01-011-PS-Kalliasseri-Still Fighting at 50.jpg

 

01-011-PS-Kalliasseri-Still Fighting at 50.jpg

کلیا سیری کے قریب واقع پراسینی کڑاوو کے مندر نے ۳۰ اور ۴۰ کی دہائی میں انگریزوں کے چنگل سے فرار قوم پرستوں کو اپنے یہاں پناہ دی تھی۔ یہاں پر شکاریوں کے دیوتا، بھگوان موتھوپن اور کانسے کے کتوں کی مورتیاں ہیں


کلیاسیری کے پاس واقع پراسینی کا مندر ایک انوکھا مندر ہے۔ یہ سبھی ذاتوں کے لیے ہمیشہ کھلا رہتا ہے۔ یہاں کے پجاری پس ماندہ برادریوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس کے دیوتا، موتھوپن کو ’غریبوں کا بھگوان‘ کہا جاتا ہے۔ انھیں پرشاد کے طور پر تاڑی اور گوشت چڑھائے جاتے ہیں۔ بہت سے مندروں میں کانسے کے کتے تو ہوتے ہیں، لیکن انھیں مورتیوں میں شمار نہیں کیا جاتا۔ لیکن کیرلہ کے کنّور ضلع میں واقع اس مندر میں انھیں مورتیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ وہ اس لیے کہ موتھوپن شکاریوں کے بھگوان ہیں۔

۱۹۳۰ کی دہائی میں، موتھوپن شکار کیے جانے والوں کے بھی دیوتا تھے۔ خاص طور سے بائیں محاذ کے ان قوم پرستوں اور کمیونسٹوں کے، جو انگریزوں سے راہِ فرار اختیار کیے ہوئے تھے۔ ’’اس مندر نے تو اس علاقہ کے جنمیوں (زمینداروں) کے خلاف ہماری لڑائی میں ہمارا ساتھ دیا تھا،‘‘ کے پی آر ریارپّن بتاتے ہیں۔ وہ اس علاقہ میں ۱۹۴۷ اور اس کے بعد لڑی جانے والی سبھی لڑائیوں میں شامل تھے۔ ’’آزادی کی لڑائی کے دوران بایاں محاذ کے زیادہ تر بڑے لیڈروں نے کچھ دنوں کے لیے اس مندر کو اپنی پناہ گاہ بنا رکھا تھا۔‘‘

بھگوان کو بالکل نہ ماننے والوں اور کٹّر مذہبی لوگوں کے درمیان اس اتحاد کی منطقی بنیاد تھی۔ ذات پات کے لحاظ سے دونوں میں گہرا تعلق تھا۔ دونوں ہی اونچی ذاتوں کے مظالم سے پریشان تھے۔ دونوں ہی زمینداروں کے عتاب کے شکار تھے۔ اور، اس زمانے کے زبردست قومی جذبہ کے ماحول میں، ہر شخص انگریزوں کے خلاف تھا۔

’’یہاں کا ایک بڑا جنمی اس مندر پر قبضہ کرنا چاہتا تھا،‘‘ ریارَپّن بتاتے ہیں۔ ’’اس مندر کے بڑی آمدنی پر اس کی نظر تھی۔‘‘ اس پر آسانی سے یقین کیا جا سکتا ہے۔ خود آج بھی، موتھوپن مندر روزانہ چار ہزار لوگوں کو روزانہ اور ہفتہ کے آخری دنوں میں ۶ ہزار لوگوں کو کھانا کھلاتا ہے۔ وہ اس علاقہ میں موجود اسکول کے سبھی بچوں کو ہر دن کھانا کھلاتا ہے۔

مندر نے ۳۰ اور ۴۰ کی دہائی میں اُن لوگوں کو پناہ دے کر ایک بڑا خطرہ مول لیا تھا۔ لیکن، کلیاسیری اور اور اس کے پڑوسی انوکھے لوگ ہیں۔ ان کی سیاسی سمجھ بوجھ کافی پرانی ہے۔ مثال کے طور پر پَپّی نیسری کی ٹیکسٹائل مل کو ہی لے لیجیے، جہاں آس پاس کے گاؤوں کے لوگ کام کرتے تھے۔ یہاں ۴۰ کی دہائی میں انگریزوں کے خلاف لمبی لڑائی چلی تھی۔ ۱۹۴۶ میں ہونے والی ایک اسٹرائک تو ۱۰۰ دنوں تک چلی تھی۔ یہ تب ہوا تھا، جب کیرلہ کے اس گاؤں کے لوگوں نے بامبے میں رائل انڈین نیوی کی بغاوت کو اپنی حمایت دیتے ہوئے یہاں اسٹرائک کر دی تھی۔

پیانادن یشودا، ۸۱، بتاتی ہیں، ’’اس علاقہ میں ایک سال تک دفعہ ۱۴۴ (جس کے تحت لوگوں کا مجمع کسی ایک جگہ اکٹھا نہیں ہو سکتا) نافذ رہی۔ اس کے باوجود ہم لوگ سرگرم تھے۔‘‘ ۳۰ کی دہائی اور اس کے بعد، یشودا ٹیچروں کی تحریک کی لیڈر بن گئیں، اس تحریک نے مالابار کی سیاست میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

یہاں کی لڑائیاں دوسری جگہوں سے کس طرح مختلف تھیں؟ ’’ہم منظم تھے،‘‘ یشودا کہتی ہیں۔ ’’ہم سیاسی لائنوں پر کام کرتے تھے۔ ہمارا مقصد واضح تھا۔ لوگ پوری طرح بیدار تھے اور تحریک میں پوری طرح شامل ہوتے تھے۔ ہم قومی تحریک چلا رہے تھے۔ ہم سماجی اصلاح اور ذات پات کے خلاف بھی مہم چھیڑے ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ زمین کو لے کر بھی لڑائی چل رہی تھی۔ ہم چیز ایک دوسرے سے جڑی ہوئی تھی۔‘‘

کلیاسیری اور اس کے پڑوسی گاؤوں نے اپنی آزادی کے ۵۰ سالوں کا استعمال کیا تھا۔ یہاں پر تقریباً سو فیصد خواندگی ہے اور ہر بچہ اسکول جاتا ہے۔ بعض دوسری چیزیں بھی یہاں ایسی ہیں، جن کا موازنہ مغربی معاشروں سے کیا جا سکتا ہے۔ یشودا ان سب کو منظم عوامی سیاسی سرگرمی کا نتیجہ مانتی ہیں۔

لیکن یہ کچھ زیادہ ہی مبالغہ آرائی نہیں ہے؟ خاص کر منظم سیاسی تحریکوں کے رول کے بارے میں؟ کیرلہ میں تو پہلے بھی شرحِ خواندگی بہت زیادہ ہوا کرتی تھی۔ یشودا، جو اپنے تعلقہ میں پہلی خاتون ٹیچر تھیں، اس سے انکار کرتی ہیں۔ ’’۱۹۳۰ کی دہائی میں، مالابار میں شرحِ خواندگی ۸ فیصد کے قریب تھی۔ تراونکور میں یہ ۴۰ فیصد تھی۔ ہم نے تو سو فصید شرحِ خواندگی اپنی کوششوں اور محنتوں سے حاصل کی ہے۔‘‘

اگر ایسا ہے، تو مالابار ہندوستان کے اندر ایک انوکھا کیس ہے۔ علاقائی فرق دراصل مختصر مدت میں کم ہوا ہے۔ تراونکور اور کوچین میں تو یہ فرق دوسرے معنوں میں بھی رہا۔ ’’ہماری منظم سیاسی سرگرمی نے یہ تبدیلی رونما کی،‘‘ ریارپن کہتے ہیں۔ ۱۹۵۰ اور ۶۰ کی دہائی میں زمین کی اصلاح کو لے کر جو تحریکیں چلیں، اس نے ذات پات سمیت کئی ڈھانچوں کو اکھاڑ کر پھینک دیا۔‘‘ تعلیم اور صحت کے معیار میں زبردست بہتری آئی۔ سال ۱۹۲۸ میں، کلیاسیری میں صرف ۲۴ گھرانوں کے پاس ۴۳ فیصد زمینیں تھیں۔ آج، ۱۳ گھرانوں کے پاس پانچ ایکڑ سے زیادہ زمینیں ہیں۔ اس کے علاوہ مجموعی زمین میں ان کا حصہ صرف چھ فیصد ہے۔

کلیاسیری کے باشندوں کے کھانے پینے میں بھی کافی بہتری آئی ہے۔ یہاں پر دودھ اور گوشت کی فروخت میں اضافہ ہوا ہے۔ یہاں کے مزدور مرد و عورت جس طرح کا کپڑا پہنتے ہیں، اسے دیکھ کر آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ مزدور ہیں۔

۱۹۸۰ کی دہائی میں بڑے پیمانے پر خواندگی کی مہم سے ریاست کو اور بھی فائدے ہوئے۔ کیرلہ سستر ساہتیہ پریشد جیسی تنظیموں کی کوششوں نے نئے دروازے کھولے۔ ان تمام کی بنیاد علاقے کی سیاسی روایات پر پڑی تھی۔ مالابار، بشمول کلیاسیری، نے بہت سی چیزوں کو سب سے پہلے شروع کیا۔

’’کلیاسیری ۳۰ اور ۴۰ کی دہائی کے اخیر میں تجربات کے دور سے گزر رہا تھا۔ یہاں پروڈیوسرز اور کنزیومر کوآپریٹوز کی شروعات ہوئی،‘‘ موہن داس بتاتے ہیں، جو کنّور کے کرشنا مینن کالج میں لکچرر ہیں۔ ’’ان کی وجہ سے مناسب قیمتوں والی دکانیں کھلیں، جو بعد کا واقعہ ہے۔‘‘

’’یہ سب تب ہوا، جب یہ علاقہ خشک سالی اور بھکمری کے دور سے گزر رہا تھا۔ جنمیوں نے کسانوں سے بڑی مقدار میں اناجوں کا مطالبہ شروع کر دیا، وہ بھی شدت کے ساتھ۔ شاید جنمیوں کو خود بھی انگریزوں کی طرف سے اس معاملے میں دباؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ اس سے پہلے، قحط کے دنوں میں کسانوں سے اناج اکٹھا کرنے کے معاملے میں تھوڑی رعایت دی جاتی تھی۔ لیکن، ۴۰ کی دہائی میں یہ سلسلہ بند کر دیا گیا۔‘‘

دسمبر ۱۹۴۶ ایک بحرانی موڑ تھا، ریٹائرڈ ٹیچر اگنی شرمن نمبودری بتاتے ہیں۔ ’’جنمیوں نے جب کری ویلور گاؤں میں اناج پر قبضہ کرنے کی کوشش کی، تو وہاں کے لوگوں نے احتجاج کرنا شروع کر دیا۔ اسی دوران وہاں فائرنگ ہوئی، جس میں دو لوگ ہلاک ہوگئے۔ اور وہاں دہشت بھی تھی۔ لیکن اس نے جنمیوں کے خلاف زبردست غم و غصے کو جنم دیا۔‘‘ اسی غم و غصے کی وجہ سے زمینی اصلاح کی تحریک اس علاقے میں کامیاب ہوئی۔

آج، کلیاسیری کی کامیابی کے ساتھ ہی خطرناک مسائل بھی ہیں۔ ’’زراعت تباہ ہو چکی ہے،‘‘ ریا رپن کہتے ہیں۔ ’’پیداوار کم ہو چکی ہے۔ زرعی مزدوروں کو اب کام کم ملتا ہے۔‘‘

موہن داس کے مطابق: ’’دھان کے کھیتوں پر مکانوں کی تعمیر اور دھان کی جگہ دیگر فصلوں کی کھیتی نے بھاری تباہی مچائی ہے۔ مثال کے طور پر، جنمبی کے پاس ایک بڑا کھیت تھا۔ کلیاسیری میں ۵۰ فیصد دھان کی کھیتی اسی زمین پر ہوتی تھی۔ اب اس کھیت پر مکانات اور نقد آور فصلوں کا قبضہ ہے۔ اس تباہی کو لے کر لوگ بیدار بھی ہو رہے ہیں۔ لیکن کافی نقصان پہلے ہی ہو چکا ہے۔‘‘

بے روزگاری یہاں کافی ہے۔ اور ورک فورس (کامگاری طاقت) میں عورتوں کی شراکت داری کی شرح، جیسا کہ ایک اسٹڈی سے پتہ چلتا ہے، مردوں کے مقابلہ آدھے سے بھی کم ہے۔ مزدور طبقہ کی تقریباً ۵۰ فیصد عورتیں بے روزگار ہیں۔ عورتیں زیادہ تر کم ہنر والے کام کرتی ہیں۔ اور ان کاموں سے، وہ مردوں سے کافی کم کما پاتی ہیں۔

یہ ایک بڑا مسئلہ ہے۔ لیکن اس کے باوجود یہاں کسی قسم کی مایوسی نہیں ہے۔ کیرلہ کو اگر پنچایتی راج کے تجربوں کے حساب سے دیکھیں، تو کلیاسیری میں ایک مثالی پنچایت ہے۔ ریاست کی ۹۰۰ سے زیادہ پنچایتوں کی طرح ہی، اس نے بھی اپنا خود ترقیاتی پلان تیار کیا ہے۔ ایسا ہی ایک پلان خود یہاں کے لوگوں کے ذریعہ جمع کیے گئے اعداد و شمار کی بنیاد پر ہے۔ زیادہ تر سرگرمیاں مقامی ذرائع اور رضاکارانہ مزدوری پر منحصر ہیں۔ ’’یہاں کے لوگوں نے دیگر چیزوں کے علاوہ، اس پنچایت میں ۶۲ کلومیٹر سڑکیں بنائی ہیں،‘‘ ریا رپّن بتاتے ہیں۔

گرام سبھا کی میٹنگوں میں لوگ بڑی تعداد میں شریک ہوتے ہیں اور اپنی بات کھل کر رکھتے ہیں۔ اور، ۱،۲۰۰ رضاکاروں کی فوج نے کلیاسیری کو ایک اور نیا مقام عطا کیا ہے: یہ ملک کی پہلی پنچایت تھی، جس نے پیپلز رِسورس میپنگ پروگرام کو اپنایا۔ اس گاؤں میں قدرتی اور انسانی وسائل کی صحیح تصویر کیا ہے، یہ مقامی لوگوں کی امداد اور باہری ماہرین کے تعاون سے سامنے آئی۔ گاؤں کے پلان میں یہ بھی شامل ہے کہ اس کے پروجیکٹوں کا ماحولیاتی اثر کیا ہو سکتا ہے۔

ریٹائرڈ لوگوں، یعنی انجینئروں، سرکاری اہل کاروں کی ایک ’رضاکارانہ تکنیکی ٹکڑی‘ (وی ٹی سی) ان پروجیکٹوں کی دیکھ بھال کرتی ہے۔ پوری ریاست میں اب وی ٹی سی ممبران کی تعداد ۵،۰۰۰ ہو چکی ہے۔

چنوتیاں اب بھی بڑی ہیں۔ گاؤں کے زیادہ تر مسائل اس کی سرحد کے باہر کی وجہ سے ہیں۔ لیکن کلیاسیری کو خود پر مکمل اعتماد ہے۔ جیسا کہ ریارپّن کہتے ہیں: ’’ہم نے لڑنا کبھی نہیں چھوڑا۔‘‘

۱۹۴۷ کے بعد بھی نہیں۔

ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: @Tabrez_Alig You can contact the translator here:

پی سائی ناتھ ’پیپلز آرکائیو آف رورل انڈیا‘ کے بانی ایڈیٹر ہیں۔ وہ کئی دہائیوں سے دیہی ہندوستان کے رپورٹر رہے ہیں اور ’ایوری باڈی لوز گُڈ ڈراٹ‘ نامی کتاب کے مصنف ہیں۔ ان سے یہاں پر رابطہ کیا جا سکتا ہے: @PSainath_org You can contact the author here: