دیانیتا سنگھ نے ۲۰۲۲ میں پاری کے ساتھ مل کر دیانیتا سنگھ – پاری ڈاکیومینٹری فوٹوگرافی ایوارڈ قائم کیا تھا۔ اُس سال یہ انعام پیپلز آرکائیو آف رورل انڈیا کے ایم پلنی کمار کو دیا گیا تھا۔
اس سال ۲ لاکھ روپے کا دیانیتا سنگھ – پاری ڈاکیومینٹری فوٹوگرافی ایوارڈ پیپلز آرکائیو آف رورل انڈیا سے تعلق رکھنے والی ایک اور ابھرتی ہوئی باصلاحیت فوٹوگرافر آینا کو دیا گیا ہے۔ اس انعام کے لیے انہیں دیا نیتا سنگھ نے ہی منتخب کیا ہے۔
فوٹوگرافی کے میدان میں آینا ایک ذاتی شوق کی وجہ سے داخل ہوئی تھیں۔ ان کے لیے فوٹوگرافی ان کی ایسی یادداشتوں کو زندہ رکھنے کا ایک ذریعہ تھی، جنہیں دوسری صورت میں وہ فراموش کر دیتیں۔ اس میدان میں انہوں نے سیکھا کہ جو چیز باطن میں لوچ پیدا کرنے کے ایک حربہ کی طرح دکھائی دیتی ہے وہ ایک سیاسی حربہ بھی بن سکتی ہے، اور جسے بے شمار لوگوں کی ان کہی کہانیاں سنانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہ احساس ان کے اندر سباستیاؤں سلگاڈو، ووین مائر، شنکر سرکار، پلنی کمار اور دیگر کے کاموں کو دیکھ کر پیدا ہوا۔ کووڈ۔۱۹ کی وبا کے عروج پر پاری کے ساتھ کام کرکے اس احساس کو مزید تقویت ملی۔
ان کے لینس نے کووڈ۔۱۹ کی وبا کے دوران فٹ پاتھ پر طبی نگہداشت تک رسائی سے محروم کماٹھی پورہ کی جنسی کارکنوں کی اور گاؤں کے تارکین وطن کی انتہائی جذباتی تصویرکشی کی ہے۔ آینا کی تقریباً ۲۳ تصویری کہانیاں شہروں کے فراموش شدہ علاقوں میں رہنے والے کرداروں کا ایک حیران کن مرقع پیش کرتی ہیں، جن میں ممبئی کی لوکل ٹرین پر ایک راجستھانی تارک وطن موسیقار، شہر کے ٹیکسی ڈرائیور، گیٹ وے آف انڈیا کے فوٹوگرافر، گدھے کا دودھ بیچنے والا ایک شخص، ممبئی کی سڑکوں پر رقص کرتا اور خود کو کوڑے مارتا کرناٹک کا ایک تارک وطن شامل ہیں۔ جس حساسیت اور ہمدردی کے ساتھ وہ ان کہانیوں میں شہروں میں رہنے والی دیہی زندگی کی عکاسی کرتی ہیں، اس کا کوئی ثانی نہیں ہے۔















