گوگل کا نقشہ (گوگل میپ) مجھے بتا رہا ہے کہ میں اپنی منزل پر پہنچنے والا ہوں۔ لیکن میری یادداشت بتا رہی ہے کہ یہ علاقہ کچھ بدلا بدلا سا لگ رہا ہے۔ سمندر کے ساحل پر وہ پرانا اور بوسیدہ گھر دکھائی نہیں دے رہا ہے، جس کا پتہ میں نے پچھلی بار اُپّڈا آنے کے بعد اپنے فون میں محفوظ کرکے رکھا تھا۔ ٹی مرمّا خلیج بنگال سے آتی ایک موج کی جانب اشارہ کرتے ہوئے لاپروائی سے بتاتی ہیں، ’’ارے، وہ گھر؟ وہ تو اب سمندر میں ڈوب چکا ہے۔ دیکھو، وہاں!‘‘
مجھے اب بھی وہ پرانا اجڑا ہوا سا گھر یاد ہے، جو دیکھنے میں بہت خوبصورت مگر اُداس سا نظر آتا تھا۔ مارچ ۲۰۲۰ میں لاک ڈاؤن سے کچھ ہفتے پہلے جب میں اُپّڈا گیا تھا، تو وہاں میں نے مرمّا اور ان کے اہل خانہ کی تصویریں لی تھیں، اُن کے پیچھے وہی گھر تھا۔ ساحل کے ایک حصے میں بنے اس وسیع و عریض گھر کا ایک چھوٹا سا ہی حصہ باقی بچا تھا، جہاں پہلے مرما کی فیملی [۲۰۰۰ کی دہائی کے ابتدائی سالوں تک] رہتی تھی۔
مرما کی عمر ۵۰ سے ۶۰ سال کے درمیان ہے اور وہ ایک مقامی لیڈر ہیں۔ پہلے وہ مچھلیوں کا کاروبار کرتی تھیں۔ مرما بتاتی ہیں، ’’یہ ۸ کمروں پر مشتمل ایک بڑی عمارت تھی، جہاں [مویشیوں کے] تین باڑے تھے۔ اس میں تقریباً سو لوگ رہتے تھے۔‘‘ سال ۲۰۰۴ کی سونامی سے ٹھیک پہلے اپڈا میں آئے سمندری طوفان کے سبب عمارت کا ایک بڑا حصہ ٹوٹ گیا، جس کی وجہ سے ان کے مشترکہ خاندان کو الگ الگ گھروں میں رہنے کے لیے مجبور ہونا پڑا۔ مرما کچھ سالوں تک اس ٹوٹے پھوٹے گھر کا استعمال کرتی رہیں، بعد میں وہ اس کے پاس ہی ایک نئے گھر میں رہنے چلی گئیں۔
ایسا صرف مرما اور ان کی فیملی کے ساتھ ہی نہیں ہوا ہے؛ اپڈا میں تقریباً سبھی لوگ طاقتور سمندری لہروں کے سبب کم از کم ایک بار اپنا گھر چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ گھر سے نکلنے کے لیے صحیح وقت کا اندازہ لگانے کی خاطر وہ اپنے تجربات کو ملحوظ نظر رکھنے کے علاوہ، مقامی برادری کی سمندری لہروں سے متعلق روایتی سمجھ پر منحصر رہتے ہیں۔ او شیو (عمر ۱۴ سال، جنہیں سمندری موجوں سے بچنے کے لیے پہلے بھی ایک بار گھر چھوڑنا پڑا تھا، بتاتے ہیں، ’’سمندر کی موجیں جب آگے بڑھنے لگتی ہیں، تب ہم سمجھ جاتے ہیں کہ گھر ان کی زد میں آنے والا ہے۔ تب ہم اپنے برتن اور بقیہ تمام سامان ایک طرف کر دیتے ہیں [اور رہنے کے لیے کرایے کا ایک عارضی مکان تلاش کرنا شروع کر دیتے ہیں]۔ ایک مہینہ کے اندر پرانا گھر [سمندر میں] کہیں غائب ہو جاتا ہے۔‘‘















