پُریسئی کی گلیوں میں فنکاروں کی آوازیں گونج رہی ہیں، جو مشق کرنے میں مصروف ہیں۔ یہ گاؤں اکتوبر میں گویا ۲۴ گھنٹے بیدار رہتا ہے۔ پرجوش ناظرین کا مجمع گاؤں کے چوراہے پر امنڈتا ہے، موسیقی پورے ماحول کو اپنے حصار میں لے لیتی ہے اور عام گھر گرین روم میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ کوپو سوامی اور چندرا کے ذریعہ چلائی جانے والی مقامی چائے کی دکانیں رات بھر کھلی رہتی ہیں۔ پورے ملک سے آئے فنکار یہاں جمع ہوتے ہیں، جن میں جھارکھنڈ کے تھیٹر آرٹسٹ، مقامی تیروکوتو فنکار، تمل ناڈو کے دیگر حصوں سے پرئی گروپس، کیرالہ، پڈوچیری اور چنئی اور دیگر مقامات سے آئے جدید تھیٹر آرٹسٹ شامل ہیں۔ آج ۶ اکتوبر، ۲۰۲۴ ہے اور مشہور کلئی ماں منی کنّپّا تمبیران میموریل تھیٹر فیسٹیول کا اہتمام کیا جا رہا ہے، جسے زیادہ تر لوگ پُریسئی جشن کے نام سے جانتے ہیں۔
پہلے یہ جشن تین دنوں تک چلتا تھا۔ لیکن کورونا وبائی مرض کے بعد سے اس کا اہتمام ہر دو سال میں ایک بار کیا جاتا ہے، جو صرف زیادہ سے زیادہ ڈیڑھ دنوں تک چلتا ہے۔ اس تہوار کی جڑیں ۱۹۸۹ تک جاتی ہیں، جب اسے کوئیڈئی ویڈا (گرمی کا تہوار) کے نام سے جانا جاتا تھا۔ اس کی شروعات جدید ڈرامہ نگار این مُتّو سامی نے پریسئی کے کنّپّا تمبیران اور ان کے بڑے بیٹے کاسی کے ساتھ مل کر کی تھی۔ مُتّو سامی اس فوک آرٹ سے متاثر تھے اور انہوں نے تیروکوتو کو جدید انداز میں ڈھالنے کے لیے تمبیران کے ساتھ مل کر کام کیا۔
یہ گاؤں تیروکوتو فنکاروں کا مرکز تصور کیا جاتا ہے۔ تیروکوتو فنکار پلنی مروگن (۴۹)، جو اسی گاؤں کے ہیں، بتاتے ہیں، ’’یہاں ہر کوئی فنکار ہے، خواہ وہ کسان ہو یا دہاڑی مزدور۔‘‘ پلنی مروگن، پریسئی تہوار کے منتظم بھی ہیں۔ شہری کلچر سے متاثر تھیٹر اور عصری رقص میں کئی سال گزار لینے کے بعد وہ پھر تیروکوتو طرز میں واپس لوٹ آئے ہیں۔ وہ کہتے ہیں، ’’برسوں تک اسکرپٹ کے حساب سے ناٹک کرنے کے بعد اسے بغیر مشق کے آسانی سے کر پانا چیلنج سے بھرا ہوا ہے۔ لیکن یہ ایک گھر واپسی جیسا ہے۔‘‘
































