’’ہر کوئی اسے کر رہا ہے، اس لیے ہم بھی کر رہے ہیں،‘‘ روپا پیریکاکا نے غیر یقینی لہجہ میں کہا۔
’یہ‘ خلقی طور پر ترمیم شدہ (جی ایم) بی ٹی کپاس کے بیج ہیں، جسے اب آسانی سے مقامی بازار میں، یا اپنے گاؤں میں بھی خریدا جا سکتا ہے۔ ’ہر کوئی‘ ان کی ہی طرح اس گاؤں اور جنوب مغربی اوڈیشہ کے رائیگڑا ضلع کے بقیہ گاؤوں کے بے شمار دیگر کسان ہیں۔
’’انہیں ہاتھوں میں پیسہ مل رہا ہے،‘‘ وہ کہتی ہیں۔
چالیس سالہ پیریکاکا ایک کوندھ آدیواسی کسان ہیں۔ دو دہائیوں سے زیادہ وقت سے وہ ہر سال ڈونگر چاس – لفظی معنی، ’پہاڑی کھیتی‘ (مختلف النوع کاشتکاری) – کے لیے ایک پہاڑی ڈھلان تیار کرتی ہیں۔ اس علاقے کے کسانوں کے ذریعے صدیوں سے اپنائی گئی روایتوں پر عمل کرتے ہوئے، پیریکاکا فیملی کی فصلوں سے بچائے گئے پچھلے سال کے بیج ملے جلے کھیتوں پر بوتی ہیں۔ ان سے وافر مقدار میں غذائی فصلیں حاصل ہوں گی: منڈیا اور کنگو جیسے باجرا، ارہر اور کالے چنے جیسی دالیں، ساتھ ہی لمبی پھلیوں، رام تل (یا کالے تل) کے بیج اور تل کی روایتی قسمیں۔
اس جولائی میں، پیریکاکا نے پہلی بار بی ٹی کپاس کی بوائی کی۔ یہی وہ وقت تھا جب ہم ان سے ملے۔ تب وہ بشم کٹک بلاک کے اپنے گاؤں میں ایک پہاڑی ڈھلان پر گہرے گلابی، کیمیاوی رنگ کے بیج بو رہی تھیں۔ آدیواسیوں کی مختلف النوع کاشتکاری کی روایتوں میں کپاس کی مداخلت حیران کر دینے والی تھی، جس نے ہمیں ان سے اس تبدیلی کے بارے میں پوچھنے پر مجبور کیا۔
’’ہلدی جیسی دیگر فصلوں سے بھی پیسہ آتا ہے،‘‘ پیریکاکا تسلیم کرتی ہیں۔ ’’لیکن کوئی بھی ایسا نہیں کر رہا ہے۔ سبھی منڈیا [باجرا] کو چھوڑ رہے ہیں اور کپاس کی طرف بھاگ رہے ہیں۔‘‘
رائیگڑا ضلع میں کپاس کا رقبہ ۱۶ برسوں میں ۵۲۰۰ فیصد بڑھ گیا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار ۲۰۰۲-۰۳ میں کپاس کے تحت صرف ۱۶۳۱ ایکڑ زمین دکھاتا ہے۔ ضلع زرعی دفتر کے مطابق، ۲۰۱۸-۱۹ میں یہ رقبہ ۸۶۹۰۷ ایکڑ تھا۔
رائیگڑا، جہاں کی آبادی دس لاکھ کے قریب ہے، کوراپُٹ خطہ کا حصہ ہے، جو دنیا کے حیاتی تنوع والے بڑے علاقوں میں سے ایک ہے، اور چاول کی متعدد انواع والا ایک تاریخی علاقہ ہے۔ سینٹرل رائس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ۱۹۵۹ کے سروے سے پتہ چلا ہے کہ اس وقت بھی اس علاقے میں ۱۷۰۰ سے زیادہ چاول کی قسمیں تھیں۔ لیکن، اب یہ تعداد نیچے گر کر تقریباً ۲۰۰ پر پہنچ گئی ہے۔ کچھ محقق اسے چاول کی کھیتی کی جائے پیدائش مانتے ہیں۔








