مہاراشٹر کے یوتمال ضلع میں ایک مشترکہ کسان خاندان کے سرپرست، ۷۰ سالہ کسن سکھرو پوار بہت زیادہ فکرمند ہیں۔ ان کی تشویش کی بنیادی وجہ کووڈ-۱۹ کا بڑھتا گراف نہیں ہے۔

ان کی تشویش ہے: کپاس کا نہ فروخت ہونا۔

’’ہمارے پاس ۳۵۰ کوئنٹل کپاس، ۱۰۰ کوئنٹل ارہر، اور کم از کم ۵۰ کوئنٹل مونگ ہے،‘‘ فکرمند پوار نے پاری کو فون پر بتایا۔ کپاس پچھلے سیزن سے پڑی ہوئی ہے۔ ارہر بھی خریف کے پچھلے سیزن کے بعد سے ہی ان کے پاس پڑی ہوئی ہے۔ بقیہ پیداوار اس سال مارچ-اپریل کی ربیع کی فصل ہے۔

ملک بھر کے ہزاروں کسان پوار جیسی ہی حالت میں ہیں – وہ اپنی کپاس فروخت نہیں کر پا رہے ہیں۔

باوجود اس کے... پوار اور ان کے جیسے ہزاروں کسان اس خریف سیزن میں کپاس کی بوائی کرنا چاہتے ہیں۔

*****

ناگپور سے تقریباً ۱۷۰ کلومیٹر دور، گھاٹنجی تحصیل کے پارڈی (نسکاری) گاؤں میں ان کے خاندان کی ۵۰ ایکڑ زمین سے پیدا کی گئی فصل کی قیمت ۲۵-۳۰ لاکھ روپے ہے۔ ’’یہی ہماری کل آمدنی ہے،‘‘ کسن پوار کہتے ہیں۔

اس ۵۰ ایکڑ زمین پر کسن پوار اور ان کے دو بھائیوں کے مشترکہ خاندان کے کل ۳۰ ارکان کھیتی کرتے ہیں۔ اس زمین میں سے ان کا حصہ ۱۸ ایکڑ ہے۔ لیکن خاندان کے لوگ مشترکہ طور پر زمین کی دیکھ بھال کرتے ہیں، الگ الگ نہیں۔

Seventy-year-old Kisan Sakhru Pawar is among countless farmers from across the country stuck with unsold cotton
PHOTO • Kiran Pawar
Seventy-year-old Kisan Sakhru Pawar is among countless farmers from across the country stuck with unsold cotton
PHOTO • Sudarshan Sakharkar

ستّر سالہ کسن سکھرو پوار ملک بھر کے بے شمار کسانوں میں سے ایک ہیں جو کپاس کے نہ فروخت ہونے سے پریشان ہیں

پوار نے اپنی کپاس پہلے اس لیے نہیں فروخت کی تھی کیوں کہ اس کی قیمت جنوری - فروری میں کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) ۵۵۰۰ روپے فی کوئنٹل سے بھی نیچے گر گئی تھیں۔ فروری کے آخر میں، انہوں نے مزدوروں کا پیسہ چکانے کے لیے ۴۵۰۰ روپے فی کوئنٹل کے حساب سے ۴۰-۵۰ کوئنٹل کپاس فروخت کی تھی۔

کسن پوار کے مطابق، گزشتہ چند برسوں میں کپاس کی قیمتیں جنوری - فروری میں گھٹی ہیں اور مارچ اپریل میں دوبارہ بڑھی ہیں۔ اس لیے انہوں نے فوراً سبھی کپاس بیچنے کی بجائے اپریل تک انتظار کرنے کا فیصلہ کیا۔

لیکن مارچ میں لاک ڈاؤن شروع ہو گیا۔

اب، چونکہ کووڈ-۱۹ کا بحران بڑھتا جا رہا ہے اور لاک ڈاؤن اپنے تیسرے مہینے میں ہے، اس لیے کوئی خریدار نہیں ہے، اور زرعی اشیاء کی سپلائی کا سلسلہ بڑے پیمانے پر متاثر ہوا ہے۔

پوار مہاراشٹر ہی نہیں، بلکہ ملک بھر کے بے شمار کسانوں میں سے ایک ہیں، جو کپاس (اور ربیع کی دیگر پیداوار، خاص طور سے نقدی فصلوں) کے فروخت نہ ہونے سے پریشان ہیں۔

اس شعبہ میں مارکیٹنگ کا مرکزی حکومت کا سب سے بڑا ادارہ، کاٹن کارپوریشن آف انڈیا (سی سی آئی)، اور ریاستی ایجنسیوں نے مہاراشٹر میں تقریباً ۱۵۰ خرید مرکز کھولے ہیں۔ حالانکہ، معمولی خرید سے پہلے آن لائن رجسٹریشن اور لمبی ای- قطار، پوار جیسے پریشان حال کسانوں کے صبر کا امتحان لے رہی ہے۔

اس طرح، سی سی آئی نے اب تک پورے ہندوستان سے ۹۳ لاکھ گانٹھ کپاس (تقریباً ۴۶۵ لاکھ کوئنٹل) کی خرید کی ہے۔ یہ ۲۰۰۸ میں سب سے زیادہ خریدی گئی ۹۰ لاکھ گانٹھوں سے زیادہ ہے۔ اور قومی سطح پر، گزشتہ ایک دہائی میں اس کی اوسط سالانہ خرید کا تقریباً نو گنا ہے۔ اس نے اتنے بڑے پیمانے پر اس لیے مداخلت کی، کیوں کہ پرائیویٹ تاجروں نے وسط مارچ کے بعد، جب ملک بھر میں لاک ڈاؤن نافذ کر دیا گیا، کپاس کی خرید بند کر دی تھی۔

اس کے علاوہ، تاجروں نے کووڈ-۱۹ سے پہلے اس کی قیمت گھٹا کر ۵۰۰۰ روپے فی کوئنٹل کر دی، جس کی وجہ سے کسانوں نے سی سی آئی کو ۵۵۰۰ روپے میں فروخت کرنے کا فیصلہ کیا۔ اب تاجر کپاس بالکل بھی نہیں خرید رہے ہیں۔ دریں اثنا، سی سی آئی اور ریاستی حکومت، مزید کپاس خریدنے کے موڈ میں نہیں ہیں کیوں کہ وہ پہلے سے ہی خستہ اقتصادی حالت پر مزید دباؤ نہیں ڈالنا چاہتے۔

'There are 2,000 trucks at the CCI centre in Ghatanji, but they buy about 20 trucks worth a day,' says Kiran, Kisan Sakhru Pawar's son
PHOTO • P. Sainath
'There are 2,000 trucks at the CCI centre in Ghatanji, but they buy about 20 trucks worth a day,' says Kiran, Kisan Sakhru Pawar's son
PHOTO • P. Sainath

’گھاٹنجی کے سی سی آئی مرکز میں ۲۰۰۰ ٹرک ہیں، لیکن وہ ایک دن میں تقریباً ۲۰ ٹرک ہی خریدتے ہیں،‘ کسن سکھرو پوار کے بیٹے، کرن کہتے ہیں

مئی کے آخر تک، بنیادی طور پر ودربھ، مراٹھواڑہ (کسانوں کی خود کشی سے بری طرح متاثر علاقوں میں سے دو)، اور شمالی مہاراشٹر کے خاندیش سے تقریباً دو لاکھ کسانوں نے اپنی کپاس فروخت کرنے کے لیے آن لائن رجسٹریشن کرایا ہے۔ لیکن ہزاروں دیگر کسانوں نے مشکل طریق کار اور غیر یقینیت کا حوالہ دیتے ہوئے ایسا نہیں کیا ہے، ریاست کے اہلکاروں نے آف ریکارڈ بتایا۔

کسان لیڈر اور ماہر زراعت، وجے جواندیا بتاتے ہیں کہ ۲۰۱۸-۱۹ میں خشک سالی کے باوجود، کپاس کے بیجوں کی اچھی قیمت ملی، لیکن کپاس کی روئی کی قیمت اتنی نہیں مل پائی۔ مویشیوں کے لیے چارہ نہیں تھا، اس لیے کپاس کے بیج سے نکلنے والی کھَلی (جانوروں کا چارہ) کی مانگ بڑھنے لگی۔ (ایک کوئنٹل کپاس میں ۶۵ فیصد وزن بیج کا ہوتا ہے۔) وہ کہتے ہیں، ’’اس سال ایسا نہیں ہے۔ اور کپاس کی روئی اور کپاس کے بیج، دونوں کی قیمتیں گر گئی ہیں۔ پچھلے سال ہم نے ۵۰ لاکھ گانٹھ کپاس ایکسپورٹ کیا تھا، جس میں سے زیادہ تر چین کو برآمد کیا گیا تھا۔ اگر ہم اس سال بھی اتنی ہی مقدار میں ایکسپورٹ کرتے ہیں، تو قیمت بہت کم ملے گی۔ اور لاک ڈاؤن نے قیمتوں اور سپلائی چین، دونوں کو تباہ کر دیا ہے۔‘‘

اور اس لیے نہ فروخت ہونے والی کپاس کا انبار بڑھتا جا رہا ہے۔

لیکن ان سب کے باوجود، کسن پوار اور دیگر کسان اس موسم میں پھر سے اس کی کھیتی کرنے جا رہے ہیں۔

*****

مہاراشٹر میں کپاس اُگانے والوں کی کوآپریٹو مارکیٹنگ فیڈریشن کا اندازہ ہے کہ تقریباً ۸۰ لاکھ کوئنٹل کپاس کی فروخت نہیں ہوئی ہے، جو ریاست میں ۲۰۱۹-۲۰ کی ممکنہ پیداوار کا تقریباً ۲۵ فیصد ہے۔ اس کی قیمت اگر ۵۵۰۰ روپے کی ایم ایس پی کے حساب سے لگائی جائے، تو نہ فروخت ہونے والی کپاس کی کل قیمت ۴۴۰۰ کروڑ روپے ہوگی۔

صنعتی اکائی، کاٹن ایسوسی ایشن آف انڈیا کا اندازہ ہے کہ سال ۲۰۱۹-۲۰ میں ملک بھر میں کپاس کی پیداوار تقریباً ۳۵۵ لاکھ گانٹھ (۱۷۷۵ لاکھ کوئنٹل)، اور مہاراشٹر میں ۸۰ لاکھ گانٹھ (۴۰۰ لاکھ کوئنٹل) رہی ہوگی۔ اس کا یہ اندازہ اس سال کی اعلیٰ پیداوار پر مبنی ہے۔

اسی گزرے سال میں، پورے ہندوستان میں جہاں ۱۲۵ لاکھ ہیکٹیئر زمین پر کپاس کی کھیتی ہوئی، وہیں مہاراشٹر میں ۴۴ لاکھ ہیکٹیئر میں کپاس اُگائی گئی، جس میں سے ۱۵ لاکھ ہیکٹیئر زمین اکیلے ودربھ کی تھی۔

کاٹن فیڈریشن کے ریٹائرڈ جنرل مینیجر، گووند ویرالے کا اندازہ ہے کہ فی الحال مہاراشٹر کے کسانوں کے پاس ۱۶۰۰ کروڑ روپے قیمت کی کم از کم ۳۰ لاکھ کوئنٹل کپاس بنا فروخت ہوئے رکھی ہوئی ہے۔

کسن پوار کہتے ہیں، ’’ہمارے آس پاس کے کچھ گاؤوں میں بنا فروخت ہوئی کپاس بڑی مقدار میں رکھی ہوئی ہے۔‘‘ اس سے بھی کہیں زیادہ، جو ان کے پاس ہے۔

Vaibhav Wankhede's aunt, Varsha Wankhede (left); his uncle, Prakash Wankhede (centre); and his father, Ramesh Wankhede (right) are farmers with quintals of unsold cotton lying in their homes
PHOTO • Vaibhav Wankhede
Vaibhav Wankhede's aunt, Varsha Wankhede (left); his uncle, Prakash Wankhede (centre); and his father, Ramesh Wankhede (right) are farmers with quintals of unsold cotton lying in their homes
PHOTO • Vaibhav Wankhede
Vaibhav Wankhede's aunt, Varsha Wankhede (left); his uncle, Prakash Wankhede (centre); and his father, Ramesh Wankhede (right) are farmers with quintals of unsold cotton lying in their homes
PHOTO • Vaibhav Wankhede

ویبھو وان کھیڑے کی چچی، ورشا وان کھیڑے (بائیں)؛ ان کے چچا، پرکاش وان کھیڑے (درمیان میں)؛ اور ان کے والد، رمیش وان کھیڑے (دائیں) کسان ہیں، جن کے گھروں میں کئی کوئنٹل کپاس رکھی ہوئی ہے جو ابھی تک فروخت نہیں ہوئی ہے

پوار کے بیٹے کرن نے کچھ دنوں پہلے انڈین کاٹن کارپوریشن کے ساتھ آن لائن رجسٹریشن کرایا تھا۔ ’’گھاٹنجی کے سی سی آئی مرکز میں ۲۰۰۰ ٹرک ہیں، لیکن وہ ایک دن میں تقریباً ۲۰ ٹرک خریدتے ہیں۔ کون جانتا ہے کہ میری باری کب آئے گی؟‘‘

’’ہم خرید میں تیزی لا رہے ہیں،‘‘ مہاراشٹر میں کپاس کے کسانوں کی کوآپریٹو مارکیٹنگ فیڈریشن کے چیئرمین، اننت راؤ دیش مکھ کہتے ہیں۔

ابھی بھی، اس کا امکان نہیں کے برابر ہے کہ کسانوں کے پاس اتنی بڑی مقدار میں جو کپاس بیکار پڑی ہوئی ہے، وہ مانسون آنے سے پہلے خرید لی جائے گی۔ کپاس کی خرید کا موسم جو ہر سال اکتوبر میں شروع ہوتا ہے، تکنیکی طور پر اگلے سال ستمبر میں ختم ہوتا ہے۔ اس لیے نہ فروخت ہونے والی کپاس کا انبار مزید بڑھتا چلا جائے گا۔

پھر بھی، کسن پوار اور دیگر کسان اس موسم میں بھی کپاس ہی بوئیں گے۔

*****

’’ہمارے [کسانوں کے] گھرں میں کئی کوئنٹل کپاس بنا فروخت ہوئے رکھی ہوئی ہے،‘‘ ناگپور ضلع کی کاٹول تحصیل کے منی واڈہ گاؤں کے ایک نوجوان کسان، ویبھو وان کھیڑے فون پر بتاتے ہیں۔

’’ہو سکتا ہے کہ ہم اس سال کچھ ایکڑ میں ہی کپاس بوئیں، لیکن ہم اسے چھوڑ نہیں سکتے،‘‘ کسن پوار کہتے ہیں۔

کورونا وائرس، لاک ڈاؤن اور مزدوروں کی مہاجرت کا بحران چونکہ بڑھتا جا رہا ہے – ایسے میں کیا بھوک کا خطرہ نہیں ہے؟ وان کھیڑے کہتے ہیں، ’’کوئی گھبراہٹ نہیں ہے۔ یہاں کے زیادہ تر لوگ پی ڈی ایس (پبلک ڈسٹری بیوشن سسٹم) سے اپنا اناج خریدتے ہیں اور انہیں لگتا ہے کہ کسی بھی بحران کے وقت وہی ان کی خدمت کرے گا۔ ہمارے خشک علاقے میں کپاس کا کوئی متبادل نہیں ہے۔ ہم قیمتوں کو لیکر فکرمند ہیں‘‘ – بھوک کو لیکر نہیں۔

’’ان کے پاس متبادل فصل کیا ہے؟‘‘ وجے جواندیا سوال کرتے ہیں۔ وہ اس بات سے متفق ہیں کہ اس سیزن کے بعد حالات سنگین ہونے والے ہیں۔ ’’یہاں کے کسانوں کو پیسے کی اتنی سخت ضرورت ہے کہ وہ آئندہ کھانے کی کمی کے بارے میں نہیں سوچ رہے ہیں – انہیں لگتا ہے کہ پی ڈی ایس سے انہیں چاول اور گیہوں ملتا رہے گا۔ جوار جیسی غذائی فصل وہ اُگا سکتے تھے، لیکن اس کی کوئی کم از کم امدادی قیمت نہیں ہے اور یہ پی ڈی ایس پر دستیاب نہیں ہے۔ سرکار کو جوار کی ایم ایس پی فوراً طے کرنی چاہیے اور کسانوں کو اس کی کھیتی کے لیے آمادہ کرنے کے لیے اسے منریگا سے بھی جوڑا جانا چاہیے۔ کسانوں کو سویابین کی کھیتی خطروں سے بھری محسوس ہوتی ہے – بے موسم کی بارش پوری فصل کو چند گھنٹے میں برباد کر سکتی ہے۔ اور ویسے بھی اس کی کٹائی کے لیے ایک بار میں بہت زیادہ محنت کی ضرورت ہوتی ہے۔ کپاس پر انہیں ایم ایس پی، کچھ گارنٹی ملتی ہے، حالانکہ یہ خطرے سے بھری ہے۔ لیکن اس کی قیمت اور نقدی ہی ان کی سوچ پر حاوی ہے۔

گھاٹنجی تحصیل کے انجی گاؤں میں، کسن پوار کے ایک رشتہ دار، شیام نندو راٹھوڑ نے سی سی آئی کے ساتھ آن لائن رجسٹریشن کرایا ہے۔ ’’مجھے عام طور پر جو قیمت ملتی ہے وہ نہیں ملے گی، لیکن امدادی قیمت کم قیمت پر بیچنے سے بہتر ہے،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ یعنی، اگر سی سی آئی ان کی کپاس خریدتا ہے۔

’’وہاں ایک لمبی قطار ہے،‘‘ وہ فون پر کہتے ہیں، ’’اور کوئی گارنٹی نہیں ہے۔‘‘

مترجم: محمد قمر تبریز

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف ہیں، اور ’روزنامہ میرا وطن‘، ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

Jaideep Hardikar

جے دیپ ہرڈیکر ناگپور میں مقیم صحافی اور قلم کار، اور پاری کے کور ٹیم ممبر ہیں۔

Other stories by Jaideep Hardikar