
SANGUR, PUNJAB
|SUN, MAR 21, 2021
ماحولیاتی تبدیلی کا روزنامچہ: روزمرہ کی زندگی، شاندار کہانیاں
ملک کے مختلف موسمیاتی اور زرعی-ماحولیاتی خطوں سے – ہندوستان کے عام شہریوں کے ذریعہ بیان کردہ اور ان کی زندگی کے تجربات پر مبنی – ماحولیاتی تبدیلی پر پاری کی رپورٹ
Author
Translator
23. خطرے کو بھانپ کر مسکن بدلتے اروناچل کے پرندے
حیاتیاتی تنوع سے مالامال اس علاقے کے پرندے اپنا مسکن مزید اونچائی پر بنانے لگے ہیں، جس سے خطرناک ماحولیاتی تبدیلی کا پتہ چلتا ہے۔ مقامی لوگ یہاں پرندوں کو بچانے کی کوششوں میں سرگرم رول ادا کر رہے ہیں
22. ’وہ گھر… وہ تو سمندر میں ڈوب چکا ہے – وہاں!‘
آندھرا پردیش کے مشرقی گوداوری ضلع میں، اُپّڈا گاؤں کے لوگ قیاس آرائی کی بنیاد پر کہتے ہیں کہ سمندر نہ جانے کب کس چیز کو فنا کر دے۔ تیزی سے گھٹتے ساحلی علاقوں نے ان کے معاش، سماجی رشتوں، اور مجموعی یادداشتوں کو بدل کر رکھ دیا ہے
21. ماحولیاتی تبدیلی کے ساتھ کیڑوں کی جنگ
ہندوستان میں دیسی کیڑوں کی نسلیں تیزی سے غائب ہو رہی ہیں – جب کہ ان میں سے کئی ہمارے غذائی تحفظ کے لیے بیش قیمتی ہیں۔ لیکن انسان اُن کیڑوں سے اتنا پیار نہیں کرتا، جتنا کہ وہ بال والے جانوروں سے کرتا ہے
20. لکشدیپ سے غائب ہوتی مونگے کی چٹانیں
ہندوستان کا سب سے چھوٹا یونین علاقہ، جو سمندر کی سطح سے اوسطاً ۱-۲ میٹر اوپر ہے – اور جہاں ہر ساتواں آدمی ماہی گیر ہے – اپنی مونگے کی چٹانوں کو کھو رہا ہے اور کئی سطحوں پر ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات کا سامنا کر رہا ہے
19. تھانے میں بارش شرارتی ہو گئی ہے
مہاراشٹر کے شہاپور تعلقہ کی آدیواسی بستیوں میں رہنے والے دھرما گریل اور دیگر لوگ بھلے ہی ’موسمیاتی تبدیلی‘ کی بات نہ کریں، لیکن وہ روزانہ اس کے سیدھے اثرات کا سامنا کر رہے ہیں، جس میں بے ترتیب بارش اور کم ہوتی پیداوار شامل ہے
18. چورو: گرم لہر، سرد لہر – زیادہ تر گرم
جون ۲۰۱۹ میں، راجستھان کے چورو میں عالمی سطح پر سب سے زیادہ درجۂ حرارت ۵۱ ڈگری سیلسیس درج کیا گیا۔ حالانکہ یہاں کے کئی باشندوں کے لیے یہ پھیلتے ہوئی گرمی اور موسم میں ہونے والی چند دیگر تبدیلیوں کا محض ایک سنگ میل تھا جو واضح طور پر ماحولیاتی تبدیلی کی طرف اشارہ کرتا ہے
17. جب یمنا کی ’مری ہوئی مچھلی تازہ ہوگی‘
آلودگی اور لاپروائی نے دہلی کی شہ رگ کو نالے میں تبدیل کر دیا ہے۔ ہر سال ہزاروں مچھلیاں مر جاتی ہیں جب کہ یمنا کے بنیادی محافظوں کے پاس کہیں اور جانے کی جگہ نہیں ہے۔ ان تمام اسباب سے ماحولیاتی بحران مزید شدت اختیار کرتا جا رہا ہے
16. بڑا شہر، چھوٹے کسان، اور ایک مرتی ہوئی ندی
شہر کے کسان؟ ہاں، ایک طرح سے – قومی راجدھانی میں، جدوجہد کر رہے ہیں کیوں کہ بند پڑی یمنا ندی اور اس کے سیلابی علاقوں کی تباہی اس پورے خطہ میں ماحولیاتی بحران میں اضافہ کرنے کے ساتھ ہی ان کسانوں کے ذریعہ معاش کو بھی برباد کر رہی ہے
15. ممبئی کے مضافات میں کم ہوتی پومفریٹ مچھلیاں
کم ہوتی مچھلیوں کے بارے میں بتانے کے لیے ورسووا کولی واڑا کے متعدد لوگوں کے پاس کوئی نہ کوئی کہانی ضرور ہے – اس کے مختلف اسباب ہیں، مقامی سطح پر آلودگی سے لے کر عالمی پیمانے پر درجہ حرارت میں اضافہ تک۔ ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات کو شہر کے ساحلوں تک لانے میں دونوں کا مشترکہ رول رہا ہے
14. تمل ناڈو کی سمندری کائی جمع کرنے والی خواتین
تمل ناڈو کے بھارتی نگر میں ماہی گیر برادری کی خواتین کی انوکھی سرگرمی انہیں کشتیوں کے مقابلے زیادہ دیر تک پانی کے اندر رکھتی ہے۔ لیکن ماحولیاتی تبدیلی اور سمندری وسائل کا ناجائز استفادہ ان کے ذریعہ معاش کو تباہ کر رہا ہے۔
13. بارش میں تاخیر اور بحران کے شکار بھنڈارا کے کسان
وِدربھ کا یہ ضلع، جہاں طویل مدت تک آبی وسائل تھے، بارش کے نئے پیٹرن کو دیکھ رہا ہے۔ اب ’ماحولیات کے ہاٹ اسپاٹ‘ کے طور پر درج فہرست بھنڈارا میں یہ تبدیلی دھان کے کسانوں کے لیے غیر یقینیت اور خسارے کا سبب بن رہی ہے
12. ’کپاس اب سر درد بن گیا ہے‘
اوڈیشہ کے رائیگڑا ضلع میں کیمیاوی کھادوں سے شرابور بی ٹی کپاس کا مونوکلچر پھیل رہا ہے – جس سے صحت کو نقصان پہنچ رہا ہے، قرض بڑھتا جا رہا ہے، ناگزیر طور پر دیسی علم ختم ہو رہا ہے، اور ماحولیاتی بحران کے بیج بوئے جا رہے ہیں
11. اوڈیشہ میں ماحولیاتی بحران کے بیج کی بُوائی
رائیگڑا میں، بی ٹی کپاس کا رقبہ ۱۶ برسوں میں ۵۲۰۰ فیصد بڑھ گیا ہے۔ نتیجتاً، دیسی باجرا، چاول کی قسموں اور جنگلاتی غذائی اشیاء سے بھرپور اس حیاتی تنوع والے علاقے میں ایک خطرناک ماحولیاتی تبدیلی دیکھنے کو مل رہی ہے
10. گجرات کے سکڑتے چراگاہوں کے درمیان بھیڑوں کی گنتی
گجرات میں اپنی بھیڑوں کے لیے چراگاہ کی تلاش میں کچھ کے مویشی چرواہوں کو لمبی دوری تک چلنا پڑتا ہے، جب کہ دوسری طرف چراگاہ غائب ہوتے جا رہے ہیں یا پہنچ سے باہر ہیں، اور آب و ہوا کی فطرت پہلے سے کہیں زیادہ غیر یقینی ہو چکی ہے
9. سُندربن: ’گھاس کا ایک پتہ بھی نہیں اُگا...‘
مغربی بنگال کے سندربن میں لوگ طویل عرصے سے غریبی کی مار تو جھیل ہی رہے تھے، اب انھیں ماحولیاتی تبدیلی کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے – جس میں شامل ہے سمندر طوفان کا مسلسل آنا، بے ترتیب بارش، نمکینیت میں اضافہ، بڑھتی گرمی، گھٹتے جنگل اور بھی بہت کچھ
8. ’خوشی کے دن اب صرف پرانی یادیں ہیں‘
اروناچل پردیش میں مشرقی ہمالیہ کے اونچے پہاڑوں پر، خانہ بدوش بروکپا برادری ماحولیاتی تبدیلی کو پہچان رہی ہے اور روایتی علم کی بنیاد پر اس سے مقابلہ کرنے کی حکمت عملی بنا رہی ہے
7. ۴۳ ڈگری درجہ حرارت پر ژالہ باری سے لاتور میں تباہی
مہاراشٹر کے لاتور ضلع کے دیہی باشندے گزشتہ ایک دہائی سے گرمیوں میں بھاری اور شدید ژالہ باری سے پریشان ہیں۔ کچھ کسان باغات کو پوری طرح سے چھوڑ رہے ہیں
6. سانگولے میں ’سب کچھ اُلٹا ہو چکا ہے‘
مہاراشٹر کے سولاپور ضلع کے سانگولے تعلقہ کے گاؤوں سے ایسی خبریں بڑی تعداد میں آ رہی ہیں کہ اچھی بارش اور خشکی کے دنوں کا پرانا چکر ٹوٹ چکا ہے – اور اس کی وجہ کیا ہے اور اثرات کیا پڑ رہے ہیں
5. ’آج ہم اُن مچھلیوں کو ڈِسکَوری چینل پر تلاش کر رہے ہیں‘
تمل ناڈو کے رام ناتھ پورم ضلع کے پامبن جزیرہ پر ماہی گیروں کے ذریعے اور ماہی گیروں کے لیے چلایا جانے والا کمیونٹی ریڈیو، کڈل اوسئی، اس ہفتہ تین سال کا ہو گیا۔ اب اس کا جدید ترین نشریہ موسمیاتی تبدیلی پر مرکوز ہے
4. ’آب و ہوا اس طرح سے کیوں تبدیل ہو رہی ہے؟‘
وایناڈ، کیرالہ میں کافی اور کالی مرچ کے کسان درجۂ حرارت میں اضافہ اور بے ترتیب بارش سے ضلع میں ہونے والے نقصان کا سامنا کر رہے ہیں، جس کے باشندوں کو کبھی یہاں کی ’ایئرکنڈیشنڈ آب و ہوا‘ پر فخر ہوا کرتا تھا
3. ’پہاڑ کے دیوتا کو ہم نے شاید ناراض کر دیا‘
لداخ کے اونچے چراگاہوں میں خانہ بدوش چانگپا مویشی پروروں کی یاک سے متعلق اقتصادیات پر بحران کے بادل چھائے ہوئے ہیں، جس کی وجہ ہے ان کے نازک کوہستانی ماحولیاتی نظام میں موسمیاتی تبدیلی
2. ماحولیاتی تبدیلی سے پریشان کولہاپور کی گور بھینسیں
کولہا پور کی رادھا نگری میں انسانوں اور جنگلی جانوروں کے درمیان ٹکراؤ بڑھتا جا رہا ہے، جہاں گور بھینسیں آس پاس کے کھیتوں پر دھاوا بول رہی ہیں۔ یہ سب جنگلات کی کٹائی، فصل میں تبدیلی، خشک سالی اور موسم کے اتار چڑھاؤ کی وجہ سے ہو رہا ہے
1. رائل سیما میں ریت کی بارش
آندھرا پردیش کے اننت پور ضلع میں فصلوں کے برتاؤ میں تبدیلی، کم ہوتے جنگلی علاقے، بورویل کی تعداد میں بے پناہ اضافہ، ایک ندی کی موت، اور بھی بہت کچھ – نے زمین، ہوا، پانی، جنگل اور موسمیات پر منفی اثر ڈالا ہے
Want to republish this article? Please write to [email protected] with a cc to [email protected]
Donate to PARI
All donors will be entitled to tax exemptions under Section-80G of the Income Tax Act. Please double check your email address before submitting.
PARI - People's Archive of Rural India
ruralindiaonline.org
https://ruralindiaonline.org/articles/ماحولیاتی-تبدیلی-کا-روزنامچہ-روزمرہ-کی-زندگی،-شاندار-کہانیاں























