چھتیس گڑھ میں ’شیلا نرتیہ‘ کی دھوم
فصل کی کٹائی کے بعد کا یہ رقص صرف مردوں کے ذریعے کیا جاتا ہے، جس میں تمام طرح کی چمک دمک اور کئی قسم کے آلات موسیقی کی آوازیں شامل ہوتی ہیں

فصل کی کٹائی کے بعد کا یہ رقص صرف مردوں کے ذریعے کیا جاتا ہے، جس میں تمام طرح کی چمک دمک اور کئی قسم کے آلات موسیقی کی آوازیں شامل ہوتی ہیں
تول پاو کوت طرز کی کٹھ پتلیاں بنانا کبھی آسان نہیں رہا ہے، جس میں دیوی دیوتاؤں کی شبیہیں تیار کرنے کے لیے بھینس اور بکری کی کھال کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اب ملابار خطہ کی عورتیں بھی اس فن میں ہاتھ آزمانے لگی ہیں
رمیش دتّہ مصور اور مجسمہ ساز ہونے کے علاوہ مکھوٹے بنانے کا بھی کام کرتے ہیں۔ ساتھ ہی، وہ کئی آلات موسیقی کو بجانے کا ہنر بھی جانتے ہیں۔ آسام میں برہم پتر ندی کے اس جزیرہ پر تھیٹر سے متعلق ہونے والی مختلف سرگرمیوں میں ان کی فنکارانہ صلاحیتوں کا اظہار آسانی سے دیکھنے کو مل جاتا ہے
سنتھال آدیواسی تپن مرمو، بیر بھوم کے ایک نوجوان کسان ہیں جو فصل کی کٹائی کے تہوار میں کٹھ پتلیوں کا کھیل بھی دکھاتے ہیں، لیکن اپنی نسل کے لوگوں میں اس فن کے تئیں گھٹتی دلچسپی کو دیکھ کر وہ کافی فکرمند ہیں
ملاحظہ کریں کیرالہ کے ملابار خطہ کے گاؤوں میں سایہ کٹھ پتلی تھیٹر پر مبنی یہ فلم
آسام میں دھوم دھام سے منائے جانے والے، رقص و ڈرامے پر مبنی راس مہوتسو کا لوگوں کو سال بھر انتظار رہتا ہے، لیکن نوجوان نسل کی اس میں عدم دلچسپی اور بڑی تعداد میں یہاں سے لوگوں کی مہاجرت کی وجہ سے اب اداکاروں کو تلاش کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے
دہلی کے کٹھ پتلی فنکار نہ صرف کٹھ پتلیاں بناتے ہیں، بلکہ ان کے ساتھ پرفارم بھی کرتے ہیں۔ سال ۲۰۱۷ میں جب انہیں اپنے گھروں سے ایک ٹرانزٹ کیمپ میں منتقل کر دیا گیا تھا، تب سے یہ فنکار اپنی زندگی کو دوبارہ پٹری پر لانے کی جدوجہد کر رہے ہیں
سندربن میں بون بی بی پالا گان اُن منظوم ڈراموں میں سے ایک ہے جسے مقامی فنکار پیش کرتے ہیں۔ گھٹتی آمدنی کے سبب ہو رہی مہاجرت کی وجہ سے اس فوک ڈراما کو پیش کرنے والے فنکاروں کا اب قحط سا پڑنے لگا ہے
مغربی بنگال کے رجت جوبلی گاؤں کے کسان اور مزدور سانپوں کی دیوی کو وقف منظوم روایتی ڈرامہ، ’منسا پالا گان‘ پیش کرنے – اور دیہی تھیٹر کو زندہ رکھنے کے لیے ایک ساتھ جمع ہوتے ہیں
نٹ فنکار چھتیس گڑھ کے اپنے گاؤں سے چل کر ان دنوں دہلی کے سنگھو بارڈر پر آ رہے ہیں اور کسانوں کے حقوق کی لڑائی کی حمایت کر رہے ہیں، جب کہ خود انہیں بھی اپنا معاش بچانے کے لیے جدوجہد کرنی پڑتی ہے
معاشرہ کے ظلم کے شکار، فیملی کے ذریعے چھوڑ دیے گئے، اور معاش سے محروم، تمل ناڈو کے ٹرانس فوک آرٹسٹ اپنی زندگی کے سب سے خراب دور سے گزر رہے ہیں
وبائی مرض نے تمل ناڈو میں نہ جانے کتنے مقامی فنکاروں کی زندگی تباہ کر دی، ٹرانس خواتین فنکاروں پر اس کا اثر سب سے زیادہ ہوا، جن کے پاس نہ تو کوئی کام ہے نہ ہی آمدنی کا کوئی ذریعہ، اور حکومت کی جانب سے بھی انہیں کوئی مدد نہیں ملی ہے
اس ویڈیو اسٹوری میں پریم رام بھاٹ اور دوسرے لوگ بتا رہے کہ کیسے کٹھ پتلی تماشا، جو کسی زمانے میں شاہی درباروں اور گاؤں کی تقریبات میں کافی مقبول تھا، اب لوگوں کی دلچسپی کا باعث نہیں رہا، اور لاک ڈاؤن نے ان کی آمدنی کو بری طرح متاثر کیا ہے
کووڈ۔۱۹ لاک ڈاؤن کے دوران مندر کے تہواروں اور عوامی پروگراموں سے کوئی آمدنی نہ ہونے کی وجہ سے تمل ناڈو کے کومبو فنکار پریشان ہیں۔ لیکن ان کی تشویش کی بنیادی وجہ اس فن کا آہستہ آہستہ ختم ہونا ہے
تمل ناڈو کے کرگٹّم کے فنکار، جو گزر بسر کے لیے اسی فن پر منحصر ہیں، اب کام نہ ملنے اور آمدنی کی کمی کے سبب کافی پریشان ہیں – اور اس بات کو لیکر فکرمند ہیں کہ وبائی مرض کا یہ دور اپنے بچوں کو تعلیم یافتہ بنانے کے اُن کے خواب کو چکناچور کر دے گا
سردی کے مہینوں میں تقریبات اور جشن کے دوران، چھتیس گڑھ کی گونڈ برادری کے نوجوان مرد و عورت ہُلکی مانڈری اور کولانگ رقص کرنے کے لیے ایک ساتھ سفر کرتے ہیں، اور ریلا گیت گاتے ہیں
کرناٹک کے کوڈمبل گاؤں سے آئے لکشمن کٹپّا اور ان کی فیملی کے لوگ روزی روٹی کمانے کے لیے خود کو کوڑے مارتے اور رقص کرتے ہیں۔ ان کا تعلق دھیگو میگو نام کی درج فہرست ذات سے ہے اور یہ لوگ مریمّا دیوی کی پوجا کرتے ہیں
کرناٹک کے دکشن کنڑ اور اُڈوپی اضلاع میں صدیوں پرانی اس رسوماتی تقریب میں نقال دلت برادریوں کے بھولے بسرے سورماؤں کی کہانیاں سناتے ہیں، تنازعات حل کرتے ہیں اور تزکیہ نفس کا سامان فراہم کرتے ہیں
نرملا دیوی، ان کی بیٹی تارا، اور کلی طور پر خواتین پر مشتمل ان کا گروپ ماہر رقاصاؤں سے بھرا ہوا ہے، تیرہ تالی والی پیشکش جن کی خاص پہچان ہے۔ ہر شام کو وہ اُدے پور کی باگور کی حویلی میں اسٹیج پر نمودار ہوتی ہیں
مغربی بنگال کے پرولیا ضلع کے سین بانا گاؤں میں، ۶۵ سالہ چاروبالا کالندی، جنہوں نے دہائیوں سے نچنی کے طور پر رقص کیا ہے، ابھی بھی اپنے رسِک اور ان کی منڈلی کے ساتھ پوری توانائی سے اپنے فن کا مظاہرہ کرتی ہیں
دیوتا کے سامنے رقص کرنے کے لیے چھتیس گڑھ کے دیوبھوگ جاتے ہوئے
دشہرے کے مہینہ میں، رام کتھا سنگنگ پارٹی نام کی گلوکاروں کی ایک عام ٹولی، دن کی اپنی نوکری پر واپس لوٹنے سے پہلے ایک اسٹیج سے دوسرے اسٹیج تک بھاگتی دوڑتی رہتی ہے۔ وہیں دوسری جانب، رام کتھا کی پیشکش پر عصری سیاست کا اثر صاف دکھائی دینے لگا ہے
دیہی مہاراشٹر میں منگلا بنسوڈے کی تماشہ منڈلی کی رَقّاصاؤں کے لیے یہ کام مستقل آمدنی کا ذریعہ ضرور ہے، لیکن اس کام کے دوران جنسی ہراسانی، سخت شیڈول، رازداری کے فقدان کے ساتھ ساتھ سفر کے دوران بچوں کی پیدائش سے بھی نبرد آزما ہونا پڑتا ہے
جنوبی مہاراشٹر اور شمالی گوا کی صدیوں پرانی ڈرامائی پیشکش، دشاوتار، جس میں صرف مرد فنکار ہی کام کرتے ہیں، جن میں سے زیادہ تر زیادہ تر کسان اور مزدور ہیں، ناظرین کو اپنی اداکاری سے رات بھر باندھے رکھتے ہیں
مغربی بنگال کے بیشائے پور گاؤں کے رہنے والے راجو چودھری ایک داستان گو، بے چین گلوکار، ایک بہروپیا ہیں۔ ان کی آمدنی اوسط ہے اور کام مشکل۔ یہ فلم خیالی تارا سُندوری کی شکل میں ان کے حیران کن رقص پر مبنی ہے
آندھرا پردیش کے پرکاشم ضلع میں پتلی باز، اپنے ہنر کی شاندار روایت اور تاریخ کو زندہ رکھنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں، حالانکہ انھیں ریاست سے کوئی مدد نہیں مل رہی ہے اور ٹیلی ویژن نے تفریح کے تمام ذرائع چھین لیے ہیں
ٹیکنالوجی اور سامعین کے ذائقے میں تبدیلی، اداکاری کے لیے سکڑتی جگہیں اور دیگر عناصر نے تماشہ پر اثر ڈالا ہے۔ اس کو لے کر منڈلی مالکوں کے تاثرات ملے جلے ہیں – رتناگیری ضلع کے رگھوویر کھیڈکر کا ماننا ہے کہ تماشہ خطرے میں ہے، جب کہ ستارا ضلع کی منگلا بنسوڈے کو یقین ہے کہ یہ فن زندہ رہے گا
تماشہ دیہی مہاراشٹر میں کافی مقبول ہے۔ یہاں بہت سے لوگ زرعی مزدوری کے مقابلے اسے ایک مستحکم ذریعۂ معاش تصور کرتے ہیں، حالانکہ سخت محنت کے باوجود پیسے کافی کم ملتے ہیں۔ ایسی ہی ایک بڑی منڈلی منگلا بنسوڈے چلاتی ہیں، جنہوں نے کل، 9 اکتوبر کو تخلیقی فنون کے زمرہ میں قومی ایوارڈ حاصل کیا
بنگلورو کے نواح میں نوجوان عورتیں کنّڑ ڈھول اور رقص کی اس شکل میں مہارت حاصل کر چکی ہیں جسے کبھی طاقتور مردوں کا ہنر تصور کیا جاتا تھا۔ یہاں پیش کیے گئے ویڈیو میں، خواتین کی اس جماعت کو پوری توانائی اور لَے کے ساتھ اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے
مغربی بنگال کے بہوروپی آرٹسٹس کسی پرفارمنس کے دوران مختلف کرداروں میں آسانی سے ڈھل جاتے ہیں، لیکن بدلتے ہوئے زمانے کے ساتھ اپنے رول کو بدلنے میں انھیں کافی مشکلیں آ رہی ہیں
تھنجاوُر، تمل ناڈو کے ماہر پوئیکل کٹھی رائے ڈانسرز اپنے قدیم علاقائی آرٹ کے دَم پر گزر بسر کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں
علی راج پور کے زیادہ تر گاؤوں ویران اور بنجر ہو چکے ہیں اور یہاں پر گزر بسر کے کچھ ہی مواقع بچے ہیں، بھیل اپنی کھیتی اور ثقافتی روایات کو برقرار رکھنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں
اتراکھنڈ کی چھولیا منڈلی اسکاٹش بیگ پائپ کو دیہی ہندوستانی موسیقی میں ڈھالتی ہے
اس روایتی ڈھول کو منی پور کی میئی تیئی برادری کی ثقافت، اور رقص و موسیقی میں مرکزی مقام حاصل ہے
تمل ناڈو میں تعلیم اور تھیٹر آرٹ کے ایک انوکھے اسکول کے طلبہ فنکار
دہلی کی پرانی کٹھ پتلی کالونی اس وقت نہایت خستہ حالت میں ہے
کالی ویرپڈرن – کلاسیکی رقص، بھرت ناٹیم کی ایک شکل جس میں شاید صرف مردوں نے ہی مہارت حاصل کی ہے – اور تمل فوک ڈانس کی تین قدیم شکلوں کی شاندار پیشکش دیکھیں
’میں ایک ڈانس اسکول کھولنا چاہتا ہوں، میں پیسے کمانا چاہتا ہوں، میں اپنی ماں کی دیکھ بھال کرنا چاہتا ہوں، میں ڈانس کرنا چاہتا ہوں‘
کالی ویر پڈرن پر مبنی فلم، جنہوں نے بھرت ناٹیم کے ساتھ ساتھ تمل فوک ڈانس کی تین شکلوں میں مہارت حاصل کی ہے
Want to republish this article? Please write to [email protected] with a cc to [email protected]
All donors will be entitled to tax exemptions under Section-80G of the Income Tax Act. Please double check your email address before submitting.
PARI - People's Archive of Rural India
ruralindiaonline.org
https://ruralindiaonline.org/articles/دیہی-علاقوں-میں-اسٹیج-پر-مختلف-فنون-کی-پیشکش