گُڈلا منگمّا کہتی ہیں، ’’حیدر آباد منتقل ہونے کے بعد یہاں ہمیں جو بھی کام مل جاتا تھا ہم کر لیتے تھے۔ ہم چاہتے تھے کہ ہمارے پاس اتنے پیسے جمع ہو جائیں کہ ہم اپنی بیٹی کو اچھی تعلیم دلا سکیں۔‘‘ منگمّا اور ان کے شوہر، گُڈلا کوٹیّہ پہلے تلنگانہ کے محبوب نگر ضلع میں اپنے گاؤں میں رہتے تھے، جہاں سے وہ سال ۲۰۰۰ میں ریاست کی راجدھانی حیدر آباد چلے آئے تھے۔ یہاں آنے کے کچھ دنوں بعد ہی ان کی پہلی بچی، کلپنا، پیدا ہوئی تھی۔

لیکن اس شہر نے ان کے اوپر کوئی رحم دلی نہیں دکھائی۔ کوٹیّہ کو جب کوئی کام نہیں ملا، تو مجبوراً انہوں نے ہاتھ سے میلا اٹھانا شروع کر دیا تاکہ کچھ کمائی ہو سکے۔ انہوں نے سیویج کے نالوں کی صفائی کرنی شروع کر دی۔

کوٹیّہ کا تعلق چکلی برادری سے تھا (جو تلنگانہ میں دیگر پس ماندہ طبقہ میں شامل ہے) اور ان کا روایتی پیشہ کپڑے کی دھلائی کرنا تھا – لیکن حیدر آباد میں ان سے یہ کام لینے والا کوئی نہیں تھا۔ کام ملنے میں ہونے والی دشواریوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے منگمّا کہتی ہیں، ’’ہمارے آباء و اجداد کپڑے دھوتے اور آئرن کرتے تھے۔ لیکن اب یہ کام ہمیں بہت کم ملتا ہے؛ سب کے پاس اب واشنگ مشین آ گئی ہے اور آئرن باکس بھی ہیں۔‘‘

کوٹیّہ نے تعمیراتی مقامات پر دہاڑی مزدور کے طور پر بھی کام کرنے کی کوشش کی تھی۔ منگمّا بتاتی ہیں، ’’تعمیراتی مقامات ہمیشہ ہمارے گھر سے کافی دور ہوا کرتے تھے جہاں جانے کے لیے انہیں گاڑی کا کرایہ دینا پڑتا تھا، اس لیے انہوں نے سوچا کہ ہاتھ سے میلا اٹھانے کا کام ہی بہتر رہے گا کیوں کہ یہ کام گھر کے قریب ہی مل جاتا ہے۔‘‘ منگمّا کا اندازہ ہے کہ وہ یہ کام ہفتے میں کم از کم تین بار کرتے تھے۔ اس سے انہیں یومیہ ۲۵۰ روپے کی آمدنی ہو جاتی تھی۔

منگمّا کو یاد ہے کہ مئی ۲۰۱۶ میں جب کوٹیّہ کام کے لیے گھر سے روانہ ہوئے، تو اس وقت صبح کے ۱۱ بج رہے تھے۔ انہوں نے اپنی بیوی سے کہا تھا کہ وہ ایک سیور (نالے) کی صفائی کرنے جا رہے ہیں، اور ان سے ایک بالٹی پانی گھر کے باہر رکھ دینے کے لیے کہا تھا، تاکہ واپسی پر وہ اپنے ہاتھ دھو سکیں۔ منگمّا بتاتی ہیں، ’’میرے شوہر صفائی کرمی کُلو [میونسپل صفائی ملازم] نہیں تھے۔ وہ یہ کام اس لیے کرتے تھے کیوں کہ ہمیں پیسوں کی ضرورت تھی۔‘‘

PHOTO • Amrutha Kosuru
PHOTO • Amrutha Kosuru

بائیں: حیدر آباد کے کوٹی علاقہ کی وہ گلی جہاں گڈلا منگمّا رہتی ہیں۔ دائیں: گھر کی دیوار پر ان کے شوہر، گڈلا کوٹیّہ کی تصویر  لگی ہوئی ہے۔ یکم مئی ۲۰۱۶ کو اپنے ایک ساتھی کو بچانے کی خاطر نالے کے اندر داخل ہونے کے بعد کوٹیّہ کی موت ہو گئی تھی

اُس دن کوٹیہ کو سلطان بازار میں یہ کام ملا تھا، جو کہ شہر کا سب سے بھیڑ بھاڑ والا علاقہ ہے، جہاں کے نالوں میں اکثر کچرا پھنس جاتا ہے اور وہ بند ہو جاتے ہیں۔ ایسا ہونے پر، حیدر آباد میٹروپولیٹن واٹر سپلائی اینڈ سیوریج بورڈ کا فریق ثالث ٹھیکہ دار مزدوروں کو بلاتا ہے اور انہیں ہاتھ سے نالوں کی صفائی کرنے اور پھنسا ہوا کچرا نکالنے کے لیے کہتا ہے۔

ان مزدوروں میں سے ایک، کوٹیّہ کے دوست بونگو ویرا سوامی بھی تھے جو انہی کے ساتھ کام کیا کرتے تھے۔ مین ہول (نالے کے اندر گھسنے کے لیے بڑی سوراخ) میں بغیر کسی حفاظتی سامان کے داخل ہونے کے کچھ ہی منٹوں بعد ویرا سوامی بیہوش ہو کر گر پڑے۔ ان کے ساتھ کام کر رہے کوٹیہ نے جب انہیں اس حالت میں دیکھا، تو انہیں بچانے کے لیے وہ بھی نالے کے اندر کود پڑے۔ لیکن کچھ منٹوں کے بعد، کوٹیہ بھی بیہوش ہو کر گر پڑے۔

دونوں میں سے کسی کو بھی ماسک، دستانے یا اس قسم کا کوئی دوسرا حفاظتی سامان مہیا نہیں کرایا گیا تھا۔ ان دونوں دوستوں کی موت بھی ان لوگوں میں شامل ہو گئی جو سیور کی صفائی کے دوران ہلاک ہوئے تھے۔ سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کی وزارت کے مطابق، سال ۱۹۹۳ سے اپریل ۲۰۲۲ کے درمیان ملک میں ’’سیور اور سیپٹک ٹینکوں کی خطرناک صفائی کے دوران ہونے والے حادثوں کی وجہ سے‘‘ ۹۷۱ لوگوں کی موت ہو چکی ہے۔

موت کے کچھ گھنٹے بعد جب منگمّا نے کوٹیّہ اور ویرا سوامی کی لاش کو دیکھا، تو وہ بتاتی ہیں، ’’مین ہول سے وہ گندی بدبو تب بھی آ رہی تھی۔‘‘

گڈلا کوٹیہ کی موت یکم مئی، ۲۰۱۶ کو ہوئی تھی۔ یوم مزدور کے دن، جسے پوری دنیا میں محنت کشوں کے حقوق کو فروغ دینے والے دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ نہ تو انہیں یہ بات معلوم تھی اور نہ ہی ان کی بیوی کو کہ ہاتھ سے میلا اٹھوانا غیر قانونی کام ہے؛ سال ۱۹۹۳ سے ہی قانون نے اس پر پابندی لگا رکھی ہے۔ اس کے لیے ہاتھ سے میلا اٹھوانے کے کام پر روک اور ان کی بازآباد کاری کا قانون، ۲۰۱۳ کے تحت سزا ہو سکتی ہے۔ اس قانون کی خلاف ورزی کرنے پر دو سال کی قید یا ایک لاکھ روپے تک کا جرمانہ، یا دونوں ہی سزا ہو سکتی ہے۔

منگمّا کہتی ہیں، ’’مجھے معلوم نہیں تھا کہ یہ [ہاتھ سے میلا ڈھونا] غیر قانونی ہے۔ ان کی موت کے بعد، مجھے یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ اس قانون کے تحت میری فیملی کو معاوضہ مل سکتا ہے۔‘‘

PHOTO • Amrutha Kosuru
PHOTO • Amrutha Kosuru

بائیں: حیدر آباد کے کوٹی علاقہ میں ایک اپارٹمنٹ کی عمارت کے تہہ خانہ میں منگمّا کے موجودہ گھر کا داخلی دروازہ۔ دائیں: آنجہانی کوٹیّہ کی فیملی (بائیں سے): وامسی، منگمّا اور اکھلا

انہیں یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ کوٹیّہ کی اس طرح ہونے والی موت کی خبر سننے کے بعد ان کے رشتہ دار انہیں اکیلا چھوڑ دیں گے۔ وہ کہتی ہیں، ’’سب سے زیادہ تکلیف کی بات یہ ہے کہ وہ ہمیں دلاسہ دینے کے لیے بھی نہیں آئے۔ انہیں جب پتہ چلا کہ سیویج کے نالے کی صفائی کرنے کے دوران میرے شوہر کی موت ہو گئی ہے، تو انہوں نے مجھ سے اور میرے بچوں سے بات چیت کرنا بند کر دیا۔‘‘

تیلگو میں، ہاتھ سے میلا ڈھونے والوں کو ’پاکی‘ کہتے ہیں – جو کہ ایک قسم کی گالی ہے۔ شاید سماج میں بدنامی کے ڈر سے ہی، ویرا سوامی نے اپنی بیوی کو یہ نہیں بتایا تھا کہ وہ روزی روٹی کمانے کے لیے کیا کام کرتے ہیں۔ ان کی بیوی، بونگو بھاگیہ لکشمی کہتی ہیں، ’’مجھے معلوم نہیں تھا کہ وہ ہاتھ سے میلا ڈھونے کا کام کرتے ہیں۔ انہوں نے مجھے یہ بات کبھی نہیں بتائی۔‘‘ سات سال پہلے ویرا سوامی کے ساتھ ان کی شادی ہوئی تھی اور وہ اپنے شوہر کو بڑے پیار سے یاد کرتی ہیں، ’’میں ان پر ہمیشہ بھروسہ کر سکتی تھی۔‘‘

کوٹیّہ کی طرح ویرا سوامی بھی حیدر آباد میں مہاجرت کرکے آئے تھے۔ وہ اور بھاگیہ لکشمی سال ۲۰۱۷ میں اپنے بیٹے مادھو (۱۵ سالہ) اور جگدیش (۱۱ سالہ)، اور ویرا سوامی کی ماں، راجیشوری کے ساتھ تلنگانہ کے نگر کرنول قصبہ سے حیدر آباد آ گئے تھے۔ ان کا تعلق مڈیگا براری سے ہے، جو ریاست کے اندر ایک درج فہرست ذات ہے۔ بھاگیہ لکشمی کہتی ہیں، ’’ہماری برادری جو کام کرتی ہے وہ مجھے پسند نہیں تھا اور جب ہماری شادی ہوئی تھی تو مجھے لگا کہ انہوں نے یہ کام بند کر دیا ہوگا۔‘‘

مین ہول میں زہریلی گیس کی وجہ سے کوٹیہ اور ویرا سوامی کی موت کے کچھ ہفتوں بعد، جس ٹھیکہ دار نے انہیں کام پر رکھا تھا اس کی طرف سے منگمّا اور بھاگیہ لکشمی میں سے ہر ایک کو دو دو لاکھ روپے پکڑا دیے گئے۔

ہندوستان میں ہاتھ سے میلا اٹھانے کی روایت کو ختم کرنے کے لیے تحریک چلانے والی ایک تنظیم، صفائی کرمچاری آندولن (ایس کے اے) کے ممبران نے اس حادثہ کے کچھ مہینوں بعد منگمّا سے رابطہ کیا۔ انہوں نے منگما سے کہا کہ ان کی فیملی ۱۰ لاکھ روپے تک کا راحت پیکیج حاصل کرنے کی اہل ہے۔ معاوضہ کی یہ رقم سال ۲۰۱۴ میں سپریم کورٹ نے طے کی تھی اور ریاستی حکومتوں کو ہدایت دی تھی کہ جو لوگ ۱۹۹۳ سے سیور یا سیپٹک ٹینکوں کی صفائی کرنے کے دوران ہلاک ہوئے ہیں، ان کے اہل خانہ کو معاوضہ کی رقم ادا کی جائے۔ مزید برآں، ہاتھ سے میلا ڈھونے والوں کی باز آباد کاری کے لیے بنائی گئی ذاتی روزگار کی اسکیم کے ذریعے، حکومت ہاتھ سے میلا ڈھونے کا کام کرنے والوں اور ان کے ماتحتوں کو نقدی مدد، بڑی رقم پر سبسڈی (۱۵ لاکھ روپے تک) اور ہنرمندی کے فروغ کی ٹریننگ فراہم کرتی ہے۔

ایس کے اے کے ذریعے تلنگانہ ہائی کورٹ میں عرضی داخل کرنے کے بعد، ہاتھ سے میلا ڈھونے والے جن نو لوگوں کی موت ہوئی تھی ان کے اہل خانہ کو ۲۰۲۰ میں پورا معاوضہ ملا تھا – لیکن کوٹیہ اور ویرا سوامی کے اہل خانہ اس میں شامل نہیں تھے۔ صفائی کرمچاری آندولن کی تلنگانہ اکائی کے سربراہ، کے سرسوتی کہتے ہیں کہ وہ وکیلوں کے ساتھ مل کر اس کیس کو عدالت میں لڑنے کی تیاری کر رہے ہیں۔

PHOTO • Amrutha Kosuru
PHOTO • Amrutha Kosuru

بائیں: اپنی ساس، راجیشوری کے ساتھ بھاگیہ لکشمی۔ دائیں: بھاگیہ لکشمی کے آنجہانی شوہر، بونگو ویرا سوامی کی تصویر، جنہیں کوٹیہ نے بچانے کی کوشش کی تھی

لیکن منگما خوش نہیں ہیں۔ وہ کہتی ہیں، ’’میں ٹھگا ہوا محسوس کر رہی ہوں۔ مجھے پیسہ ملنے کی امید دلائی گئی تھی اور اب وہ امید بھی باقی نہیں رہی۔‘‘

بھاگیہ لکشمی اپنی بات جوڑتے ہوئے کہتی ہیں، ’’کئی کارکن، وکیل، میڈیا اہلکار ہم سے ملنے کے لیے آئے۔ کچھ وقت کے لیے، ہمیں امید بھی بندھی تھی۔ اب، مجھے نہیں لگتا کہ وہ پیسہ مل پائے گا۔‘‘

*****

اس سال اکتوبر کے آخر میں ایک دن صبح کے وقت منگما، حیدر آباد کے کوٹی علاقہ میں ایک پرانے اپارٹمنٹ کی عمارت کے پارکنگ والے حصہ میں موجود داخلی دروازہ کے پاس کٹّیلا پویی (عارضی چولہا) بنا رہی تھیں۔ یہ چولہا انہوں نے نصف درجن اینٹوں کو جوڑے میں ایک دوسرے کے اوپر رکھ کر مثلث کی شکل کا بنایا تھا۔ وہ بتاتی ہیں، ’’کل ہماری گیس [ایل پی جی] ختم ہو گئی۔ نیا سیلنڈر نومبر کے پہلے ہفتہ میں آئے گا۔ تب تک، ہم کٹّیلا پویی پر کھانا پکائیں گے۔ جب سے میرے شوہر کا انتقال ہوا ہے، ہم لوگ اسی حالت میں زندگی گزار رہے ہیں۔‘‘

کوٹیّہ کی موت کو اب چھ سال گزر چکے ہیں۔ تیس سال سے زیادہ کی ہو چکیں کوٹیہ کہتی ہیں، ’’شوہر کی موت کے بعد، میں کافی دنوں تک تنہا محسوس کرتی رہی۔ مجھے کافی صدمہ پہنچا تھا۔‘‘

وہ اور ان کے دو چھوٹے بچے، وامسی اور اکھلا، سیڑھیوں کے بغل میں بنے ایک چھوٹے سے کمرے میں رہتے ہیں – جو کہ ایک کثیر منزلہ عمارت کا تہہ خانہ ہے اور وہاں پر ٹھیک سے روشنی بھی نہیں آتی ہے۔ وہ ۲۰۲۰ کے آخر میں یہاں رہنے آئے تھے، کیوں کہ وہ اسی علاقے میں واقع مکان کا ۵۰۰۰ سے ۷۰۰۰ روپے کا کرایہ ادا کر پانے کے قابل نہیں تھے۔ منگما اس پانچ منزلہ عمارت کی نگرانی کرتی ہیں اور اس کے احاطہ میں صفائی کا کام بھی کرتی ہیں۔ اس کے لیے انہیں ہر مہینے ۵۰۰۰ روپے دیے جاتے ہیں، اور رہنے کے لیے یہ کمرہ بھی دیا گیا ہے۔

وہ کہتی ہیں، ’’یہ ہم تینوں کے رہنے کے حساب سے بہت چھوٹی جگہ ہے۔‘‘ اس کمرے میں صبح کی تیز دھوپ کے وقت بھی بہت کم روشنی ہے۔ پرانی خستہ دیوار پر کوٹیہ کی تصویریں لگی ہوئی ہیں؛ کمرے کی چھت کافی نیچی ہے، جس سے ایک پنکھا لٹکا ہوا ہے۔ وہ کہتی ہیں، ’’میں نے کلپنا [بیٹی] کو یہاں بلانا چھوڑ دیا ہے۔ وہ آئے گی تو کہاں رہے گی اور کہاں بیٹھے گی؟‘‘

PHOTO • Amrutha Kosuru
PHOTO • Amrutha Kosuru

بائیں: حیدر آباد کے کوٹی میں ایک عمارت کے تہہ خانہ میں منگما کا گھر۔ دائیں: گھر میں گیس ختم ہو جانے کے بعد، منگما اس اپارٹمنٹ میں گاڑی پارک کرنے کی جگہ پر اینٹوں کی مدد سے ایک چولہا بنا رہی ہیں

سال ۲۰۲۰ میں، جب کلپنا ۲۰ سال کی تھیں، منگما نے اپنی بیٹی کی شادی کرنے کا فیصلہ کیا۔ ٹھیکہ دار سے ملے ۲ لاکھ روپے کی مدد سے انہوں نے اپنی بیٹی کی شادی کا خرچ اٹھایا۔ اس کے علاوہ، انہوں نے گوش محل کے ایک ساہوکار سے بھی پیسے قرض لیے۔ اس نے ماہانہ ۳ فیصد کی شرح سود پر پیسہ دیا ہے۔ اسمبلی حلقہ کے دفتر میں صفائی ملازم کے طور پر منگما جتنا پیسہ کماتی ہیں، اس کا آدھا حصہ ہر مہینے قرض چکانے میں خرچ ہو جاتا ہے۔

شادی کے اخراجات نے فیملی کو دیوالہ کر دیا ہے۔ وہ بتاتی ہیں، ’’ہم پر ابھی ۶ لاکھ روپے کا قرض ہے۔ [اپنی کمائی سے] میں بمشکل اپنے گھر کا خرچ اٹھا رہی ہوں۔‘‘ عمارت کے احاطہ میں صفائی کرنے سے ہونے والی کمائی کے علاوہ، پرانے حیدر آباد کے گوش محل اسمبلی حلقہ کے دفتر میں صفائی ملازم کے طور پر وہ ۱۳ ہزار روپے ماہانہ کماتی ہیں۔

وامسی (۱۷ سالہ) اور اکھلا (۱۶ سالہ) پاس کے کالجوں میں پڑھتے ہیں، اور ان کی پڑھائی کی سالانہ فیس ۶۰ ہزار روپے ہے۔ وامسی، کالج میں اپنی تعلیم کو اس لیے جاری رکھ پا رہا ہے کیوں کہ اس نے ایک اکاؤنٹنٹ کے طور پر پارٹ ٹائم نوکری کر لی ہے۔ وہ ہفتے میں ۶ دن، دوپہر ۳ بجے سے رات کے ۹ بجے تک کام کرکے ہر روز ۱۵۰ روپے کماتا ہے۔ اس سے اسے اپنے کالج کی فیس بھرنے میں مدد ملتی ہے۔

اکھلا ڈاکٹری کی پڑھائی کرنا چاہتی ہے، لیکن اس کی ماں کو یقین نہیں ہے کہ وہ ایسا کر پائے گی۔ منگما مایوسی سے کہتی ہیں، ’’میرے پاس اس کی تعلیم کو جاری رکھنے کے لیے وسائل نہیں ہیں۔ میں اس کے لیے نئے کپڑے تک نہیں خرید پاتی ہوں۔‘‘

بھاگیہ لکشمی کے بچے چھوٹے ہیں۔ جس پرائیویٹ اسکول میں وہ پڑھنے جاتے ہیں، اس کی سالانہ فیس ۲۵ ہزار روپے ہے۔ ان کی ماں خوشی سے بتاتی ہیں، ’’میرے دونوں بچے پڑھائی میں بہت اچھے ہیں۔ مجھے ان پر ناز ہے۔‘‘

PHOTO • Amrutha Kosuru
PHOTO • Amrutha Kosuru

بائیں: ویرا سوامی کی فیملی (بائیں سے): بھاگیہ لکشمی، جگدیش، مادھو اور راجیشوری۔ دائیں: ان کا گھر (دائیں) حیدر آباد میں ایک عمارت کے تہہ خانہ میں ان کا گھر

PHOTO • Amrutha Kosuru
PHOTO • Amrutha Kosuru

بائیں: بھاگیہ لکشمی کے گھر کا کچھ سامان باہر پارکنگ کی جگہ پر رکھا ہوا ہے۔ دائیں: باورچی خانہ کو پلاسٹک کی چادر سے گھیرا گیا ہے

بھاگیہ لکشمی بھی صفائی ملازم کے طور پر کام کرتی ہیں۔ ویرا سوامی کی موت کے بعد انہوں نے یہ کام شروع کیا تھا۔ وہ اپنے بیٹوں اور اپنی ساس کے ساتھ کوٹی کی ایک عمارت کے تہہ خانہ میں بنے ایک کمرے میں رہتی ہیں۔ ویرا سوامی کی تصویر کمرے میں ایک چھوٹی سی میز پر رکھی ہوئی ہے۔ ان کا کمرہ سامانوں سے بھرا پڑا ہے، جن میں سے زیادہ تر سامان لوگوں کا دیا ہوا ہے یا لوگوں کے ذریعے استعمال کے بعد چھوڑا ہوا سامان ہے۔

کمرے کے اندر جگہ کی کمی کی وجہ سے، فیملی کا کچھ سامان کمرے کے باہر پارکنگ والی جگہ پر ایک کونے میں پڑا ہوا ہے۔ باہر رکھی ایک سلائی مشین کمبلوں اور کپڑوں سے ڈھکی ہوئی ہے۔ بھاگیہ لکشمی اس کے بارے میں بتاتی ہیں، ’’میں نے ۲۰۱۴ میں سلائی کے ایک کورس میں داخلہ لیا تھا اور کچھ دنوں کے لیے میں نے کچھ بلاؤز اور دوسرے کپڑوں کی سلائی کی تھی۔‘‘ چونکہ کمرے میں سب کے سونے کے لیے مناسب جگہ نہیں ہے، اس لیے صرف مادھو اور جگدیش ہی کمرے میں سوتے ہیں۔ بھاگیہ لکشمی اور راجیشوری باہر پلاسٹک کی چادر یا چٹائی بچھا کر سوتی ہیں۔ ان کا باورچی خانہ عمارت کے دوسرے کونے میں ہے۔ اس کے لیے، پلاسٹک کی چادر سے گھیر کر چھوٹی سی جگہ بنائی گئی ہے، جہاں بہت ہلکی روشنی آتی ہے۔

عمارت کے احاطہ کی صفائی کے بدلے بھاگیہ لکشمی کو ہر مہینے ۵۰۰۰ روپے ملتے ہیں۔ وہ آگے کہتی ہیں، ’’میں بلڈنگ کے کچھ گھروں میں کام کرتی ہوں، تاکہ اپنے بیٹوں کو ان کے اسکول کے کاموں میں مدد کر سکوں۔‘‘ وہ بتاتی ہیں کہ ان کے اوپر ساہوکاروں کے تقریباً ۴ لاکھ روپے اُدھار ہیں، جو انہوں نے گزشتہ کئی سالوں میں لیے ہیں۔ ان کے مطابق، ’’اپنا قرض چکانے کے لیے میں ہر مہینے ۸۰۰۰ روپے کی قسط بھرتی ہوں۔‘‘

ان کی فیملی کو عمارت کے کمرشیل سیکشن (کاروباری حصہ) میں نچلی منزل پر بنے بیت الخلاء کا استعمال کرنا پڑتا ہے، جسے دوسرے کئی ملازمین بھی استعمال کرتے ہیں۔ وہ بتاتی ہیں، ’’ہم شاید ہی کبھی دن میں اس کا استعمال کر پاتے ہیں۔ یہاں مرد لگاتار آتے جاتے رہتے ہیں۔‘‘ جس بھی دن وہ بیت الخلاء کی صفائی کرتی ہیں، اس دن، بقول ان کے، ’’میں صرف مین ہول کی بدبو کے بارے میں سوچتی رہ جاتی ہوں، جس نے میرے شوہر کو مار ڈالا۔ کاش کہ انہوں نے مجھ سے بتایا ہوتا۔ میں انہیں وہ کام نہیں کرنے دیتی۔ وہ آج زندہ ہوتے، تو مجھے اس تہہ خانہ میں نہیں رہنا پڑتا۔‘‘

اس اسٹوری کو رنگ دے کی طرف سے اعانت حاصل ہے۔

مترجم: محمد قمر تبریز

Amrutha Kosuru

ଅମୃତା କୋସୁରୁ ବିଶାଖାପାଟଣାରେ ଅବସ୍ଥିତ ଜଣେ ସ୍ଵତନ୍ତ୍ର ସାମ୍ବାଦିକ। ସେ ଏସିଆନ କଲେଜ ଅଫ ଜର୍ଣ୍ଣାଲିଜିମ୍, ଚେନ୍ନାଇରୁ ସ୍ନାତକ କରିଛନ୍ତି ।

ଏହାଙ୍କ ଲିଖିତ ଅନ୍ୟ ବିଷୟଗୁଡିକ Amrutha Kosuru
Editor : Priti David

ପ୍ରୀତି ଡେଭିଡ୍‌ ପରୀର କାର୍ଯ୍ୟନିର୍ବାହୀ ସମ୍ପାଦିକା। ସେ ଜଣେ ସାମ୍ବାଦିକା ଓ ଶିକ୍ଷୟିତ୍ରୀ, ସେ ପରୀର ଶିକ୍ଷା ବିଭାଗର ମୁଖ୍ୟ ଅଛନ୍ତି ଏବଂ ଗ୍ରାମୀଣ ପ୍ରସଙ୍ଗଗୁଡ଼ିକୁ ପାଠ୍ୟକ୍ରମ ଓ ଶ୍ରେଣୀଗୃହକୁ ଆଣିବା ଲାଗି ସ୍କୁଲ ଓ କଲେଜ ସହିତ କାର୍ଯ୍ୟ କରିଥାନ୍ତି ତଥା ଆମ ସମୟର ପ୍ରସଙ୍ଗଗୁଡ଼ିକର ଦସ୍ତାବିଜ ପ୍ରସ୍ତୁତ କରିବା ଲାଗି ଯୁବପିଢ଼ିଙ୍କ ସହ ମିଶି କାମ କରୁଛନ୍ତି।

ଏହାଙ୍କ ଲିଖିତ ଅନ୍ୟ ବିଷୟଗୁଡିକ Priti David
Translator : Qamar Siddique

କମର ସିଦ୍ଦିକି ପିପୁଲ୍ସ ଆରକାଇଭ ଅଫ୍ ରୁରାଲ ଇଣ୍ଡିଆର ଅନୁବାଦ ସମ୍ପାଦକ l ସେ ଦିଲ୍ଲୀ ରେ ରହୁଥିବା ଜଣେ ସାମ୍ବାଦିକ l

ଏହାଙ୍କ ଲିଖିତ ଅନ୍ୟ ବିଷୟଗୁଡିକ Qamar Siddique