دو سال میں کم از کم ۱۳ ہلاکتیں، شاید ۱۵۔ کئی مویشی مارے اور کھا لیے گئے۔ سبھی یوتمال ضلع کے ۵۰ مربع کلومیٹر کے علاقے میں، جو کسانوں کی خودکشی اور زرعی بحران کی وجہ سے بدنام ہے۔ گزشتہ ہفتے تک، وِدربھ کی رالیگاؤں تحصیل میں اپنے دو بچوں کے ساتھ گھوم رہی ایک شیرنی نے گاؤوں والوں اور جنگلات کے افسروں کے درمیان دہشت پیدا کر دی تھی۔ تقریباً ۵۰ گاؤوں میں کھیتی باڑی کے کام متاثر ہوئے۔ زرعی مزدور اکیلے کھیتوں میں جانے کو تیار نہیں تھے یا ڈر کے مارے گروپ میں جاتے تھے۔

’تِچا بندوبست کرا‘‘ (’’شیرنی کو ٹھکانے لگاؤ‘‘)، کام پر نہ جانے کا ایک عام بہانہ تھا۔

بڑھتے غصے اور عوام کے دباؤ نے محکمہ جنگلات کے افسروں کو، ٹی- ۱ یا اَوَنی (’’ارض‘‘) نام کی شیرنی کو پکڑنے یا مارنے کے لیے بے بس کر دیا تھا۔ یہ ایک پیچیدہ اور چیلنج بھرے آپریشن میں بدل گیا، جس میں تقریباً ۲۰۰ جنگلاتی اہلکار، کھوجی، تیز نشانے باز، مہاراشٹر محکمہ جنگلات کے اعلیٰ افسران اور وسط ہندوستان کے کئی ماہرین شامل تھے۔ یہ سبھی چوبیسوں گھنٹے چلنے والے اس آپریشن کے لیے ڈیرہ ڈالے ہوئے تھے، جو ۲ نومبر کو ٹی- ۱ کو مارنے کے ساتھ ختم ہوا۔ (دیکھیں ٹی۔ ۱ شیرنی کے علاقے میں: ہلاکت کی سرگزشت اور ’میں جب انھیں گھر واپس دیکھتی ہوں، تو شیرنی کا شکریہ ادا کرتی ہوں‘)

تب تک – ۲۰۱۶ کے وسط سے – شیرنی نے کئی لوگوں کو ہلاک کر دیا تھا۔ ان دو برسوں میں اس کے ناگہانی شکار کون تھے؟

*****

ایک: سونابائی گھوسلے، عمر ۷۰ سال، پاردھی خانہ بدوش قبیلہ؛ بوراٹی گاؤں، ۱ جون ۲۰۱۶

سونابائی ٹی- ۱ کی پہلی شکار تھیں۔ ۱ جون ۲۰۱۶ کی صبح، وہ اپنے کھیتوں میں بکریوں کے لیے چارہ لانے گئی تھیں۔ ’’میں یہ کام تیزی سے ختم کرکے لوٹ آؤں گی،‘‘ جانے سے پہلے انھوں نے اپنے بیمار شوہر، وامن راؤ (جن کا اب انتقال ہو چکا ہے) سے کہا، ان کے بڑے بیٹے سبھاش بتاتے ہیں۔

یہی ان کا روز کا معمول تھا۔ جلدی اٹھنا۔ گھر پر اپنا کام ختم کرنا۔ پھر کھیتوں میں جاکر وہاں سے مویشیوں کے لیے چارہ لانا۔ لیکن اس دن، سونا بائی واپس نہیں لوٹیں۔

’’انھوں نے دوپہر میں ہمیں بتایا کہ وہ ابھی تک کھیت سے واپس نہیں لوٹی ہیں،‘‘ بوراٹی میں اپنے دو کمرے کی جھونپڑی کے برآمدے میں بیٹھے، سبھاش بتاتے ہیں۔ ’’میں نے انھیں دیکھنے کے لیے ایک لڑکے کو بھیجا، لیکن اس نے لوٹ کر ہمیں بتایا کہ وہ کہیں نہیں نظر آئیں، صرف ان کی پلاسٹک کی بوتل وہاں پڑی تھی۔‘‘ اس کے بعد سبھاش اور کچھ دیگر لوگ کھیت کی طرف گئے۔

Subhash Ghosale, a tribal farmer in village Borati, holds the photo of her mother Sonabai Ghosale, T1’s first victim. She died in T1’s attack on her field close to the village on June 1, 2016
PHOTO • Jaideep Hardikar

بوراٹی گاؤں کی سونابائی گھوسلے، ۱ جون ۲۰۱۶ کو ٹی- ۱ کی پہلی شکار بنیں۔ ان کے بیٹے سبھاش کہتے ہیں، ’ہم نشانوں کے سہارے ان کی مسخ شدہ لاش تک پہنچے... ہم حیران تھے‘

انھوں نے اپنے پانچ ایکڑ کھیت کے ایک کونے میں، خشک زمین پر نشان دیکھے جیسے کہ کسی کو گھسیٹا گیا ہو، اس کھیت پر وہ کپاس، ارہر اور جوار کی کھیتی کرتے ہیں۔ ’’ہم نے نشان کا پیچھا کیا اور کھیت سے ۵۰۰ میٹر کی دوری پر جنگل کے ایک حصہ میں ان کی مسخ شدہ لاش پائی،‘‘ سبھاش یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں۔ ’’ہم حیران تھے۔‘‘

ٹی۔ ۱ – جسے مقامی لوگ اَونی بھی کہتے ہیں – کے بارے میں سمجھا جاتا ہے کہ مارچ ۲۰۱۶ کے آس پاس اس علاقہ میں آئی تھی۔ کچھ لوگوں نے اسے دیکھنے کا دعویٰ کیا تھا، لیکن جب تک سونابائی کی موت نہیں ہو گئی تب تک بہت سے لوگ اپنے درمیان شیر کی موجودگی سے انجان تھے۔ ایسا سمجھا جاتا ہے کہ وہ رالیگاؤں تحصیل کے درمیان والے علاقے میں ٹپیشور وائلڈ لائف سینکچوری سے آئی تھی، جو یہاں سے تقریباً ۵۰ کلومیٹر دور مغرب میں، یوتمال ضلع میں واقع ہے۔ اس کی حرکتوں پر نظر رکھنے والے لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ شاید ۲۰۱۴ میں یہاں پہنچی اور اسے اپنا علاقہ بنا لیا۔ دسمبر ۲۰۱۷ میں اس نے دو بچوں، ایک نر اور ایک مادہ کو جنم دیا۔

سونابائی کی فیملی کو مہاراشٹر کے محکمہ جنگلات سے ۱۰ لاکھ روپے کا معاوضہ ملا ہے۔

تبھی سے، میں نے رالیگاؤں تحصیل میں جن لوگوں سے بات کی، انھوں نے بتایا کہ کس طرح سے شیرنی اپنے شکار (مرد یا خاتون) کو گردن سے پکڑکے ’’خون چوستی ہے‘‘۔

*****

دو: گجانن پوار، عمر ۴۰ سال، کمبی او بی سی برادری؛ سراٹی گاؤں، ۲۵ اگست ۲۰۱۷

جب ہم وہاں پہنچتے ہیں تو اندوکلابائی پوار گھر پر اکیلی ہوتی ہیں۔ ان کا چھوٹا بیٹا، ۴۰ سالہ گجانن، ۲۵ اگست ۲۰۱۷ کو ٹی- ۱ کے ذریعے ہلاک کر دیا گیا تھا۔ وہ لونی اور بوراٹی گاؤوں کے درمیان واقع سراٹی گاؤں میں، جھاڑیدار جنگل سے سٹے اپنے کھیت پر تھا۔ اس دوپہر، شیرنی پیچھے سے آئی اور اس پر جھپٹی۔ گاؤں والوں کو اس کی لاش ۵۰۰ میٹر دور، جنگل کے اندر ایک جھاڑی میں پڑی ہوئی ملی۔

’’چار مہینے پہلے، گجانن کی دو جوان بیٹیوں سے فکرمند میرے شوہر کی موت ہو گئی،‘‘ اندوکلابائی کہتی ہیں۔ ان کی بہو منگلا، وردھا ضلع کے ایک گاؤں میں اپنے والدین کے گھر واپس چلی گئی ہے۔ ’’وہ اتنی خوفزدہ ہے کہ شیرنی کو جب تک پکڑا یا مار نہیں دیا جاتا، وہ یہاں نہیں رہنا چاہتی،‘‘ اندوکلابائی کہتی ہیں۔

Indukala Pawar lost her husband Shyamrao early this year, but she says he died in tension after the couple lost their elder son Gajanan (framed photo) last year in T1’s attack in Sarati
PHOTO • Jaideep Hardikar

اندوکل بائی پوار کے بیٹے گجانن (جس فریم والی تصویر کو وہ پکڑے ہوئی ہیں) کو اگست ۲۰۱۷ میں سراٹی گاؤں میں ٹی- ۱ کے ذریعے ہلاک کر دیا گیا تھا۔ صدمے سے کچھ مہینے بعد ان کے شوہر شیام راؤ کی موت ہو گئی، وہ کہتی ہیں

اس سانحہ کے بعد سے ہی، سراٹی گاؤں میں لوگ رات کو پہرہ دیتے ہیں۔ کچھ نوجوان اَونی کو پکڑنے کے لیے، یومیہ مزدوری پر، محکمہ جنگلات کے آپریشن میں شامل ہوئے ہیں۔ ’’کپاس توڑنے کے لیے مزدور ڈھونڈنا مشکل ہو رہا ہے؛ کوئی بھی آدمی ڈر کے مارے کھیتوں میں نہیں جانا چاہتا،‘‘ ایک نوجوان دیہاتی اور مراٹھی روزنامہ ’دیشونتی‘ کے اسٹرنگر، رویندر ٹھاکرے کہتے ہیں۔

اندوکلابائی کا بڑا بیٹا، وشنو، فیملی کی ۱۵ ایکڑ زمین پر کھیتی کرتا ہے۔ وہ ربیع کے موسم میں کپاس اور سویابین، اور تھوڑا گیہوں اُگاتا ہے۔

گجانن اپنے کھیت میں کام کرتے وقت پیچھے سے آئی شیرنی کو دیکھ کر دنگ رہ گیا ہوگا، ان کی ماں کہتی ہیں، جو بہت غصے میں ہیں۔ ’’میں نے اپنے بیٹے کو اس شیرنی کے حملے میں کھو دیا جو کہیں سے نہیں آئی تھی۔ محکمہ جنگلات کو اسے مار دینا چاہیے، تبھی ہم دوبارہ عام زندگی بسر کر پائیں گے۔‘‘

*****

تین: راما جی شیندرے، عمر ۶۸ سال، گونڈ گوواری آدیواسی قبیلہ؛ لونی گاؤں، ۲۷ جنوری ۲۰۱۸

کلابائی ابھی بھی اس سال جنوری میں اُس سرد شام کی یادوں سے دنگ ہیں۔ ان کے ۷۰ سالہ شوہر راماجی نے اپنے دو ایکڑ کھیت پر کھڑی گیہوں کی فصل سے جنگلی سور اور نیل گائے کو دور رکھنے کے لیے تھوڑی دیر پہلے ہی آگ جلائی تھی۔ کلابائی کھیت کے دوسرے سرے پر کپاس توڑ رہی تھیں۔ اچانک ایک شور سنائی دیا اور انھوں نے ایک شیرنی کو اپنے شوہر کے اوپر پیچھے سے چھلانگ لگاتے ہوئے دیکھا۔ ٹی- ۱ جھاڑیوں سے نکلی تھی اور راماجی کو ان کی گردن سے پکڑ لیا تھا۔ پل بھر میں ہی ان کی موت ہو گئی، کلابائی کہتی ہیں۔

راماجی کھیت کی دیکھ بھال کرتے، جب کہ ان کے بیٹے دوسرے کے کھیتوں پر مزدور کے طور پر کام کرتے تھے۔ ’’ہم دونوں نے شادی کرنے کے بعد سے ہی اپنی زندگی کے ہر ایک دن کھیتی کی ہے،‘‘ کلابائی کہتی ہیں۔ ’’یہ ہماری زندگی تھی۔‘‘ اب، انھوں نے کھیت پر جانا بند کر دیا ہے، وہ بتاتی ہیں۔ ’’ملا دھڑکی بھرتے [مجھے ڈر لگتا ہے]۔‘‘

Kalabai Shendre stood a mute witness on her farm, trembling and watching T1 attack and maul her husband Ramaji. At her home in Loni village, the epicenter of the drama, she recounts the horror and says she’s not since returned to the farm in fear
PHOTO • Jaideep Hardikar
Kalabai Shendre stood a mute witness on her farm, trembling and watching T1 attack and maul her husband Ramaji. At her home in Loni village, the epicenter of the drama, she recounts the horror and says she’s not since returned to the farm in fear
PHOTO • Jaideep Hardikar

اپنی جھونپڑی میں ایک کرسی پر بیٹھی کلابائی کو، ان کے شوہر کی فریم کی ہوئی تصویر دیوار پر ٹنگی ہے، بولنے کے لیے الفاظ نہیں مل رہے ہیں۔ ’’میں ڈر سے کانپتے ہوئے ایک ٹیلے کی طرف بھاگی اور مدد کے لیے چیخنے لگی،‘‘ وہ بتاتی ہیں۔ وہ تصویر کو دیکھتی ہیں اور کہتی ہیں، ’’انھوں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا ہوگا کہ ان کی موت ایسے ہوگی۔‘‘

کلابائی خود کو بچانے کے لیے اونچائی کی طرف بھاگیں تب بھی شیرنی نے راماجی کو نہیں چھوڑا اور ان کی لاش کو کھیت سے گھسیٹتے ہوئے لے گئی۔

گاؤں کا ایک آدمی، ۵۶ سالہ باباراؤ واٹھودے پاس ہی میں اپنے مویشیوں کے ساتھ تھے۔ انھوں نے جب ٹی- ۱ کو راماجی کو گردن سے پکڑے ہوئے دیکھا، تو چیخنے لگے اور اس کے اوپر ایک ڈنڈا پھینکا، وہ بتاتے ہیں۔ شیرنی نے ان کو غور سے دیکھا، لاش کو دوبارہ اٹھایا اور چل پڑی۔ واٹھودے کہتے ہیں کہ انھوں نے ٹی- ۱ کا پیچھا کیا، لیکن شیرنی نے لاش کو تب چھوڑا اور جنگل میں غائب ہو گئی جب وہاں اچانک ایک ٹرک آ گیا۔

راماجی کے بیٹے نارائن، جن کی آنکھوں میں کچھ مسئلہ ہے، کو اب محکمہ جنگلات میں گارڈ کی نوکری مل گئی ہے۔ ان کے گاؤں کے لوگ جب اپنے مویشیوں کو چرانے کے لیے نکلتے ہیں، تو وہ ان پر نظر رکھتے ہیں اور ان کے ساتھ جاتے ہیں۔ نارائن کے بڑے بیٹے، ساگر نے اپنے والد کی مدد کرنے کے لیے اسکول چھوڑ دیا ہے اور اب کھیت کی دیکھ بھال کرنے اور گارڈ کی نوکری میں ان کا ہاتھ بٹاتا ہے، کلابائی نے بتایا جب ہم ۱۲ اکتوبر کو ان کے گھر پہنچے۔

*****

چار: گلاب راؤ موکاشے، عمر ۶۵ سال، گونڈ آدیواسی قبیلہ؛ ویڈشی گاؤں، ۵ اگست ۲۰۱۸

بڑے بھائی نتھوجی انھیں جنگل کے اندر جانے سے منع کرتے رہے، لیکن گلاب راؤ نے ان کی ایک نہ سنی۔ وہ ۵ اگست کی صبح تھی۔

’’مجھے اس خطرے کا پتہ چل گیا جب ہماری گایوں نے ڈکارنا شروع کر دیا اور بے چین ہو گئیں؛ انھوں نے شاید کچھ سونگھ لیا تھا،‘‘ بزرگ نتھوجی اس دن کے واقعہ کو یاد کرکے ورہاڈی بولی میں بتاتے ہیں۔

In Vedshi, T1 killed Gulabrao Mokashe, a Gond farmer in his 60s. His widow Shakuntala, his elder brother Natthuji and son (seated on the chair) Kishor, who is just been appointed as a forest guard, narrate their tale – of the tiger and their fears
PHOTO • Jaideep Hardikar

ویڈشی گاؤں میں، ٹی- ۱ نے ۶۰ سالہ کسان گلاب راؤ موکاشے کو ہلاک کر دیا۔ ان کی بیوہ شکنتلا، ان کے بڑے بھائی نتھوجی اور بیٹا کشور (کرسی پر بیٹھے ہوئے) حملے کے بارے میں بتا رہے ہیں

کچھ منٹ بعد ہی انھوں نے ایک شیرنی کو غراتے اور اپنے بھائی کے اوپر چھلانگ لگاتے دیکھا۔ یہ بہت بڑا جانور تھا، گلاب راؤ کو بچنے کا بالکل بھی موقع نہیں ملا۔ نتھوجی بے یار و مددگار دیکھتے رہے۔ وہ شیرنی کے اوپر چیخے، پھتر اٹھا کر پھینکا۔ جانور ان کے بھائی کی لاش کو وہیں چھوڑ جنگل کی جھاڑی میں غائب ہو گیا۔ ’’میں مدد لینے کے لیے گاؤں کی طرف بھاگا،‘‘ وہ بتاتے ہیں۔ ’’میرے ساتھ گاؤں کے کئی لوگ آئے اور ہم اپنے بھائی کی لاش کو واپس گھر لانے میں کامیاب رہے... اسے مسخ کر دیا گیا تھا۔‘‘

نتھوجی صدمے اور خوف سے باہر نہیں نکل پائے ہیں۔ دونوں بھائی باقاعدگی کے ساتھ گاؤں کے تقریباً ۱۰۰ مویشیوں کو پاس کے جنگلوں میں چرانے لے جایا کرتے تھے – ویڈشی گاؤں رالیگاؤں کے جنگلوں کے کافی اندر ہے، جہاں ٹی- ۱ دو سال سے شکار کی تلاش میں گھوم رہی تھی۔

اگست ۲۰۱۸ میں، ٹی- ۱ نے تین لوگوں کو ہلاک کر دیا تھا، جس کی شروعات گلاب راؤ سے ہوئی تھی۔ دوسرا آدمی پڑوس کے وہیر گاؤں کا تھا، جسے ۱۱ اگست کو مارا گیا اور تیسرا پمپل شینڈا میں ۲۸ اگست کو مارا گیا۔

گلاب راؤ کے بیٹے کشور کو تبھی سے محکمہ جنگلات کے ذریعے ۹۰۰۰ روپے ماہانہ تنخواہ پر گارڈ کی شکل میں مقرر کیا گیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کے گاؤں کے چرواہے اب ساتھ مل کر اپنے مویشیوں کو چرانے لے جاتے ہیں۔ ’’ہم ساتھ رہتے ہیں۔ ہم جنگل کے کافی اندر نہیں جاتے کیوں کہ شیرنی کہیں بھی چھپی ہو سکتی ہے...‘‘

*****

پانچ: ناگوراؤ جُنگھرے، عمر ۶۵ سال، کولام آدیواسی قبیلہ؛ پمپل شینڈا گاؤں (کلمب تحصیل میں، رالیگاؤں تحصیل کی سرحد کے ساتھ)، ۲۸ اگست ۲۰۱۸

وہ ٹی- ۱ کے آخری شکار تھے۔

جُنگھرے کے پاس پانچ ایکڑ زمین تھی اور وہ مویشی پالتے تھے۔ وہ ہر صبح اپنی گایوں کو چرانے کے لیے پاس کے جنگل کے ایک حصے میں لے جاتے تھے، جب کہ ان کے بیٹے کھیت پر کام کرتے یا یومیہ مزدوری پر دوسرے کے کھیتوں میں کام کرنے جاتے تھے۔

اینٹ اور مٹی کی جھونپڑی میں بیٹھی ان کی بیوی، رینوکابائی یاد کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ۲۸ اگست کو ان کی گایوں نے شام کو گھر آکر بہت شور مچایا، لیکن ان کے شوہر واپس نہیں آئے۔ ’’مجھے لگا کہ کچھ گڑبڑ ہے،‘‘ وہ کہتی ہیں۔

T1’s last victim on August 28, 2018, was Nagorao Junghare, a farmer and herder in Pimpalshenda village that falls in Kalamb tehsil along the Ralegaon tehsil’s border in Yavatmal district. His widow, Renukabai, is still to come to terms with her husband’s death in T1’s attack. She’s at their hut here.
PHOTO • Jaideep Hardikar

ٹی- ۱ کا آخری شکار، ۲۸ اگست ۲۰۱۸ کو پمپل شینڈا گاؤں کے ناگوراؤ جُنگھرے تھے۔ ان کی بیوہ، رینوکابائی کہتی ہیں، ’’اگر لاش کو ڈھونڈنے میں ہمیں دیر ہو جاتی، تو شاید یہ ہمیں کبھی نہیں ملتا...‘‘

گاؤں والوں کا ایک گروپ فوراً جنگل کی طرف بھاگا، جہاں جُنگھرے عام طور پر اپنی گایوں کو چرانے کے لیے جاتے تھے۔ اس بار بھی انھوں نے گھسیٹنے کے نشان دیکھے – اور جنگل میں ایک کلومیٹر اندر جانے کے بعد ان کی لاش کو دیکھا۔ ’’شیر نے گردن سے ان کا خون چوسنے کے بعد انھیں گھسیٹا تھا،‘‘ رینوکابائی کہتی ہیں۔ ’’اگر لاش کو ڈھونڈنے میں ہمیں دیر ہو جاتی، تو شاید یہ ہمیں کبھی نہیں ملتی...‘‘

اس حادثہ کے بعد، ان کے بڑے بیٹے کرشنا کو گاؤں کے مویشی چرانے والوں اور گلہ بانوں کے ساتھ جنگل میں رہنے کے لیے ایک فاریسٹ گارڈ کے طور پر بھرتی کیا گیا تھا۔ چھوٹا بیٹا وشنو اپنے گاؤں میں یا ریاست کے پانڈھرک وڈ-یوتمال قومی شاہراہ پر پڑوسی گاؤں موہادی میں یومیہ مزدور کے طور پر کام کرتا ہے۔

کولام نے ڈر کے مارے کھیتی کرنا بند کر دیا ہے۔ ’’مجھے اب اپنے بیٹے کی جان کا ڈر ہے،‘‘ رینوکابائی کہتی ہیں۔ ’’اس نے اپنی فیملی کے لیے [ایک گارڈ کے طور پر] یہ نوکری لی ہے؛ اس کی دو بیٹیاں ہیں۔ لیکن میں نہیں چاہتی کہ شیرنی کو پکڑے جانے تک وہ یہ کام کرے۔‘‘

اور ہاتھی سے موت

ارچنا کُل سنگھے، عمر ۳۰ سال، گونڈ آدیواسی برادری؛ چاہند گاؤں، ۳ اکتوبر ۲۰۱۸

موت جب پیچھے سے آئی، تو وہ اپنی جھونپڑی کے سامنے گوبر اکٹھا کر رہی تھیں۔ گھنٹوں پہلے، چاہند گاؤں سے تقریباً ۳۵ کلومیٹر دور لونی کے پاس، جنگلات کے افسروں کے بیس کیمپ پر بندھا ایک ہاتھی اپنی زنجیر سے خود کو چھڑانے کے بعد مشتعل ہو گیا تھا۔ وہ پیچھے سے آیا، ارچنا کو اپنی سونڈ میں اٹھایا اور غصے میں کچھ میٹر دور کپاس کے کھیت میں پھینک دیا۔ اس سے پہلے کہ کسی کو پتہ چل پاتا کہ آخر ہوا کیا ہے، جائے حادثہ پر ہی ان کی موت ہو گئی۔

In Chahand village of Ralegaon tehsil, Archana Kulsanghe, 30, became an unusual victim in an elephant attack. The tragic story unfolded as one of the elephants deployed during Operation Avni, went berserk and fled from the base camp, only to trample two people, Archana being one of those. At her home, her husband Moreshwar sit grieving his wife’s demise, as his younger son Nachiket, clings on to him. The elephant trampled her when Archana was collecting the cow-dung in front of her hut near the cart; the Gajraj came from behind the neighbourer’s home, rammed into a toilet structure, and broke the shed built along the hut. After trampling Archana, it went to the neighbouring village of Pohana before it was reigned in. Purushottam’s mother Mandabai is sitting along the door of their hut
PHOTO • Jaideep Hardikar

چاہند گاؤں میں ارچنا کُل سنگھے کو، ٹی- ۱ کو ڈھونڈنے کے لیے لائے گئے ایک ہاتھی نے مار ڈالا۔ ان کے غمزدہ شوہر موریشور اپنے گھر پر بیٹے نچیکیت کے ساتھ، اور موریشور کی ماں مندا بائی

’’میں برآمدے میں دانت صاف کر رہا تھا، سورج ابھی نکلا نہیں تھا،‘‘ ارچنا کے گھبرائے ہوئے شوہر موریشور، جو کہ ایک زرعی مزدور ہیں، اپنے پانچ سال کے بیٹے نچیکیت سے لپٹتے ہوئے کہتے ہیں۔ ہم نے ایک تیز آواز سنی، ہاتھی ہمارے پڑوسی کے گھر کو روندتا ہوا پیچھے سے آیا اور جھونپڑیوں کے سامنے سڑک کی طرف بھاگ گیا۔‘‘

ہاتھی نے پڑوسی پوہنا گاؤں میں ایک اور شخص کو زخمی کر دیا تھا، جس کے تین دن بعد اس کی موت ہوگئی۔ اس کے بعد ہی وہ قومی شاہراہ پر پکڑا اور قابو کیا جا سکا۔

موریشور کی ماں مندابائی کہتی ہیں کہ ان کی بہو کی موت ان کی فیملی کے لیے ایک عذاب ہے۔ ’’میں اپنے پوتے کے لیے فکرمند ہوں،‘‘ وہ کہتی ہیں۔

گجراج – چندرپور ضلع کے تاڈوبا اندھاری ٹائیگر ریزرو سے بلایا گیا ہاتھی – ان پانچ ہاتھیوں میں سے ایک تھا جسے محکمہ جنگلات نے ٹی- ۱ کا پتہ لگانے کے کام میں لگا رکھا تھا، لیکن بعد میں اسے واپس بھیج دیا تھا۔ چار دیگر ہاتھی، جو پہلے بچاؤ اور پکڑنے کے آپریشن میں استعمال کیے گئے، مدھیہ پردیش سے آئے تھے۔ لیکن وہ بھی تب واپس بھیج دیے گئے جب اہلکاروں نے اس حادثہ کے بعد آپریشن کو کچھ دنوں کے لیے روک دیا تھا۔ محکمہ نے اس بات کی جانچ شروع کر دی ہے کہ گجراج مشتعل کیوں ہو گیا تھا۔

*****

ٹی- ۱ کے مارے جانے کے بعد، ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ گاؤں کے جن لوگوں کو گارڈ کی نوکری ملی تھی ان کا کیا ہوگا۔ ہو سکتا ہے کہ محکمہ جنگلات معاوضہ کے حصہ کے طور پر انھیں دیگر کاموں کے لیے اپنے پاس ہی رکھے۔ سبھی متاثرین کے کنبے ۱۰ لاکھ روپے بطور معاوضہ پانے کے حقدار ہیں۔ کچھ کو مل چکا ہے، باقیوں کے لیے کاغذی کارروائی چل رہی ہے۔

(مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف، اردو ’روزنامہ میرا وطن‘ کے نیوز ایڈیٹر ہیں، اور ماضی میں ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

Jaideep Hardikar

جے دیپ ہرڈیکر ناگپور میں مقیم صحافی اور قلم کار، اور پاری کے کور ٹیم ممبر ہیں۔

Other stories by Jaideep Hardikar