’’میرے پاس موبائل فون نہیں ہے، میں سرکار کے ساتھ رجسٹریشن کیسے کرا سکتی ہوں؟‘‘ تلنگانہ کے سنگا ریڈی ضلع کے انّا رام گاؤں میں ایک اینٹ بھٹے پر کام کرنے والی کُنی تاملیا سوال کرتی ہیں۔ انہیں لگا کہ شاید ہم لوگ شرمک اسپیشل ٹرین کے لیے ان کا نام درج کروانے میں مدد کریں گے جس سے وہ اپنے بچوں کے ساتھ اوڈیشہ اپنے گھر لوٹ سکیں۔

حکومت تلنگانہ کی ویب سائٹ پر مہاجر مزدوروں کو ٹرانسپورٹ سے متعلق اپنی درخواست کا رجسٹریشن کرانے کے لیے ایک موبائل فون نمبر فراہم کرنا چاہیے – اور حکومت اوڈیشہ مہاجرین کی واپسی کے لیے اس کا مطالبہ کر رہی ہے۔

’’اور میں نے ان کے آدھار کارڈ گاؤں میں ہی چھوڑ دیے تھے۔ ایسے میں کیا انہیں ٹرین میں چڑھنے دیا جائے گا؟‘‘ اپنے بیٹوں، ۱۵ سالہ بھکت اور ۹ سال کے جگن ناتھ کی طرف تشویش سے دیکھتے ہوئے انہوں نے پوچھا۔ کنی نے بتایا کہ وہ تقریباً ۴۰ سال کی ہیں، حالانکہ ان کے آدھار کارڈ کے مطابق وہ ۶۴ سال کی ہیں۔ ’’مجھے نہیں معلوم کہ کارڈ میں کیا لکھا ہے؛ وہ بس اسے کمپیوٹر میں ڈال دیتے ہیں۔‘‘

انہوں نے نومبر ۲۰۱۹ میں بھٹے پر کام کرنا شروع کیا تھا، اور مئی کے آخر میں اپنے کام کی مدت پوری کرنے کے بعد اوڈیشہ لوٹنے کی امید کر رہی تھیں۔ لیکن لاک ڈاؤن نے ایک بیوہ، کنی کے لیے سب کچھ غیر یقینی بنا دیا، جنہوں نے پہلی بار اینٹ بھٹے پر کام کرنا شروع کیا تھا۔ انہیں اور ان کے بچوں کو بودھ ضلع کے کنٹا مال بلاک میں واقع ان کے گاؤں، دیموہنی سے ٹرک کے ذریعے گُمّا دِدلا منڈل کے انّا رام لایا گیا تھا۔

کُنی کے اپنے بچوں کے ساتھ انّا رام آنے کے کچھ ہفتوں بعد، ۴۲ سالہ سمترا پردھان بھی اپنے ۴۰ سالہ شوہر گوپال راؤت اور پانچ بچوں کے ساتھ اوڈیشہ سے یہاں آئی تھیں۔ وہ بلانگیر کے  ٹٹلا گڑھ بلاک کے سگد گھاٹ گاؤں سے گزشتہ ۷-۸ برسوں سے اس اینٹ بھٹے پر آ رہے ہیں۔ ان کا سب سے بڑا بیٹا، ۲۰ سالہ راجو بھی اپنے والدین کے ساتھ ہی کام کرتا ہے۔ اپنے گھر سے نکلنے سے پہلے، ٹھیکہ دار نے انہیں اینٹ ڈھونے کے لیے تین افراد کے کل ۷۵ ہزار روپے پیشگی دیے تھے۔

Left: Kuni Tamalia and son Jagannadh near their small home made with loosely stacked bricks. Right: Sumitra Pradhan, Gopal Raut and daughter Rinki
Left: Kuni Tamalia and son Jagannadh near their small home made with loosely stacked bricks. Right: Sumitra Pradhan, Gopal Raut and daughter Rinki
PHOTO • Varsha Bhargavi

بائیں: کُنی تاملیا اور ان کا بیٹا جگن ناتھ، ٹوٹی پھوٹی اینٹوں سے بنے اپنے چھوٹے سے گھر کے پاس۔ دائیں: سمترا پردھان، گوپال راؤت اور بیٹی رنکی

اس سیزن میں بھٹّے پر کچھ مہینے تک کام کرنے کے بعد، مارچ میں جیسے ہی کووڈ-۱۹ کی خبریں آنے لگیں، سمترا وائرس کے بارے میں فکرمند ہو گئیں۔ انہیں ڈر تھا کہ ان کے چھوٹے بچے – ۹ سالہ جُگل، ۷ سالہ رنکی اور ۴ سالہ روپا – بیمار پڑ جائیں گے۔ ’’ہم نے سنا ہے کہ کورونا ۱۰ سال سے کم عمر کے بچوں کو بیمار کرتا ہے۔ ہم واپس جانا چاہتے ہیں، لیکن مالک کا کہنا ہے کہ اوڈیشہ جانے سے پہلے ہمارے پاس ابھی بھی ایک ہفتہ کا کام باقی ہے۔ لیکن اب تو ہم جا بھی نہیں سکتے کیوں کہ ہم نے سنا ہے کہ ٹرین پکڑنے کے لیے ہمیں تلنگانہ حکومت کے ساتھ رجسٹریشن کرانا ہوگا،‘‘ انہوں نے کہا۔

۲۲ مئی کو جب ہم مزدوروں سے ملے، تو اس وقت انّا رام کا درجہ حرارت ۴۴ ڈگری سیلسیس تھا۔ کنی اینٹ ڈھونے کا کام کرنے کے بعد ایک گھنٹہ کے لیے بریک پر تھیں۔ وہ ہمیں اینٹ کے ٹکڑوں سے بنی اپنی چھوٹی سی جھونپڑی تک لے گئیں – اس کے اندر کوئی کمرہ نہیں تھا۔ آدھی جھونپڑی کے اوپر اسبستوس کی شیٹ لگی ہوئی تھی، جب کہ چھت کا باقی آدھا حصہ پلاسٹک کی شیٹ سے ڈھکا ہوا تھا، جس کے اوپر پتھر رکھے ہوئے تھے تاکہ وہ اپنی جگہ سے ہلے نہیں۔ لیکن گرمی سے بچنے کے لیے یہ کافی نہیں تھا۔ ہمارے ساتھ بات کرتے ہوئے، کنی نے بچے ہوئے چاول کو ہلایا، جو مٹی کے فرش پر بنے عارضی چولہے کی آگ سے ابھی بھی گرم تھا۔

انہوں نے بتایا کہ وہ اینٹ بھٹے پر ہفتہ میں چھ دن، صبح ۶ بجے سے رات ۱۰ بجے تک کام کرتی ہیں۔ انہیں کھانا بنانے، غسل کرنے، کھانا کھانے اور کپڑے اور برتن دھونے کے لیے دن میں دو بار کام سے بریک ملتا تھا – ایک گھنٹہ صبح میں اور دو گھنٹے دوپہر میں۔ بھٹے پر کام کرنے والے دیگر لوگوں کو صرف ایک بار ہی بریک ملتا تھا۔ ’’وہ اینٹ بنانے والے مزدور ہیں۔ میں صرف اینٹ ڈھوتی ہوں۔ وہ لمبے وقت تک لگاتار کام کرتے ہیں، جس میں وہ اینٹیں بناتے ہیں۔ انہیں ہم سے بہتر اجرت ملتی ہے۔ میرا کام ان کے مقابلے آسان ہے،‘‘ انہوں نے کہا۔

بھٹّے سے اینٹوں کو سکھانے کے مقام تک جانے میں تقریباً ۱۰ منٹ کا وقت لگتا ہے۔ اتنے وقت میں، کنی اینٹوں کو سر پر رکھتی، انہیں لے جاتی اور وہاں پر اتارنے کے بعد دوبارہ لوٹتی ہیں۔ اینٹ ڈھونے والے بنا رکے اپنا یہ کام تیزی سے کرتے رہتے ہیں۔ ’’عورتیں ایک بار میں صرف ۱۲ سے ۱۶ اینٹیں ہی لے جا سکتی ہیں، لیکن مرد زیادہ اینٹیں ڈھو سکتے ہیں، اس لیے انہیں زیادہ پیسے ملتے ہیں،‘‘ کُنی نے اینٹ ڈھونے والی ایک عورت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا۔ ہم نے دیکھا کہ مرد ہر ایک کندھے پر تقریباً ۱۷ اینٹیں لے جا رہے ہیں، اور وزن کو اپنے دونوں کندھوں پر متوازن کرتے ہیں۔

کُنی جس بھٹّے پر کام کرتی ہیں، وہ انّا رام کے دیگر بھٹوں سے چھوٹا ہے۔ سبھی مزدور اینٹ بھٹے کے احاطہ میں ہی رہتے ہیں، لیکن انہیں کوئی سہولت نہیں دی جاتی۔ بیت الخلاء نہیں ہے، اور ہر طرح کے استعمال کے لیے سیمنٹ سے بنی پانی کی صرف ایک ٹنکی ہے۔ ’’ہم یہیں پر غسل کرتے ہیں، ٹنکی کے پاس، اور کھلے میں رفع حاجت کرنے جاتے ہیں،‘‘ کنی نے قریب کے ایک میدان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ ’’پینے اور کھانا پکانے کے لیے ہم ٹنکی سے پانی لے جاتے ہیں۔‘‘

The brick carriers moved swiftly despite the blazing heat. Women carried 12 to 16 bricks per trip; men carried up to 34 at a time
PHOTO • Varsha Bhargavi

تپتی گرمی کے باوجود اینٹ ڈھونے والے تیزی سے چل رہے تھے۔ عورتیں صرف ۱۲-۱۶ اینٹیں ہی لے جا سکتی ہیں؛ مرد ایک بار میں ۳۴ اینٹیں ڈھو رہے تھے

نومبر میں دیموہنی چھوڑنے سے پہلے، کنی پیشگی رقم کے طور پر ۲۵ ہزار روپے حاصل کرنے والی تھیں – اینٹ بنانے والوں کو جو ملتا ہے اس سے ۱۰ ہزار روپے کم۔ ’’لیکن انہوں نے مجھے صرف ۱۵ ہزار روپے دیے۔ سردار [ٹھیکہ دار] نے مجھے بتایا کہ باقی پیسہ تب ملے گا جب میں مئی میں بھٹے پر سارا کام ختم کر دوں گی۔ یہاں پر وہ کھانے اور خرچ کے لیے ۴۰۰ روپے ہر ہفتے دیتے ہیں،‘‘ انہوں نے بتایا۔ ’’میرے شوہر کے انتقال کے بعد، اپنے بچوں کو کھلانا میرے لیے مشکل ہو گیا تھا۔‘‘

کچھ دنوں تک بستر پر رہنے کے بعد کُنی کے شوہر کا پچھلے سال انتقال ہو گیا تھا۔ ’’ڈاکٹر نے ہمیں بتایا تھا کہ ان کے گھٹنے پوری طرح سے بیکار ہو چکے ہیں۔ ڈاکٹر کی صلاح کے مطابق ہمارے پاس ان کی دوا خریدنے یا انہیں کھانا کھلانے کے لیے پیسے نہیں تھے،‘‘ انہوں نے پکے ہوئے چاول کے برتن کو المونیم کی ایک بڑی پلیٹ سے ڈھانپتے ہوئے کہا۔

اُدھر گاؤں میں، دھان یا کپاس کے کھیتوں پر مزدوری کرکے کُنی ۱۵۰ روپے روزانہ کماتی تھیں۔ ’’لیکن یہ کام لگاتار نہیں ملتا۔ کام صرف تبھی ملتا ہے جب کوئی مجھے بلاتا ہے۔ اس پر گزارہ کرنا بہت مشکل ہے کیوں مجھے ان دو بچوں کا پیٹ بھرنا ہے۔ لوگوں کو اینٹ بھٹے کے کام پر لے جانے کے لیے سردار ہر سال میرے گاؤں آتا ہے،‘‘ انہوں نے بتایا۔ ’’میں پہلی بار یہاں آئی ہوں۔‘‘

کُنی اور ان کے بچے مہار برادری کے ہیں، جو ایک درج فہرست ذات ہے۔ وہ پچھلے سیزن میں انّا رام کے بھٹے پر کام کرنے والی اپنے ضلع کی واحد فیملی تھی۔ اس سال بھٹے پر جو ۴۸ کنبے کام کر رہے تھے، ان میں سے زیادہ اوڈیشہ کے بلانگیر اور نوا پاڑہ ضلع سے آئے تھے۔ کچھ کالا ہانڈی اور بارگڑھ کے تھے۔ کام کرنے والے کل ۱۱۰ بالغ تھے، جن کے ساتھ ۳۷ بچے بھی نومبر ۲۰۱۹ سے مئی ۲۰۲۰ تک بھٹے پر ٹھہرے ہوئے تھے۔

اُدھر گھر پر، سمترا، گوپال اور راجو، جو درج فہرست ذات کی جھالا برادری سے ہیں، جون سے نومبر تک بٹائی دار کسانوں کے طور پر کام کرتے ہیں۔ ’’ہمارے پاس جتنا پیسہ ہوتا ہے اس کی بنیاد پر، ہم ۳-۴ ایکڑ کھیت بٹائی پر لیتے ہیں اور اس میں کپاس یا چاول کی کھیتی کرتے ہیں۔ کبھی کبھی، ہم یومیہ زرعی مزدور کے طور پر کام کرتے ہیں اور روزانہ ۱۵۰ روپے کماتے ہیں، لیکن میری بیوی کو صرف ۱۲۰ روپے ملتے ہیں، کیوں کہ وہ عورتوں کو کم مزدوری دیتے ہیں۔ یہ مشترکہ آمدنی ہماری فیملی کے لیے ناکافی ہے،‘‘ گوپال نے بتایا۔

Children studied at the kiln's worksite school, which was shut during the lockdown. Bottom right: Kuni at the cement tank where the workers bathed and washed clothes, and filled water for drinking and cooking too
PHOTO • Varsha Bhargavi

بچے بھٹے کے اسکول میں پڑھائی کرتے ہیں، جو لاک ڈاؤن کے دوران بند تھا۔ نیچے دائیں: کنی سیمنٹ سے بنی اس ٹنکی کے پاس کھڑی ہیں، جہاں سبھی مزدور غسل کرتے اور کپڑے دھوتے ہیں، اور پینے اور کھانا پکانے کے لیے یہیں سے پانی لے جاتے ہیں

کورونا وائرس کو لیکر جو تشویش سمترا کی ہے، وہی تشویش بھٹے پر کام کرنے والے دیگر والدین کی بھی ہے، ریاستی محکمہ تعلیم اور ایک این جی او کے ذریعے چلائے جا رہے سڑک کے کنارے واقع اسکول کی ایک ٹیچر، سرتھ چندر ملک نے بتایا۔ ’’یہ [وائرس] یہاں سبھی والدین کے لیے ایک تشویش کا موضوع ہے، کیوں کہ ان کے پاس چھوٹے بچے ہیں۔ انہوں نے سنا ہے کہ کورونا نوجوانوں سے زیادہ بچوں اور بزرگوں کو متاثر کرتا ہے۔ انہیں ڈر لگا رہتا ہے کیوں کہ وہ خبروں پر نظر رکھتے ہیں یا انہیں اپنے رشتہ داروں سے روزانہ جانکاری ملتی رہتی ہے کہ معاملے بڑھ رہے ہیں،‘‘ ملک نے کہا۔

اسکول میں، اینٹ بھٹے پر کام کرنے والے مزدوروں کے بچوں کو نوٹ بک اور دوپہر کا کھانا ملتا تھا۔ لیکن چونکہ یہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے بند تھا، اس لیے بچوں کے والدین کو مئی کے آخر تک، تقریباً دو مہینے کے لیے اپنی مزدوری سے ان کے لیے اضافی کھانے کا انتظام کرنا پڑا۔

کنی کے  بیٹے، بھکت نے اپنی ماں کے ساتھ تلنگانہ آنے کے لیے ۸ویں کلاس میں ہی اسکول چھوڑ دیا تھا؛ اس کے چھوٹے بھائی جگن ناتھ نے اس سفر کے لیے تیسری کلاس کو بیچ میں ہی چھوڑ دیا تھا۔ وہ اپنے بیٹوں کو ساتھ لے آئیں کیوں کہ وہ انہیں گاؤں میں نہیں چھوڑ سکتی تھیں۔ ’’اس کے علاوہ، سردار نے کہا تھا کہ میرے بچے یہاں اسکول میں اپنی پڑھائی جاری رکھ سکتے ہیں۔ لیکن جب ہم یہاں پہنچے، تو انہوں نے بھکت کو داخلہ دینے سے منع کر دیا،‘‘ انہوں نے بتایا۔ کنی کو معلوم نہیں تھا کہ اینٹ بھٹے کے اسکول میں صرف ۱۴ سال سے کم عمر کے بچوں کو ہی داخلہ ملتا ہے، جب کہ بھکت کی عمر ۱۵ سال ہے۔ اس لیے بھکت اینٹ ڈھونے میں اپنی ماں کی مدد کرنے لگا، لیکن اسے اپنے کام کے لیے پیسے نہیں مل رہے تھے۔

سمترا کا دوسرا بیٹا، سُبل ۱۶ سال کا ہے، اس لیے اسے بھی اسکول میں داخلہ نہیں مل سکا۔ ’’وہ بھٹے کے بغل میں مرغی فارم میں کام کرتا ہے۔ اسے بھی ابھی تک کوئی پیسہ نہیں ملا ہے۔ لیکن مجھے لگتا ہے کہ اس کا مالک ہمارے یہاں سے جانے سے پہلے مزدوری ضرور دے گا،‘‘ گوپال نے کہا۔

کُنی کو ویسے تو لاک ڈاؤن کے دوران ہفتہ واری بھتہ کے طور پر ۴۰۰ روپے مل رہے تھے، لیکن ان کے کام کی جگہ کے باہر سب کچھ بند ہو جانے سے ان کے معمولی وسائل متاثر ہونے لگے۔ ’’پہلے ایک کلو ٹوٹا ہوا چاول ۲۰ روپے میں مل جاتا تھا، اب وہی چاول دکانوں پر ۳۵ روپے میں فروخت ہو رہا ہے،‘‘ کُنی نے بتایا۔ اپریل میں، مہاجر مزدوروں کے لیے ریاستی حکومت کی راحت اشیاء کے طور پر انہیں ۱۲ کلو چاول اور ۵۰۰ روپے فی کس نقد ملے تھے۔ لیکن مئی میں کچھ نہیں آیا۔

The 48 families working at the kiln lived on the premises with barely any facilities, and were waiting to return to Odisha
PHOTO • Varsha Bhargavi

بھٹّے پر کام کرنے والے ۴۸ کنبے ٹھہرے ہوئے تھے، لیکن وہاں پر ان کے لیے کوئی سہولت نہیں تھی، اور وہ اوڈیشہ لوٹنے کا انتظار کر رہے تھے

سنگا ریڈی ضلع کے ایڈیشنل کلکٹر، جی ویرا ریڈی نے ہمیں بتایا کہ سرکار کے ذریعے اپریل میں مہاجر مزدوروں کو مفت چاول اور نقدی تقسیم کرنے کا حکم جاری کیے جانے کے بعد انہیں تلنگانہ حکومت کے چیف سیکریٹری کی طرف سے ایک سرکولر ملا تھا۔ ’’اس میں لکھا تھا کہ اینٹ بھٹّے پر کام کرنے والے جو مزدور پہلے سے ہی مزدوری پا رہے ہیں، یہ راحت اشیاء ان کے لیے نہیں ہے۔ مفت راشن صرف ان مہاجر مزدوروں کے لیے ہے جو لاک ڈاؤن کی وجہ سے پھنسے ہوئے ہیں اور جنہیں اپنے آجروں سے مزدوری نہیں مل رہی ہے،‘‘ انہوں نے کہا۔

جب ان سے بھٹے پر رہنے والے مزدوروں کی افسوس ناک حالت کے بارے میں پوچھا گیا، تو انہوں نے جواب دیا، ’’مزدوروں اور آجروں کے درمیان قریبی رشتہ ہوتا ہے، جسے ضلع انتظامیہ ٹھیس نہیں پہنچانا چاہتی۔‘‘

۲۲ مئی کو جب ہم اینٹ بھٹّے پر گئے تھے، تو ایک ٹھیکہ دار، پرتاپ ریڈی نے ہمیں بتایا تھا کہ مزدوروں کی اچھی دیکھ بھال کی جا رہی ہے۔ ’’وہ جیسے ہی اپنا کام ختم کر لیں گے، ہم انہیں بھیج دیں گے،‘‘ انہوں نے گھر جانے کی ان کی خواہش کے بارے میں کہا تھا۔

لیکن سمترا اور کُنی جلد از جلد اپنے گھر جانا چاہتی تھیں۔ ’’ہم نومبر میں دوبارہ بھٹوں پر آئیں گے۔ لیکن اب ہم واپس جانا چاہتے ہیں کیوں کہ کورونا ہمارے بچوں کو بیمار کر سکتا ہے،‘‘ سمترا نے کہا۔

لاک ڈاؤن کے دوران کُنی کو ایک اور فکر لاحق تھی: ’’مانسون جلد ہی شروع ہو جائے گا۔ اگر ہم وقت پر اپنے گاؤں نہیں پہنچے، تو شاید ہمیں کھیتوں پر کام نہ ملے اور تب ہمارے پاس وہاں نہ تو کام ہوگا اور نہ ہی کوئی آمدنی۔‘‘

پوسٹ اسکرپٹ: ۲۳ مئی کو، جب ہم ان سے ملے تھے اس کے ایک دن بعد، اینٹ بھٹّے پر کام کرنے والے سبھی مزدوروں کو شرمک اسپیشل ٹرین سے اوڈیشہ بھیج دیا گیا تھا۔ ۲ جون کو، مفادِ عامہ کی ایک عرضی پر سماعت کے بعد تلنگانہ ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت کو حکم جاری کیا کہ وہ اوڈیشہ کے تمام مہاجر مزدوروں کو ان کے گھر واپس بھیجنے کا انتظام کرے۔

تلنگانہ کے لیبر کمشنر نے ۹ جون کو عدالت کو ایک رپورٹ سونپی، جس میں کہا گیا تھا کہ اینٹ بھٹوں پر ۱۶۲۵۳ مزدور رکے ہوئے ہیں، اور بھٹہ مالک انہیں سہولیات فراہم کر رہے ہیں۔ ریاست کے ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ پانچ شرمک اسپیشل ٹرینیں ۱۱ جون کو اوڈیشہ کے لیے روانہ ہوں گی، جس سے ۹۲۰۰ مہاجر مزدوروں کو تلنگانہ سے بھیجا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اینٹ بھٹّے کے باقی مزدوروں کو واپس بھیجنے کے لیے ۱۲ جون سے کچھ اور ٹرینیں چلائی جائیں گے۔

مترجم: محمد قمر تبریز

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف ہیں، اور ’روزنامہ میرا وطن‘، ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

Varsha Bhargavi

ورشا بھارگوی مزدوروں اور بچوں کے حقوق کی ایک کارکن، اور تلنگانہ میں مقیم صنف کے بارے میں بیداری مہم چلانے والی ایک ٹرینر ہیں۔

Other stories by Varsha Bhargavi