’’یہ جو نیا کھاتہ آپ میرے لیے یہاں کھولیں گے،‘‘ بری طرح سے گبھرائے ہوئے دھیرج ریہووا منصور دوستانہ مزاج والے بینک منیجر سے سوال کرتے ہیں، ’’کیا میں اسے ملک کے کسی اور کونے سے آپریٹ کر سکتا ہوں؟‘‘

دیکھئے، سنجے اشتورکر مسکراتے ہوئے جواب دیتے ہیں، ’’میں آپ کو ایک اے ٹی ایم کارڈ دوں گا، جسے آپ اپنی ریاست اور شہر میں جہاں کہیں بھی اے ٹی ایم ہو، استعمال کر سکتے ہیں۔‘‘

’’اس سے مجھے کیا فائدہ ہوگا؟‘‘ مزید گھبرائے ہوئے دھیرج پوچھتے ہیں۔ ’’مجھے اے ٹی ایم کارڈ استعمال کرنا نہیں آتا ہے۔ کیا میرے انگوٹھا چھاپ سے یہ چلے گا؟‘‘

اب حیران ہونے اور گھبرانے کا نمبر بینک منیجر کا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ یہ ایک جائز سوال ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ جس گروپ سے ان کا تعلق ہے، اس میں تین لوگ جاہل ہیں۔ اور شاید ایک دن بایومیٹرکس ان کے اس سوال کا جواب دے دے، لیکن اورنگ آباد ضلع کے اس ادول ٹاؤن میں ایسی پیمائش کا کوئی ذریعہ موجود نہیں ہے۔ جہاں پر یہ تھا، وہ اکثر بیکار پڑا ہوا ہے یا اس کی مرمت نہیں ہوئی ہے۔ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ دھیرج کے اترپردیش کے بہرائچ ضلع میں واقع گاؤں، یا دیہی لکھنؤ، جہاں اس وقت ان کی فیملی رہ رہی ہے، وہاں بھی اے ٹی ایم دستیاب نہیں ہے۔

’’اگر میں ایک چیک بُک لے لوں، تو کیا میں اس میں انگوٹھا استعمال کر سکتا ہوں؟‘‘ نہ، نہیں، ایسا نہیں ہے۔ یہ نو۔ فرل بچت کھاتہ ہے، جس میں چیک بک نہیں ملتا۔

دھیرج کے اب آنسو نکلنے والے ہیں۔ ’’میں اپنی فیملی کو اب پیسہ کیسے بھیج پاؤں گا؟ اگر میں اسے یہاں ڈال دوں، اور اگر وہ اتنی دور چل کر لکھنؤ بھی چلے جائیں، تو وہ اسے کیسے حاصل کریں گے؟ وہ اس وقت تک بھوکے رہیں گے، جب تک میں ان کے پاس کچھ نقدی نہ پہنچا دوں۔‘‘

دھیرج مہاراشٹر کے ادول میں پانچ مختلف ریاستوں کے کام کرنے والے ۱۱ مزدوروں میں سے ایک ہیں۔ چار دیگر کے عرفی نام بھی وہی ہیں جو دھیرج کا ہے، اور وہ بھی سب کے سب یوپی کے ہیں۔ بقیہ آسام، جھارکھنڈ، بہار اور مغربی بنگال کے ہیں۔ ان میں سے ہر کوئی روزانہ ۳۵۰ روپے کماتا ہے۔ اس معمولی رقم سے وہ اپنے کھانے، رہنے، سفر کرنے اور کپڑے کے اخراجات پورے کرتے ہیں، اور پھر کچھ نہ کچھ بچا کر گھر پر اپنی فیملیز کو بھیجتے ہیں۔ لیکن، ۸ نومبر کے نوٹ بندی کے آرڈر نے ان پرسرجیکل اسٹرائک کر دی۔

ہم اسٹیٹ بینک آف حیدرآباد (ایس بی ایچ)، جو کہ اسٹیٹ بینک آف انڈیا کا اشتراکی بینک ہے، کی ادول برانچ میں ہیں۔ بینک ملازم کا ایک مددگار گروپ، بشمول منیجر، مہاجرین کے کھاتے کھولنے کی پوری کوشش کو رہا ہے۔ ان کے کام کرنے کا وقت ختم ہو چکا ہے، لیکن اسٹاف اب بھی اس حیران و پریشان اور کمزور گروپ کی مدد کرنے میں لگا ہوا ہے۔ آج رات کو، وہ اپنے نئے صارفین کی تصدیق کی کارروائی مکمل کریں گے۔ کل سے کھاتے کام کرنے لگیں گے۔ اس برانچ کا رویہ غریبوں کے تئیں اس کوآپریٹو بینک سے بالکل اُلٹ ہے، جس کا ہم نے کل عثمان آباد شہر میں دورہ کیا تھا۔ یہ گیارہ مہاجرین اس وقت ایس بی ایچ میں تنہا بچے صارفین ہیں۔ ’’اوورلوڈ کی وجہ سے سروَر ڈاؤن ہو گیا، جس کی وجہ سے آج ہمیں اپنا معمول کا کام پہلے ہی بند کرنا پڑا،‘‘ ایک اسٹافر ہمیں بتاتا ہے۔ ایک نیا سروَر ابھی ابھی آیا ہے، جسے تیزی کے ساتھ لگایا جار ہا ہے۔


02-DSC00681-PS-BPL Migrant XI.jpg

ویری فکیشن پروسیس کے لیے ایس بی ایچ کی ادول برانچ میں انتظار کرتے ہوئے، بائیں سے دائیں: رِنکو ریہووا منصور، نوتن پانڈا، اُمیشن مُنڈا، بپّی دُلائی اور رن وجے سنگھ۔ یہ ہوتے ہی، ان کے کھاتے جلد ہی کام کرنے لگیں گے، لیکن ہمیشہ سفر میں رہنے والے اسے آپریٹ کیسے کریں گے؟


’’میں بہار میں اس پیسے کو کہاں جمع کروں گا یا نکالوں گا؟‘‘ رن وجے سنگھ پوچھتے ہیں۔ وہ اس ریاست کے جموئی ضلع سے ہیں اور اس گروپ کے سب سے زیادہ پڑھے لکھے ممبر ہیں۔ ان کے پاس جموئی کے کے کے ایم کالج سے تاریخ میں بیچلر کی ڈگری ہے۔ ’’آپ کسی بھی قومی بینک سے اپنے کھاتے میں پیسہ جمع کرا سکتے ہیں،‘‘ انھیں بتایا جاتا ہے۔ لیکن ’’جہاں پر اے ٹی ایم ہوگا آپ وہیں سے پیسے نکال سکتے ہیں یا پھر دیگر لین دین وہاں سے کر سکتے ہیں، جہاں ہماری برانچ ہوگی۔‘‘

’’میں جموئی کے کونان گاؤں کا رہنے والا ہوں،‘‘ سنگھ کہتے ہیں۔ ’’اور اگر بہار میں ایس بی ایچ کی کوئی برانچ ہوگی، تو وہ پٹنہ میں ہو سکتی ہے۔ ’ان دیگر لین دین‘ کے لیے کم از کم ۱۶۰ کلومیٹر کا سفر کرنا ہوگا۔‘‘

اُمیش مُنڈا آسام کے جورہاٹ سے ہیں۔ بپّی کمار دُلائی اور نوتن کمار پانڈا، دونوں ہی مغربی بنگال کے پُربا میدنی پور ضلع کے علی پور گاؤں کے رہنے والے ہیں۔ رِنکو، وجے، دلیپ اور سرویش ریہووا منصور اسی جگہ کے ہیں، جہاں کے دھیرج، بہرائچ کے کھجوریا گاؤں کے۔ لیکن ان کی فیملیز کی برانچ دیہی لکھنؤ میں ہے۔ رام کیول پرجاپتی لکھنؤ کے ہیں۔ اور سندیپ کمار بنیادی طور پر یوپی کے اوریا کے جوہرن پور گاؤں کے ہیں۔ ان سب کا تعلق خط افلاس سے نیچے زندگی بسر کرنے والے کنبوں سے ہے۔ ’’آپ کے حساب سے ہمیں سال میں کتنے دن مزدوری کا کام ملتا ہے؟‘‘ وہ سوال کرتے ہیں۔ بی پی ایل گیارہ مہاجرین اس کام کی تلاش میں کئی دنوں تک سفر کرتے رہتے ہیں۔

ہر ایک کی اپنی کہانی ہے۔ بہت سی کہانیاں۔ مہاراشٹر تک آتے ہوئے راستے میں انھوں نے مختلف جگہوں پر کام کیا۔ رن وجے سنگھ آندھرا اور مدھیہ پردیش میں کام کر چکے ہیں، اُمیش مُنڈا نے مدھیہ پردیش میں کام کیا۔ دو بنگالی، دُلائی اور پانڈا نے تینوں ریاستوں میں کام کیا۔ اب، حالانکہ ایسی کوئی بڑی تشویش ان کی نہیں ہے۔ انھیں صرف اس بات کی فکر لاحق ہے کہ وہ اپنی فیملیز کو پیسے کیسے پہنچائیں گے۔ کچھ کی سمجھ میں نہیں آ رہا ہے کہ وہ گھر جائیں یا پھر یہیں رک کر جو کام بڑی مشکل سے ملا ہے، اسے پورا کریں۔


03-PS-BPL Migrant XI.jpg

یوپی کے اوریا کے رہنے والے سندیپ کمار (بائیں)، کہتے ہیں کہ وہ ۱۹ سال کے ہیں، لیکن اس سے بڑے لگتے ہیں۔ رن وجے سنگھ (دائیں)، بہار کے جموئی کے رہنے والے مزدور کے پاس تاریخ میں بیچلر کی ڈگری ہے


جگدیش بھاؤ تھنکر، جو آل انڈیا اسٹیٹ بینک آف حیدرآباد اسٹاف ایسوسی ایشن کے سابق جنرل سکریٹری ہیں، ان کی تکلیف دہ صورتحال کو بیان کرتے ہیں: ’’ایکسچینج اور ڈِپوزٹ پر پورا زور ہونے کی وجہ سے جنرل بینکنگ تباہ ہوکر رہ گئی ہے۔ انھیں جس طرح کا ٹرانسفر کرنے کی ضرورت ہے، چاہے وہ پوسٹ آفس کے ان کے روایتی طریقے سے ہو یا پھر بینکوں کے ذریعے، یہ سارا کام رک سا گیا ہے۔ جیسا کہ بینک کی باقی ساری سرگرمیاں رک گئی ہیں۔ تمام اسٹاف کو نوٹ بدلنے اور جمع کرنے کے کام پر لگا دیا گیا ہے۔‘‘

’’ہمارے پاس نقدی پیسہ ہی نہیں ہوگا، تو ہم منی آرڈر کیسے بھیجیں گے؟‘‘ بپّی دُلائی سوال کرتے ہیں۔ ان گیارہ میں سے ہر ایک کے لیے، ان کی دنیا برباد ہوکر رہ گئی، جب حکومت نے ۵۰۰ اور ۱۰۰۰ روپے کے نوٹوں کو غیر قانونی قرار دے دیا۔ نئے ۲۰۰۰ روپے کے نوٹ ہر جگہ ان کا مذاق اڑاتے ہیں۔

’’کوئی بھی اسے لینا نہیں چاہتا،‘‘ پانڈا کہتے ہیں۔ ’’یہ کہنا بھی مشکل ہے کہ یہ اصلی ہے یا نقلی،‘‘ سنگھ کہتے ہیں۔ ’’دیکھتے ہی آپ کو یہ نقلی لگے گا۔ کوئی بھی اسے قبول نہیں کرتا۔‘‘ دھیرج بتاتے ہیں کہ بڑی مشکل سے ایک بینک سے انھیں جو سو روپے کے کچھ نوٹ ملے تھے، اسے بہت سے لوگ لینے سے منع کر رہے ہیں۔ سرکاری طور پر یہ نوٹ سڑ گل چکے تھے، لیکن انھیں دوبارہ جاری کر دیا گیا ہے۔ ’’مجھے دکانوں پر کہا گیا کہ ’صاف نوٹوں‘ کے ساتھ واپس آنا۔‘‘

سندیپ کمار کی فیملی، جو اب کانپور دیہات میں رہتی ہے، اوریا کے قریب، ان کے پاس تین ایکڑ زمین ہے۔ لیکن، وہ بتاتے ہیں کہ اس چھوٹی سی زمین پر ۱۲ لوگوں جی رہے ہیں۔ ’’کھیتی کا کام پوری طرح رک گیا ہے۔ ہم اپنے کھیتوں کے لیے سامان تھوڑی مقدار میں خریدتے ہیں۔ کسی کے بھی پاس اس کے لیے نقدی پیسہ نہیں ہے۔ چھوٹے نوٹ ہمیں مل نہیں رہے ہیں۔ بڑے نوٹ ہمارے پاس ہیں نہیں۔ اگر ہوتے بھی، تو ہمیں اس کا چینج نہیں ملتا۔‘‘

یہ سبھی گیارہ دہاڑی کے مزدور ہیں، جو یہاں پر پاور گرِڈ کارپوریشن کا ایک پاور سب اسٹیشن کھڑا کر رہے ہیں۔ یہ ایک سرکاری اکائی ہے۔ یہ ان کے حق میں بہت بہتر ہوتا، اگر پاور گرِڈ نے انھیں براہِ راست نوکری پر رکھا ہوتا۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ اس پبلک سیکٹر یونٹ نے انھیں کسی ٹھیکہ دار کے ذریعہ نوکری پر رکھا ہے، جسے ان کے ذریعہ روزانہ کی کمائی میں سے اچھا خاصا حصہ ملا کرے گا۔ شاید ان کی کمائی کا ۴۰ فیصد۔ اس کے علاوہ انھیں اب چیک کی شکل میں اجرت دی جائے گی، نقدی میں نہیں، جس سے ان کی پریشانیاں مزید بڑھ گئی ہیں۔

ان مہاجرین کو بینک تک جو شخص لے کر آیا ہے، وہ کسی اور ریاست کا رہنے والا ہے۔ کچھ زیادہ ہی پڑھا لکھا اور خوش قسمت آدمی۔ ڈینئل کرکیٹا، پاور گرڈ انجینئر اور جھارکھنڈ کے ایک آدیواسی، ان تھکے ہارے اور کمزور مزدوروں کی ٹیم کے کپتان ہیں۔ بی پی ایل موبائل گیارہ۔ حالانکہ وہ بالکل ہی الگ پس ماندہ طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں، کرکیٹا کو کم از کم ان کی صورتحال کا بخوبی احساس ہے۔ ’’میں بھی ایک مہاجر ہوں،‘‘ وہ مسکراتے ہوئے کہتے ہیں۔

ان کی نگرانی میں ایسا لگتا ہے کہ یہ لوگ خوش قسمت ہیں، جس کی وجہ سے اس برانچ تک پہنچ گئے۔

اگر یہ لوگ خوش قسمت ہیں، تو پھر بدقسمت ہونا کیا ہوتا ہے؟

بیڈ ضلع کے گھٹناندور گاؤں میں، مقامی فری لانس رپورٹر امول جادھو نے ہمارا تعارف وہاں کے مہاجر مزدوروں کی دوسری حقیقت سے کروایا۔ ’’اس علاقہ کے چند بڑے لوگوں نے، جن کے پاس کھالا دھن تھا، انھوں نے ان مہاجرین کے نام پر کھاتے کھلوا لیے ہیں،‘‘ وہ بتاتے ہیں۔ ’’جی ہاں، وہ ان کامگاروں کی معمولی مزدوری اب یہاں جمع کرا رہے ہیں۔ لیکن، وہ ان کھاتوں کے اے ٹی ایم کارڈ اپنے پاس رکھ لیتے ہیں۔ وہ ان کھاتوں میں اپنا کچھ کالا دھن ڈال دیتے ہیں۔ اور یاد رہے، وہ ان پیسوں کو نکال بھی سکتے ہیں، اور اگر چاہیں تو کامگاروں کا پیسہ بھی ہڑپ سکتے ہیں۔ ان کھاتوں پر انھیں کا کنٹرول ہے۔‘‘

تصویریں: پی سائی ناتھ

پی سائی ناتھ ’پیپلز آرکائیو آف رورل انڈیا‘ کے بانی ایڈیٹر ہیں۔ وہ کئی دہائیوں تک دیہی ہندوستان کے رپورٹر رہے اور Everybody Loves a Good Drought اور The Last Heroes: Foot Soldiers of Indian Freedom کے مصنف ہیں۔

کے ذریعہ دیگر اسٹوریز پی۔ سائی ناتھ
Translator : Qamar Siddique

قمر صدیقی، پیپلز آرکائیو آف رورل انڈیا کے ٹرانسلیشنز ایڈیٹر، اردو، ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی ہیں۔

کے ذریعہ دیگر اسٹوریز Qamar Siddique