وہ پوری رات جاگتے رہے۔ جب وہ ۱۵ سال کے تھے، تو انہوں نے پہلی بار تمل ناڈو کے انومندئی گاؤں کی ماری یمّن کوئل اسٹریٹ پر تیروکوتو دیکھا تھا۔ ویر راگھون (۷۰) اپنی نوجوانی کے دنوں کو یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں، ’’وہ تمام لوگ وزنی پوشاکوں میں ملبوس تھے۔ چمکتے تاج، سنہرے زیورات پہنے ہوئے اور مختلف رنگوں کی زیبائش کیے ہوئے۔ انہوں نے گانے گائے، رقص کیا اور اداکاری کی، اور تمام لوگ انہیں حیرت کی نگاہوں سے دیکھ رہے تھے۔ ناظرین میں تاتا اور پاتی (دادا اور دادی) ہاتھ جوڑ کر ایسے بیٹھے تھے جیسے ان کے سامنے کوئی بھگوان آ گیا ہو۔ یہ دیکھنے میں کافی مزیدار تھا۔‘‘
جس رات انہوں نے پہلی بار تیروکوتو (جو نکڑ ناٹک کی ایک قسم ہے، جس کا لفظی معنی بھی یہی ہے) دیکھا، ان کے ذہن پر اس کا گہرا نقش پڑ گیا۔ وہ بتاتے ہیں، ’’میں نہ تو کچھ کھا پا رہا تھا اور نہ ہی سو پا رہا تھا۔ میرے اندر کچھ ایسا چل رہا تھا، جو مجھ سے کہہ رہا تھا، ’مجھے ان کے ساتھ رہنا ہے۔ میں وہی کرنا چاہتا تھا جو وہ اس دن کر رہے تھے‘۔‘‘ وہ ان دنوں درجہ ۶ میں پڑھ رہے تھے، لیکن ان کا مستقبل طے ہو گیا تھا۔ موسیقی، رقص یا قصہ گوئی میں بغیر کوئی رسمی تعلیم حاصل کیے انہوں نے پڑھائی درمیان میں ہی چھوڑ دی اور ایک تیروکوتو گروپ کے ساتھ شامل ہو گئے۔
ان کے والدین، جو ریاست میں دیگر پس ماندہ طبقہ میں درج وَنّیار برادری سے تعلق رکھنے والے زرعی مزدور تھے، انہوں نے ان کے فیصلہ پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔ وہ یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں، ’’ہم زیادہ نہیں کماتے تھے، لیکن مجھے سیکھنے میں مزہ آتا تھا۔ وہ مجھے شروع میں چھوٹے چھوٹے کام دیتے تھے۔‘‘ لیکن پھر بعد میں، ویر راگھون کو مہا بھارت پر مبنی ایک ڈرامہ میں دُریودھن کے طور پر کردار نبھانے کو ملا، جس کے لیے انہوں نے رات دن ایک کر کے محنت کی۔ وہ اپنے چہرے پر فخریہ مسکراہٹ کے ساتھ بولے جو عمر کی اس گھڑی میں بھی بالکل پھیکی نہیں پڑی ہے، ’’میں بالکل بھی نہیں گھبرا رہا تھا، بلکہ میں تو کافی جوش میں تھا۔‘‘
ویر راگھون نے نہ صرف اس فن کو سیکھنے میں من لگایا، بلکہ انہوں نے ان رزمیوں کو بھی سمجھنے کی کوشش کی جن کی بنیاد پر یہ ڈرامے پیش کیے جاتے تھے۔ انہوں نے اپنے علم میں اضافہ کرنے کے لیے تمل زبان میں تحریر کردہ نول اگراتی، پیریا پرانم اور بھارتم جیسی قدیم کتابوں کا مطالعہ کیا۔
وہ ۹۰ کی دہائی کے آخر تک ایک پیشکش کے لیے صرف ۵ سے ۱۰ روپے کماتے تھے۔ وہ مسکراتے ہوئے بتاتے ہیں، ’’ہمارے شو تقریباً سال بھر چلتے تھے۔ تقریباً ۲۵۰ دن اسی میں گزر جاتے تھے۔‘‘ ڈرامے کا خرچ گرام پنچایت کے ذریعہ لوگوں سے چندہ جمع کر کے اٹھایا جاتا تھا۔ وہ مزید کہتے ہیں، ’’ناظرین ہمارے ہنر کے تئیں اپنی محبت کا اظہار کرتے ہوئے بھی پیسے دے دیتے تھے، سوچتے تھے کہ یہ بھگوان کے لیے ہے۔‘‘ بقول ان کے، لوگ زیادہ نہیں کماتے تھے، لیکن یہ سب جنون کے لیے کرتے تھے۔




























