سردی کی دھندلی روشنی ہرجیت سنگھ کے چہرے پر پڑ رہی ہے، جو ہریانہ کے سونی پت ضلع میں سنگھو- دہلی سرحد پر بیٹھے احتجاج کر رہے کسانوں کے مجمع کو دیکھ رہے ہیں۔
ان کے ارد گرد، بزرگ اور نوجوان – مرد، عورتیں اور بچے – سبھی مختلف کاموں میں مصروف ہیں۔ دو آدمی گدّے صاف کر رہے ہیں، انہیں ڈنڈوں سے پیٹ رہے ہیں، اور رات کی تیاری کر رہے ہیں۔ کچھ لوگ راہگیروں کو چائے اور بسکٹ تقسیم کر رہے ہیں۔ کئی لوگ اپنے رہنماؤں کی تقریر سننے کے لیے اس جم غفیر کے سامنے جاتے ہیں۔ کچھ لوگ رات کے کھانے کا انتظام کر رہے ہیں۔ باقی لوگ ادھر ادھر گھومتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔
ہرجیت اُن ہزاروں کسانوں میں سے ایک ہیں، جو اس سال ستمبر میں پارلیمنٹ کے ذریعے پاس کیے گئے تین زرعی قوانین کے خلاف دہلی کے دروازے پر احتجاج کر رہے ہیں۔
وہ بتاتے ہیں کہ پنجاب کے فتح گڑھ صاحب ضلع کے ماجری سودھیاں گاؤں میں اپنی چار ایکڑ زمین پر چاول اور گیہوں کی فصل اگایا کرتے تھے۔ پچاس سالہ ہرجیت سنگھ غیر شادی شدہ ہیں اور اپنی ماں کے ساتھ رہتے ہیں۔
سال ۲۰۱۷ میں ہوئے ایک حادثہ کے سبب ہرجیت چلنے پھرنے سے معذور ہو گئے، لیکن یہ انہیں اپنے ساتھی کسانوں کے اس وسیع احتجاجی مظاہرے میں شامل ہونے سے نہیں روک سکا۔ ’’میں اپنے گھر کی چھت پر کام کرنے کے دوران وہاں سے نیچے گر گیا تھا،‘‘ وہ حادثہ کے بارے میں بتاتے ہیں۔ ’’اس کی وجہ سے میرے کولہے کی ہڈی ٹوٹ گئی تھی۔‘‘





