ہر فتح سنگھ، مگرمچھ کے اسٹائل والی ہرے رنگ کی ہوڈی اور موٹے اونی موزے پہنے، راجستھان- ہریانہ سرحد پر ایک بڑے برتن سے مٹر چھیلنے میں اپنے والد کی مدد کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ دہلی- جے پور شاہراہ پر راجستھان کے الور ضلع کے شاہجہاں پور میں یہ ۱۸ مہینے کا بچہ یقیناً سب سے کم عمر احتجاجیوں میں سے ایک ہے۔ ہر فتح اس وقت چل رہی کسانوں کی تحریک میں سبزیاں چھیل کر اپنا تعاون دے رہا ہے۔ کم از کم، ایسا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ وہ ایسا ٹھیک سے یا مہارت سے نہ کر پا رہا ہو، لیکن اس کی طرف سے دلچسپی یا کوشش میں کسی قسم کی کمی نہیں ہے۔
کئی ریاستوں کے لاکھوں کسان اپنے معاش کے لیے تباہ کن تین زرعی قوانین کو منسوخ کرنے کا مطالبہ لیکر دہلی اور ہریانہ کی مختلف سرحدوں پر جمع ہیں۔ سب سے پہلے ۵ جون کو آرڈیننس کی شکل میں جاری کیے گئے ان قوانین کو ۱۴ ستمبر کو پارلیمنٹ میں بل کے طور پر پیش کیا گیا اور پھر اسی ماہ کی ۲۰ تاریخ کو اسے قانون کے طور پر پاس کر دیا گیا تھا۔
میں ۲۵ دسمبر کو جب ہرفتح سے ملی، تو اس وقت شاہجہاں پور کے احتجاجی مقام پر مہاراشٹر کے تقریباً ایک ہزار کسان وہاں پہلے سے موجود پنجاب، ہریانہ اور راجستھان کے کئی دیگر کسانوں کے ساتھ شامل ہو گئے تھے۔ مہاراشٹر کے ان کسانوں اور زرعی مزدوروں نے کئی احتجاجی مقامات پر جمع مختلف ریاستوں کے اپنے ساتھی کسانوں کے ہمراہ شامل ہونے کے لیے ٹیمپو، جیپ اور چھوٹی گاڑیوں میں سوار ہوکر ناسک سے یہاں تک، ۱۲۰۰۰ کلومیٹر سے زیادہ کی مسافت طے کی تھی۔
مہاراشٹر کے کسانوں کا استقبال کرنے والے کنبوں میں سے ایک ہر فتح کی فیملی بھی تھی – جنہیں تقریباً ۱۰۰ لوگوں کے لیے آلو مٹر کی سبزی بنانے کا کام سونپا گیا تھا۔ ’’ہم اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے ٹھنڈ کے دنوں میں یہاں ہیں۔ آج اگر ہم کسان احتجاج نہیں کریں گے، تو ہرفتح کا کوئی مستقبل نہیں ہوگا،‘‘ بچے کے والد، ہریانہ کے کروکشیتر ضلع کے چھاجوپور گاؤں کے ۴۱ سالہ جگروپ سنگھ کہتے ہیں۔




