چند ماہ قبل میں نے ایک صبح، ورسووا گھاٹ پر کھاڑی کے کنارے ایک چٹان پر بیٹھے رام جی بھائی سے پوچھا کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔ ’’ٹائم پاس،‘‘ انہوں نے جواب دیا۔ ’’میں اسے گھر لے جاؤں گا اور کھاؤں گا۔‘‘ انہوں نے ایک چھوٹے سے ٹینگڑا (ایک قسم کی کیٹ فِش) کی طرف اشارہ کیا، جسے انہوں نے تھوڑی دیر پہلے پکڑا تھا۔ میں نے دوسرے مچھواروں کو جال صاف کرتے ہوئے دیکھا جسے انہوں نے گزشتہ شب کھاڑی میں ڈالا تھا – اس میں ڈھیر ساری پلاسٹک تھی، کوئی مچھلی نہیں پھنسی تھی۔
’’کھاڑی میں مچھلی پکڑنا آج بمشکل ممکن ہے،‘‘ بھگوان نام دیو بھانجی کہتے ہیں، جنہوں نے ۷۰ سال سے زیادہ عرصے سے شمالی ممبئی کے کے-ویسٹ وارڈ میں مچھواروں کے گاؤں، ورسووا کولی واڑا میں اپنی زندگی بسر کی ہے۔ ’’جب ہم چھوٹے تھے، تو یہاں کا ساحل ماریشس جیسا تھا۔ اگر آپ پانی میں سکّہ پھینکتے، تو اسے آسانی سے دیکھ سکتے تھے... پانی اتنا صاف ہوا کرتا تھا۔‘‘
جو مچھلیاں بھگوان کے پڑوسیوں کے جال میں آکر پھنستی ہیں – جال کو اب سمندر میں مزید گہرائی میں لے جا کر ڈالا جاتا ہے – وہ اکثر چھوٹے بھی ہوتے ہیں۔ ’’پہلے، ہمیں بڑی پومفریٹ مچھلیاں مل جایا کرتی تھیں، لیکن اب چھوٹی ملتی ہیں۔ اس کا ہمارے کاروبار پر بہت اثر پڑا ہے،‘‘ بھگوان کی بہو، ۴۸ سالہ پریہ بھانجی کہتی ہیں، جو ۲۵ برسوں سے مچھلیاں فروخت کر رہی ہیں۔
یہاں کے تقریباً تمام لوگوں کے پاس ختم یا کم ہوتی مچھلیوں کے بارے میں بتانے کے لیے کوئی نہ کوئی کہانی ضرور ہے – کولی واڑا میں مچھواروں کے ۱۰۷۲ کنبے یا ۴۹۴۳ لوگ رہتے ہیں (۲۰۱۰ کی سمندری ماہی گیری مردم شماری کے مطابق)۔ اور وہ مقامی سطح کی آلودگی سے لے کر عالمی پیمانے پر اعلیٰ درجہ حرارت تک کو اس کی وجہ بتاتے ہیں – دونوں نے ورسووا میں جمع ہو کر شہر کے سمندری ساحلوں پر ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات کو لانے میں رول ادا کیا ہے۔











