’’اوسوب ووٹ ٹوٹ چھاڑو۔ سندھیا ناماِر آگے انیک کاج گو… [کیا ووٹ شوٹ! اندھیرا پھیلنے سے پہلے ایک ہزار کام پڑے ہیں کرنے کو…] اگر آپ یہ بو برداشت کر سکتی ہیں تو یہاں آ کر ہمارے پاس بیٹھیں،‘‘ مالتی مال اپنے بغل کی خالی جگہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتی ہیں۔ وہ مجھے خواتین کے ایک گروپ میں شامل ہونے کی دعوت دے رہی ہیں، جو گرمی اور گرد و غبار سے بے نیاز پیاز کے ایک بڑے ڈھیر کے پاس بیٹھ کر کام کر رہی ہیں۔ میں تقریباً ایک ہفتہ سے اس گاؤں کا دورہ کر رہی ہوں اور ان خواتین کا سائے کی طرح تعاقب کرتے ہوئے ان سے آنے والے انتخابات سے متعلق سوالات کر رہی ہوں۔
یہ اپریل کے شروعاتی دن ہیں۔ مغربی بنگال کے مرشد آباد کے اس حصہ میں درجہ حرارت ہر روز ۴۱ ڈگری سیلسیس تک پہنچ جاتا ہے۔ شام کے ۵ بجے بھی مال پہاڑیہ کی اس جھونپڑی میں شدید گرمی ہے۔ آس پاس جو چند درخت ہیں، ان پر ایک پتہ تک نہیں ہلتا۔ تازہ پیاز کی بھاری اور تیز بو ہوا میں تیرتی رہتی ہے۔
خواتین اپنے عارضی گھروں سے بمشکل ۵۰ میٹر کے فاصلہ پر ایک کھلی جگہ پر رکھے پیاز کے ڈھیر کے گرد نیم دائرے کی شکل میں بیٹھی ہیں۔ وہ درانتی کی مدد سے پیاز کی گانٹھوں کو پتوں سے الگ کرنے میں مصروف ہیں۔ دوپہر کی تیز گرمی کچے پیاز کے بخارات کے ساتھ مل کر ان کے چہروں پر ایک چمک چھوڑ رہی ہے، ایک ایسی چمک جو صرف سخت محنت سے ہی پیدا ہو سکتی ہے۔
’’یہ ہمارا دیس [آبائی گاؤں] نہیں ہے۔ پچھلے سات یا آٹھ سالوں سے ہم یہاں آ رہے ہیں،‘‘ ساٹھ سال کی عمر پار کر چکیں مالتی کہتی ہیں۔ وہ اور اس گروپ میں شامل دیگر خواتین مال پہاڑیہ آدیواسی برادری سے تعلق رکھتی ہیں۔ اس برادری کو ریاست میں سرکاری طور پر درج فہرست قبائل کے زمرے میں رکھا گیا ہے اور انہیں سب سے زیادہ کمزور قبائلی گروہوں میں سے ایک کے طور پر جانا جاتا ہے۔
’’ہمارے گاؤں گواس کالیکاپور میں ہمارے لیے کوئی کام نہیں ہے،‘‘ وہ کہتی ہیں۔ مرشد آباد ضلع کے رانی نگر بلاک ۱ میں گواس کے ۳۰ سے زیادہ کنبے فی الحال بِیشور پُوکور گاؤں کے کنارے کھڑی عارضی جھونپڑیوں کے جھرمٹ میں قیام پذیر ہیں اور مقامی کھیتوں میں کام کر رہے ہیں۔
انہوں نے مجھے بتایا کہ ۷ مئی کو ہونے والے لوک سبھا انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے لیے انہیں اپنے گاؤں واپس جانا تھا۔ گواس کالیکا پور بیشور پوکور گاؤں سے تقریباً ۶۰ کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے۔




























