اپنی زندگی کے آخری دن تک ۲۲ سالہ گرپریت سنگھ، ستمبر ۲۰۲۰ میں حکومت کے ذریعے لائے گئے نئے زرعی قوانین کے خلاف اپنے گاؤں کے کسانوں کو احتجاج کے لیے تیار کرتے رہے۔ پنجاب کے مکووال گاؤں میں پانچ ایکڑ زمین کے مالک ان کے والد، جگتار سنگھ کٹاریہ کو اپنے بیٹے کی آخری تقریر یاد ہے۔ تقریر کو غور سے سن رہے ۱۵ سامعین کو انہوں نے بتایا کہ دہلی کی سرحدوں پر تاریخ رقم ہو رہی ہے – اور انہیں بھی اپنا تعاون دینے کے لیے وہاں جانا چاہیے۔ دسمبر ۲۰۲۰ کی اُس صبح کو، جب گرپریت نے اپنی پر جوش تقریر ختم کی، تو وہاں موجود لوگوں کی آستینیں چڑھ چکی تھیں، اور وہ ملک کی راجدھانی تک مارچ کرنے کے لیے تیار تھے۔
یہ لوگ شہید بھگت سنگھ نگر ضلع کی بالاچور تحصیل کے مکووال گاؤں سے ۱۴ دسمبر کو دہلی کے لیے روانہ ہوئے۔ تقریباً ۳۰۰ کلومیٹر لمبے اس سفر کے دوران، ہریانہ کے انبالہ ضلع میں موہرا کے قریب ایک بڑی گاڑی نے ان کی ٹریکٹر ٹرالی کو ٹکر مار دی۔ ’’بہت زور کی ٹکر تھی، جس میں گرپریت کی موت ہو گئی،‘‘ جگتار سنگھ نے اپنے بیٹے کے بارے میں بتایا، جو پٹیالہ کے مودی کالج میں بی اے کا طالب علم تھا۔ ’’اس تحریک کے لیے یہ تھی اس کی قربانی – اس نے اپنی جان دے دی۔‘‘
گرپریت اُن ۷۰۰ یا اس سے زیادہ افراد میں شامل ہیں، جو زرعی شعبہ کو آزادا کرنے کے لیے ہندوستانی حکومت کے ذریعے متعارف کرائے گئے تین زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کرنے کے دوران ہلاک ہوئے۔ ملک بھر کے کسانوں کو لگا کہ یہ قوانین، کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) کے نظام کو تباہ کر دیں گے اور پرائیویٹ تاجروں اور بڑے کارپوریشنوں کو فصلوں کی قیمتیں طے کرنے اور ساتھ ہی بازار سے بے جا فائدہ اٹھانے کا موقع فراہم کریں گے۔ اسی خیال نے کسانوں – خاص کر پنجاب، ہریانہ اور اتر پردیش کے کسانوں کو احتجاج کے لیے ۲۶ نومبر، ۲۰۲۰ سے دہلی کی سرحدوں پر جمع کرنا شروع کر دیا۔ زرعی قوانین کی منسوخی کا مطالبہ کرتے ہوئے، ان کسانوں نے دہلی-ہریانہ سرحد پر واقع سنگھو اور ٹیکری، اور دہلی-اتر پردیش سرحد پر واقع غازی پور میں اپنے خیمے گاڑ دیے۔
احتجاج کرتے ہوئے جب ایک سال سے زیادہ کا عرصہ گزر گیا، تو آخرکار ۱۹ نومبر، ۲۰۲۱ کو وزیر اعظم مودی نے ان قوانین کی منسوخی کا اعلان کیا۔ زرعی قوانین کی منسوخی کا بل ۲۰۲۱ پارلیمنٹ میں ۲۹ نومبر کو ہی پاس ہو گیا تھا، لیکن کسانوں نے اپنا احتجاج ۱۱ دسمبر، ۲۰۲۱ کو ختم کیا جب مرکزی حکومت نے ان کے زیادہ تر مطالبات تسلیم کر لیے۔
جن کنبوں نے ایک سال سے زیادہ چلنے والے اس احتجاج کے دوران اپنے عزیزوں کو کھو دیا، میں نے ان میں سے کچھ کے اہل خانہ سے ذاتی طور پر یا بذریعہ فون بات کی۔ یہ لوگ پریشان حال اور غم زدہ ہیں، لیکن غصے میں بھی ہیں، اور اس تحریک کے دوران اپنی جان قربان کرنے والے شہیدوں میں شامل اپنے عزیزوں کو یاد کرتے ہیں۔
جگتار سنگھ کا کہنا تھا، ’’ہم کسانوں کی جیت کا جشن تو منا رہے ہیں، لیکن قوانین کو واپس لینے کے وزیر اعظم مودی کے اعلان سے ہمیں خوشی نہیں ہوئی۔ حکومت نے کسانوں کے لیے کچھ بھی اچھا نہیں کیا ہے۔ اس نے کسانوں اور [اس تحریک میں] مرنے والوں کی توہین کی ہے۔‘‘

















