چلئے، بالکل شروع سے بات کرتے ہیں…
پیپلز آرکائیو آف رورل انڈیا (پاری)، سال ۲۰۱۴ سے ہی ہندوستانی تنوع کی کہانی بیان کرتا آ رہا ہے۔ یہ کہانی ہندوستان کے دیہی علاقوں میں رہنے والے اُن ۸۳۳ ملین (یعنی ۸۳ کروڑ ۳۰ لاکھ) لوگوں کے ذریعے بیان ہوتی ہے، جو ۷۰۰ سے زیادہ زبانوں میں بات کرتے ہیں اور ۸۶ الگ الگ رسم الخط کا استعمال کرتے ہیں۔ یہ تمام زبانیں ہندوستان کے ثقافتی تنوع کی مثال ہیں۔ ان میں کئی ایسی زبانیں بھی شامل ہیں جن کا اپنا کوئی رسم الخط نہیں ہے۔ ان زبانوں کے بغیر عوام پر مرکوز کسی علمی ذخیرہ (آرکائیو) کا تصور کرنا تو دور، اسے حقیقی جامہ پہنانا بھی مشکل ہے۔ ہندوستان کی ان زبانوں میں ترجمے کا کام پاری کی ہر ایک اسٹوری میں ایک اہم رول ادا کرتا ہے۔
’’صحافت کی دنیا میں یہ آرکائیو اپنی نوعیت کا پہلا کام ہے؛ اس میں ترجمے کو سماجی انصاف کے چشمے سے دیکھنے کی کوشش کی جاتی ہے،‘‘ اسمتا کھٹور کہتی ہیں۔ ’’یہ اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ علم کا دائرہ صرف انگریزی تعلیم یافتہ، یا انگریزی بولنے والے طبقوں تک ہی محدود نہیں ہے، خاص کر ایسے میں جب دیہی ہندوستان میں رہنے والی اکثریتی آبادی انگریزی سے ابھی ہزاروں سال دور ہے۔‘‘
زبان کے ایڈیٹروں اور ترجمہ نگاروں پر مشتمل ہماری یہ ٹیم الفاظ کے ثقافتی سیاق و سباق، جملوں اور محاوروں کی درستگی وغیرہ کے بارے میں ہمیشہ آپس میں بات کرتی رہتی ہے۔ ایسی ہی ایک گفتگو ملاحظہ کریں…
اسمتا: پرشوتم ٹھاکر کی وہ اسٹوری یاد ہے، جس میں وہ بتاتے ہیں کہ تلنگانہ کے اینٹ بھٹوں پر کام کرنے والے کرومپوری پنچایت کے مزدور انہیں دیکھ کر کتنے خوش ہو گئے تھے؟ ان میں سے ایک بزرگ نے ان سے کہا تھا، ’بہت دنوں کے بعد کسی اڑیہ بولنے والے شخص سے ملاقات ہو رہی ہے۔ آپ کو دیکھ کر کافی خوشی ہوئی!‘
اور جیوتی شنولی کے ذریعے مہاراشٹر کی وہ اسٹوری، جو مہاجر مزدوروں کے ایک لڑکے رگھو کے بارے میں ہے، جس کا سب سے بڑا چیلنج خود کو اس نئے اسکول کے مطابق ڈھالنا تھا جہاں پڑھانے والے ٹیچر اور اس کے دوست ایک ایسی زبان بولتے ہیں جو اس کی سمجھ میں نہیں آتی۔ اس اسٹوری میں لڑکے کی ماں گایتری کہتی ہیں، ’’تین ہفتے تک چنئی کے اسکول میں جانے کے بعد، ایک دن وہ روتے ہوئے گھر لوٹا۔ اس نے کہا کہ اب وہ اسکول نہیں جائے گا۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ وہاں کے لوگ جو بھی بولتے ہیں اسے وہ سمجھ نہیں پاتا ہے۔ اور اسے لگتا ہے کہ ہر کوئی اس سے غصے میں بات کر رہا ہے۔‘‘
دیہی ہندوستان کے باشندوں کے لیے لسانی شناخت کافی اہمیت رکھتی ہے، خاص کر تب جب انہیں معاش کی تلاش میں دور دراز علاقوں میں مہاجرت کرنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔









