یہ اسٹوری پاری کی ماحولیاتی تبدیلی پر مبنی سیریز کا حصہ ہے، جس نے ماحولیات کی رپورٹنگ کے زمرہ میں سال ۲۰۱۹ کا رامناتھ گوئنکا ایوارڈ جیتا ہے
’’صبح کے ۱۱ بج کر ۴۰ منٹ ہو چکے ہیں، اس لیے آگے رفتار کی تازہ صورتحال کے بارے میں بتایا جا رہا ہے،‘‘ کڈل اوسئی ریڈیو اسٹیشن پر اے یشونت اعلان کرتے ہیں۔ ’’پچھلے ایک ہفتہ یا ایک مہینہ سے، کچان کاتھو [جنوبی ہوا] بہت تیز تھی۔ اس کی رفتار ۴۰ سے ۶۰ [کلومیٹر فی گھنٹہ] تھی۔ آج، گویا ماہی گیروں کی مدد کرنے کے لیے، یہ کم ہو کر ۱۵ [کلومیٹر فی گھنٹہ] پر پہنچ گئی ہے۔‘‘
تمل ناڈو کے رام ناتھ پورم ضلع کے پامبن جزیرہ کے ماہی گیروں کے لیے یہ بہت اچھی خبر ہے۔ ’’اس کا مطلب ہے کہ وہ بغیر کسی خوف کے سمندر میں جا سکتے ہیں،‘‘ یشونت بتاتے ہیں جو خود ایک ماہی گیر ہیں۔ وہ اس علاقے میں رہنے والی برادری کے ایک ریڈیو اسٹیشن، کڈل اوسئی (سمندر کی آواز) میں ریڈیو جاکی بھی ہیں۔
خون کے عطیہ پر ایک مخصوص نشریہ شروع کرنے کے لیے، یشونت موسم کی رپورٹ سے متعلق اپنی بات ان الفاظ کے ساتھ ختم کرتے ہیں: ’’درجہ حرارت ۳۲ ڈگری سیلسیس پر پہنچ چکا ہے۔ اس لیے وافر مقدار میں پانی پیتے رہیں اور دھوپ میں نہ جائیں۔‘‘
یہ ایک ضروری احتیاط ہے، کیوں کہ پامبن میں اب ۱۹۹۶ کے مقابلے، جس سال یشونت کی پیدائش ہوئی تھی، کہیں زیادہ گرم دن دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ تب، اس جزیرہ پر ایک سال میں کم از کم ۱۶۲ دن ایسے ہوتے تھے جب درجہ حرارت ۳۲ ڈگری سیلسیس کے نشان کو چھو لیتا تھا یا اس کے پار پہنچ جاتا تھا۔ ان کے والد انتھونی سامی واس – جو ابھی بھی ایک کل وقتی ماہی گیر ہیں – جب ۱۹۷۳ میں پیدا ہوئے تھے، تو اتنی گرمی سال میں ۱۲۵ دن سے زیادہ نہیں پڑتی تھی۔ لیکن آج، اُن گرم دنوں کی تعداد سالانہ کم از کم ۱۸۰ ہو چکی ہے، یہ کہنا ہے موسمیاتی تبدیلی اور گلوبل وارمنگ پر ایک انٹریکٹو آلہ سے کی گئی پیمائش کا، جسے نیویارک ٹائمز نے اس سال جولائی میں آن لائن پوسٹ کیا تھا۔
اس لیے یشونت اور ان کے ساتھی نہ صرف موسم کو، بلکہ آب و ہوا کے وسیع موضوع کو بھی سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے والد اور دیگر ماہی گیر – جن کی حقیقی تعداد اس جزیرہ کے دو بڑے قصبہ، پامبن اور رامیشورم میں ۸۳ ہزار کے آس پاس ہے – ان کی طرف اس امید کے ساتھ دیکھ رہے ہیں کہ وہ ان تبدیلیوں کا صحیح مطلب سمجھائیں گے۔









