۵۴۔ خواتین کسانوں کے اعزاز میں، سنگھو پر یوم خواتین
ملک میں یوم خواتین کی سب سے بڑی تقریب میں، ۸ مارچ ۲۰۲۱ کو خواتین کسانوں اور تین زرعی قوانین کے خلاف جاری احتجاجی مظاہرے میں ان کے رول کے اعزاز میں ہزاروں خواتین سنگھو بارڈر پر جمع ہوئیں

SANGUR, PUNJAB
|SAT, JAN 16, 2021
Author
Lead Illustration
Translator
سال ۲۰۲۱ میں یومِ جمہوریہ کے موقع پر، آئین اور شہریوں کے حقوق کی حفاظت کے لیے کسانوں نے ٹریکٹر پریڈ نکالا تھا اور پرامن طریقے سے احتجاجی مظاہرہ کیا تھا۔ یہ فلم زرعی قوانین کو منسوخ کرنے کی ان کی طویل جدوجہد کو خراج عقیدت ہے
سال ۲۰۲۰ کے زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کرنے کے دوران جن کسانوں کی موت ہوئی، ان کے اہل خانہ غم زدہ ہونے کے ساتھ ساتھ ناراض بھی ہیں۔ ان میں سے کچھ لوگوں نے اپنے عزیزوں کے کھونے کا غم اور اپنے ساتھ ہونے والی نا انصافی کے بارے میں پاری سے بات کی
۱۱ دسمبر کو، ٹیکری کے احتجاجی مقام پر کسانوں نے اپنے خیمے اکھاڑنے شروع کر دیے اور گاؤں لوٹنے کے لیے اپنے سامان باندھنے لگے۔ ان کے چہرے پر فتح کی شادمانی تو تھی ہی، لیکن یہاں پر بنائے گئے’گھر‘ کو چھوڑنے کا غم بھی صاف جھلک رہا تھا۔ تاہم، وہ اپنی جدوجہد کو برقرار رکھنے کے لیے پرعزم بھی دکھائی دے رہے تھے
اپنے اوپر زبردستی تھوپے گئے زرعی قوانین کی مخالفت میں جگہ جگہ اور متحدہ طور پر حیرت انگیز لڑائی لڑنے اور پھر حکومت کو اپنا فیصلہ واپس لینے پر مجبور کرنے والے کسانوں کے لیے ایک شاعر کی طرف سے بطور نذرانہ پیش کی گئی یہ نظم
موہنی کور اور ساکشی پنّو نے سنگھو اور ٹیکری بارڈر پر احتجاج کرنے والے کسانوں کی کئی مہینوں تک خدمت کی اور اب وہ دہلی کی سرحدوں سے فتح یاب ہوکر اپنے اپنے گھروں کو لوٹ رہے اُن کسانوں کے ساتھ خوشیاں منا رہی ہیں
کسانوں کے جم غفیر نے سنگھو پر اپنے احتجاج کی تاریخی سالگرہ منائی، زرعی قوانین کی منسوخی کے متعلق باتیں کیں، پچھلے ایک سال کے دوران برداشت کیے گئے مصائب اور پھر اس کے بعد ملنے والی جیت کو یاد کیا، اور آگے کی مزید لڑائیوں کا ذکر کیا
مغربی دہلی میں واقع ٹیکری بارڈر پر موجود کسانوں کے احتجاجی مقام پر، بہت سے لوگ زرعی قوانین کی منسوخی کی خبر سے تھوڑے محتاط ہو گئے ہیں – اور اس لڑائی کے دوران انہوں نے جو قیمت چکائی ہے اور آگے کا راستہ ان کے لیے کتنا جدوجہد بھرا رہنے والا ہے، اس کے بارے میں بات کرتے ہیں
تین زرعی قوانین کو منسوخ کرنے کا اعلان اس لیے نہیں کیا گیا ہے کہ وزیر اعظم کچھ کسانوں کو ’قائل‘ کرنے میں ناکام رہے، بلکہ یہ فیصلہ اس لیے لیا گیا کیوں کہ بڑی تعداد میں کسان اپنے عزم پر قائم رہے، حالانکہ بزدل میڈیا نے ان کی اس لڑائی اور طاقت کو کمزور کرنے کی پوری کوشش کی تھی
پنجاب کے کسانوں کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں موجود منڈیوں کا وسیع اور قابل رسا نیٹ ورک ان کے موافق ہے اور کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) اور دیگر بھروسہ مند کارروائیوں کے ساتھ ساتھ تجارت کے لحاظ سے انہیں تھوڑا محفوظ ماحول فراہم کرتا ہے۔ اب کسانوں کو یہ خوف ستا رہا ہے کہ نئے زرعی قوانین کے نافذ ہونے کا سیدھا اثر اس نیٹ ورک پر پڑے گا
یہ ایک اثر انگیز اور جذباتی لمحہ تھا، جب بھگت سنگھ، راج گرو اور سکھدیو کے یومِ شہادت پر پنجاب میں واقع ان کے گاؤوں کی مٹی سے بھرے آٹھ گھڑے سنگھو میں احتجاج کر رہے کسانوں کے پاس پہنچے
تین زرعی قوانین کے خلاف دہلی کی سرحدوں پر احتجاج کرنے والے کسانوں کی متحدہ تنظیموں نے وسط مارچ میں مغربی بنگال میں ایک میٹنگ منعقد کی۔ یہ رپورٹ ہُگلی ضلع کے سنگور میں ہونے والی اسی میٹنگ پر مبنی ہے
اتراکھنڈ اور شمال مغربی یوپی کے کسان – جن میں سے اکثر نے احتجاجی مظاہرہ میں حصہ لیا – کا کہنا ہے کہ ریاست کے ذریعہ چلائی جانے والی منڈیاں، خامیوں سے بھری ہونے کے باوجود، ان کے وجود کے لیے ضروری ہیں
ملک میں یوم خواتین کی سب سے بڑی تقریب میں، ۸ مارچ ۲۰۲۱ کو خواتین کسانوں اور تین زرعی قوانین کے خلاف جاری احتجاجی مظاہرے میں ان کے رول کے اعزاز میں ہزاروں خواتین سنگھو بارڈر پر جمع ہوئیں
جنوری کے آخر میں ممبئی کے آزاد میدان میں کسانوں کے احتجاجی مظاہرہ میں، مہاراشٹر کے ڈہانو تعلقہ کی آدیواسی برادریوں کے دھُمسی اور تارپا بجانے والوں نے رقص اور گانے کے ذریعہ نئے زرعی قوانین کی مخالفت کی
احتجاج شروع ہونے کے بعد آمدنی کا نقصان ہونے کے باوجود، ہریانہ- دہلی سرحد پر واقع سنگھو اور ارد گرد کے بہت سے چھوٹے کاروباری، دکاندار، کامگار اور سامان فروش کسانوں کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہیں
ہریانہ کے پیٹواڑ گاؤں کی سونیا پیٹواڑ، شانتی دیوی اور دیگر خواتین اپنے طریقے سے کسان تحریک کا تعاون کر رہی ہیں – ٹیکری میں راشن بھیجنے کے ساتھ ساتھ وہ احتجاجی مظاہروں میں بھی شریک ہو رہی ہیں
نارائن گائکواڑ ہاتھ ٹوٹنے کے باوجود، کسانوں سے بات کرنے اور نئے زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے جنوری میں آزاد میدان پہنچے۔ کولہاپور کے یہ کسان زرعی مسائل کو لیکر پورے ہندوستان میں کئی ریلیوں میں شرکت کر چکے ہیں
ارونا بائی اور ششی کلا – دونوں آدیواسی برادریوں کی بیوائیں، اور اورنگ آباد ضلع میں کسان اور زرعی مزدور ہیں – نئے زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کرنے اور اپنی زمین کا مالکانہ حق مانگنے کے لیے ممبئی آئیں
پی ڈی ایس راشن کی کمی، جمع خوری، غذائی اجناس کی بڑھتی ہوئی قیمتیں – مہاراشٹر کے کسان، جو ممبئی کے آزاد میدان میں احتجاج کر رہے تھے، وہ ان مسائل اور زرعی قوانین کے دیگر ممکنہ طویل مدتی اثرات سے فکر مند ہیں
آدیواسی کسان، انوسایا کمارے اور سرجا بائی آدے اپنی زمین کے حقوق کے لیے مہاراشٹر کے سرکھنی گاؤں میں جنوری سے احتجاج کر رہی ہیں؛ وہ تین نئے زرعی قوانین کے خلاف ممبئی کے احتجاج میں شامل ہوئیں
دہلی کی سرحدوں پر احتجاج کر رہے کسانوں کو منتشر کرنے کی کوششیں ناکام ہونے کے بعد، عالمی سازش کی بات کرکے مقامی ظلم و جبر کو درست کہا جا رہا ہے۔ کیا آئندہ کسی اور سیارے کا ہاتھ ہونے کا پتا لگانے کی کوشش کی جائے گی؟
دہلی کی ٹریکٹر پریڈ کی حمایت کرنے اور کارپوریٹ پر مرکوز زرعی پالیسیوں کے خلاف اپنا احتجاج درج کرانے کے لیے، یوم جمہوریہ پر شمالی کرناٹک کے کسان ٹرینوں اور بسوں سے بنگلورو پہنچے
زمین کے حقوق کے لیے اپنی لڑائی جاری رکھنے والی خواتین کسان اور زرعی مزدور نئے زرعی قوانین کے خلاف ممبئی میں احتجاج کر رہی تھیں تاکہ انہیں اپنی مزید فصلوں کو ایم ایس پی سے کم قیمت پر فروخت نہ کرنا پڑے
۲۶ جنوری کو راجدھانی دہلی اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں دو چیزیں دیکھنے کو ملیں: شہریوں کی ایک شاندار پریڈ اور ایک افسوسناک اور قابل مذمت تماشہ۔ لال قلعہ اور آئی ٹی او پر، افواہوں نے انتشار کی حالت پیدا کرنے میں بڑا رول نبھایا
۱۸ جنوری کو خواتین کسانوں کے دن کے موقع پر مغربی بنگال کے گاؤوں سے کسان اور زرعی مزدور خواتین نئے زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کرنے اور کئی دیگر تشویشوں کا اظہار کرنے کے لیے کولکاتا پہنچیں
چھوٹی عمر میں آدیواسی کسانوں کی تشویشوں کے بارے میں جاننے میں مدد کرنے کے لیے ۱۰ سال کی نوتن کو اس کی دادی، جیجا بائی نئے زرعی قوانین کے خلاف ناسک سے ممبئی تک نکالے گئے مارچ میں اپنے ساتھ لے آئیں
ایک گروپ کے ہنگامے نے، جو کبھی ان ۳۲ کسان یونینوں کا حصہ نہیں تھا جو دہلی کی سرحدوں پر چل رہے آندولن کی قیادت کر رہے ہیں، یوم جمہوریہ کے موقع پر کسانوں کی انوکھی، پرامن، اور شائستہ پریڈ سے لوگوں کی توجہ ہٹا دی
پورے کرناٹک کے کسانوں کا کہنا ہے کہ نئے زرعی قوانین ہندوستان بھر کے کسانوں کو متاثر کرتے ہیں۔ ان میں سے کئی دہلی میں جاری کسانوں کے احتجاج کی حمایت میں یوم جمہوریہ پر بنگلورو میں نکالی جانے والی ٹریکٹر ریلی میں شرکت کی
ٹیکری سے کسانوں کے ٹریکٹروں کا قافلہ پرامن طریقے سے آگے بڑھ رہا تھا، تبھی ایک چھوٹا گروپ اس سے الگ ہو گیا، جس نے نانگلوئی چوک پر انتشار پھیلایا اور شہریوں کی ایک غیر معمولی اور شائستہ یوم جمہوریہ پریڈ میں رخنہ ڈال دیا
تین نئے زرعی قوانین کے خلاف دہلی کے مظاہرین کی حمایت میں سمیُکت شیتکاری کامگار مورچہ کے زیر اہتمام اس ہفتے آزاد میدان میں منعقد دھرنے میں پورے مہاراشٹر سے آئے دسیوں ہزار کسان شامل ہوئے
ناسک کی آدیواسی کسان بیواؤں – بھیما ٹنڈالے، سُمن بومبالے اور لکشمی گائکواڑ کے لیے زمین کا مالکانہ حق بنیادی تشویش کا موضوع ہونے کے باوجود وہ نئے زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کی حمایت کرنے کے لیے ممبئی آئی ہیں
دہلی کے احتجاجی مقامات اور اس کے آس پاس کے کسان یوم جمہوریہ کی بے مثال پریڈ کے لیے اپنے ٹریکٹروں کو پینٹ، مالا اور غباروں سے سجا کر تیار کر رہے ہیں
دہلی میں یوم جمہوریہ کے دن ہونے والے آندولن کی حمایت کرنے کے لیے ہزاروں کسان ممبئی پہنچ رہے ہیں۔ ناسک ضلع کی وجے بائی گانگرڈے اور تارا بائی جادھو جیسے تمام زرعی مزدوروں نے پیسے قرض لے کر احتجاجی مارچ میں حصہ لیا
رمیش کمار ۲۶ جنوری کو کسانوں کے ذریعے سنگھو کے احتجاجی مقام پر منائے جانے والے یوم جمہوریہ پریڈ میں شرکت کرنے کے لیے پنجاب کے ہوشیار پور سے سائیکل سے چل کر آئے ہیں
گرد و غبار، گندگی، اور کبھی کبھار ہونے والی بارش سے بے پرواہ ہو کر، دہلی کا ایک جوڑا، جسوندر سنگھ سینی اور پرکاش کور، سنگھو بارڈر پر کسانوں کے گندے اور کیچڑ سے بھرے جوتوں کی صفائی کرتے ہیں
۲۶ جنوری کی ٹریکٹر ریلی کے لیے ٹیکری بارڈر پر ہزاروں ٹریکٹروں کی قطار لگ چکی ہے۔ خواتین کسان اس کی قیادت کریں گی، اور تمام منصوبوں پر احتیاط سے کام چل رہا ہے
سربجیت کور ٹریکٹر چلاتے ہوئے پنجاب کے اپنے گاؤں سے ۴۰۰ کلومیٹر سے زیادہ دوری طے کرکے کسانوں کے احتجاجی مقام، سنگھو تک پہنچی ہیں اور اب ۲۶ جنوری کو ٹریکٹر ریلی میں شریک ہونے کے لیے تیار ہیں
ہریانہ کے کندرَولی گاؤں کے ایک نوجوان کسان، چیکو ڈھانڈا کسانوں کے احتجاج میں شامل ہونے کے لیے پانچ بار سنگھو جا چکے ہیں۔ وہ پھر جا رہے ہیں، اس بار ۲۶ جنوری کی ٹریکٹر ریلی میں شرکت کرنے کے لیے
ایک انتہائی معروف ہندوستانی بحریہ کے سابق سربراہ، جو طویل عرصے سے خود کھیتی کر رہے ہیں، زرعی قوانین کے خلاف دہلی اور ملک بھر میں احتجاج کر رہے کسانوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں
ممبئی کے آزاد میدان میں، اتر پردیش سے تعلق رکھنے والے رام موہن بھی ان مزدوروں میں شامل ہیں (ان کی فیملی کے بھی کئی لوگ کسان ہیں) جو زرعی قوانین کی مخالفت کرنے ناسک سے آ رہے ہزاروں کے مجمع کے لیے ٹینٹ لگا رہے ہیں
’پگڑی لنگر‘ سے لیکر درزی، ٹرکوں سے جڑے چارجنگ پورٹ اور آئینے، مفت لانڈری، مالش، جوتے کی سلائی تک – سنگھو میں بڑی تعداد میں غیر کسان بھی موجود ہیں، جو اپنی اِن خدمات کے ذریعہ یکجہتی کا اظہار کر رہے ہیں
مغربی دہلی کے ٹیکری احتجاجی مقام پر، ۷۰ سالہ تاراونتی کور پنجاب کے اُن دلت زرعی مزدوروں میں سے ایک ہیں، جن کا ماننا ہے کہ مرکز کے نئے قانون انہیں مزید غریبی میں دھکیل دیں گے
سنگھو بارڈر احتجاجی مظاہرہ کر رہے کسانوں نے ۱۳ جنوری کو تینوں زرعی قوانین کی کاپیاں جلا کر لوہڑی منائی۔ غور طلب ہے کہ لوہڑی پنجاب اور شمالی ہندوستان کے دیگر علاقوں کا ایک مشہور تہوار ہے
ہندوستان میں خواتین زراعت میں مرکزی رول ادا کرتی ہیں، اور اس وقت بہت ساری خواتین – کسان اور غیر کسان، نوجوان اور بزرگ، مختلف طبقات اور ذاتوں سے تعلق رکھنے والی – دہلی کے ارد گرد کسانوں کے احتجاجی مقامات پر پورے عزم کے ساتھ موجود ہیں
ریشم اور بیئنت کور زرعی قوانین کے خلاف ہیں اور ایسا مانتی ہیں کہ یہ قانون ان کی فیملی کی طرح، بقیہ بے شمار زرعی مزدوروں کی روزی روٹی اور غذائی تحفظ کو متاثر کریں گے
لدھیانہ سے تعلق رکھنے والے آرٹ کے ایک ٹیچر نے کسانوں کی تحریک میں اپنے تعاون کے طور پر سنگھو کے احتجاجی مقام پر ایک بڑے کینوس پر پینٹنگ کی ہے
شاہجہاں پور میں، کسانوں کی یکجہتی میں طبقہ کا کوئی امتیاز نظر نہیں آتا، اور مہاراشٹر کے آدیواسی کسان – جن میں سے کئی کے پاس زمین کے چھوٹے ٹکڑے ہیں – شمالی ہند کے اپنے کسان ساتھیوں کی بہتات اور کشادہ دلی سے کافی متاثر ہوئے
ہریانہ-دہلی سرحد پر بیٹھے کسان، ہفتوں سے چلے آ رہے احتجاجی مظاہرے کے ساتھ ساتھ اپنی فصلوں اور کھیتوں کو نظر انداز نہیں کر سکتے، اس لیے انہوں نے رِلے کی تیاری کی ہے – کچھ کسان تھوڑے وقت کے لیے اپنے گاؤں لوٹتے ہیں، وہیں دوسرے کسان سنگھو بارڈر پر ان کی جگہ لے لیتے ہیں
شاہجہاں پور میں اپنے شمالی ہند کے ہم پیشہ لوگوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنے کے لیے متھرا برڈے اور نارائن گائیکواڑ جیسے مہاراشٹر کے کسانوں نے اپنے کھیت اور اپنی مزدوری چھوڑ کر پانچ دن کا سفر کیا تھا
ستّر سالہ سردار سنتوکھ سنگھ ۲۷ نومبر کو پنجاب کے اپنے گاؤں سے جب سنگھو آئے، تو اُس دن آنسو گیس کا گولہ لگنے سے وہ زخمی ہو گئے تھے – لیکن زخم کے باوجود، وہ احتجاج کے مقام پر ڈٹے ہوئے ہیں
دہلی-ہریانہ سرحد پر واقع سنگھو میں ایک کسان سمجھانے کی کوشش کر رہا ہے کہ وہ زرعی قوانین کے خلاف کیوں ہے اور وہ پانچ کلو وزنی زنجیروں میں جکڑا ہوا احتجاج کے مقام پر کیوں گھوم پھر رہا ہے
پنجاب کے گرودیپ سنگھ اور راجستھان کے بلاول سنگھ شاہجہاں پور کے احتجاجی مقام پر لنگر چلاتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ اس حکومت کو بھوکے احتجاجیوں سے نمٹنے کی عادت ہے، اس لیے وہ یہاں ہر کسی کا پیٹ اچھی طرح بھرنے کو یقینی بنا رہے ہیں
ناسک ضلع کی ۱۶ سالہ بھیل آدیواسی زرعی مزدور اور گلوکار- موسیقار، سویتا گُنجل نے اپنی شاندار گیتوں سے مہاراشٹر کے کسانوں کے ذریعہ دہلی تک کے جتھّے میں تمام لوگوں کے جوشش و حوصلہ کو بڑھائے رکھا
راجستھان- ہریانہ سرحد پر ۱۰۰ لوگوں کے لیے آلو مٹر کی سبزی بنانے میں اپنی فیملی کی مدد کرنے کے لیے سب سے کم عمر کا ایک احتجاجی سامنے آتا ہے
دہلی کے دروازے پر موجود لاکھوں کسان احتجاجیوں کے درمیان مسلح افواج کے کئی ہیرو بھی ہیں، جن میں سے کچھ ہندوستان کے لیے لڑی جانے والی جنگ میں ۵۰ سے زیادہ تمغے جیت چکے ہیں
مہاراشٹر کے مختلف ضلعوں سے تقریباً ۱۰۰۰ کسان، جن میں سے زیادہ تر آدیواسی ہیں – گاڑی، ٹیمپو، جیپ اور کاروں کے ذریعہ دہلی کے احتجاجی مظاہرین کے ساتھ شامل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ ایک خوبصورت اور پر عزم قافلہ ہے
ناسک ضلع کی منگل گھڈگے اور میرابائی لانگے نے پچھلے کئی برسوں سے کسانوں کے احتجاج میں حصہ لیتے ہوئے اپی دوستی قائم کی ہے، اور اس ہفتے بھی ناسک سے دہلی تک گاڑیوں کے مارچ میں وہ ایک ساتھ تھیں
پچھلے مہینے سے دہلی کے دروازے پر کسانوں اور ان کے حامیوں کے احتجاجی مظاہرے کئی دلکش نظموں اور گیتوں کی تخلیق کا باعث بنے ہیں۔ لیکن یہ گیت یقینی طور پر گزشتہ کئی برسوں کے سب سے بہتر احتجاجی گیتوں میں سے ایک ہے
اپنا ایک پیر خراب ہونے کے باوجود، پیشہ سے ماہی گیر پرکاش بھگت اپنے گاؤں، پرگاؤں کے لوگوں کے لیے کھانا بنا رہے ہیں، جو ناسک سے دہلی تک چل رہے گاڑیوں کے مورچے میں شامل ہیں۔ یہ مورچہ زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کر رہے کسانوں کی حمایت میں نکالا گیا ہے
ہندوستان میں خواتین زراعت میں مرکزی رول ادا کرتی ہیں، لیکن انہیں کبھی کسان کے طور پر تسلیم نہیں کیا جاتا – گزشتہ ہفتے ان میں سے کئی عورتیں نئے زرعی قوانین کو ختم کرنے کی تحریک کی حمایت کرتے ہوئے پونہ میں جمع ہوئیں
کسانوں کے احتجاجی مقام، سنگھو اور براڑی کے عارضی کیمپوں میں ٹھہرے مظاہرین ہر دن کے آخر میں لمبی رات گزارنے اور بھائی چارے کے جذبہ اور نئے عزم کے ساتھ آگے کی لڑائی لڑنے کی تیاری کرتے ہیں
سنگھو بارڈر پر کسانوں کے احتجاجی مظاہرہ نے ارد گرد کے فٹ پاتھوں اور جھگی بستیوں میں رہنے والے بہت سے کنبوں کو متوجہ کیا ہے، جو خاص طور سے لنکر – مفت کھانا – کے لیے آتے ہیں اور یہ اجتماعی باورچی خانے تمام لوگوں کا خیر مقدم کرتے ہیں
دہلی- ہریانہ سرحد کے سنگھو بارڈر پر ڈٹے کسان بہت سی مشکلوں کا سامنا کرتے ہوئے سینکڑوں کلومیٹر دور سے آئے ہیں۔ انہی میں سے ایک ہرجیت سنگھ بھی ہیں، جو ٹوٹے کولہے اور زخمی ریڑھ کے باوجود یہاں تک پہنچے ہیں
نئے زرعی قوانین صرف کسانوں کو ہی نہیں، بلکہ تمام شہریوں کو آئینی تحفظ سے محروم کر رہے ہیں – جو کہ ۱۹۷۵-۷۷ کی ایمرجنسی کے بعد سے اب تک نہیں دیکھا گیا تھا۔ دہلی کے دروازے پر موجود کسان ہم تمام لوگوں کے حقوق کے لیے لڑ رہے ہیں
دہلی- ہریانہ کے احتجاجی مظاہروں میں، کسانوں کے مطالبات میں تین نئے زرعی قوانین کو ردّ کرنا شامل ہے – اور وہ کانٹے دار تاروں، بیریکیڈز، اپنے خود کے نقصان، بے عزتی وغیرہ کا سامنا کرنے کو تیار ہیں
ہریانہ- دہلی میں چل رہے احتجاجی مظاہروں کو اپنی حمایت دینے اور اپنے ۲۱ مطالبات کو لیکر، آدیواسی برادری کے کسان ۲۶ نومبر کو مہاراشٹر کے پالگھر ضلع میں جمع ہوئے
Want to republish this article? Please write to [email protected] with a cc to [email protected]
All donors will be entitled to tax exemptions under Section-80G of the Income Tax Act. Please double check your email address before submitting.
PARI - People's Archive of Rural India
ruralindiaonline.org
https://ruralindiaonline.org/articles/زرعی-قوانین-کے-خلاف-احتجاجی-مظاہرے-مکمل-کوریج