین کی تقسیم گاؤں کی سطح پر ہوتی ہے (جو کہ گرام سبھا کی تجویزوں پر مبنی ہوتی ہے)، سرکار کی سطح پر نہیں۔ لیکن بہت سے دعووں کو خارج کیا جا رہا ہے اور ان شکایات پر غور کیا جا رہا ہے۔‘‘

لیکن آدیواسی سمتا منچ، رائے پور کی اِندو نیتم کہتی ہیں، ’’حکومت ووٹ بینک کا کھیل کھیل رہی ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ۲۰۰۹ کے بعد تین سالوں تک زمین کو پٹّہ پر دینے کا عمل رُکا ہوا ہے۔ تاہم، ۲۰۱۳ کے انتخابات کے دوران، ایک سال کے اندر لیزنگ کے ایک لاکھ معاملوں کو سُلجھا دیا گیا۔ اب یہ عمل پھر سست پڑ چکا ہے۔‘‘

دھمتاری کے آدیواسی جہاں ان حقوق کو حاصل کرنے کے لیے ریاست کے دروازے پر دستک دے رہے ہیں، جن کا ایف آر اے کے تحت اُن سے وعدہ کیا گیا تھا، وہیں ریاستی مقننہ کے سامنے مائننگ ڈپارٹمنٹ کے ذریعہ پیش کی گئی سالانہ رپورٹ کے مطابق، ۲۰۰۵ سے ۲۰۱۰ کے درمیان چھتیس گڑھ کے جنگلوں کی ۱۸۶،۰۰۰ ایکڑ زمین صنعتوں کے لیے مختص کر دی گئی۔ ان مختص کی گئی زمینوں میں سے ۹۷ فیصد کو کانکنی کے لیے نشان زد کیا گیا ہے۔

فاریسٹ سروے آف انڈیا کے ریکارڈ کے مطابق، ریاست کے جنگلاتی علاقوں کی ۲۳۳،۰۰۰ ایکڑ زمینیں ۱۹۹۷ سے ۲۰۰۷ کے درمیان پہلے ہی کانکنی کے لیے دی جا چکی ہیں۔ مرکزی اور ریاستی کانکنی محکموں کی سالانہ رپورٹیں اشارہ کرتی ہیں کہ صرف ۲۰۱۴ میں، چھتیس گڑھ میں ۲۰،۸۴۱ کروڑ روپے کی معدنیات زمین کے اندر سے نکالی گئیں۔


03-GEBERA-COAL-MINING-PROJECT-KOEBA-DISTRICT001BY--Deepak-Gupta-SK-If we lose our land, where do we go?.jpg

دھمتاری کے آدیواسی جہاں ایک طرف اپنے حقوق کو حاصل کرنے کی لڑائی لڑ رہے ہیں، وہیں صرف پانچ سالوں کے اندر چھتیس گڑھ میں ۱۵۰،۰۰۰ ایکڑ زمین کانکنی کے لیے مختص کر دی گئی ہے


حکومت کی ترجیحات واضح ہیں۔ دریں اثنا، جیسا کہ پریتم کُنجم کہتے ہیں، ’’اگر ہم اپنی زمین کھو دیں گے، تو کہاں جائیں گے؟‘‘

تصویریں: شریش کھرے اور دیپک گپتا

یہ اسٹوری  راجستھان پتریکا کے رائے پور ایڈیشن میں ۴ دسمبر، ۲۰۱۵ کو شائع ہو چکی ہے۔

ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: @Tabrez_Alig You can contact the translator here:

Shirish Khare

پلّوی کلرنی ایک آئی ٹی مترجم ہیں، جو ہندی نیوز ویب سائٹ ’ویب دنیا‘ میں کام کرتی ہیں، جہاں ان کی توجہ سرچ ٹولس کے مواد اور سوشل میڈیا انٹرفیس پر ہوتی ہے۔ وہ ممبئی میں رہتی ہیں۔ آپ مترجم سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: @2pal6 شریش کھرے رائے پور، چھتیس گڑھ میں مقیم ہیں، اور راجستھان پتریکا کے لیے خصوصی نامہ نگار کے طور پر کام کرتے ہیں۔

Other stories by Shirish Khare