راشن کی دکان کے مالک اور ایک سیاسی کارکن، بی کرشنیا نے ۹ دسمبر، بروز اتوار صبح کے ۷ بج کر ۳۰ منٹ پر مجھے بذریعہ فون اطلاع دی کہ ’’ہمیں گاندھی کی ڈائری میں آپ کا نمبر ملا ہے۔ شاہراہ کے پاس ایک کار نے انہیں ٹکّر مار دی تھی، جس کی وجہ سے ان کا انتقال ہو گیا ہے۔‘‘

گنگپّا – یا ’گاندھی‘ – سے میری آخری ملاقات ۲۴ نومبر کو بنگلور-حیدرآباد شاہراہ پر ہوئی تھی۔ تب صبح کے تقریباً ۱۰ بج کر ۳۰ منٹ ہو رہے تھے۔ وہ گاندھی کے لباس میں اننت پور شہر کی جانب پیدل جا رہے تھے تاکہ وہاں اپنے دن کی شروعات کر سکیں۔ ان کا قیام اننت پور سے بمشکل آٹھ کلومیٹر دور، رپتاڈو گاؤں میں سڑک کے کنارے واقع ایک ریستوراں میں تھا۔ اس ریستوراں کے مالک، وینکٹ رمی ریڈی بتاتے ہیں، ’’تقریباً دو مہینے پہلے، مجھے کسی نے بتایا کہ ایک بوڑھا آدمی ہے جسے رہنے کے لیے جگہ چاہیے، لہٰذا میں نے انہیں یہاں رہنے کی اجازت دے دی۔ میں انہیں کبھی کبھار کھانا بھی دیتا تھا۔‘‘ کرشنیا، جنہوں نے مجھے فون کیا تھا، یہاں اکثر چائے پینے آتے تھے اور کبھی کبھی گنگپّا سے بات بھی کرتے تھے۔

میں نے مئی ۲۰۱۷ میں پاری کے لیے گنگپّا کے بارے میں ایک اسٹوری لکھی تھی۔ زرعی مزدور کے طور پر ۷۰ سال کام کرنے کے بعد، انہوں نے مہاتما کا حلیہ اختیار کر لیا تھا – گاندھی کا لباس پہن کر وہ مغربی آندھرا پردیش کے اننت پور شہر میں مختلف عوامی مقامات پر کھڑے رہتے تھے۔ اس سے انہیں جو بھیک ملتی تھی، وہ زرعی مزدوری سے ہونے والی ان کی پہلے کی کمائی سے کہیں بہتر تھی۔

گنگپّا نے ۲۰۱۶ میں کھیتوں میں کام کرنے کے دوران ایک بار بیہوش ہونے کے بعد مزدوری کرنا چھوڑ دیا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے کچھ دنوں تک رسیاں بنانے کا کام کیا، لیکن اس سے انہیں زیادہ آمدنی نہیں ہو پاتی تھی۔ تب جاکر انہوں نے گاندھی کا حلیہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا۔

گنگپّا نے گاندھی کا اپنا لباس روزمرہ کے سامانوں سے تیار کیا تھا۔ مہاتما کی طرح خود کو ’چمکتا ہوا‘ بنانے کے لیے وہ ۱۰ روپے کے پلاسٹک باکس سے پانڈ کا پاؤڈر استعمال کرتے تھے۔ گاندھی جیسا چشمہ پہننے کے لیے انہوں نے سڑک کے کنارے کی ایک دکان سے سستا دھوپ کا چشمہ خریدا تھا۔ مقامی بازار سے ۱۰ روپے میں خریدی گئی لاٹھی وہ چلنے کے لیے استعمال کرتے تھے۔ اپنا میک اپ اور لباس چیک کرنے کے لیے وہ موٹرسائیکل کے ایک چھوٹے سے شیشہ کا استعمال کرتے تھے، جو انہیں کہیں سے مل گیا تھا۔

M. Anjanamma and family
PHOTO • Rahul M.

بائیں: گنگپا سے جب میں ۲۰۱۷ میں ملا تھا، تب وہ ’گاندھی‘ بننے کے لیے تیار ہوتے ہوئے اپنے جسم پر ٹیلکم پاؤڈر لگا رہے تھے۔ دائیں: ان کی بیوی انجنمّا (بائیں سے تیسری) اپنے گاؤں میں

اس طرح، اگست ۲۰۱۶ سے گنگپّا روزانہ گاندھی بن کر اننت پور کی سڑکوں پر کھڑے ہو جاتے یا آس پاس کے گاؤوں اور شہروں میں لگنے والے میلے اور ماہانہ بازاروں میں پیدل چلتے ہوئے جاتے، اور ایک دن میں ۱۵۰ روپے سے ۶۰۰ روپے تک کماتے تھے۔ انہوں نے ایک بار مجھے فخر سے بتایا تھا، ’’میں نے ایک پرشا [گاؤں کے میلہ] میں تقریباً ۱۰۰۰ روپے کمائے تھے۔‘‘

انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ گاندھی جیسا کمزور دکھائی دینے والا آدمی ایک طاقتور حکومت کو ہلا سکتا ہے اور اسے شکست دے سکتا ہے، اس چیز نے بچپن میں گنگپا کو کافی متاثر کیا تھا۔ ان کا ماننا تھا کہ گاندھی بننے کے لیے سفر کرنا اور متحمل مزاج ہونا ضروری ہے۔ اور لگاتار سفر کرنے اور نئے لوگوں سے ملتے رہنے سے گنگپا کو ایک اور حقیقت سے پیچھا چھڑانے میں مدد ملی جو کہ زندگی بھر انہیں پریشان کرتی رہی – یعنی ان کی دلت (مڈیگا) ذات۔

گنگپا سے جب میں پہلی بار ملا تھا، تو انہوں نے مجھ سے اپنی ذات کے بارے میں نہ لکھنے کی درخواست کی تھی کیوں کہ تب وہ اننت پور کے ایک مندر میں رات گزارتے تھے، جہاں انہوں نے کسی کو یہ نہیں بتایا تھا کہ ان کا تعلق دلت برادری سے ہے۔ گاندھی کے لباس میں ہونے پر بھی، وہ ’سادھو‘ جیسا بننے کی کوشش میں مذہبی علامتوں کا استعمال کرتے تھے جیسے کہ مقدس دھاگہ اور کُم کُم۔

حلیہ بدلنے کے باوجود، گنگپّا کی ذات اور غریبی ہر جگہ ان کا پیچھا کرتی رہی۔ میں نے جب ان سے الگ رہنے والی ان کی بیوی ایم انجنمّا سے ۲۰۱۷ میں ملاقات کی تھی اور فیملی کی تصویر کھینچی تھی، تب بھی ان کے گاؤں کا ایک بچہ جو ان کے گھر میں ہی کھیل رہا تھا، وہ دلتوں کے ساتھ تصویر نہیں کھنچوانا چاہتا تھا۔

اتوار کو جب کرشنیا نے مجھے ان کی موت کی خبر دی، تو میں نے اپنی اسٹوری کے نوٹس سے انہیں کچھ تفصیلات بتائیں اور گنگپّا کی فیملی کی تصویر انہیں بھیجی۔ جب میں انہیں انجنمّا کا صحیح پتہ نہیں دے پایا، تو کرشنیا نے مشورہ دیا کہ ہمیں گنگپّا کا گاؤں ان کی ذات کی بنیاد پر تلاش کرنا چاہیے (ان کا اشارہ گاؤوں میں ذات کی بنیاد پر الگ کیے گئے علاقوں کی طرف تھا): ’’شاید ہم ان کی ذات کے لحاظ سے گورنٹلا میں ان کا گھر تلاش کر سکیں۔ کیا انہوں نے کبھی آپ کو یہ بتایا تھا کہ ان کا تعلق کس ذات سے ہے؟‘‘

کرشنیا کا ایک رشتہ دار گورنٹلا کے سرکل انسپکٹر کو جانتا ہے۔ انجنمّا اپنی چھوٹی بیٹی کے ساتھ گورنٹلا میں ہی رہتی ہیں، جو اننت پور سے تقریباً ۱۰۰ کلومیٹر کی دوری پر واقع ایک گاؤں ہے۔ ان کی بڑی بیٹی نے ایک دہائی قبل خودکشی کر لی تھی۔ گورنٹلا کے ایک کانسٹیبل نے انجنمّا کو ان کے شوہر کی موت کی اطلاع دی، جس کے بعد وہ ۱۰ دسمبر، بروز پیر دوپہر کو ان کی لاش وہاں سے اپنے ساتھ لے گئیں۔

کوئی بھی آدمی اس کار کی شناخت نہیں کر سکا جس نے اس کمزور بوڑھے آدمی کو ٹکّر ماری تھی۔

مترجم: محمد قمر تبریز

Rahul M.

Rahul M. is an independent journalist based in Anantapur, Andhra Pradesh, and a 2017 PARI Fellow.

Other stories by Rahul M.
Translator : Mohd. Qamar Tabrez

Mohd. Qamar Tabrez is the Translations Editor, Hindi/Urdu, at the People’s Archive of Rural India. He is a Delhi-based journalist, the author of two books, and was associated with newspapers like ‘Roznama Mera Watan’, ‘Rashtriya Sahara’, ‘Chauthi Duniya’ and ‘Avadhnama’. He has a degree in History from Aligarh Muslim University and a PhD from Jawaharlal Nehru University, Delhi.

Other stories by Mohd. Qamar Tabrez