’’ٹریکٹر کی ایک ٹرالی نے گاؤں کے چاروں طرف چکر لگایا اور تمام لوگوں سے درخواست کی کہ وہ احتجاج کے مقام پر بھیجنے کے لیے جو کچھ بھی دے سکتے ہیں وہ جمع کرا دیں۔ میں نے ۵۰۰ روپے، تین لیٹر دودھ اور ایک پیالی چینی دی،‘‘ ہریانہ کے حصار ضلع کے پیٹواڑ گاؤں کی ۳۴ سالہ سونیا پیٹواڑ نے بتایا۔
نارنوند تحصیل میں واقع ان کے گاؤں میں دسمبر ۲۰۲۰ کے وسط میں پہلی بار راشن جمع کیا گیا تھا۔ یہ راشن پیٹواڑ سے ۱۰۵ کلومیٹر دور، دہلی- ہریانہ سرحد پر واقع ٹیکری بھیجا گیا، جہاں پر کسان مرکزی حکومت کے ذریعہ پاس کیے گئے تین نئے زرعی قوانین کے خلاف ۲۶ نومبر سے احتجاج کر رہے ہیں۔
’’میرے پاس زیادہ پیسہ نہیں تھا۔ اس لیے میں نے لکڑی کے ٹکڑے دیے،‘‘ سونیا کی توسیع شدہ فیملی کی رکن، ۶۰ سالہ شانتی دیوی نے کہا۔ ’’تب سردی تھی۔ میں نے سوچا، احتجاج کر رہے کسان لکڑی جلاکر خود کو گرم رکھ سکتے ہیں۔‘‘
ٹریکٹر ٹرالی پیٹواڑ میں دوسری بار جنوری کی شروعات میں آئی تھی۔ ’’جب بھی کوئی آدمی احتجاج کے مقام کے لیے روانہ ہوتا، تو گاؤں کی ہر ایک عورت اسے کچھ نہ کچھ دیتی تھی،‘‘ سونیا نے بتایا۔ مویشی پرور خواتین دودھ دے کر مدد کرتی تھیں۔ یہ پردے کے پیچھے سے کسانوں کی تحریک میں تعاون کرنے کا ان کا طریقہ ہے۔
کسانوں کا احتجاجی مظاہرہ اب تیسرے مہینے میں داخل ہو چکا ہے اور ہزاروں احتجاجی – مردو و خواتین – اب بھی دہلی کی سرحدوں – خاص کر ٹیکری اور سنگھو (دہلی- ہریانہ سرحد) اور غازی پور (دہلی- اترپردیش سرحد) پر جمع ہیں۔
میں سونیا سے پہلی بار ۳ فروری کی دوپہر کو ٹیکری میں ملی تھی۔ وہ احتجاج کے مقام پر پیٹواڑ – تقریباً ۱۰ ہزار کی آبادی والا گاؤں (مردم شماری ۲۰۱۱) – کی ۱۵۰ خواتین کے ایک گروپ کے ساتھ تھیں، لیکن تب وہ واپس جانے کی تیاری کر رہی تھیں۔ ’’احتجاجی مظاہرہ کو دیکھنے کے بعد جوش آ جاتا ہے،‘‘ انہوں نے بعد میں مجھے بتایا تھا، جب میں ۷ فروری کو پیٹواڑ میں ان سے ملی۔










