’’ہم جتنا خریدتے ہیں، اتنا ہی زیادہ قرض میں ڈوب جاتے ہیں۔‘‘ یہ کُنری سبری ہیں، ۴۰ سالہ ایک کسان، جو ساورا آدیواسی کمیونٹی کی اکثریت والے اپنے گاؤں، کھَیرا میں ہم سے بات کر رہی ہیں۔

’’گوبرکھت چاس، ہلاچاس [گائے کے گوبر اور ہل سے کھیتی]، جو ہماری اپنی تھی، اب کوئی نہیں کر رہا ہے،‘‘ انہوں نے کہا۔ ’’اب ہم ہر چیز کے لیے بازار کی طرف دوڑتے ہیں۔ بیج، حشرہ کش، کھاد۔ پہلے کے برعکس، ہم جو کچھ کھاتے ہیں اسے بھی خریدنا پڑتا ہے۔‘‘

کماری کا یہ بیان اوڈیشہ کے رائیگڑا ضلع کے حیاتی طور سے حساس علاقے میں جڑیں جما رہی کپاس کی کھیتی پر انحصار کو ظاہر کرتا ہے، جس کا گہرا اثر یہاں کی بایو ڈائیورسٹی کے بیش بہا ذخیرہ، کسانوں کے بحران اور غذائی تحفظ پر پڑ رہا ہے۔ (دیکھیں اوڈیشہ میں ماحولیاتی بحران کے بیج کی بوائی)۔ ہم جب رائیگڑا کے گُنوپور بلاک کےے میدانی علاقے سے جنوبی مشرق کی طرف پہنچے، جہاں کپاس سب سے پہلے پہنچی تھی، تو یہ واضح طور پر دکھائی دے رہا تھا۔ آندھرا پردیش کی سرحد پر واقع اس علاقے میں، جہاں تک نظر پہنچ سکتی تھی، صرف کپاس ہی کپاس کے کھیت تھے۔ اس کے علاوہ، یہاں کا گہرا بحران بھی صاف جھلک رہا تھا۔

’’ہم نے ۱۰-۱۲ سال پہلے کپاس کی کھیتی شروع کی تھی۔ ہم اب ایسا اس لیے کر رہے ہیں کیوں کہ ہمارے پاس کوئی دوسرا متبادل نہیں ہے۔‘‘ کھَیرا کے کئی لوگوں نے ہمیں بتایا۔ اس علاقے کے بہت سے کسانوں نے کہا کہ جب وہ بھاری لاگت والے کپاس کی طرف بڑھے، تو وہ دھیرے دھیرے اپنے بیج اور کثیر فصلی کھیتی کے روایتی طریقوں کو بھی بھولتے چلے گئے۔

’’ہمارے پاس خود کی اپنی فصلیں اور اپنی کھیتی تھی،‘‘ ساورا کے ایک نوجوان کاشتکار، کھیتر سبرا نے کہا۔ آندھرا والوں نے آکر ہمیں کپاس اُگانے کے لیے کہا، اور ہمیں سب کچھ سکھایا۔‘‘ یہاں کے ایک اور کسان، سنتوش کمار دنڈسینا نے اس میں اپنی بات جوڑتے ہوئے کہا کہ منافع کمانے کے امکان نے گاؤں والوں کو کپّا، یا کپاس کی طرف متوجہ کیا۔ ’’شروعات میں اس نے خوشی دی، ہم نے پیسے کمائے۔ لیکن اب، صرف غم اور نقصان ہے،‘‘ انہوں نے کہا۔ ’’ہم برباد ہو چکے ہیں اور ساہوکار خوش ہیں۔‘‘

ہم جس وقت بات کر رہے تھے، گہرے ہرے رنگ کے جان ڈیرے (John Deere) ٹریکٹر گاؤں میں ادھر ادھر دندناتے پھر رہے تھے۔ مقامی مندر کی دیواروں پر بیج کمپنی کے پوسٹر چپکے ہوئے تھے، جن پر اڑیہ میں بی ٹی کپاس کا پرچار تھا۔ اس فصل کے لیے جُتائی اور بوائی کے آلات گاؤں کے چوراہے پر ادھر ادھر رکھے ہوئے تھے۔

PHOTO • Chitrangada Choudhury

اوپر بائیں: گُنوپور بلاک میں، جی ایم کپاس کے کھیت افق پر پھیلے ہوئے ہیں۔ اوپر دائیں: کھیرا گاؤں میں، کسانوں کا کہنا ہے کہ ۱۰-۱۵ سال پہلے کپاس کی کھیتی شروع کرنے کے بعد سے وہ قرض میں ڈوبے ہوئے ہیں، اور جب تک کہ وہ کپاس نہیں بوتے تب تک ساہوکاروں سے نیا قرض نہیں لے سکتے ہیں۔ نیچے کی قطار: اڑیہ زبان میں کپاس کے بیجوں کے اشتہار درختوں پر ٹنگے ہیں، اور گاؤں کے مندر کی دیواروں پر کپاس کے بیجوں کا پرچار کرنے والے مزید پوسٹر چپکائے گئے ہیں

’’کپاس کے زیادہ تر کسان قرض تلے دبے ہوئے ہیں، کیوں کہ بیج اور اِن پُٹ لاگت میں اضافہ ہو رہا ہے جب کہ پیداوار کے فروخت کی قیمت میں اتار چڑھاؤ دیکھنے کو مل رہا ہے؛ اور بچولیے منافع اٹھا لے جاتے ہیں،‘‘ اس علاقے میں کام کر رہے محافظِ ماحولیات، دیبل دیب بتاتے ہیں۔ ’’رائیگڑا میں، کئی کسانوں کو [ان کی پیداوار کے لیے] بازار کی قیمت سے ۲۰ فیصد کم قیمت ملتی ہے۔‘‘

بڑھتے خسارہ کے باوجود کپاس کی ہی ضد کیوں؟ ’’ہم ساہوکار کے قرض میں پھنسے ہوئے ہیں،‘‘ سبرا نے کہا۔ ’’اگر ہم کپاس نہیں بوئیں گے، تو وہ ہمیں اور قرض نہیں دے گا۔‘‘ دنڈسینا نے کہا، ’’مان لیجئے، اگر ہم چاول اُگاتے ہیں، تو ہمیں کوئی قرض نہیں ملے گا۔ صرف کپاس [پر ملتا ہے]۔‘‘

’’کسان اس فصل کو اُگا تو رہے ہیں، لیکن اسے سمجھ نہیں رہے ہیں،‘‘ دیب کے ساتھی، دیبدولال بھٹاچاریہ ہمیں بتاتے ہیں۔ ’’وہ ہر قدم پر پوری طرح سے بازار پر منحصر ہیں... بوائی سے لے کر فصل کی کٹائی تک، اور خود کے فیصلے نہیں لے سکتے [حالانکہ]... ان کے پاس زمین ہے۔ کیا ہم انہیں کسان کہیں یا اپنے ہی کھیتوں پر کام کرنے والے مزدور؟‘‘

دیب اور ان کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ کپاس کے پھیلنے کا شاید سب سے نقصاندہ اثر ہے مقامی بایوڈائیورسٹی کا خاتمہ، اور اس کے ساتھ ماحولیاتی اعتبار سے خوشحال اس منظرنامہ میں کام کرنے، اور گزربسر کرنے والی برادریوں کا علم۔ یہ دونوں آب و ہوا کے اتار چڑھاؤ کو جھیلنے والی یہاں کی زراعت کے لیے اہم ہیں، جس کے اندر موسم کی بڑھتی بے یقینیت اور شدتوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت ہے۔

دیب کہتے ہیں کہ ’’ماحولیاتی تبدیلی مقامی موسم کی ناگہانی اتفاقات کو جنم دے رہا ہے۔ اوڈیشہ کے کسان خشکی کے لمبے دن، بہت زیادہ بے موسم کی بارش، اور لگاتار خشک سالی کو پہلے سے ہی جھیل رہے ہیں۔‘‘ کپاس کے ساتھ ساتھ چاول اور سبزیوں کی جدید قسمیں، جو روایتی قسموں کی جگہ لے رہی ہیں، ’’مقامی ماحولیاتی حالات میں اچانک تبدیلی کو آسانی سے جھیلنے میں ناکام ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ فصل کی زندہ رہنے، افزائش کرنے، اور آخر میں، غذائی تحفظ کی خطرناک غیر یقینیت۔‘‘

اس علاقے میں بارش کے اعداد و شمار، اور کسانوں کے بیان، سبھی تیزی سے غیر یقینی کے شکار ہوتے جا رہے موسم کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ ضلع میں ۲۰۱۴-۱۸ کی مدت میں اوسط سالانہ بارش ۱۳۸۵ ملی میٹر تھی۔ یہ ۱۹۹۶-۲۰۰۰ کے پانچ برسوں کی ۱۰۳۴ ملی میٹر بارش سے ۳۴ فیصد زیادہ تھی (ہندوستانی محکمہ موسمیات اور مرکزی وزارت برائے ماحولیات، جنگلات اور فضائی تبدیلی کے اعداد و شمار)۔ اس کے علاوہ، انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی، بھونیشور کے محققین کے ذریعے ۲۰۱۹ کے ایک مطالعہ کے مطابق، ’’بھاری سے زیادہ بارش والے دنوں، اور ساتھ ہی خشکی کے دنوں، میں قابل ذکر طور پر اضافہ ہو رہا ہے، جب کہ ہلکی سے اوسط بارش والے دنوں اور نمی کے دنوں کی تعداد اوڈیشہ میں کم ہو رہی ہے۔‘‘

PHOTO • Chitrangada Choudhury
PHOTO • Chitrangada Choudhury
PHOTO • Chitrangada Choudhury

کُنوجی کُلوسیکا (درمیان میں) جیسی کسانوں کو بی ٹی کپاس کے پھیلاؤ اور اس سے وابستہ ایگرو-کیمیکل کی دیسی بیج کی قسموں (بائیں)، اور ان کی مٹی اور کھیت پر منحصر دیگر ذی روحوں (دائیں) پر اثرات کے بارے میں تشویش ہے

’’پچھلے تین سالوں سے... بارش دیر سے آ رہی ہے،‘‘ پڑوسی کوراپُٹ ضلع میں مقیم کسان اور کارکن، شرنیہ نائک ہمیں بتاتی ہیں۔ ’’مانسون کی ابتدائی مدت میں کم بارش ہوتی رہی ہے، اس کے بعد وسط موسم میں حد سے زیادہ بارش، اور پھر بھاری بارش‘‘ موسم کے اختتام پر۔ اس کا مطلب ہے کہ بوائی میں دیر ہو رہی ہے، حد سے زیادہ بارش کا مطلب ہے کہ اہم وسط موسم میں کوئی دھوپ نہیں، اور آخر میں بھاری بارش کٹائی کے وقت فصل کو نقصان پہنچاتی ہے۔

اس علاقے میں غذا اور زراعت پر کام کرنے والے این جی او، لیونگ فارم کے دیب جیت سارنگی اتفاق کرتے ہیں: ’’اس علاقے میں مانسون کا موسم جون کے وسط سے اکتوبر تک چلتا تھا۔ پچھلے کچھ سالوں میں، حالانکہ، یہ غیر یقینی ہو گیا ہے۔‘‘ سارنگی اور نائک، دونوں کی دلیل ہے کہ اوڈیشہ کا کثیر فصلی نظام، جس میں دیسی غذائی فصلوں پر زور دیا جاتا ہے، جو کپاس کے مقابلے ان غیر یقینی اتفاقات سے نمٹنے کے لیے بہتر طور پر موزوں ہیں۔ ’’یہ ہمارا تجربہ ہے کہ ایک سے زیادہ فصل اُگانے والے کسان اس طرح کے بے ترتیب موسموں کا سامنا کرنے میں زیادہ اہل ہیں،‘‘ سارنگی کہتے ہیں۔ ’’جو کسان بی ٹی کپاس کی ایک ہی فصل کے توسط سے بازار سے جڑے ہیں، وہ ٹائم بم پر بیٹھے ہیں۔‘‘

*****

نئے جی ایم مونو کلچر کے سبب کئی کسان محسوس کر رہے ہیں کہ غذائی تحفظ اور کھییتی کی خود اختیاری کو خطرہ ہو سکتا ہے – پھر بھی وہ نئی عمل کاریوں کو اپنا رہے ہیں۔ لیکن کئی دیگر کسان، خاص طور سے عورتیں اس بات پر زور دیتی ہیں کہ انہیں اپنی روایتی زراعت کو نہیں چھوڑنا چاہیے۔ کیرندیگُڈا گاؤں میں، نیامگیری کے پس منظر کے اُس پار، ہماری ملاقات ایک کوندھ آدیواسی خاتون، کُنوجی کُلوسیکا سے ہوئی جو اپنے بیٹے، سریندر کو اس سال کپاس اُگانے سے منع کر رہی تھیں۔

وہ کثیر فصلی کھیتی کے ایک پہاڑی علاقے میں، ننگے پاؤں کڑی محنت سے کام میں لگی ہوئی تھیں۔ بلاؤز کے بغیر گھُٹنے تک ساڑی پہنے اور بالوں کی چوٹی باندھ ایک سائڈ میں کیے ہوئے، کُنوجی روایتی آدیواسی خاتون نظر آ رہی تھیں، جو حکومتوں، میونسپلٹیوں اور غیر سرکاری تنظیموں کے ذریعے اشتہارات میں نظر آتی ہے، اسے ’پس ماندگی‘ سے باہر نکالنے کا وعدہ کرتی ہوئی۔ پھر بھی، جیسا کہ دیب کا مشورہ ہے، کُنوجی جیسے لوگوں کے جدید علم اور ہنر کا خاتمہ ماحولیاتی تبدیلی سے پریشان اس دنیا کے لیے تباہ کن ثابت ہوگا۔

’’اگر ہم [خود] اپنی فصلوں کو ایک سال کے لیے بھی چھوڑ دیں، تو ہم بیج کیسے تیار کریں گے؟ ہمیں ان کے کھونے کا خطرہ ہو جائے گا۔ پچھلے سال سریندر نے کچھ کپاس اُگائی تھی جہاں ہم مکئی لگائیں گے۔ اگر ہم ایسا ہی کرتے رہے، تو مستقبل میں بونے کے لیے ہمارے پاس مکئی کا کوئی بیج نہیں بچے گا،‘‘ کُنوجی نے سمجھاتے ہوئے کہا کہ انہیں کپاس کی کھیتی کی طرف آنے کا ڈر کیوں تھا۔

ویڈیو دیکھیں: ’کپاس کے بیج میرے لیے نہیں ہیں،‘ کوندھ کسان کُنوجی کُلوسیکا کہتی ہیں، اور ہمیں اپنی دیسی غذائی فصلوں کی قسمیں دکھاتی ہیں

’اگر ہم [خود] اپنی فصلوں کو ایک سال کے لیے بھی چھوڑ دیں، تو ہم بیج کیسے تیار کریں گے؟ ہمیں ان کے کھونے کا خطرہ ہو جائے گا،‘ کُنوجی نے سمجھاتے ہوئے کہا کہ انہیں کپاس کی کھیتی کی طرف آنے کا ڈر کیوں تھا

ہم نے جب وراثت میں ملے بیجوں کا ذکر کیا، تو کُنوجی کافی خوش ہو گئیں۔ وہ بھاگتے ہوئے اپنے گھر کے اندر گئیں اور فیملی کے ذریعے اُگائی گئی مختلف قسم کی فصلوں کے بیجوں کے ساتھ باہر آئیں، جسے انہوں نے بانس کی ٹوکری، پلاسٹک کے جار یا کپڑے کی تھیلیوں میں جمع کر رکھا تھا۔ پہلا: ارہر کی دو قسمیں، ’’زمین کی فطرت کی بنیاد پر بوئی جانے والی۔‘‘ اگلا: اونچے علاقوں میں اُگائی جانے والی دھان، سرسوں، مونگ، کالا چنا اور دو قسم کی پھلیاں۔ پھر: راگی کی دو قسمیں، مکئی، نائیجر کے بیج۔ آخر میں: سیالی بیج (جنگلی غذا) کی ایک بوری۔ ’’اگر بہت زیادہ بارش ہوئی، اور ہمیں گھر پر رہنا پڑا، تو ہم انہیں بھون کر کھاتے ہیں،‘‘ انہوں نے کہا، اور ہمارے لیے ایک مٹھی بھُنا۔

’’یہاں کے کوندھ اور دیگر قبائلی ذاتوں کا زرعی-ماحولیاتی علم اتنا شاندار تھا کہ فیملی کھیت کے ایک ٹکڑے پر سال بھر میں ۷۰-۸۰ فصلیں – اناج، دالیں، جڑیں، قند، باجرا – اُگا لیتے تھے،‘‘ لیوِنگ فارم کے پردیپ مشرا کہتے ہیں۔ ’’یہ ابھی بھی کچھ کھیتوں پر موجود ہے، لیکن کل ملا کر، پچھلے ۲۰ سالوں میں کپاس کا آنا اور اس کا پھیلاؤ اس بیج کے تنوع کے لیے تباہ کن ثابت ہوا ہے۔‘‘

کُنوجی کیمیکل اِن پُٹ کے اثرات سے بھی ڈری ہوئی ہیں۔ یہ کپاس اُگانے کے لیے ناگزیر ہے، جب کہ آدیواسی کنبوں کے ذریعے اپنی روایتی فصلوں کے لیے ان کا استعمال شاید ہی کبھی کیا جاتا ہے۔ ’’اُن سبھی حشرہ کش، اُن کھادوں کو – سریندر سبھی کو کپاس [کے پودوں] پر ڈالے گا۔ کیا یہ ہماری مٹی کو خراب نہیں کرے گا، اس میں موجود باقی سبھی چیزوں کو نہیں مار دے گا؟ میں نے خود اپنی آنکھوں سے اپنے کھیت کے بغل میں دیکھا – جب انہوں نے منڈیا [راگی] کی روپائی دوبارہ کرنے کی کوشش کی، تو اس میں کامیاب نہیں ہوئے، یہ ٹھیک سے بڑھ نہیں پایا۔‘‘

ہندوستان میں نباتات کُش کپاس-متحمل کپاس کے بیجوں کی اجازت نہیں ہے، لیکن یہ رائیگڑا کے توسط سے جنگل کی طرح پھیل رہے ہیں، ساتھ ہی گلائیفوسیٹ، ’’ممکنہ طور پر کینسر کا باعث‘‘ نباتات کُش کا بھی استعمال بڑے پیمانے پر ہونے لگا ہے۔ دیبل دیب کہتے ہیں کہ ’’نباتات کُش کے مسلسل استعمال کے سبب، کھیتوں سے ساتھی نباتات، کئی کنٹیلی جھاڑیوں اور گھاسوں سمیت، غائب ہو گئے ہیں۔ اس سے تتلیوں اور کیڑوں کی آبادی میں کمی آئی ہے، جو غیر فصلی پودوں پر منحصر رہتے ہیں۔

’’اس علاقے کے ماحولیاتی علم کی بنیاد [اور اس کا حیاتی تنوع] خطرناک طور پر تباہ ہو چکا ہے۔ زیادہ سے زیادہ کسان اپنی روایتی کثیر فصلی اور جنگل میں کھیتی کے نظام کو ایک فصلی (مونوکلچر) کے لیے چھوڑ رہے ہیں، جو بھاری مقدار میں حشرہ کشوں کا مطالبہ کرتی ہے۔ کپاس کے کسان بھی نباتات کُش کا استعمال کر رہے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر... یہ نہیں جانتے کہ کون سے کیڑے درحقیقت حشرات ہیں اور کون نہیں۔ ا س لیے وہ سبھی کیڑوں کو ختم کرنے کے لیے چھڑکاؤ کرتے ہیں۔‘‘

کپاس کی کھیتی شروع ہونے کے بعد، شرنیہ نائک کہتے ہیں، ’’ہر کیڑا، پرندہ، جانور کو ایک ہی چشمے سے دیکھا جاتا ہے – فصل کے دشمن کے طور پر۔ یہ پھر ایگرو-کیمیکل اِن پُٹ کے اندھادھند استعمال کے لیے باکل صحیح بہانہ ہے۔

کُنوجی مانتی ہیں کہ لوگ اس کے بڑے اثرات کو دیکھ رہے تھے، پھر بھی کپاس کی کھیتی کر رہے تھے۔ ’’وہ ایک ساتھ اتنا سارا پیسہ دیکھ رہے ہیں،‘‘ انہوں نے اپنا ہاتھ پھیلاتے ہوئے کہا۔ ’’اور وہ لالچ میں آ جاتے ہیں۔‘‘

PHOTO • Chitrangada Choudhury

بی ٹی کپاس کا مونوکلچر (اوپر کی قطار) اور متعلقہ ایگرو-کیمیکل (نچلی قطار) رائیگڑا کے توسط سے پھیل رہے ہیں، جس سے علاقے کی خوشحال بایو ڈائیورسٹی کے لیے ایک ناگزیر خطرہ پیدا ہو گیا ہے

پاترا کہتے ہیں، ’’بیج کی تقسیم اور لین دین، کھیت پر کام کے لیے مویشیوں کو محنت کو جمع کرنے کا عوامی نظام بھی ختم ہو رہا تھا کیوں کہ کپاس نے روایتی فصلوں کو باہر کا راستہ دکھا دیا ہے۔ اب کسان ساہوکار اور تاجر کی طرف دیکھ رہے ہیں۔‘‘

ضلع کے ایک زرعی افسر (جو اپنی شناخت ظاہر نہیں کرنا چاہتے) نے پاترا کے ساتھ اتفاق کا اظہار کیا۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ ریاست نے ہی ۱۹۹۰ کی دہائی میں یہاں کے گاؤوں میں کپاس کی شروعات کی تھی اور اسے فروغ دیا تھا۔ اس کے بعد، پڑوسی ریاست آندھرا پردیش سے بیج اور ایگرو-کیمیکل اِن پُٹ کے پرائیویٹ ڈالر بھاری تعداد میں یہاں آنے لگے۔ افسر نے تسلیم کیا کہ حکومت فکرمند تو ہے، لیکن نقلی اور غیر قانونی بیجوں کی بھرمار، اور ایگرو-کیمیکلس کی بڑھتی کھپر سے نمٹنے کے لیے زیادہ کچھ نہیں کیا جا رہا تھا۔ ’’کپاس اب سر درد بن گیا ہے،‘‘ انہوں نے کہا۔

پھر بھی، پیسے کی لالچ حاوی ہے، خاص کر نوجوانوں کے لیے۔ اپنے بچوں کے لیے انگریزی تعلیم کی خواہشات، اسمارٹ فون اور موٹر بائک، اور اپنے والدین کے کھیتی کے طریقوں سے ناصبری کے ساتھ، کپاس صحیح معنوں میں جوکھم محسوس ہوتا ہے۔ اگر بازار میں ایک سال مندی رہی، تو اگلے سال اس میں اُچھال ہو سکتا ہے۔

حالانکہ، ایکولوجی کم ناقابل معافی ہے۔

’’اسپتال میں بھرتی ہونے والے مریضوں اور امراض کی قسموں میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ مختلف عضویات اور گردے کی بیماریوں سے متاثرہ لوگوں کی تعداد کافی زیادہ ہے،‘‘ دیب کہتے ہیں۔ ’’مجھے شک ہے کہ یہ آرگینوفاسفیٹ حشرہ کشوں اور گلائیفوسیٹ نباتات کُشوں کے رابطہ میں آنے کی وجہ سے ہو رہا ہے، جن کا ضلع میں بڑے پیمانے پر استعمال ہو رہا ہے۔‘‘

بشم ٹیک کے ۵۴ سال پرانے کرشچین ہاسپٹل میں پریکٹس کرنے والے ڈاکٹر جان اومین کا کہنا ہے کہ بہتر جانچ کی کمی کے سبب اس قسم کی وجوہاتی کڑیاں بنانا مشکل ہے۔ ’’ریاست کا دھیان ابھی بھی ملیریا جیسی متعدی بیماریوں پر ہے۔ لیکن سب سے تیزی سے بڑھنے والی بیماریاں جو ہم یہاں کے آدیواسیوں کے درمیان دیکھ رہے ہیں، وہ ہیں دل اور گردے کی بیماریاں... دراصل گردے کی طویل مدتی بیماریاں اور تعداد بہت بڑی ہے۔‘‘

وہ بتاتے ہیں کہ ’’علاقے کے سبھی پرائیویٹ اسپتالوں میں ڈائلیسس سینٹر شروع کیے ہیں، اور یہ ایک شاندار کاروبار ہے۔ ہمیں اس سوال کی پڑتال کرنی ہوگی – اس پیمانے پر گردے فیل ہونے کا سبب کیا ہے؟‘‘ اومین نے تشویش ظاہر کی کہ جن برادریوں نے سینکڑوں سالوں تک خود کو بچائے رکھا، انہیں ان تبدیلیوں کی طرف زبردستی دھکیلا یا مجبور کیا جا رہا تھا جن کے لیے وہ بہت کم تیار تھے۔

*****

اُس ہفتے نیامگیری پہاڑوں میں واپس، ایک گرم صبح کو، ہم اوبی ناگ سے ملے، ایک متوسط عمر کے کوندھ آدیواسی کسان، جو دھات کے ایک برتن اور مہاراشٹر واقع ایکسل کراپ کیئر لمیٹڈ کے ذریعے تیار کردہ گلائیفوسیٹ کے سیال آمیزہ، گلائیسل کی ایک لیٹر کی بوتل کے ساتھ اپنی زمین کے ایک ٹکڑے کی طرف جا رہے تھے۔

ناگ اپنی ننگی پیٹھ پر ہاتھ سے چلائے جانے والے نیلے رنگ کا ایک اسپریئر لیے جا رہے تھے۔ وہ اپنے کھیت کے پاس ایک چھوٹی سی پہاڑی سے بہتے پانی کے پاس رک گئے، اور اپنا بوجھ نہیں اتارا۔ برتن کا استعمال کرتے ہوئے، انہوں نے اسپریئر کو پانی سے بھر دیا۔ پھر انہوں نے ’’دکاندار کی ہدایتوں کے مطابق‘‘ گلائیفوسیٹ کے دو ڈھکن اس میں ملائے۔ اسے انہوں نے زور سے ہلایا، اسپریئر کو دوبارہ باندھا اور اپنے کھیت کی نباتات پر چھڑکاؤ کرنا شروع کر دیا۔ ’’یہ سبھی تین دنوں میں مر جائیں گی، اور کھیت کپاس کی بوائی کے لیے تیار ہو جائے گا،‘‘ انہوں نے کہا۔

PHOTO • Chitrangada Choudhury

جولائی کی ایک صبح، نیامگیری کے پہاڑوں میں، ننگے بدن اوبی ناگ گلائیفوسیٹ کی بوتل کھولتے ہیں، جو کہ ایک نباتات کُش اور کینسر کا ممکنہ سبب ہے۔ وہ اپنے کھیت کے قریب پہاڑ سے بہنے والے پانی سے اسے پتلا کرتے ہیں، اور اسے کھیت پر چھڑکتے ہیں، بی ٹی کپاس (بائیں اور درمیان) بونے کی تیاری کے طور پر۔ تین دن بعد، زمین پر بہت سارے نباتات غائب ہو گئے (دائیں)

گلائیفوسیٹ بوتل پر انگریزی، ہندی اور گجراتی میں انتباہ میں یہ چیزیں شامل تھیں: غذائی اشیاء، غذائی اشیاء کے خالی برتنوں، اور جانوروں کے چارے سے دور رکھیں؛ منھ، آنکھوں اور جلد کے رابطے سے بچیں؛ چھڑکاؤ کے دھند میں سانس لینے سے بچیں۔ ہوا کی سمت میں چھڑکاؤ کریں؛ چھڑکاؤ کے بعد آلودہ کپڑے اور جسم کے حصوں کو اچھی طرح سے دھوئیں؛ آمیزہ بناتے اور چھڑکاؤ کرتے وقت پوری طرح حفاظتی لباس پہنیں۔

ناگ اپنی کمر کے چاروں طرف ایک چھوٹے سے کپڑے کو چھوڑ کر ننگے تھے۔ چھڑکاؤ کرتے وقت ان کے پیروں اور ٹانگوں پر بوندیں گرتی گئیں؛ جب کہ ہوا کے سبب نباتات کُش کی دھند ہمارے اوپر، ان کے کھیت کے بیچ میں کھڑے درخت پر، اور آس پاس کے کھیتوں پر بھی پڑی۔ ساتھ ہی ان کے کھیت کے قریب سے بہنے والے پانی میں گئی، جو دیگر کھیتوں میں گری اور تقریباً ۱۰ گھروں کے گروپ اور ان کے ہینڈ پمپ تک پہنچی۔

تین دن بعد ہم ناگ کے اُس کھیت پر دوبارہ گئے، اور دیکھا کہ ایک چھوٹا لڑکا وہاں اپنی گایوں کو چرا رہا ہے۔ ہم نے ناگ سے پوچھا کہ انہوں نے جو گلائیفوسیٹ چھڑکا تھا، کیا اس سے گایوں کو کوئی خطرہ ہو سکتا ہے، تو انہوں نے خوداعتمادی سے کہا: ’’نہیں، تین دن ہو گئے ہیں۔ اگر انہوں نے اسی دن چرا ہوتا جس دن میں نے چھڑکاؤ کیا تھا، تو وہ بیمار پڑ جاتے اور شاید مر جاتے۔‘‘

ہم نے اس لڑکے سے پوچھا کہ وہ کیسے جانتا ہے کہ کن کھیتوں میں گلائیفوسیٹ کا تازہ چھڑکاؤ کیا گیا ہے، تاکہ اپنے مویشی کو وہاں لے جانے سے بچے۔ اس نے کندھا اُچکاتے ہوئے کہا، ’’کسان اگر نباتات کُش کا چھڑکاؤ کرتے ہیں تو ہمیں بتا دیتے ہیں۔‘‘ لڑکے کے والد نے ہمیں بتایا کہ ایک پڑوسی گاؤں میں پچھلے سال کچھ مویشیوں کی موت ہو گئی تھی، جب جانوروں نے تازہ چھڑکاؤ والے کھیت میں چرائی کی تھی۔

دریں اثنا، ناگ کے کھیت پر زیادہ تر گھاس ختم ہو چکی تھی۔ یہ کپاس کی بوائی کے لیے تیار تھا۔

کور فوٹو: رائیگڑا کے گُنوپور بلاک میں ایک ساورا آدیواسی بٹائی دار کسان، موہنی سبرا کا کہنا ہے کہ انہوں نے کچھ سال پہلے تک غذائی فصلیں اُگائی تھیں، اور اب صرف بی ٹی کپاس اُگاتے ہیں۔ (تصویر: چترانگدا چودھری)

موسمیاتی تبدیلی پر پاری کی ملک گیر رپورٹنگ، عام لوگوں کی آوازوں اور زندگی کے تجربہ کے توسط سے اس واقعہ کو ریکارڈ کرنے کے لیے یو این ڈی پی سے امداد شدہ پہل کا ایک حصہ ہے۔

اس مضمون کو شائع کرنا چاہتے ہیں؟ براہِ کرم [email protected] کو لکھیں اور اس کی ایک کاپی[email protected]  کو بھیج دیں۔

(مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف، اردو ’روزنامہ میرا وطن‘ کے نیوز ایڈیٹر ہیں، اور ماضی میں ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

Chitrangada Choudhury

چترانگدا چودھری اڈیشہ میں رہائش پذیر ملٹی میڈیا صحافی اور ریسرچر، اور اوپن سوسائٹی انسٹی ٹیوٹ کی ایک فیلو ہیں۔ آپ مضمون نگار سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں:  

Other stories by Chitrangada Choudhury

انِکیت آگا ایک ماہر بشریات ہیں۔ وہ اشوکا یونیورسٹی، سونی پت میں انوائرمینٹل اسٹڈیز پڑھاتے ہیں۔

Other stories by Aniket Aga