لاکھوں انسانوں کا پانی اور بجلی کاٹ دینا، ایسا کرکے ان کی صحت کو سنگین خطرے میں ڈالنا، پولیس اور نیم فوجی دستوں کے ذریعہ بیریکیڈنگ کرکے ان کے اوپر خطرناک طریقے سے پاگل پن کی حالت کو نافذ کرنا، احتجاج کر رہے کسانوں تک صحافیوں کی رسائی کو تقریباً ناممکن بنا دینا، پچھلے دو مہینوں میں ہائپوتھرمیا اور دیگر وجوہات سے اپنے تقریباً ۲۰۰ لوگوں کی جان گنوا دینے والے گروپ کو سزا دینا۔ دنیا میں اسے کہیں بھی بربر اور انسانوں کے حقوق اور ان کی عزت پر حملہ کے طور پر دیکھا جائے گا۔
لیکن ہم، ہماری سرکار اور برسراقتدار طبقہ اس سے کہیں زیادہ گہری تشویش میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ جیسے کہ دنیا کی خونخوار دہشت گرد ریحنّا اور گریٹا تھن برگ کی سازش کو کیسے ناکام کیا جائے، جن کا مقصد کرۂ ارض کے اس سب سے بڑے ملک کو بدنام اور ذلیل کرنا ہے۔
خیالی طور پر، یہ پوری طرح سے عجیب ہوگا۔ حقیقی طور پر، یہ صرف پاگل پن ہے۔
یہ سب چونکانے والا تو ہے، لیکن حیران کن نہیں ہونا چاہیے۔ جن لوگوں نے ’’کم از کم گورنمنٹ، زیادہ سے زیادہ گورننس‘‘ کا نعرہ دیا تھا، انہیں بھی اب یہ پتا چل گیا ہوگا۔ اصل بات تھی- سرکاری طاقت کا زیادہ سے زیادہ استعمال اور خونیں گورننس۔ تشویش کی بات یہ ہے کہ بلند آواز میں بولنے والے بہت سارے لوگ خاموش ہیں، جن میں سے کچھ نے اقتدار کا دفاع کرنے اور ایسے تمام قوانین کی تعریف کرنے سے کبھی گریز نہیں کیا۔ آپ نے سوچا ہوگا کہ وہ جمہوریت کی اس روزمرہ کی تباہی کو بھی خارج کر دیں گے۔
مرکزی کابینہ کا ہر ایک رکن جانتا ہے کہ اس وقت جاری کسانوں کے احتجاج کا حل نکالنے میں اصل رکاوٹ کیا ہے۔








