’’ہم جتنا خریدتے ہیں، اتنا ہی زیادہ قرض میں ڈوب جاتے ہیں۔‘‘ یہ کُنری سبری ہیں، ۴۰ سالہ ایک کسان، جو ساورا آدیواسی کمیونٹی کی اکثریت والے اپنے گاؤں، کھَیرا میں ہم سے بات کر رہی ہیں۔
’’گوبرکھت چاس، ہلاچاس [گائے کے گوبر اور ہل سے کھیتی]، جو ہماری اپنی تھی، اب کوئی نہیں کر رہا ہے،‘‘ انہوں نے کہا۔ ’’اب ہم ہر چیز کے لیے بازار کی طرف دوڑتے ہیں۔ بیج، حشرہ کش، کھاد۔ پہلے کے برعکس، ہم جو کچھ کھاتے ہیں اسے بھی خریدنا پڑتا ہے۔‘‘
کماری کا یہ بیان اوڈیشہ کے رائیگڑا ضلع کے حیاتی طور سے حساس علاقے میں جڑیں جما رہی کپاس کی کھیتی پر انحصار کو ظاہر کرتا ہے، جس کا گہرا اثر یہاں کی بایو ڈائیورسٹی کے بیش بہا ذخیرہ، کسانوں کے بحران اور غذائی تحفظ پر پڑ رہا ہے۔ (دیکھیں اوڈیشہ میں ماحولیاتی بحران کے بیج کی بوائی)۔ ہم جب رائیگڑا کے گُنوپور بلاک کےے میدانی علاقے سے جنوبی مشرق کی طرف پہنچے، جہاں کپاس سب سے پہلے پہنچی تھی، تو یہ واضح طور پر دکھائی دے رہا تھا۔ آندھرا پردیش کی سرحد پر واقع اس علاقے میں، جہاں تک نظر پہنچ سکتی تھی، صرف کپاس ہی کپاس کے کھیت تھے۔ اس کے علاوہ، یہاں کا گہرا بحران بھی صاف جھلک رہا تھا۔
’’ہم نے ۱۰-۱۲ سال پہلے کپاس کی کھیتی شروع کی تھی۔ ہم اب ایسا اس لیے کر رہے ہیں کیوں کہ ہمارے پاس کوئی دوسرا متبادل نہیں ہے۔‘‘ کھَیرا کے کئی لوگوں نے ہمیں بتایا۔ اس علاقے کے بہت سے کسانوں نے کہا کہ جب وہ بھاری لاگت والے کپاس کی طرف بڑھے، تو وہ دھیرے دھیرے اپنے بیج اور کثیر فصلی کھیتی کے روایتی طریقوں کو بھی بھولتے چلے گئے۔
’’ہمارے پاس خود کی اپنی فصلیں اور اپنی کھیتی تھی،‘‘ ساورا کے ایک نوجوان کاشتکار، کھیتر سبرا نے کہا۔ آندھرا والوں نے آکر ہمیں کپاس اُگانے کے لیے کہا، اور ہمیں سب کچھ سکھایا۔‘‘ یہاں کے ایک اور کسان، سنتوش کمار دنڈسینا نے اس میں اپنی بات جوڑتے ہوئے کہا کہ منافع کمانے کے امکان نے گاؤں والوں کو کپّا، یا کپاس کی طرف متوجہ کیا۔ ’’شروعات میں اس نے خوشی دی، ہم نے پیسے کمائے۔ لیکن اب، صرف غم اور نقصان ہے،‘‘ انہوں نے کہا۔ ’’ہم برباد ہو چکے ہیں اور ساہوکار خوش ہیں۔‘‘
ہم جس وقت بات کر رہے تھے، گہرے ہرے رنگ کے جان ڈیرے (John Deere) ٹریکٹر گاؤں میں ادھر ادھر دندناتے پھر رہے تھے۔ مقامی مندر کی دیواروں پر بیج کمپنی کے پوسٹر چپکے ہوئے تھے، جن پر اڑیہ میں بی ٹی کپاس کا پرچار تھا۔ اس فصل کے لیے جُتائی اور بوائی کے آلات گاؤں کے چوراہے پر ادھر ادھر رکھے ہوئے تھے۔








