دیہی ہندوستان کی عورتیں اپنی زندگی کا ایک تہائی حصہ پانی لانے، ایندھن کی لکڑیاں اور جانوروں کا چارہ جمع کرنے میں صرف کر سکتی ہیں

وہ بے ترتیبی سے ایک دوسرے کے اوپر رکھے ہوئے پتھر کے تین اور لکڑی کے ایک ٹکڑے کے اوپر دلربا انداز میں سیدھا کھڑی تھی۔ پتھروں کا سائز الگ الگ تھا اور شکل بھی مختلف تھی۔ لکڑی کے ٹکڑے نے اسے سپاٹ سطح فراہم کی۔ اس کا تعلق مہاراشٹر کے یوت مال ضلع کی ایک دیہی فیملی سے تھا، اور وہ کوشش کر رہی تھی کہ ٹینک کے پائپ سے جو پانی بہہ رہا ہے اس میں سے جتنا وہ جمع کر سکتی تھی، اتنا پانی جمع کر لے۔ غضب کے تحمل اور توازن کے ساتھ وہ اپنے  سر کے اوپر ایک برتن رکھتی، اسے بھرتی، پھر اس پانی کو زمین پر رکھے بڑے برتن میں انڈیل دیتی۔ جب دونوں برتن پانی سے بھر جاتے، تو وہ اپنے گھر کی جانب چل پڑتی، اس پانی کو وہاں اکٹھا کرتی، اور پھر مزید پانی بھرنے کے لیے واپس لوٹ آتی۔ ہر بار وہ ۱۵ سے ۲۰ لیٹر پانی اور دھات کے دو برتن تقریباً آدھا کلومیٹر لے کر جاتی۔

اسی ریاست کے امراوتی ضلع میں، شاردا بدرے اور ان کی بیٹیاں اپنے گھر کے قریب واقع اپنے انار کے درختوں کو پانی دینے کے لیے برسوں جدوجہد کر چکی ہیں۔ ان کے پانی کا ذریعہ محض ۳۰۰ میٹر دور ہے۔ دیہی معیار کے مطابق، اگلے دروازے۔ ’’لیکن درختوں کو ۲۱۴ بڑے برتنوں کا پانی چاہیے،‘‘ وہ بتاتی ہیں۔ آنا اور جانا، دونوں ملا کر ۴۲۸ چکر، ان میں سے آدھا ان کے سروں پر پانی سے بھرے برتنوں کے ساتھ۔ یا مجموعی طور سے ان چھوٹے چکروں کو ملاکر، ان تینوں خواتین میں سے ہر ایک کے لیے ۴۰ کلومیٹر سے زیادہ کی دوری۔ وہ ’’آدھے درختوں کو ہر پیر کو پانی دیتی ہیں اور باقی آدھے کو ہر جمعرات کو۔‘‘ اس کے علاوہ باقی دنوں میں کھیتوں میں الگ سے کام کرنا، اکثر و بیشتر اپریل۔ مئی کے مہینے میں ۴۵ ڈگری سیلسیس (۱۱۳ ڈگری فارین ہائٹ) درجہ حرارت میں۔

لیکن یہ بات اب پرانی ہو چکی ہے۔ اب جب کہ پانی کے پرانے ذرائع خشک ہو رہے ہیں اور جتنا پانی موجود ہے اس کا زیادہ تر حصہ صنعت اور شہروں کو سپلائی کیا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے دیہی علاقوں میں پانی کی قلت بڑھتی جا رہی ہے، ہندوستان کے گاؤوں میں رہنے والی لاکھوں دیگر خواتین کی طرح بدرے اور ان کی بیٹیوں کو پہلے کی بنسبت زیادہ دوریاں طے کرنی پڑتی ہیں۔ غریب دیہی خواتین یہ کام ہر وقت کرتی ہیں، اور دنیا کے ہر حصے میں کرتی ہیں۔



دیہی ہندوستان کی بہت سی عورتیں بیدار رہتے ہوئے اپنی زندگی کا ایک تہائی حصہ تین کاموں میں صرف کر سکتی ہیں: پانی لانا، ایندھن کی لکڑی جمع کرنا اور چارے اکٹھا کرنا۔ لیکن، وہ اس کے علاوہ بھی بہت کچھ کرتی ہیں۔ اور لاکھوں دیہی خاندانوں کی اقتصادیات زیادہ تر انہی کی مزدوری پر منحصر ہے۔

کیرالہ کے دور افتادہ علاقے، ایڈمالاکوڈی کی ۶۰ عورتیں چند ماہ قبل ہی اپنے گاؤں کو بجلی سے روشن کرنے کے لیے سو سے زیادہ سولر پینل لانے کے لیے ایک ساتھ جمع ہوئیں۔ اس کا مطلب تھا، ان پینلوں کو مونّار ٹاؤن کے قریب پیٹی موڈی میں اپنے سروں پر لادنا اور پھر انھیں پہاڑیوں، جنگلوں اور جنگلی ہاتھیوں کے علاقے والے ۱۸ کلومیٹر کے راستے سے اپنے گاؤں لے آنا۔ یہ عورتیں ہی تھیں، زیادہ تر ناخواندہ، تمام کی تمام آدیواسی، جنہوں نے اپنے گاؤں کی منتخب کونسل کو سمجھایا کہ شمسی توانائی ہی وقت کی ضرورت ہے ۔

ان میں سے ہر ایک پینل کا وزن ۹ کلوگرام تک ہو سکتا ہے اور زیادہ تر عورتیں اپنے سر پر دو پینل لاد کر لے آئیں۔ ان میں سے چند آدیواسی عورتیں پتلی تھیں، جن کا وزن ۴۰ کلو کے آس پاس تھا، یعنی دو پینلوں کا مطلب ہوا ان کے جسمانی وزن کا تقریباً آدھا۔

گزشتہ دو دہائیوں کے دوران ان عورتوں کو دیہی ہندوستان کے بنیادی اور اکثر بے رحمانہ بدلاؤ کا بھی شکار ہونا پڑا ہے۔ چونکہ لاکھوں کو دیہات سے ہجرت کرنی پڑی ہے یا پھر کاشت کاری چھوڑنی پڑی ہے، لہٰذا ان کے کام کا بوجھ بھی بڑھا ہے (عورت و مرد دونوں ہی ہجرت کر رہے ہیں، لیکن اس میں مردوں کی تعداد زیادہ ہے)۔ عورتوں کو نہ صرف دودھ کا کاروبار اور مرغیوں کی دیکھ بھال کے روایتی رول کو نبھانے پر مجبور کیا جاتا ہے، بلکہ وہ کھیتی باڑی کا بھی بہت سارا کام کرتی ہیں۔ اب اتنے بڑے نئے دباؤ کے سبب انھیں مویشیوں کی دیکھ بھال کا کم وقت مل پاتا ہے۔

زراعت میں بھی، ۱۹۹۰ کی دہائی تک، کھیتوں میں بیج ڈالنے والوں میں ۷۶ فیصد تعداد عورتوں کی تھی، جب کہ دھان کے پودے کو ایک جگہ سے اکھاڑ کر دوسری جگہ لگانے والوں میں ۹۰ فیصد عورتیں شامل تھیں۔ کھیتوں سے گھروں تک فصلوں کو کاٹ کر لے جانے میں عورتوں کی حصہ داری ۸۲ فیصد تھی، زمین کو جوت کر فصل کے لیے تیار کرنے کے کام میں ۳۲ فیصد اور دودھ کے کاروبار میں ۶۹ فیصد عورتیں شامل تھیں۔ اب ان کے کام کا بوجھ اس سے بھی کہیں زیادہ ہو چکا ہے۔



جیسا کہ جارج مونبیوٹ فرماتے ہیں: ’’اگر دولت کڑی محنت اور انٹرپرائز کا حتمی نتیجہ ہوتا، تو افریقہ کی ہر عورت کروڑ پتی ہوتی۔‘‘

یہ بات ہر جگہ کی دیہی غریب عورتوں پر صادق آتی ہے۔

میل کے پتھر یا چکی کے پاٹ؟

اقوامِ متحدہ نے ۱۵ اکتوبر کو دیہی خواتین کا بین الاقوامی دن قرار دیا ہے۔ اور ۱۷ اکتوبر کو غریبی کے خاتمہ کا بین الاقوامی دن۔ اس نے سال ۲۰۱۴ کو بھی خاندانی کاشت کاری کا بین الاقوامی سال کہا۔ ہندوستان میں لاکھوں دیہی عورتیں ان ’خاندانی کھیتوں‘ پر مزدوری کرتی ہیں۔ لیکن جب ملکیت کا سوال آتا ہے، تو ایسا لگتا ہے کہ وہ ’خاندان‘ کا حصہ نہیں ہیں۔ کھیت کے مالک کے طور پر ان کا نام شاذ و نادر ہی لکھا جاتا ہے۔ اور دیہی خواتین کی بڑی تعداد کا شمار غریبوں میں سب سے غریب کے طور پر ہوتا ہے۔

یہ تمام ’میل کے پتھر‘ میڈیا کے لیے کم اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کے لیے تو مطلب کی بات تب آئی، جب فوربس ایشیا نے ۲۰ اکتوبر کو اپنا شمارہ شائع کیا۔ وہ بھی تب، جب فوربس ایشیا نے ہندوستان کے ۱۰۰ امیر ترین لوگوں کی اپنی فہرست شائع کی، جس میں اس نے اعلان کیا کہ یہ سبھی اب ڈالر میں کروڑ پتی ہیں۔ دیہی خواتین پر کوئی بھی کور اسٹوری نہیں شائع ہوگی۔

زبردستی نقل مکانی سے سب سے زیادہ خواتین ہی متاثر ہوئی ہیں۔ دیہی ہندوستان میں ۱۹۹۰ کی دہائی سے ہی یہ عام بات ہے، جس نے لاکھوں زندگیوں کو اُجاڑ دیا ہے۔ ریاست نے پرائیویٹ اور سرکاری صنعتی پروجیکٹوں اور ’اسپیشل اکنامک ژونس‘ کے لیے زبردستی کھیتوں پر قبضہ کیا ہے۔ جب ایسا ہوتا ہے، تب عورتوں کے ذریعہ پانی، ایندھن کی لکڑی اور چارے کی تلاش میں طے کی گئی دوری میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ اور ایسا کرتے وقت انھیں نئی جگہوں پر موجود مقامی لوگوں کی دشمنی بھی مول لینی پڑتی ہے۔ آج جنگلات تک ان لوگوں کی رسائی محدود ہو گئی ہے، جو کبھی وہاں سے جنگلی پیداوار حاصل کرتے تھے۔ اور نقل مکانی پر مجبور ہوئے لوگوں کے لیے عزت کے ساتھ کام کے بہت کم، بلکہ نہیں کے برابر مواقع موجود ہیں۔

یہاں تک کہ سب سے زیادہ کامیاب کسانوں کو بھی نقل مکانی کے خوف میں مبتلا رہنا پڑتا ہے، جیسا کہ مشرقی ریاست اوڈیشہ کی گوجری موہنتی آپ کو بتائیں گی۔ گوجری کی عمر ۷۰ سال ہے اور وہ پان کے پتوں کی کھیتی کرنے والی ایک ہنرمند کسان ہیں۔ لیکن ان کا گاؤں اسٹیل کی بڑی کمپنی پوسکو کے خلاف بغاوت پر آمادہ ہے، جسے ریاستی حکومت نے ان کے جیسے کئی لوگوں کے کھیتوں کو دینے کا وعدہ کر رکھا ہے۔

’’وہ کیا نوکری دیں گے؟‘‘ وہ سوال کرتی ہیں۔ ’’یہ فیکٹریاں مشینوں سے چلتی ہیں، انسانوں سے نہیں۔ کمپیوٹر اور موبائل فون نے زیادہ نوکریاں پیدا کی ہیں یا کم؟ پان کے پتوں سے لدے میرے اس کھیت کو دیکھئے کہ اس سے کتنے لوگوں کی زندگیاں چل رہی ہیں۔‘‘




دیہی عورتوں کو دوسری وجہوں سے بھی بڑھا دھکا لگا ہے۔ نیشنل کرائم ریکارڈس بیورو کے ڈاٹا کے مطابق، ۱۹۹۵ سے [DS2] اب تک تقریباً ۳۰۰۰۰۰ کسانوں نے خودکشیاں کی ہیں۔ ( http://psainath.org/maharashtra-crosses-60000-farm-suicides/ ) سرکاری گنتی کے حساب سے، ایسا کرنے والوں میں سب سے زیادہ تعداد مردوں کی ہے۔ اس کی وجہ سے عورتوں پر ناقابل یقین دباؤ پڑتا ہے، کیوں کہ انھیں اچانک بڑے خاندانوں کو چلانے، بینکوں، ساہوکاروں اور نوکرشاہی سے نمٹنے کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ عام طور سے خواتین کسانوں کی خودکشیوں کی گنتی کم کی جاتی ہے، کیوں کہ عورتوں کو اکثر کسان ہی نہیں سمجھا جاتا۔ انھیں صرف کسانوں کی بیویاں کہا جاتا ہے۔ یہ ایک طرح سے کھیتوں پر ان کے مالکانہ حقوق نہ ہونے کی وجہ سے ہے۔ (جو کسان نہیں ہیں ان میں بھی، دیہی ہندوستان کی نوجوان عورتوں کی زیادہ تر اموات خودکشی کی وجہ سے ہوتی ہیں)۔

اذیت اور ستم ظریفی

یہاں پر ستم ظریفی صرف یہی نہیں ہے کہ پوری دنیا کی اِن عورتوں کے مصائب سال در سال بڑھتے جا رہے ہیں۔ بلکہ اصل ستم ظریفی یہ ہے کہ ان کے اندر ہمارے دور کے بڑے سے بڑے مسائل کے حل میں مدد کرنے کا مادّہ اور بصارت ہے۔ ان میں شامل ہیں: غذائی تحفظ، ماحولیاتی انصاف، سماجی اور مشترکہ اقتصادیات کا فروغ وغیرہ۔

حالانکہ، ان میں سے کسی ایک کو بھی کرنے کے لیے، ہمیں گہری اور بنیادی تبدیلی کی ضرورت پڑے گی۔ نہ کہ چھوٹے چھوٹے پروگراموں کی۔

ہم سے زیادہ سے زیادہ عورتیں کہتی ہیں کہ وہ غیر محفوظ زرعی مزدوروں کی نوکری چھوڑ کر آزاد آجر (پروڈیوسر) بننا پسند کریں گی۔ آزاد آجر کے طور پر اپنی مزدوری اور وقت پر ان کا کنٹرول ہوگا، اور اس پر بھی کہ وہ کیسے اور کیا پیدا کریں۔ اگر عورتوں کے اس خواب کو پورا کرنا ہے، تو اس کے لیے دو چیزوں کی ضرورت پڑے گی۔

پہلی چیز ہے وسائل کے حقوق کا ایک مضبوط نظام، خاص کر زمین کے حقوق۔ جیسا کہ اقوامِ متحدہ کی غذائی اور زرعی تنظیم (ایف اے او) کا اندازہ ہے، ترقی پذیر علاقے کی عورتوں کو زمین پر مالکانہ یا اسے چلانے کا حق کم ہوتا ہے یا پھر کرایے کی زمین تک انھیں کم رسائی ملتی ہے۔ اگر ان کے پاس کوئی زمین ہے بھی تو، ان کھیتوں کی کوالٹی خراب ہوتی ہے یا پھر سائز میں وہ کھیت چھوٹا ہوتا ہے۔ مویشیوں اور دیگر جائیدادوں تک خواتین کی رسائی کا پیٹرن عالمی سطح پر بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

دوسری چیز ہے تنظیمی ڈھانچوں کی تعمیر جو عورتوں کو اپنے سب سے بڑے وسیلہ کو بروئے کار لانے کا موقع دے۔ وہ ہے: ان کی شراکتی جبلت، ان کا اتحاد۔

اس کے لیے کچھ بڑی سوچ کی ضرورت ہے۔ فرد پر مبنی مائکرو کریڈٹ ماڈلس نے لمبے عرصے تک دنیا پر راج کیا ہے۔ اور اس نے عورتوں کی زندگیاں کیسے تباہ کی ہیں، اس کے کافی ثبوت دنیا کے مختلف حصوں سے مل رہے ہیں۔ ہندوستان میں، سب سے بڑی مثال آندھرا پردیش سے آئی۔ مائکرو کریڈٹ کی وجہ سے ہونے والی خودکشیوں نے بعض مائکرو لینڈنگ آپریشنوں کی آرڈیننس آرڈرنگ کو بند کروا دیا۔ (مطالعوں کی بڑھتی تعداد سب صحرائی افریقہ اور لاطینی امریکہ میں مائکرو کریڈٹ کے مسائل کی طرف اشارہ کرتی ہے، اور عام طور سے وال اسٹریٹ کا پائی کا ایک ٹکڑا مانگنا

سیلف ہیلپ گروپس (ایس ایچ جی) مقبول متبادل کے طور پر ابھرتے ہیں اور وہ مائکرو کریڈٹ کا ایک اہم متبادل ضرور پیش کرتے ہیں۔ تاہم، ایس ایچ جی بھی اکثر و بیشتر ایسی ’واحد‘ تنظیمیں ثابت ہوئی ہیں جو معقول طریقے سے ان تمام شعبوں کو جوڑ نہیں پاتیں جہاں جنسی امتیاز برتا جا رہا ہے۔ مثال کے طور پر گھر میں، کمیونٹی میں، کام کی جگہ پر اور سیاسی میدان میں۔

لیکن جب ایسے رابطے بنائیں جائیں گے، تو بڑی چیزوں کو انجام دیا جا سکتا ہے۔

اتحاد نئے مقامات فراہم کرتا ہے

کیرالہ کی کڈُمب شری کو لے لیجئے ۔ ۴۰ لاکھ عورتوں کا نیٹ ورک، جن میں سے زیادہ تر کا تعلق خط افلاس سے نیچے ہے۔




حکومت کیرالہ کے ذریعے ۱۹۹۸ میں شروع کی گئی اس پہل کا مقصد پس ماندہ عورتوں کی مجموعی صلاحیت کو متحرک کرنا اور سہل بنانا تھا، تاکہ ان کی غربت کے بنیادی اسباب کو دور کیا جا سکے۔ اسے کیرالہ کے مشہور ’پیپلز پلان‘ پروسیس کے دوران شروع کیا گیا، اس کا مقصد ریاست اور اس کے شہریوں کے درمیان حائل رکاوٹوں کو دور کرنا تھا۔ اس نے نچلی سطح پر موجود برادریوں کی کوششوں سے تیار کیے گئے منصوبوں کو تلاش کرنا شروع کیا۔ اسی کے مطابق، کڈومباشری کے پاس شروع سے ہی ایک کمیونٹی اور نوکرشاہی والا ڈھانچہ موجود تھا جو آپس میں مل کر کام کرتا ہے۔ اس کی گورننگ باڈی کی صدارت لوکل سیلف گورنمنٹ کے ریاستی وزیر نے کی۔ ہر ضلع میں کڈومبا شری کا ایک دفتر ہوتا ہے جس میں ایک فیلڈ آفیسر تعینات کیا جاتا ہے۔ اس سرکاری ڈھانچہ کا بنیادی کام پوری ریاست میں پھیلے اس کمیونٹی نیٹ ورک کی سرگرمیوں کی مدد کرنا ہے، جس میں اب خواتین کی تعداد بڑھ کر ۴۰ لاکھ ہو چکی ہے۔ وہ مختلف قسم کے کاموں میں مصروف ہیں، جن سے ان کی آمدنی ہوتی ہے۔ لیکن وہ ایسی شہری بھی بن چکی ہیں جو سماجی ناانصافی کی کئی شکلوں کو چنوتی بھی دے رہی ہیں۔

کڈومبا شری کا تنظیمی ڈھانچہ ہی اسے مثالی بناتا ہے۔ یہ تین سطحی اتحاد کے کمیونٹی ڈھانچے پر مبنی ہے۔ ان میں سے پہلا ’نیبرہوڈ گروپ‘ (این ایچ جی) ہے، جن میں سے ہر ایک میں ۱۰ سے ۲۰ عورتیں ہوتی ہیں۔ این ایچ جی کو آپس میں ملا کر ایریا ڈیولپمنٹ سوسائٹی (اے ڈی ایس) بنتی ہے۔ پھر ان سے مل کر پنچایت سطح پر کمیونٹی ڈیولپمنٹ سوسائٹیز (سی ڈی ایس) کی تشکیل ہوتی ہے۔

کڈومبا شری کا تجربہ بعض اہم نتائج لے کر آیا ہے۔ پہلا، اس نے عورتوں کو ان کی تنہائی سے نکالنے میں کافی مدد کی ہے۔

تنہائی عورت کو اس سے بھی کہیں زیادہ نقصان پہنچاتی ہے، جتنا کہ ہم سمجھتے ہیں۔ ایک مطالعہ میں [DS3] جو ہم نے کوسٹا ریکا کے ویمنس ڈیولپمنٹ نیٹ ورک کے ساتھ کیا، وسطی اور جنوبی امریکہ کی عورتوں نے اس کی شناخت بنیادی رکاوٹ کے طور پر کی۔ اس نیٹ ورک کا موٹو ہے ’’ہم ساتھ مل کر جتنا کر سکتے ہیں اتنا اکیلے نہیں کرسکتے۔‘‘ اور یہ رابطہ، اشتراک اور اتحاد کی اس ضرورت کے لیے آواز بلند کرتا ہے۔ عورتیں جس تنہائی کا سامنا کرتی ہیں وہ کئی سطحوں پر ہو سکتی ہے، اور اس کا بہت زیادہ اقتصادی اثر ہو سکتا ہے۔ کامیاب مائکرو انٹرپرائزیز تیار کرنا کافی مشککل ہے، عورتوں کو اپنی تمام گھریلو ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے پروڈکشن اور مارکیٹنگ کے مختلف مراحل کو خود ہی دیکھنا پڑتا ہے۔ لیکن پھر بھی بنیادی بات یہ ہے کہ تنہائی اعتماد کو مضبوطی کے ساتھ روک دیتی ہے، جب کہ ایک جیسی عورتوں کے ساتھ جڑنے کی صلاحیت اچھے اثر پیدا کرتی ہے۔ میل جول زمینی سطح کی کاروباری سرگرمیوں کو بھی اونچا اٹھانے میں مدد کرتا ہے، جو اکیلے کام کرنے والی عورتیں نہیں کر سکتیں۔

کڈومبا شری یہی کام پڑوس کی عورتوں کو آپس میں متحد کرکے کرتا ہے۔ بہت ساری عورتوں کے لیے یہ ان کے گھر کے باہر پہلی اور واحد جگہ ہے۔ وہ اپنے جیسی دیگر عورتوں کے ساتھ ملتی جلتی ہیں۔ اور پھر یہی کام وارڈ اور گاؤں کی سطح پر باہمی میل جول کے ذریعے کرتی ہیں۔ کڈومبا شری کی کاروباری سرگرمیاں، ماہانہ بازار، فوڈ فیسٹیول اور دیگر سرگرمیاں عورتوں کو بہت سے مواقع فراہم کرتی ہیں جو انھیں کہیں اور نہیں ملتے۔ ان کی ویب سائٹ کے مطابق، کیفے کڈومبا شری فوڈ فیسٹ کی حال ہی میں مجموعی آمدنی ۳ اعشاریہ ۲۲ کروڑ روپے پہنچ گئی؛ ان کے کل ۱۴۳۴ ماہانہ بازاروں سے ۴ اعشاریہ ۵۱ کروڑ روپے کی کمائی ہوئی۔

دوسرے، کڈومباشری آمدنی کے بہت سے ذرائع پیدا کر رہی ہے جس کے بڑے پیمانے پر سماجی نتائج دیکھنے کو مل رہے ہیں۔

سنگھ کرشی، یا اجتماعی کاشت کاری ایسا ہی ایک ذریعہ ہے۔ اس قسم کے گروہوں میں اب ۲۰۰۰۰۰ عورتیں منظم ہو چکی ہیں، جو تقریباً سو ہزار ایکڑ زمین پر کھیتی کر رہی ہیں۔ اس کی شروعات ۲۰۰۷ میں مقامی غذائی پیداوار کو بڑھانے کے ذریعہ کے طور پر کی گئی۔ کیرالہ کی عورتوں نے اس خیال کو خوشی خوشی اپنا لیا۔ اب پوری ریاست میں ایسے ۴۷۰۰۰ گروپ ہیں جس سے خواتین کسان جڑ چکی ہیں۔ خواتین کاشت کاروں کے یہ گروپ غیر مزروعہ زمینوں کو پٹے پر لیتے ہیں، اسے جوت کر تیار کرتے ہیں، اور پھر اس میں کھیتی کرتے ہیں۔ اس کے بعد یہ عورتیں یا تو پیداوار کو بیچتی ہیں یا پھر اپنے گھروں میں استعمال کرتی ہیں، یہ ممبران کی ضروریات پر منحصر ہے۔ اس کی حوصلہ افزا مثالیں موجود ہیں۔ پیرامبرا میں، پنچایت کے ساتھ کام کرنے والی کڈومباشری عورتوں نے ۲۶ برسوں سے بیکار پڑی ہوئی ۱۴۰ ایکڑ زمین کو کھیتی کے لائق بنا دیا ہے۔ اب وہ اس پر چاول، سبزیاں اور کساوا سوجی اُگاتی ہیں۔ یہ کیرالہ کی زراعت میں عورتوں کے رول میں واضح تبدیلی لا رہا ہے۔ ہزاروں کڈومبا شری عورتیں کم آمدنی والی مزدوری چھوڑ کر آجر بن رہی ہیں۔ آزاد پیداوار کی وجہ سے انھیں اپنے وقت اور محنت پر زیادہ کنٹرول حاصل ہو رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی فصلوں، پیداوار کے طور طریقوں پر بھی انھیں قدرت حاصل ہو رہی ہے۔




تقریباً ۱۰۰۰۰۰ عورتیں اب آرگینک کھیتی کر رہی ہیں۔ کئی اور یہ کرنا چاہتی ہیں۔ کڈومباشری کسان خواتین کھیتی کے متبادل طریقوں کو اختیار کرکے ماحولیاتی تباہی سے لڑنے کے لیے بھی تیار ہیں۔

کسی تنظیم سے وابستگی کے دوسرے بھی فائدے ہیں۔ کڈومباشری خواتین سیاست میں شریک ہو رہی ہیں۔ سال ۲۰۱۰ میں ۱۱۷۷۳ نے پنچایتی انتخابات میں حصہ لیا، جن میں سے ۵۴۸۵ جیتنے میں کامیاب ہوئیں ۔

تلنگانہ کے وارنگل ضلع میں زرعی کامگاروں کی ایک حالیہ کانفرنس میں، ایک کے بعد ایک مقرر نے یہ کہا: کہ زرعی کامگار ویسے نہیں ہونے چاہئیں جیسے کہ وہ اب ہیں۔ انھیں بے زمین نہیں ہونا چاہیے۔ انھیں پروڈیوسر ہونا چاہیے، مالک ہونا چاہیے۔ کڈومباشری کی عورتوں نے اس سلسلے میں اپنی راہ ہموار کر لی ہے۔ ان کے دھیرے دھیرے پروڈیوسر بننے کی وجہ سے ’بے زمین مزدوروں‘ کی کیٹیگری ختم ہوتی جا رہی ہے۔

کیوں؟ اس سے انھیں کیا فائدہ ملتا ہے؟

ایڈمالا کوڈی میں، جہاں پر شمسی توانائی کے ذریعے اپنے گاؤں میں جو آدیواسی عورتیں بجلی لے کر آئی تھیں، وہاں پر کڈومباشری نیٹ ورک کے تحت ۴۰ کمیونٹی ڈیولپمنٹ سوسائٹی (سی ڈی ایس) گروپس ہیں۔ ان میں سے ۳۴ کھیتی کے کام میں لگے ہوئے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک عورت موتھاون آدیواسی ہے۔ ان میں سے ہر ایک خود کو پروڈیوسر کے طور پر دیکھتی ہیں اور چاہتی ہیں کہ دوسرے بھی انھیں ایسا ہی سمجھیں۔ ’’ہم کسی کے غلام نہیں ہیں،‘‘ اس دورافتادہ علاقے میں انھوں نے ہم سے کہا۔ ’’ہم پروڈیوسر ہیں۔‘‘ اس تاریخی تبدیلی کو ایک آدمی طبعی یا مادیاتی طور پر کیسے ناپتا ہے؟ ذہنیت میں یہ تبدیلی جو خود ان کی دنیا کو بدل رہی ہے، بھلے ہی وہ اسی پیمانے پر نہ ہو، جو کہ ان کے آس پاس کی دنیا ہے، افسوس؟

کسے تولا نہیں جا سکتا

ان کے میل کے پتھر تعداد میں کافی اثردار ہیں، پھر بھی کڈومبا شری کی عورتوں کی سب سے بڑی حصولیابیوں کو کلوگرام اور ایکڑ، آمدنی اور نتیجہ کی شکل میں نہیں تولا جا سکتا۔

گھر پر بدلنے والے حالات کو بھلا تعداد میں کیسے ناپا جا سکتا ہے؟ ایڈوکی، ویانند، تھریسور اور اس جیسے دیگر کئی ضلعوں کی عورتوں نے ہمیں بتایا کہ وہ کیسے اب آزادی کے ساتھ پیسے کما رہی ہیں۔

ہم اس کی اہمیت کو کیسے ناپیں گے: یہ احساس کہ پہلے ہم زیادہ تر دوسروں پر منحصر تھے، جب کہ اب ہم پوری طرح سے اپنے پیروں پر کھڑے ہو چکے ہیں، آزادی سے کما رہے ہیں؟

بڑھتی ہوئی سیاسی بیداری کو کوئی تعداد میں کیسے گنے گا؟ یا پھر زیادہ بامعنی کام کرنے سے جو اطمینان حاصل ہوتا ہے اسے کیسے ناپا جائے گا؟ ہم عورتوں کی اس حالت کا اندازہ کیسے لگائیں گے کہ اب انھیں اپنے مالکوں سے کم خطرہ ہے، کام کرنے کی جگہوں پر ان کا استحصال بھی کم ہونے لگا ہے؟ یا پھر یہ احساس کہ اب صرف مزدوری نہیں کماتیں، بلکہ پروڈیوسر بن چکی ہیں؟

کیا کوئی جنسی انصاف کی مالی قدر نکال سکتا ہے، شاید سب سے بڑا مثبت پہلو جو کڈومباشری کی عورتیں سامنے لے کر آئی ہیں؟

جیسا کہ تھیلنگیری کمیونٹی ڈیولپمنٹ سوسائٹی کی چیئرپرسن، ۳۶ سالہ سوبیرا کہتی ہیں: ’’کیا مرد اور عورت برابر ہیں؟ بالکل۔ یہ بحث کا موضوع نہیں ہے، بلکہ اس پر عمل ہونا چاہیے۔‘‘ سوبیرا کو خطرناک گردے کی بیماری ہے۔ وہ اپنی ماں کے ساتھ رہتی ہیں جو مرض کی وجہ سے بستر پر ہیں۔ لیکن سوبیرا کی قائدانہ صلاحیت کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ ان کی قیادت میں ان کے گاؤں نے تقریباً صفر سے ترقی کرتے ہوئے سو فیصد تک مالی شمولیت حاصل کر لی ہے۔




بہت سی کڈومبا شری عورتوں کو اس بات کی خوشی ہے کہ اقتصادی اور سماجی طور پر سرگرم ہونے کے بعد ان کے بچوں نے انھیں الگ طرح سے دیکھنا شروع کر دیا۔ اس سے نوجوان لڑکیوں کو بھی بہت سے خواب دیکھنے میں مدد مل رہی ہے۔ مثال کے طور پر، سمیشا پیّولی میں دسویں کلاس کی طالبہ ہے اور اپنے گاؤں میں بچوں کی پنچایت کی صدر ہے۔ ’’میں صحافی بننا چاہتی ہوں اور اپنے سماج کی برائیوں کو سامنے لانا چاہتی ہوں،‘‘ وہ کہتی ہے۔

تاہم، کچھ عورتوں کے لیے، اس مہم میں شرکت کرنا آسان نہیں ہے۔ ان کے خاندانوں اور برادریوں کی طرف سے اکثر زبردست اعتراض کیا جاتا ہے۔ پھر بھی عورتیں ایسا کر رہی یں، اس چیز کے لیے جسے ناپا نہیں جا سکتا، کم از کم اس پیمانے سے تو بالکل بھی نہیں جو ہمارے پاس ہے۔

’’میں اس مہم کے ساتھ اس لیے ہوں کیوں کہ اس سے مجھے اپنے درد کو طاقت میں بدلنے میں مدد ملتی ہے،‘‘ کڈومبا شری کی ایک رکن اس وقت بیان کرتی ہے جب وہ اپنے کام کو جاری رکھنے کے دوران خود پر بیتی پریشانیوں کے بارے میں بتا رہی ہوتی ہے۔

کیا ہم اسے بھی ناپ سکتے ہیں کہ کڈومبا شری کی سنگھ کرشی کی کیا اہمیت ہے؟ اس نے عورتوں کو غذائی پیداوار پر کنٹرول عطا کیا ہے، جو کہ فوڈ سیکورٹی کی بنیاد ہے۔

دیسی عورتیں ہر جگہ پائیدار ترقی میں نہایت اہم رول ادا کرتی ہیں۔ چاہے وہ کارپوریٹائزیشن یا کمرشیل لینڈ ڈیولپمنٹ کے خلاف مزاحمت کی بات ہو، یا پھر پائیدار زراعت پر عمل کرنے کی بات۔ سنگھ کرشی اس رول کو مضبوط کرنے میں مدد کر رہی ہے۔

غیر مزروعہ زمین کو دھان کے کھیت میں بدل دینے کی اہمیت کا اندازہ کیسے لگایا جا سکتا ہے، ایک ایسے ملک میں جہاں بڑے پیمانے پر غذائی فصلوں والے کھیت کو تیزی سے نقدی فصلوں والے کھیت میں تبدیل کیا جا رہا ہے؟

کڈومباشری کی ’گرین آرمی‘ نے بالکل یہی کیا ہے۔

کیا کوئی اس کی قیمت یا مادی قدر نکال سکتا ہے کہ سنگھ کرشی کے ذریعے زمین کو قابل کاشت بنانے کے بعد مہاجر پرندے لوٹنے لگے ہیں؟ کیا اسے ناپا جا سکتا ہے؟

اس قسم کی تبدیلی کی سماجی، ثقافتی اور نفسیاتی اہمیت کا اندازہ کوئی کیسے نکال سکتا ہے؟

ذہن کے سیکھنے کی طرف مائل ہونے کو کوئی کیسے ناپ سکتا ہے؟ صرف اعلیٰ مادی پیداوار کے بارے میں ہی نہیں، بلکہ جس کے ذریعے عورتیں اپنے گھریلو حقوق کو تیزی سے سمجھ رہی ہیں اور ان پر عمل کر رہی ہیں؟ یہ چھوٹی سیاست ہے جس کا بڑا نتیجہ سامنے آ رہا ہے۔ یہ خواتین ممبران اکثر مضبوطی کے ساتھ سیاست سے جڑی ہوتی ہیں لیکن گروپ میٹنگوں میں اسے حاوی نہیں ہونے دیتیں۔

صرف زمینی اصلاح کی تحریکیں زیادہ مؤثر تھیں، تاریخی اعتبار سے زیادہ اہم تھیں۔ لیکن کڈومبا شری عورتیں ایک اور عنصر لے کر آئی ہیں جو اُن میں نہیں تھی: یعنی جنسی انصاف۔ تو ہم اسے کیسے ناپیں گے؟ یہ ایکڑ یا کلو میں نہیں بدلتا۔ اور ہم جنسی انصاف اور اجتماعی جذبہ کے ان خیالات کو کیسے بروئے کار لائیں گے، کیوں کہ یہ ایک حقیقی چیلنج ہے، ’ترقی‘ اور ’غریبی کے خاتمہ‘ کے اپنے طریقہ پر عمل کرتے ہوئے؟


یہ مضمون سب سے پہلے Yahoo India Originals پر شائع ہوا تھا۔

اننیا مکھرجی یورک یونیورسٹی، ٹورنٹو میں پولیٹیکل سائنس کی پروفیسر ہیں۔

اننیا سوشل سائنس ریسرچ کونسل آف کناڈا (ایس ایس ایچ آر سی) اور شاستری اِنڈو۔کناڈین انسٹی ٹیوٹ کی شکرگزار ہیں کہ انھوں نے اس مضمون میں موجود اطلاعات کے لیے ریسرچ میں مدد کی۔ وہ اس بات کو بھی تسلیم کرتی ہیں کہ اس تحقیق کے ایک حصہ کو دوسری شکل میں پہلے دی ہندو میں شائع کیا جا چکا ہے۔


مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز

P. Sainath & Ananya Mukherjee

पी. साईनाथ People's Archive of Rural India के फाउंडर-एडिटर हैं। वह दशकों से ग्रामीण भारत के पत्रकार रहे हैं और वह 'Everybody Loves a Good Drought' के लेखक भी हैं। अनन्या मुखर्जी यॉर्क विश्वविद्यालय, टोरंटो में राजनीतिक विज्ञान की प्रोफेसर हैं। अनन्या सामाजिक विज्ञान अनुसंधान परिषद कनाडा (एसएसएचआरसी) और शास्त्री इंडो-कनाडियन इंस्टीट्यूट की आभारी हैं कि उन्होंने इस लेख में मौजूद सूचनाओं के रिसर्च में मदद की। वह इस बात को भी स्वीकार करती हैं कि इस शोध के एक भाग को दूसरे रूप में पहले द हिंदू में प्रकाशित किया जा चुका है।

की अन्य स्टोरी P. Sainath & Ananya Mukherjee
Translator : Qamar Siddique

क़मर सिद्दीक़ी, पीपुल्स आर्काइव ऑफ़ रुरल इंडिया के ट्रांसलेशन्स एडिटर, उर्दू, हैं। वह दिल्ली स्थित एक पत्रकार हैं।

की अन्य स्टोरी Qamar Siddique