رمیش بھائی منو بھائی پٹیل گجرات کے کھیڑا ضلع کے ناڈیاڈ تعلقہ کے دنتالی گاؤں میں اپنے آبائی گھر کے سامنے والے دالان میں چارپائی پر مایوسی سے بیٹھے ہوئے ہیں۔ گھر کی حالت خستہ ہے، اس کی دیواروں سے سیمنٹ جھڑ رہی ہے، جس کی وجہ سے بد رنگ اینٹیں نمایاں ہونے لگی ہیں۔

بزرگ کسان اپنی کانپتی ہوئی انگلیوں سے ایک کمرے کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ یہ ان کے لیے خاص ہے – یہیں پر، ۸۲ سال پہلے ان کی پیدائش ہوئی تھی۔ رمیش بھائی جذباتی طور پر اس گھر سے جڑے ہوئے ہیں، خاص کر اس مخصوص کمرے سے۔

لیکن اس کمرہ کے ساتھ ساتھ پورا گھر اور آس پاس کے زیادہ تر کھیت، جن پر یہ فیملی دھان اور ہری سبزیاں اُگاتی ہے، کو بُلیٹ ٹرین پروجیکٹ کی راہ ہموار کرنے کے لیے گرایا جا سکتا ہے۔

انتہائی تیز رفتار والی یہ ٹرین تقریباً تین گھنٹے میں ۵۰۸ کلومیٹر کی دوری طے کرے گی – جن میں سے۳۵۰ کلومیٹر گجرات میں ہے، دادرا اور نگر حویلی میں ۲ کلومیٹر اور مہاراشٹر میں ۱۵۵ کلومیٹر ہے۔ نیشنل ہائی اسپیڈ ریل کارپوریشن لمیٹڈ کی ویب سائٹ کے مطابق، یہ بُلیٹ ٹرین ممبئی کے باندرہ کُرلا کامپلیس اور احمد آباد کے سابر متی ریلوے اسٹیشن کے درمیان چلے گی۔

Hiteshkumar Patel (far left) of Davda village with other villagers
PHOTO • Ratna
Rameshbhai to loose his land for bullet train
PHOTO • Ratna

بائیں: داوڑا گاؤں کے ہتیش کمار پٹیل (سب سے بائیں) کہتے ہیں، ’وہ میری روٹی چھین رہے ہیں۔ بُلیٹ ٹرین کا ہم کیا کریں گے؟‘ دائیں: رمیش بھائی اپنی زمین پہلے ہی تین بار کھو چکے ہیں۔ ’اور کتنی بار، مجھے بتائیں؟‘ وہ سوال کرتے ہیں

اس پروجیکٹ میں گجرات اور مہاراشٹر کی ریاستی حکومتوں کے ساتھ ساتھ جاپان کی حکومت بھی شامل ہے، جو ایک اعشاریہ ایک صفر کروڑ روپے کی لاگت والے اس پروجیکٹ میں سے ۸۱ فیصد رقم مہیا کرائے گی۔ اس کا سنگ بنیاد ۱۴ ستمبر، ۲۰۱۷ کو احمد آباد میں وزیر اعظم نریندر مودی اور جاپان کے وزیر اعظم شنزو آبے نے رکھا تھا۔ حکومت ہند نے کہا ہے کہ بلیٹ ٹرین اگست ۲۰۲۲ سے چلنے لگے گی۔

اس پروجیکٹ سے گجرات، مہاراشٹر اور دادرا اور نگر حویلی کے ۲۹۶ گاؤوں کے تقریباً ۱۴۸۸۴ گھر متاثر ہوں گے، جن میں سے ایک رمیش بھائی بھی ہیں۔ اپنے مکانوں کے نقصان کے علاوہ، بے گھر ہونے والے کنبوں کو اپنا ذریعہ معاش بھی کھونا پڑے گا۔ اطلاع کے مطابق، اس پروجیکٹ کے لیے ۱۴۳۴ اعشاریہ ۲۸ ہیکٹیئر زمین تحویل میں لی جائے گی اور تقریباً ۳۷۳۹۴ درخت کاٹے جائیں گے۔

تحویل اراضی کے لیے مرکزی حکومت کی طرف سے معاوضہ کی جو قیمت طے کی گئی ہے اس کے مطابق، دیہی علاقوں کے زمین مالکوں کو بازار کی قیمت سے چار گنا زیادہ معاوضہ ملے گا، جب کہ شہری ترقیاتی اتھارٹی (یو ڈی اے) یا ایریا ڈیولپمنٹ اتھارٹیز (اے ڈی اے) کے تحت آنے والی قابل کاشت زمینوں کا معاوضہ دو گنا زیادہ دیا جائے گا۔ ستمبر ۲۰۱۸ میں گجرات کے وزیر مالیات کوشک پٹیل نے کہا تھا کہ ریاستی حکومت نے یو ڈی اے اور اے ڈی اے کے تحت آنے والے کسانوں کو ان کی زمین کی قیمت بازار کی قیمت سے چار گنا زیادہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

House to be acquire for Ahmedabad-Mumbai bullet train
PHOTO • Ratna
House to be acquire for Ahmedabad-Mumbai bullet train
PHOTO • Ratna

بُلیٹ ٹرین پروجیکٹ سے گجرات، مہاراشٹر اور دادرا اور نگر حویلی کے ۲۹۶ گاؤوں کے متاثر ہونے کی توقع ہے

لیکن رمیش بھائی اور دیگر لوگوں نے اپنی زمین دینے سے منع کر دیا ہے۔ وہ کہتے ہیں، ’’مجھے معاوضہ میں کوئی دلچسپی نہیں ہے، زمین میرے لیے زیادہ قیمتی ہے۔‘‘

رمیش بھائی کے لیے بُلیٹ ٹرین، انہیں پہلے ہی ہو چکے کئی پریشان کن نقصانات میں ایک اضافہ ہوگا۔ سال ۲۰۱۵ میں، گجرات حکومت نے فریٹ کوریڈور بنانے کے لیے ان کی ۴۶ گُنٹھا زمین لے لی تھی (۴۰ گُنٹھا کا ایک ایکڑ ہوتا ہے؛ ان کے پاس تقریباً پانچ ایکڑ زمین ہے)۔ وہ بتاتے ہیں، ’’اُس وقت زمین کی بازاری قیمت ۳ لاکھ روپے فی گُنٹھا تھی۔ لیکن ریاستی حکومت نے مجھے صرف ۱۲۵۰۰ روپے فی گُنٹھا ہی دیے۔ میں نے ان سے بہتر معاوضہ دینے کی اپیل کی تھی، لیکن ابھی تک مجھے اس کا کوئی جواب نہیں ملا ہے۔‘‘

وہ آگے کہتے ہیں، ’’کتنی بار [میری مرضی کے بغیر میری زمین چھینی جاتی رہے گی]، مجھے بتائیں؟ حکومت تین بار میری زمین چھین چکی ہے۔ پہلی بار، ریلوے لائن کی تعمیر کے لیے، دوسری بار، ایکسپریس وے بنانے کے لیے۔ تیسری بار، چھ لین والے فریٹ کوریڈور کے لیے۔ اور اب، ایک بار پھر وہ بُلیٹ ٹرین کے لیے میری زمین چھیننے والے ہیں۔‘‘

اپنی زمین کو کھونے کا ان کے اوپر اتنا گہرا اثر پڑا ہے کہ وہ اب احمد آباد کے ایک ڈاکٹر سے اپنا علاج کرا رہے ہیں، جو کہ ان کے گاؤں سے تقریباً ۵۰ کلومیٹر دور ہے۔ وہ بتاتے ہیں، ’’مجھے بہت زیادہ تناؤ ہے، کیا کروں۔ میں نے ڈاکٹر کو اپنی پریشانی کا سبب بتایا ہے۔ اگر میں اپنی زمین اسی طرح بار بار کھوتا رہوں گا، تو خوف اور تناؤ کے بغیر میں کیسے زندگی گزار سکتا ہوں؟ دراصل، ڈاکٹر نے مجھے بتایا کہ بلیٹ ٹرین کے اس پروجیکٹ کی وجہ سے ان کا بھی گھر توڑا جانے والا ہے۔‘‘

Farmland to be acquire for Ahmedabad-Mumbai bullet train
PHOTO • Ratna
stone markings on my farmland for Ahmedabad-Mumbai bullet train
PHOTO • Ratna

سال ۲۰۱۸ کے وسط میں پروجیکٹ کے لیے سروے کرنے والے لوگ گجرات کے زرول، داوڑا اور دیگر گاؤوں پہنچے تھے۔ ہتیش کمار بتاتے ہیں، ’انہوں نے میری زمین پر بطور نشان ایک پتھر گاڑ دیا اور چلے گئے‘

بُلیٹ ٹرین پروجیکٹ کے خلاف متعدد احتجاجی مظاہرے اور اپیلیں دائر کی جا چکی ہیں۔ انہی احتجاجیوں میں سے ایک گجرات کی ریاست گیر کسانوں کی تنظیم، گجرات کھیدوت سماج بھی ہے، جس نے اس پروجیکٹ کی ضرورت اور سہولت آمیزی پر سوالیہ نشان لگاتے ہوئے گجرات ہائی کورٹ میں ایک رِٹ پٹیشن دائر کیا ہے۔

گجرات کے کھیڑا ضلع کے ناڈیاڈ تعلقہ میں واقع داوڑا گاؤں (دنتالی سے تقریباً ۷۵ کلومیٹر دور) کے رہنے والے ہتیش کمار نرسی بھائی بھی اپنی ۱۰ بیگھہ زمین کھونے والے ہیں (۶ اعشاریہ ۲۵ بیگھہ ایک ایکڑ کے برابر ہوتا ہے؛ ان کے پاس کل تقریباً ۲۵ بیگھہ زمین ہے)۔ وہ کہتے ہیں، ’’وہ میری روٹی چھین رہے ہیں۔ ہم بلیٹ ٹرین کا کیا کریں گے؟ یہ میرے جیسے کسانوں کے لیے کسی کام کی نہیں ہے۔ ہمارے لیے تو موجودہ ٹرین کے نیٹ ورک کا استعمال کرتے ہوئے ہی سفر کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔ ہم اپنی منزل پر ہمیشہ وقت پر پہنچ جاتے ہیں۔ یہ بُلیٹ ٹرین درحقیقت صرف تاجروں کے لیے ہے، ہمارے لیے نہیں۔‘‘

گاؤں والے بتاتے ہیں کہ مئی-جون ۲۰۱۸ میں، پروجیکٹ کے لیے سروے کرنے والے لوگ بغیر کسی اطلاع کے داوڑا پہنچ گئے۔ تقریباً ۵۲ سال کے ہتیش کمار بتاتے ہیں، ’’انہوں نے میرے کھیت میں بطور نشان ایک پتھر گاڑ دیا اور یہاں سے چلے گئے۔ انہوں نے ایک لفظ بھی نہیں بتایا کہ وہ یہاں کس لیے آئے تھے۔ بہت بعد میں جا کر، مجھے پتہ چلا کہ میری زمین پر ریلوے لائن بنائی جائے گی۔ مجھ سے کبھی صلاح و مشورہ نہیں کیا گیا۔ مجھے نہیں معلوم کہ وہ معاوضہ کتنا دیں گے۔‘‘

Govardhanbhai Jada loosing their land which is only source of income
PHOTO • Ratna
Jasodaben of Chaklasi loosing their land which is only source of income
PHOTO • Ratna

چکلاسی گاؤں کے گووردھن بھائی جادو اور ان کی ماں جسودا بین کہتی ہیں، ’وہ ہماری زمین چھیننے جا رہے ہیں، جو کہ ہمارے معاش کا واحد ذریعہ ہے۔ ہم کہاں جائیں گے؟‘

سروے کرنے والوں کے دورہ کے بعد، گاؤں کے کچھ لوگوں نے ایک ٹیم بنائی اور ڈسٹرکٹ کلکٹر سے جا کر ملے اور ان سے واضح طور پر کہا کہ وہ اس پروجیکٹ کے سخت خلاف ہیں۔ کھیڑا ضلع کے کچھ کسانوں نے تو سروے کی کارروائی روکنے کی بھی کوشش کی تھی۔ انہی میں سے ایک گووردھن بھائی جادو ہیں، جو چکلاسی گاؤں میں رہتے ہیں۔  سروے کرنے والے علاقے کا نقشہ بنانے اور نشان کا پتھر لگانے کے لیے جب ان کے کھیت پر پہنچے، تو ان کی ۳۰ رکنی فیملی میں سے کوئی یہ اندازہ نہیں لگا پایا کہ وہ کیوں آئے ہیں۔

گووردھن بھائی ناراضگی سے کہتے ہیں، ’’اس بلیٹ ٹرین پروجیکٹ کے بارے میں ہمیں پڑوسی گاؤں کے لوگوں سے معلوم ہوا، سرکاری ذرائع سے نہیں۔ حکومت کو ہمیں کچھ بھی بتانے کی پرواہ نہیں ہے۔ ہم نے اس سال بیج بھی نہیں بوئے کیوں کہ ہمیں پتہ چلا کہ میں اس وقت جہاں کھڑا ہوں، حکومت اس کھیت کو اپنی تحویل میں لینے والی ہے۔ اگر اس پروجیکٹ میں پیش رفت ہوئی، تو میری [تمام] زمین [۱۰ بیگھہ] چلی جائے گی۔‘‘

سروے کرنے والے جب دوسری بار وہاں آئے، تو انہیں گاؤں والوں کی ناراضگی کا سامنا کرنا پڑا۔ گووردھن بھائی کی ماں، جسودا بین بتاتی ہیں، ’’وہ جب دوبارہ آئے، اس بار کچھ پولیس والوں کے ساتھ، تو مجھ سمیت یہاں کی تمام عورتوں نے ہاتھ میں ہتھوڑی اور پتھر تھامے انہیں یہاں سے کھدیڑ کر بھگا دیا۔ وہ ہم سے ہماری زمین چھیننے جا رہے ہیں، جو کہ ہمارا واحد ذریعہ معاش ہے۔ ہم کہاں جائیں گے؟ ہمیں بُلیٹ ٹرین نہیں چاہیے۔ ہماری زمین چھیننے سے پہلے تمہیں ہماری جان لینی ہوگی۔‘‘

مترجم: محمد قمر تبریز

Ratna

رتنا دہلی- این سی آر میں مقیم ایک صحافی، مصنف، دستاویزی فلم ساز، ماہر فوٹوگرافر اور سیاح ہیں۔

کے ذریعہ دیگر اسٹوریز Ratna
Translator : Qamar Siddique

قمر صدیقی، پیپلز آرکائیو آف رورل انڈیا کے ٹرانسلیشنز ایڈیٹر، اردو، ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی ہیں۔

کے ذریعہ دیگر اسٹوریز Qamar Siddique