’’صبح میں یہ تیسری بار ہے جب میرا گدھا پہاڑی والے راستے سے پانی ڈھوکر لا رہا ہے،‘‘ ڈالی باڑا نے گہری سانس لیتے ہوئے کہا۔ ’’وہ تھک جاتا ہے اور ہمارے پاس اس کے لیے وافر چارہ نہیں ہے۔‘‘

میں جب ۵۳ سالہ ڈالی باڑا کے گھر پہنچی، تو وہ اپنے گدھے کو بچی ہوئی اڑد کی دال اور گھاس کھلا رہی تھیں۔ ان کے شوہر، باڑا جی، آسمان کی طرف دیکھ رہے تھے – یہ وسط جون تھا۔ ’’مجھے لگتا ہے کہ بارش ہوگی،‘‘ انہوں نے باگڑی راجستھانی بولی میں کہا۔ ’’مانسون کے دوران پانی بہت گندا ہو جاتا ہے، اور میری بیوی کو وہی گندا پانی لانے کے لیے بارش میں ہمارے گدھے کے ساتھ جانا پڑتا ہے۔‘‘

راجستھان کے اُدے پور ضلع کی رشبھ دیو تحصیل میں تقریباً ۱۰۰۰ لوگوں کی آبادی والے گاؤں، پاچا پڑلا میں، جو کہ اُدے پور شہر سے تقریباً ۷۰ کلومیٹر دور ہے، انسان اور جانور دونوں بارش سے بھرنے والے ایک ہی آبی ذریعہ سے پانی پیتے ہیں۔ وہ جب خشک ہو جاتا ہے، تو لوگ زمین میں گڑھا کھود کر پانی نکالتے ہیں۔ جب بارش ہوتی ہے اور یہ بڑے گڑھے کچرے سے بھر جاتے ہیں، تو پڑلا کے لوگ صاف پانی تلاش کرنے کے لیے کچھ اور گڑھے کھودتے ہیں۔ اور کئی فیملی اونچائی پر پینے کا پانی لانے کے لیے اپنے پالتو گدھوں کا استعمال کرتی ہے – دوسرے گاؤوں کے لوگ پڑلا کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ وہ جگہ ہے جہاں کے لوگ پانی لانے کے لیے گدھوں کا استعمال کرتے ہیں۔

گدھوں کے ذریعے لائے گئے پانی کو دیگر گھریلو کاموں میں بھی استعمال کیا جاتا ہے، حالانکہ یہاں کی عورتیں اکثر اپنے برتن یا کپڑے کو دھونے کے لیے پانی کے چشمے یا گڑھوں کے پاس ہی لے جانے کی کوشش کرتی ہے۔ یہاں کے لوگوں کا کہنا ہے کہ گدھا ایک ایسی سرمایہ کاری ہے جس کا سال بھر فائدہ ہوتا ہے، کیوں کہ یہ بغیر تھکے تمام مہینوں میں اونچائی پر پانی ڈھوکر لاتا ہے۔

In Pacha Padla village, many families (including Dali Bada and her husband Badaji, centre image) use donkeys to carry drinking water uphill
PHOTO • Sramana Sabnam
In Pacha Padla village, many families (including Dali Bada and her husband Badaji, centre image) use donkeys to carry drinking water uphill
PHOTO • Sramana Sabnam
In Pacha Padla village, many families (including Dali Bada and her husband Badaji, centre image) use donkeys to carry drinking water uphill
PHOTO • Sramana Sabnam

پاچا پڑلا گاؤں میں، بہت سی فیملی (جس میں ڈالی باڑا اور ان کے شوہر باڑا جی بھی شامل ہیں، درمیانی تصویر) اونچائی پر پینے کا پانی لانے کے لیے گدھوں کا استعمال کرتے ہیں

ڈالی اور باڑاجی ایک مقامی ٹھیکہ دار کے لیے مزدوری کرتے ہیں، اور کام دستیاب ہونے پر روزانہ تقریباً ۲۰۰ روپے کماتے ہیں۔ باڑاجی، پٹّہ والی ایک ایکڑ سے بھی کم سرکاری زمین پر اڑد، ارہر، مکئی اور سبزیاں اُگاتے ہیں۔

انہوں نے سال ۲۰۱۷ میں دوسری فیملی سے ۲۵۰۰ روپے میں ایک نر گدھا خریدا تھا – جو پانی ڈھونے کا کام کرتا ہے۔ اس پیسے کی بچت کرنے میں انہیں ۱۸ مہینے لگے، وہ بتاتے ہیں۔ اس فیملی – وہ اہاری آدیواسی برادری سے تعلق رکھتے ہیں – کے پاس ایک مادہ گدھا اور ایک بچہ نر گدھا ہے، ساتھ ہی ایک بکری اور ایک گائے بھی ہے۔

ڈالی باڑا اپنا پانی کا کام صبح ۵ بجے شروع کرتی ہیں۔ ہر ایک چکر میں پہاڑی سے نیچے اترتے وقت تقریباً ۳۰ منٹ اور اوپر کی چڑھائی کرنے میں ایک گھنٹہ تک کی چڑھائی ہوتی ہے۔ وہ ایک چکر لگاتی ہیں، پھر گھر کا کوئی اور کام کرتی ہیں، اس کے بعد دوبارہ گدھے کے ساتھ پہاڑی راستے سے نیچے جاتی ہیں – یہ سب صبح کے ۱۰ بجے تک چلتا رہتا ہے، جب وہ مزدوری کے کام پر نکلتی ہیں۔ وہ پیٹرول وغیرہ رکھنے والے پلاسٹک کے ڈبّے میں پانی بھرتی ہیں جسے بوری میں رکھ کر گدھے کے دونوں طرف لٹکا دیا جاتا ہے – ان میں سے ہر ایک ڈبے میں تقریباً ۱۲-۱۵ لیٹر پانی آتا ہے۔ پانی سے بھرا ایک برتن وہ اپنے سر پر بھی رکھتی ہیں۔ ڈالی اور ان کا گدھا دونوں ہی تھک جاتے ہیں اور پہاڑی پر چڑھائی کے دوران بیچ میں تھوڑی تھوڑی دیر کے لیے آرام بھی کرتے رہتے ہیں۔

ان کے گھر اپنے دورہ کے دوران ڈالی، ان کا گدھا اور میں نے پانی لانے کے لیے سیدھی ڈھلان والے پہاڑی راستے سے نیچے اترنا شروع کیا۔ ۲۰ منٹ کے بعد، ہم کنکڑ پتھر والی ایک صاف جگہ پر پہنچے۔ ڈالی باڑا نے بتایا کہ یہ جگہ مانسون میں بالکل الگ نظر آتی ہے – یہ خشک ہو چکا پانی کا چشمہ تھا، جسے مقامی لوگ جابو نالا کہتے ہیں، جس سے ہوکر ہم گزر رہے تھے۔

Dali Bada, who makes multiple trips downhill and uphill over several hours every morning with her donkey, to fill water from a stream or pits dug by villagers, says: "... at times I feel that there's no god; if there was one, why would women like me die filling pots with water?'
PHOTO • Sramana Sabnam

ڈالی باڑا، جو گاؤوں والوں کے ذریعے کھودے گئے پانی کے چشمے یا گڑھوں سے پانی بھرنے کے لیے، ہر صبح اپنے گدھے کے ساتھ کئی گھنٹوں تک پہاڑی سے نیچے اور اوپر کئی چکّر لگاتی ہیں، کہتی ہیں: ’’...کئی بار مجھے لگتا ہے کہ کوئی بھگوان نہیں ہے؛ اگر کوئی ہوتا، تو میرے جیسی عورتیں پانی سے گھڑے کو بھرنے میں کیوں مر رہی ہوتیں؟‘‘

ہم تب تک چلتے رہے جب تک کہ گدھا رک نہیں گیا؛ وہ اپنی منزل کو جانتا تھا۔ ڈالی باڑا نے ایک رسّی نکالی، اسے اسٹیل کے گھڑے سے باندھا اور گڑھے کے اوپر رکھی لکڑی پر کھڑی ہو گئیں۔ پانی تقریباً ۲۰ فٹ نیچے تھا۔ انہوں نے رسی اوپر کھینچی اور خوش ہوتے ہوئے مجھے وہ پانی دکھایا جو انہوں نے بھرا تھا۔ ان کا چہرہ اس جیت کی خوشی میں چمک اٹھا۔

راجستھان کی چلچلاتی گرمیوں کے دوران، پانی کی سطح کم ہو جاتی ہے۔ ڈالی باڑا نے کہا کہ موسم گرما بھگوان کے ذریعے لوگوں کا امتحان لینے کا طریقہ ہے۔ ’’لیکن کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ کوئی بھگوان نہیں ہے، اگر کوئی ہوتا، تو میرے جیسی عورتیں پانی سے گھڑے کو بھرنے میں کیوں مر رہی ہوتیں؟‘‘

واپسی میں گھر پر، باڑا جی نے گدھے سے پانی کا بوجھ اتارا۔ ’’اس پانی کو کسی بھی طر برباد نہیں کیا جا سکتا ہے،‘‘ انہوں نے کہا۔ ڈالی باڑا نے آرام نہیں کیا، وہ پانی بھرنے کے لیے کچھ اور خالی برتنوں کو ڈھونڈنے لگیں۔ ان کا بیٹا، ۳۴ سالہ کلدیپ اہاری، رات بھر مکئی پیسنے کے بعد سو رہا تھا۔ خاموش گھر میں، واحد آواز جو آ رہی تھی وہ باڑا جی کی اسٹین لیس اسٹیل کے لوٹے سے پانی پینے کی آواز تھی۔

(مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف ہیں، اور ’روزنامہ میرا وطن‘، ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

Sramana Sabnam

شرمن شبنم، جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی میں جینڈر اسٹڈیز میں پوسٹ گریجویٹ طالبہ ہیں۔ وہ مغربی بنگال کے بردھمان شہر سے ہیں، اور کہانیوں کی تلاش میں سفر کرنا پسند کرتی ہیں۔

Other stories by Sramana Sabnam