نوکر ہو یا مالک، لیڈر ہو یا پبلک

اپنے آگے سبھی جھکے ہیں، کیا راجا کیا سینِک

۱۹۵۷ میں ریلیز ہونے والی فلم، پیاسا، میں ساحر لدھیانوی کے گیت ’تیل مالش‘ کی اُن شاندار لائنوں نے حجاموں کی محروم اور تفریق زدہ برادری کو کچھ حد تک فخر کا احساس کرایا تھا۔

لاک ڈاؤن کے سبب لاتور ضلع میں – بلکہ پورے مہاراشٹر اور پورے ہندوستان میں – ان کی جو موجودہ حالت ہے، اس کی وجہ سے ان کا وہ امتیاز چھن چکا ہے۔ یہ اس پیشہ کے لیے دوہری مار ہے جو پوری طرح سے یومیہ آمدنی پر منحصر ہے – اور جن کے لیے اپنے گاہکوں سے جسمانی دوری بنانے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔

’’لاک ڈاؤن ہمارے وجود کے لیے خطرہ ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ اگلے ۱۰-۱۵ دنوں تک میں اپنی فیملی کو کیسے کھلاؤں گا،‘‘ ۴۰ سالہ اُتّم سوریہ وَنشی (اوپر کے کور فوٹو میں بائیں طرف، اپنے بھتیجے آروش کے ساتھ) کہتے ہیں۔ وہ لاتور شہر سے ۱۱ کلومیٹر دور، تقریباً ۶۰۰۰ لوگوں کی آبادی والے گاؤں، گنگاپور کے ایک حجام ہیں۔

’’میرے گاؤں میں، ۱۲ فیملی پوری طرح سے اسی پیشہ پر منحصر ہے۔ کمائے بغیر ہم کھا نہیں سکتے،‘‘ لاک ڈاؤن کے دوران اپنی مجبوری کو بیان کرتے ہوئے اُتّم کہتے ہیں۔ ان کے سیلون میں تین کرسیاں ہیں، بقیہ دو کرسیوں پر ان کے دو بھائی، ۳۶ سالہ شیام اور ۳۱ سالہ کرشنا (اوپر کی کور فوٹو میں بیچ میں اور دائیں) کام کرتے ہیں۔ سوریہ ونشی ہیئر سیلون میں ایک آدمی کے بال کٹوانے کی قیمت ۵۰ روپے ہے، جب کہ شیوِنگ ۳۰ روپے میں کی جاتی ہے۔ سر کی مالش ۱۰ روپے میں اور فیشیل ۵۰ روپے میں ہوتا ہے۔ ۲۵ مارچ کو لاک ڈاؤن کی شروعات سے ایک دن پہلے تینوں بھائیوں میں سے ہر ایک نے تقریباً ۳۰۰-۴۰۰ روپے کمائے تھے۔

Left: Policemen outside a salon in Jalna town, Jalna district. It isn't only Latur that's affected by the lockdown. Right: A pre-locked-down photo of Mauli Gents Parlour in Udgir town of Latur district
PHOTO • Kalyan Dale
Left: Policemen outside a salon in Jalna town, Jalna district. It isn't only Latur that's affected by the lockdown. Right: A pre-locked-down photo of Mauli Gents Parlour in Udgir town of Latur district
PHOTO • Awais Sayed

بائیں: مراٹھواڑہ میں جالنہ شہر کے ایک سیلون کے باہر پولس اہلکار۔ دائیں: لاتور ضلع کے اُدگیر شہر میں مَولی جینٹس پارلر کی لاک ڈاؤن سے پہلے کی تصویر

کام جب پوری طرح سے بند ہو گیا ہو، تو فیملی کے چار ممبروں کو کھلانا اُتّم کے لیے اصل چیلنج ہے۔ ’’اس سے زیادہ تشویش کی بات اور کیا ہو سکتی ہے کہ ایسے وقت میں بند کرنا پڑ رہا ہے، جب کام کی مانگ بہت زیادہ ہوتی ہے؟‘‘ وہ سوال کرتے ہیں۔ اُتّم بتاتے ہیں کہ گرمیوں میں شادی کا موسم ہوتا ہے، اور یہ حجاموں کو اچھا پیسہ کمانے اور اُن قرضوں کو چُکانے کا موقع فراہم کرتا ہے، جس میں کہ وہ پھنسے ہوتے ہیں۔

’’ہمارے علاقے میں پڑنے والے لگاتار سوکھے کے سبب، ۲۰۱۸ سے ہی ہم اپنی خدمات کی قیمت نہیں بڑھا پا رہے ہیں،‘‘ لاتور ضلع کیش کرتنالیہ سنگٹھن (سیلون کی ایک یونین) کے صدر، بھاؤ صاحب شیندرے کہتے ہیں۔ ’’ہم میں سے تقریباً ۸۰ فیصد لوگ بے زمین اور بے گھر ہیں،‘‘ وہ بتاتے ہیں۔ ’’اسی مدت میں ہمارے گھر اور سیلون کا کرایہ ۱۵ فیصد بڑھا دیا گیا۔ زندگی کا خرچ بڑھ رہا ہے، جب کہ ہماری آمدنی گھٹتی جا رہی ہے۔ ہمارے لیے تو نقصان جھیلنا یقینی ہے، جب کہ معاش غیر یقینی ہے۔‘‘

شیندرے کی تنظیم ریاستی سطح کے مہاراشٹر نابھک مہامنڈل کے ساتھ جڑی ہوئی ہے، جو کہ ریاست میں نابھک (حجام) او بی سی برادری کو متحد کرنے والی ایک بڑی یونین ہے۔ مہامنڈل کے سربراہ کلیان ڈالے کا دعویٰ ہے کہ مہاراشٹر میں ۴ ملین سے زیادہ نابھک ہیں۔ حالانکہ، کسی سرکاری اعداد و شمار سے اس کی تصدیق نہیں ہوتی ہے۔ لیکن (تازہ ترین) اعداد و شمار کے موٹے اندازہ سے پتہ چلتا ہے کہ ان کی تعداد لاکھوں میں ہے۔

ضلع کے ۶۰۰۰ سیلون – جن میں سے ۸۰۰ اکیلے لاتور شہر میں ہیں – تقریباً ۲۰ ہزار لوگوں کو روزگار فراہم کرتے ہیں۔ یونین کا کہنا ہے کہ ہر ایک سیلون میں اوسطاً ۳-۴ کرسیاں ہوتی ہیں اور ہر کرسی سے روزانہ ۴۰۰-۵۰۰ روپے کی کمائی ہو جاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک ساتھ مل کر وہ روزانہ تقریباً ۱۲-۱۳ لاکھ روپے کا کاروبار کر لیتے ہیں۔

ضلع کے باقی حصوں میں ۵۲۰۰ سیلون ہیں، جن میں سے ہر ایک میں اوسطاً ۲-۳ کرسیاں ہیں اور ہر کرسی سے روزانہ ۲۰۰-۳۰۰ روپے کی کمائی ہوتی ہے، یعنی روزانہ ۴۷ لاکھ روپے کا کاروبار۔

ان تمام سیلونوں کا ۲۱ دنوں تک بند رہنے کا مطلب ہے کہ اکیلے لاتور ضلع میں اس غریب اور محروم برادری کا ساڑھے بارہ کروڑ روپے سے زیادہ کا نقصان۔

A forlorn hoarding in Udgir advertising Shri Ganesh Gents Parlour
PHOTO • Awais Sayed

اُدگیر میں لگا شری گنیش جینٹس پارلر کا اشتہاری بورڈ

حجام پوری طرح سے اپنی یومیہ کمائی پر منحصر ہوتے ہیں، جب کہ روزانہ ان کے پاس آنے والے گاہکوں کی تعداد الگ الگ ہوتی ہے... ان میں سے کسی کے بھی پاس بچت نہیں ہے، کئی تو قرض میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ اور اب لاک ڈاؤن نے ان کی پریشانیوں کو مزید بڑھا دیا ہے

شیندرے بتاتے ہیں، ’’ہمارے ساتھ کام کرنے والے اس حد تک متاثر ہیں کہ وہ ٹھیک سے ایک وقت کے کھانے کا بھی انتظام نہیں کر پا رہے ہیں۔ اس لیے، ہم نے ۵۰ ہزار روپے جمع کیے ہیں اور ضلع کے ۵۰ غریب کنبوں میں سے ہر ایک کو تقریباً ۱۰۰۰ روپے کے امدادی سامان دیے ہیں۔ ان سامانوں میں ۱۰ کلو گیہوں، پانچ کلو چاول، دو کلو تیل اور ایک کلو مسور دال، چینی اور مونگ پھلی شامل ہیں۔ ساتھ میں ایک ڈیٹال صابن بھی۔ ہم سرکار کے ذریعے اعلان کردہ تین مہینے کے غیر یقینی مفت راشن پر منحصر نہیں رہ سکتے۔‘‘

حجام پوری طرح سے اپنی یومیہ کمائی پر منحصر ہوتے ہیں، جب کہ روزانہ ان کے پاس آنے والے گاہکوں کی تعداد الگ الگ ہوتی ہے۔ اکثر، یہ رحم دل کاریگر نوجوان نسلوں کی فرمائش پر ان کے من پسند بال بہت کم پیسے میں کاٹ دیتے ہیں۔ ان میں سے کسی کے پاس کوئی بچت نہیں ہے اور کئی تو قرض میں ڈوبے ہوئے ہیں۔

اور اب لاک ڈاؤن نے ان کی پریشانی کو کافی بڑھا دیا ہے۔ ان کے پاس قرض لینے کے صرف دو ہی ذرائع ہیں: ’نئے زمانے‘ کی مالیاتی کمپنیاں جو سالانہ ۱۵ فیصد فیس لیتی ہیں (حالانکہ آخر میں یہ بوجھ اس سے کہیں زیادہ بڑا ہو جاتا ہے)۔ یا پھر پرائیویٹ ساہوکار، جو ماہانہ ۳ سے ۴ فیصد سود لیتے ہیں۔

لاتور شہر کے باہری علاقے میں واقع کھڑگاؤں میں رہنے والے ایک حجام، سدھاکر سوریہ ونشی قرض میں مبتلا ہیں۔ ’’میری کمائی کا ایک بڑا حصہ میرے بچوں کی ٹیوشن فیس میں چلا جاتا ہے،‘‘ وہ بتاتے ہیں۔ (لاک ڈاؤن سے ایک دن پہلے انہوں نے تقریباً ۳۰۰ روپے کمائے تھے)۔ اس سال جنوری میں، انہوں نے اپنے بچوں کی تعلیم کے لیے ۱ لاکھ روپے، ۳ فیصد ماہانہ شرحِ سود پر ایک ساہوکار سے قرض لیے تھے۔ انہوں نے ۳۰۰۰ روپے کی پہلی قسط بھی مارچ میں ادا کر دی تھی۔ حالانکہ، ان کے مسائل اس سے پہلے ہی شروع ہو گئے تھے۔

Left: Rutu’s Beauty Zone is one of many salons in Latur city Right: Deserted main thoroughfare of Latur city
PHOTO • Vilas Gawali
Left: Rutu’s Beauty Zone is one of many salons in Latur city Right: Deserted main thoroughfare of Latur city
PHOTO • Vilas Gawali

بائیں: روتو کا بیوٹی ژون لاتور شہر کے ۸۰۰ سیلونوں میں سے ایک ہے۔ دائیں: شہر کی سنسان پڑی مین روڈ

وہ بتاتے ہیں کہ دسمبر ۲۰۱۹ میں ’’مجھے میرے بینک سے فون آیا کہ میرا جن دھن کھاتہ بند کر دیا گیا ہے۔‘‘ یہ دو طرح سے عجیب تھا۔ ایک: انہوں نے تمام ضروری دستاویز جمع کر دیے تھے – پین کارڈ، آدھار، ’نارنگی‘ راشن کارڈ وغیرہ۔ دو: انہیں کبھی بھی، اس کھانہ سے کوئی پیسہ نہیں ملا تھا۔ ’نارنگی‘ کارڈ ان لوگوں کو ملتا ہے، جن کی سالانہ آمدنی شہری مہاراشٹر میں ۵۹ ہزار روپے سے ایک لاکھ روپے کے درمیان ہوتی ہے۔ ان کی فیملی کے راشن کارڈ پر پرادھانیہ کُٹُمب (ترجیحی فیملی) کی مہر ہے، جو انہیں قومی غذائی تحفظ قانون کے تحت استفادہ کرنے والا بناتی ہے۔

’’میرے پاس وہ راشن کارڈ ہے، لیکن اس مہینہ میں کچھ نہیں ملا۔ کیرانہ کی دکان کے مالک کا کہنا ہے کہ وہ بھی نہیں جانتا کہ اسے اسٹاک کب ملے گا،‘‘ سدھاکر شکایت کرتے ہیں۔ انہیں یہ بھی نہیں معلوم کہ اس مدت میں اپنا کرایہ کیسے چکائیں گے۔ مکان مالکن نے اس سال جنوری میں ان کا کرایہ ۲۵۰۰ روپے سے بڑھا کر ۳۰۰۰ روپے کر دیا تھا۔ بوجھ بڑھتا ہی جا رہا ہے۔

کورونا وائرس کے بارے میں میڈیا کی مہم کو وہ بہت سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ ’’ہمیں روزانہ جب ایک وقت کے کھانے کے لیے جدوجہد کرنی پڑ رہی ہے، تو ایسے میں ہم سینیٹائزر اور ماسک کے بارے میں کیسے سوچ سکتے ہیں؟

’’ہمارے لیے بحران مسلسل ہے۔ کل، آج اور کل۔‘‘

کور فوٹو: کمار سوریہ وَنشی

(مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف ہیں، اور ’روزنامہ میرا وطن‘، ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

Ira Deulgaonkar

ایرا دیئُل گاؤنکر ۲۰۲۰ کی پاری انٹرن ہیں؛ وہ سمبایوسس اسکول آف اکنامکس، پونہ میں اقتصادیات سے گریجویشن کی دوسری سال کی طالبہ ہیں۔

Other stories by Ira Deulgaonkar