۳۳۔ پلامو کے یومیہ مزدوروں کا غیر یقینی مستقبل
چار جون ۲۰۲۴ کو عام انتخابات کے نتائج کے اعلان کے بعد یہ جھارکھنڈ کی پہلی صبح ہے۔ لیکن ڈالٹن گنج کے لیبر مارکیٹ میں مزدوروں کا کہنا ہے کہ کام کی کمی برقرار رہے گی



چار جون ۲۰۲۴ کو عام انتخابات کے نتائج کے اعلان کے بعد یہ جھارکھنڈ کی پہلی صبح ہے۔ لیکن ڈالٹن گنج کے لیبر مارکیٹ میں مزدوروں کا کہنا ہے کہ کام کی کمی برقرار رہے گی
ایک صدی سے قبل، ہریانہ کی یہ تحصیل ہندوستان کی آزادی کی لڑائی کے ایک تاریخی لمحہ کی گواہ بنی تھی۔ آج اس علاقے کے مزدور اور محنت کش بتا رہے ہیں کہ ان کی نظروں میں ۲۰۲۴ کے عام انتخابات کی کیا اہمیت ہے
تمام ووٹروں کی یہی خواہش ہوتی ہے کہ وہ ایک ایسا طاقتور رکن پارلیمنٹ منتخب کریں، جو ان کے مسائل کو دہلی تک پہنچا سکے۔ پاکستان سے لگی ہندوستان کی انتہائی حساس سرحد پر بیکار بیٹھے قلیوں کو امید ہے کہ عام انتخابات ۲۰۲۴ میں ان کا ووٹ یہ کام کر دے گا
پنجاب کے مانسا ضلع میں کشن گڑھ سیدھا سنگھ والا کی بزرگ خواتین کے لیے ۲۱-۲۰۲۰ کا کسان آندولن ایک تاریخی واقعہ تھا۔ اس احتجاجی مظاہرہ سے انہوں نے زندگی میں بہت کچھ نیا سیکھا۔ یہاں تک کہ اس تحریک نے ۲۰۲۴ کے عام انتخابات میں یہ فیصلہ کرنے میں مدد کی کہ کسے ووٹ دیں
اس پارلیمانی حلقہ کے عوام نے نریندر مودی کو دو بار منتخب کیا، لیکن منریگا (مہاتما گاندھی قومی دیہی روزگار گارنٹی قانون) کے تحت لوگوں کو کام نہ ملنے کی وجہ سے انہیں صرف مایوسی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے
سرکاری اسکیمیں اور ملازمتیں جھارکھنڈ کے دمکا ضلع کے قبائلی اکثریت والے گاؤوں سے دامن بچا کر نکل گئی ہیں۔ ۲۰۲۴ کے عام انتخابات کے آخری مرحلہ میں یہاں کے لوگوں کے درمیان عدم اطمینان واضح طور پر دکھائی دے رہا ہے
خواجہ معین الدین ۹۲ سال کے ہیں اور ان کو ہندوستان کے پہلے انتخابات میں ووٹ ڈالنا یاد ہے۔ انہوں نے ۲۰۲۴ کے عام انتخابات میں بھی ووٹ دیا ہے۔ مہاراشٹر کے بیڈ کے رہنے والے معین الدین ہماری سیکولر جمہوریت کے ماضی، حال اور مستقبل پر بات کر رہے ہیں
مغربی بنگال کے ۲۴ پرگنہ ضلع کے سندیش کھلی اور میناکھان بلاک کے جو مہاجر مزدور ریاست کے دوسرے حصوں کی ریمنگ ماس اکائیوں میں کام کرنے گئے تھے، انہیں کچھ سالوں کے اندر ہی سلیکوسس کے مرض میں مبتلا ہو کر واپس لوٹنا پڑا۔ مایوسی کے شکار یہ لوگ کہتے ہیں کہ ۲۰۲۴ کے عام انتخابات کے بعد بھی ان کے لیے کچھ نہیں تبدیل ہوگا
ہندوستانی جمہوریت کا جشن عظیم کہے جانے والے لوک سبھا انتخابات پر ایک شاعر کا بیان ہمیں بتاتا ہے کہ کیسے انتخابات میں عام عوام کے حقوق کے علاوہ بقیہ تمام باتیں کی جاتی ہیں
مہاراشٹر کے اس شہر میں یہ مخصوص پکوان (بھریت) بینگن سے بنایا جاتا ہے اور مقامی سطح پر کافی مشہور ہے۔ اسے بعض دنوں میں ۵۰۰ کلوگرام تک پکانے والی ۱۴ خواتین کی ٹیم کو عام انتخابات ۲۰۱۴ کے دوران مرکزی حیثیت حاصل تھی
صرف تین گرمیوں پہلے کی بات ہے، جب پورے ملک نے دیکھا تھا کہ کیسے احتجاجی مظاہرہ کرنے والے کسانوں پر بے رحمی سے طاقت کا استعمال کر کے انہیں دہلی میں داخل ہونے سے روکا گیا تھا۔ پنجاب کی انتخابی مہم میں کسان اُس حساب کو بغیر کسی تشدد کے برابر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں
پنجاب میں لوگ کہہ رہے ہیں کہ کسانوں اور مزدوروں کے ساتھ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا جو برتاؤ رہا ہے، اس کے بعد ان کا عام انتخابات ۲۰۲۴ میں ووٹ مانگنے کا کوئی حق نہیں بنتا۔ یہ پیغام تھا اس ہفتہ لدھیانہ میں ہوئی کسان مزدور مہا پنچایت کا
سرکاری ضابطوں میں جسمانی طور سے معذور لوگوں کے لیے ووٹ دینے کا انتظام ہے، لیکن ببلو کوئیبرتو جیسے کچھ لوگوں کا ۲۰۲۴ کے عام انتخابات کے عمل میں حصہ لینا طے نہیں ہے
یوتمال اور دیہی مہاراشٹر کے زیادہ تر علاقوں میں ’شادی‘ بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ یہاں مرد دلہن تلاش کرنے سے قاصر ہیں۔ نوعمر خواتین سرکاری ملازمین کے لیے غریب کسانوں کو ٹھکرا رہی ہیں۔ یہ زرعی آمدنی میں آئی کمی کا براہ راست نتیجہ ہے۔ سال ۲۰۲۴ کے عام انتخابات کی ترجیحات میں زراعت سے کم آمدنی اور شادی کے مایوس کن امکانات سب سے اوپر ہیں
مغربی بنگال کے مرشد آباد ضلع کے پیاز کے کھیتوں میں کام کرنے والی مال پہاڑیہ آدیواسی خواتین ۲۰۲۴ کے عام انتخابات سے پہلے پاری کو اپنی ترجیحات بتاتی ہیں، جس میں کام، کھانے کی فکر پہلے ہے، ووٹ کا نمبر اس کے بعد آتا ہے
شجاعت اور جوش و جذبے سے بھریں بھوانی مہتو، ہندوستان کی آزادی کے لیے لڑی جانے والی تاریخی لڑائی میں کئی دہائیوں تک انقلابیوں کو کھانا کھلاتی رہیں، ساتھ ہی کھیتی باڑی کر کے اپنے اہل خانہ کی بھی پرورش کرتی رہیں۔ اب وہ ایک سو چھ (۱۰۶) سال کی ہو چکی ہیں، لیکن ان کی لڑائی جاری ہے…لوک سبھا انتخابات ۲۰۲۴ میں انہوں نے اپنا ووٹ ڈال دیا ہے
ممبئی نارتھ پارلیمانی حلقہ میں واقع دامو نگر کی جھگیوں کے مکینوں کے لیے ۲۰۲۴ کے عام انتخابات میں ووٹ دینے کا مطلب پسماندہ طبقوں کے حقوق کا تحفظ ہے
جب کویئر برادری کے ممبران ۲۰۲۴ کے عام انتخابات میں پرچار کے لیے نکلے، تو حزب اقتدار کے حامیوں نے ان کے ساتھ زور زبردستی کی اور ان کے ساتھ ساتھ ان صحافیوں کو بھی دھمکایا جو وہاں اس واقعہ کو کور کرنے آئے تھے
آسام میں مشکوک ووٹروں (ڈی-ووٹرز) کا ایک منفرد زمرہ ہے، جس میں کئی بنگلہ بولنے والے ہندو اور مسلمان اکثر حق رائے دہی سے محروم کر دیے جاتے ہیں۔ زندگی بھر آسام میں رہنے والی مرجینہ خاتون ایک بار پھر عام انتخابات ۲۰۲۴ میں اپنا ووٹ نہیں ڈال پائیں
ستپوڑا کی پہاڑیوں کی پتھریلی ڈھلوانوں کے درمیان واقع امباپانی ایک ایسی بستی ہے جہاں جمہوریت کی روح ابھی تک نہیں پہنچی ہے۔ یہاں کے باشندے ۲۰۲۴ کے عام انتخابات میں اپنے حق رائے دہی کا استعمال کر سکتے ہیں، لیکن ان کے یہاں نہ تو سڑکیں ہیں، نہ بجلی ہے اور نہ ہی صحت کی سہولیات ہیں
جھارکھنڈ کے پلامو ضلع کے چیچریا گاؤں میں منریگا اور مفت ایل پی جی سیلنڈر، سڑک اور ہینڈ پمپ جیسی سرکاری اسکیموں کے نفاذ میں دلتوں کے ساتھ اندیکھی کی گئی ہے۔ اپنے مسائل سے تنگ آ چکے ان ناراض لوگوں کا ماننا ہے کہ ۲۰۲۴ کا عام انتخاب حساب برابر کرنے کا صحیح موقع ہے
مہاراشٹر کے گڑھ چرولی ضلع میں، جنگلاتی علاقوں میں خام لوہے کی کانوں نے قبائلی آبادی کے مسکن اور ثقافت کو تباہ و برباد کر دیا ہے۔ گزشتہ کئی برسوں سے، اس خطہ نے ریاستی حفاظتی دستوں اور سی پی آئی (ماؤ نواز) کے درمیان جھڑپیں بھی دیکھی ہیں۔ اس سال، قبائلی علاقے کی تقریباً ۱۴۵۰ گرام سبھاؤں نے ۲۰۲۴ کے عام انتخابات میں کانگریس امیدوار کو مشروط حمایت دی ہے۔ آخر کیوں، یہ جاننے کے لیے ملاحظہ کریں…
چھتیس گڑھ میں کام کرنے والے مدھیہ پردیش کے مزدوروں کو یہ بھی معلوم نہیں ہے کہ ان کے آبائی حلقوں میں عام انتخابات ۲۰۲۴ کے لیے ووٹ ڈالنے کی تاریخ کیا ہے۔ اس بات کا امکان کم ہی ہے کہ وہ وہاں ووٹ ڈالنے جائیں گے
وہ درگاہیں جہاں مختلف عقائد سے تعلق رکھنے والے لوگ صدیوں سے عبادت کرتے آئے ہیں، ہندو ہجوم کے حملوں کی زد میں ہیں۔ لیکن ایک پرعزم گاؤں یہ ظاہر کرتا ہے کہ مشترکہ طرز زندگی کو اب بھی کیسے برقرار رکھا جاسکتا ہے
مہاراشٹر کے امراوتی ضلع میں واقع کھڈیمل گاؤں کے لوگوں کو پانی یا بجلی کی سہولت کبھی نہیں ملی۔ مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ نیتا پانچ سال میں ایک بار آتے ہیں اور کھوکھلے وعدے کر کے غائب ہو جاتے ہیں۔ اسی لیے انہوں نے اجتماعی طور پر فیصلہ کیا ہے کہ سال ۲۰۲۴ کے لوک سبھا انتخابات کا بائیکاٹ کریں گے
گرمی کے ان دنوں میں مہاراشٹر کے ایک آدیواسی گاؤں پلسگاؤں کے لوگ ایک غیر متوقع خطرے کی وجہ سے جنگلات پر مبنی اپنے معاش کو چھوڑ کر گھروں میں بند ہو گئے ہیں۔ سال ۲۰۲۴ کے عام انتخابات کی بہ نسبت انہیں اپنی جان کی فکر زیادہ ہو رہی ہے
مہاراشٹر کے اس ضلع کے نوجوان ہجرت کرنے پر مجبور ہیں کیونکہ ان کے گاؤں میں ان کے لیے کوئی کام نہیں ہے۔ عام انتخابات ۲۰۲۴ ان کی ترجیحات میں شامل نہیں ہے
ہندوستان کے غریب ترین کنبے آج بھی مہاتما گاندھی قومی دیہی روزگار گارنٹی (منریگا) پروگرام کے ساتھ ساتھ مہوا اور تیندو کے پتوں جیسی جنگل کی معمولی پیداوار پر انحصار کرتے ہیں۔ کل (یعنی ۱۹ اپریل کو) عام انتخابات ۲۰۲۴ میں ووٹ ڈالنے کی تیاری کر رہے ارت تونڈی گاؤں کے آدیواسیوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ ۱۰ سالوں میں ان کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوا ہے
جھارکھنڈ کے اس ضلع میں چھوٹے اور معمولی درجے کے کسان لگاتار پڑنے والی خشک سالی کی وجہ سے قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس بار وہ اسی کو ووٹ دیں گے جو ان کے لیے سینچائی کا انتظام کرے گا
ہندوستان کے عام انتخابات ۲۰۲۴ کے پہلے مرحلہ میں بھنڈارا-گوندیا پارلیمانی حلقہ میں ۱۹ اپریل کو ووٹنگ ہوگی۔ یہاں شیواجی اسٹیڈیم میں بے روزگاری اور فکرمندی صاف دکھائی دے رہی ہے، جہاں دیہی نوجوان سرکاری نوکریوں کے لیے ٹریننگ حاصل کر رہے ہیں۔ یہ ان کی پہلی ترجیح ہے، انتخابی وعدے دوسرے نمبر پر آتے ہیں۔ آج کی اس اسٹوری سے ہماری اس سیریز کی شروعات ہو رہی ہے، جس کا نام ہے دیہی ووٹ ۲۰۲۴
اکثریتی طبقہ کا ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مہاراشٹر میں ہندوتوا بھیڑ فرقہ واریت کو ہوا دے رہی ہے۔ فوٹوشاپ کی گئی تصویریں، چھیڑ چھاڑ کیے گئے ویڈیو اور افواہیں انہیں مشتعل کرنے کے لیے کافی ہیں۔ نتیجتاً مسلمانوں کی جان و مال کا نقصان ہو رہا ہے
Want to republish this article? Please write to [email protected] with a cc to [email protected]
All donors will be entitled to tax exemptions under Section-80G of the Income Tax Act. Please double check your email address before submitting.
PARI - People's Archive of Rural India
ruralindiaonline.org
https://ruralindiaonline.org/articles/rural-ballot-2024-ur